شور اور شعور میں تفریق


"لفظِ شعور اور شور میں حرفِ "ع کا فرق، علم اور جہالت میں تقابل کا آئینہ دار ہے۔
حالیہ سالوں میں وطن عزیز میں جاری سیاسی سرکس کے داؤ پیچ سمجھنے میں عوام الناس کو کافی حد تک آسانی میسر رہی ہے۔
سیاسی شعور کی بیداری میں شبہے کا امکان کم ضرور ہوا ہے البتہ، صرف بیداری ہی کافی نہیں اسے تنقیدی،تحقیقی،تخلیقی، تجزیاتی اور غیر جانبداری جیسے اوصاف سے مزین ہونا بھی ضروری ہے تب ہی شعور کو شور سے ممیزوممتاز کیا جا سکتا ہےجو کسی حقیقی و معنوی تبدیلی کا پیش رو ہوتا ہے۔
جمہوریت صرف انتخابات کے عمل کا نام ہی نہیں ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں جمہوریت شخصی حصار، خانگی اجارہ داری, عدم تسلسل اور مداخلت بے جا کے سبب اپنے دیگر تصورات و نظریات کو روبہ عمل لانے میں ناکام چلی آرہی ہے۔ رواداری، مساوات، قانون کی بالادستی، عدل و انصاف اور دیگر اعلیٰ انسانی اقدار نظامِ جمہوریت کے اجزائے لا ینفک ہیں۔
تعلیم اور شعور سے محروم معاشروں میں فکری انتشار، لا قانونیت کو فروغ دیتا ہے جو نتیجتاً سیاسی و معاشی عدم استحکام ، بدامنی ، انسانی و حیوانی حقوق کی بے دریغ پامالی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
اس طرح کے معاشروں میں عقلیت پر عصبیت کا غلبہ رہتا ہے۔ اکثریت کے دماغ دل گرفتہ و شکستہ ہوتے ہیں اور ایسے میں ایک اقلیت اکثریت کو اپنا ہمنوا خیال کرتے ہوئے یہ کہنے میں اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتی ہے کہ وہ جس نظریے کا پرچار کر رہی ہے اُسے جمہور کی اکثریت کی تائید و حمایت حاصل ہے۔ اسطرح کی جمہوریت میں اکثریت کی حکومت اصلاً اقلیت کی حکومت ہوتی ہے۔ یہ کبھی براہ راست اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرتی ہے اور کبھی بلواسطہ حکومت کرتی ہے۔
علم سیاسیات کے ماہرین کی رائے میں ووٹ، جو کہ حق رائے دہی کے اظہار کی عملی صورت ہوتی ہے، تین طرح کا ہوتا ہے; رائے کا ووٹ ، وابستگی کا ووٹ اور تبادلے کا ووٹ
(Vote of Opinion, Vote of Belonging & Vote of Exchange)۔
اصلاً یہ تقسیم، رائے دہندہ کی آزادی اظہار رائے کی شعوری حیثیت کی عکاس ہوتی ہے۔
پہلی قسم کے ووٹ میں رائے دہندہ ذہنی و فکری طور پر مکمل آزاد ہوتا ہے اور اپنے فہم و ادراک کو بروئے کار لاتے ہوئے من پسند امیدوار کے حق میں اپنی رائے کا اظہار کرتا ہے۔ اس طرح کے ووٹ کو ہم میرٹ کا ووٹ بھی کہہ سکتے ہیں البتہ یہاں ووٹر کی تعلیم اور اُسکے سیاسی و سماجی شعور کا کردار نمایاں ہوتا ہے۔ جہاں کہیں مذکورہ و مطلوبہ شعور کی کمی ہو گی وہاں یہ رائے بھی صائب رائے نہیں کہلائی جا سکتی۔ ہمارے ہاں اسطرح کے ووٹ شہری حلقوں میں ایک قلیل تعداد کو میسر ہوتے ہیں۔
ووٹ کی دوسری قسم، تعلق داری یا وابستگی کا ووٹ کہلاتی ہے جو جانبداری کی عکاس اور ترجمان ہوتی ہے۔ اسطرح کے ووٹ میں مختلف نسبتیں اور تعلق داریاں کارفرما ہوتی ہیں جو برادری سے لے کر سیاسی و مذہبی جماعتوں تک چلی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں اس قسم کے ووٹ کثرت سے ملتے ہیں۔
اظہار رائے کی یہ قسم بھی کسی طور آزاد نہیں کہلائی جا سکتی کیوں کہ اسمیں رائے دہندہ اپنے سیاسی،سماجی،معاشی،مذہبی، نسلی و لسانی بندھن سے پیوست اور جڑا ہونے کے ناتے مجبور محض ہوتا ہے۔
ووٹ کی تیسری قسم تبادلے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے جسمیں رائے دہندہ کا ووٹ کسی لین دین یا عرف عام میں کسی "ڈیل” کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ سمجھوتے کی پیداوار رائے بھی آزادی اظہار کی ترجمان نہیں ہوتی جسمیں کسی بھی طرح کی منفعت، رائے دہندہ کے لیے محرک کا کام کرتی ہے اور امیدوار کا استحصالی حربہ کارآمد ٹھہرتا ہے۔ ہمارے ہاں اس قسم کے ووٹ کی بہتات ہے۔
آزادی اظہار کی مندرجہ بالا تینوں صورتوں میں شعور کا کردار نمایاں ہے۔ کہیں یہ مغلوب ہے تو کہیں آزاد۔ جہاں ضمیر سوئے ہوں، شعور پہ پہرے ہوں اور مجبوریوں کے ڈیرے ہوں وہاں انتخابی عمل، شور شرابے اور غل غپاڑے کے میلے کا سماں برپا کرتا ہے۔
ہمیں اپنے تئیں غور و فکر کرنا ہے اور یہ جانچنے کی سنجیدہ اور نتیجہ خیز کوشش کرنی ہے کہ آیا ہم انتخابی عمل میں آزاد ہیں یا لگے بندھے ہیں اور یہ کہ ہم شعور اور شور میں امتیاز برتتے ہیں یا کسی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر رہ گئے ہیں؟

Facebook Comments HS