عوام کی دہائی۔۔۔۔۔مہنگائی ہی مہنگائی
ہمارے ملک میں مہنگائی کا جن اتنا بے قابو ہو چکا ہے کہ مہنگائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے جرائم میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جن میں بروزگاری،غربت،خودکشیاں،چوریاں،ڈکیتیاں،قتل وغیرہ شامل ہیں۔
آزادی پاکستان کے وقت بہت کم وسائل اور سرمایہ موجود تھا اور ترقی کے عمل بہت سست تھے۔بدقسمتی سے سیاست دان ترقی کے جدید عالمی نظام اور ملک کی ضروریات سے نا واقف تھے۔شروع سے ہی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کو بہت سے مسائل کا سامنا تھا۔پالیسیوں کی مسلسل ناکامی سے ملک کے حالات بد تر ہوتے چلے گئے اور ماضی سے ازحال تک کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے اب موجودہ صورت حال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ غربت کا ہے جو حکمرانوں کی نہ اہلی،جرائم اور سماجی کمزوریوں کی وجہ سے ہے۔پاکستان چند برس قبل تک مہنگائی کا اس قدر شکار نہ ہوا تھا جس قدر آج ہے۔
ہمارا ملک ایک زرعی ملک کہلاتا ہے جس کا دارومدار زراعت پر ہے۔لیکن اس ملک کی زرعی پیداوار اتنی بھی نہیں کہ اپنی ہی عوام سکون کی زندگی گزارے۔
اس وقت ملک میں اتنی مہنگائی ہے کہ ہر طبقے کے انسان کا حال بد حال ہے، سوائے حکمرانوں کے یا سرکاری محکمے میں بیٹھے شاہی افسروں کے،ان کو چھوڑ کر ہرانسان پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے۔
آٹا مہنگا،چینی کا بحران،روز مرہ زندگی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ اور آئے دن ضرورتِ اشیاء کے ٹیکس میں مسلسل اضافے نے لوگوں سے جینے کا حق تو چھین ہی لیا تھا مگرپھر بجلی کے بلوں نے بھی لوگوں کو پریشان کرنے میں کوئی کثر نہ چھوڑی اور بات یہاں تک آپہنچی کہ لوگوں نے اپنی زندگیوں کا خاتمہ کرنا ہی بہتر سمجھا۔
بجلی کے بلوں نے زندگی وبال بنادی ہے،آمدنی سے زیادہ بل غضب ڈھارہےہیں،ایک غریب آدمی جو اپنے 6سے7 افراد پر شامل کنبے کا واحد خود کفیل ہے اور اسکی ماہانہ آمدن20 ہزار روپے ہے تو وہ شخص کیسے اپنی ذمہ داری نبھاتا ہوگا۔ بچوں کے اسکول کی فیس ادا کرے یا اپنے گھر کا راشن خریدے،اپنے پیاروں کی ضروریات و خواہشات پوری کرے یا بجلی کے بلوں کی ادائیگی بھرے، کیونکہ بجلی 65روپے فی یونٹ کر دی گئی ہے اور اس حساب سے جو ماہانہ 20یا 25ہزار کماتا ہے وہ اپنی ساری تنخواہ بجلی کے بلوں میں ہی لٹا دے گا تو اپنے گھروالوں کا دانہ پانی کہاں سے کرےگا؟؟ اب تو حالات اس قدر خراب ہوچکے ہیں کہ لوگ اگر ایک وقت کی روٹی بھی کھانا چھوڑ دیں تب بھی بلوں کی ادائیگی کرنا مشکل ہے۔
اس صورتحال کچھ ہوں ہے کہ بجلی کے بل آنے کے بعد کراچی سے خیبر تک پورا ملک سڑکوں پر آ گیا ہے۔ لوگوں نے اپنے گھروں کے بل بیچ سڑکوں پر جلا کر بھر پور احتجاج کیا ہے اور یوں بل جلانے کی تحریک نے شدت اختیار کر لی ہے۔عوام نے حکمرانوں اور افسر شاہی کی عیاشیوں کیلئے مزید قربانی دینے سے انکار کردیا ہے۔ اس ساری صورتِ حال میں سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بجلی کے بلوں سے تنگ بےبس شہری اپنی جانیں آپ لینے لگے ہیں۔ ان خودکشیوں کا جواب آج نہیں یومِ حساب تو ضرور حکمرانوں کو ہی دینا ہوگا۔ ستم دیکھئے کہ پی ڈی ایم کی جو جماعتیں حکومت کے مزے لوٹ کر عوام پر یہ عذاب مسلط کرکے گئیں ہیں وہ بھی مذمت اور احتجاج کا لہو لگا کر شہیدوں میں شامل ہونے کی کوشش کررہی ہیں۔ مگر پبلک سب جانتی ہے۔
نگراں وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے بجلی کے بلوں کا نوٹس لے لیا ہے۔ عوام کوریلیف دینے کی کیا صورت ہوسکتی ہے۔ آج بھی اربابِ اختیار سرجوڑ کر بیٹھےرہے۔ مگرتلخ حقیقت یہ ہے کہ اس حکومت کے پاس عوام کوریلیف دینے کیلئے کچھ بھی نہیں۔ یہ سنتے سنتے کان پک گئے کہ ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے۔ مگر ہمارے ہاں یہ ریاست صرف اشرافیہ کی ماں ثابت ہوئی ہے۔ ستم دیکھئے کہ جو لاکھوں میں تنخواہ لیتا ہے۔ اسے پیٹرول بھی مفت ملتا ہے۔ اس کی بجلی بھی مفت ہوتی ہے۔ اسے گاڑی ،گھر کا کرایہ بھی حکومت وقت پر دیتی ہے۔ اور جو چند سوروپے روز کماتا ہے۔ اسی کو مہنگا پیٹرول خریدنا پڑتا ہے۔ اسی کی بجلی بار بار مہنگی کی جاتی ہے۔جو بجلی چوری کرتا ہے۔ وہ مزے میں ہے۔ اور جو بل بھرتا ہے وہ اس چوری کے پیسے بھی بھرتا ہے۔ لیکن ظلم کا یہ نظام آخر کب تک چلےگا۔ ایک لاوا ہے جو پکنے لگا ہے۔ اگر حکومت نے ان بلوں کا کچھ حل نہ نکالا تو خمیازہ بھگتنا پڑےگا۔ حالات کیا رُخ اختیار کرسکتے ہیں یہ آنے والے چند دنوں میں سب کےسامنے آ جائے گا۔


