رانی کھیت اور پاکستان
رانی کھیت ایک صحت افزا پہاڑی مقام ہے جو کہ شمالی ہندوستان کی ریاست اترا کھنڈ میں واقع ہے۔ اترا کھنڈ 9 نومبر 2000 میں ہندوستان کی 27 ویں ریاست کے طور پر منظر عام پر آیا۔ یہ پہلے صوبہ اترپردیش کا حصہ تھا۔ ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں کے دامن میں واقع اترا کھنڈ ایک پہاڑی ریاست ہے، اس ریاست کی اہمیت کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ اس کی بین الاقوامی سرحدیں شمال میں چین (تبت) اور مشرق میں نیپال سے ملتی ہیں۔
رانی کھیت ایک بہت خوبصورت مقام ہے۔ پھولوں، درختوں اور آسمانی ہمالیائی قدرتی مناظر کے درمیان سبز گھانس کی سرزمین اس کی پہچان ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ برطانوی دور کی ایک ملکہ تو اس چھوٹے سے پہاڑی مقام سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اس کے اعزاز میں یہاں ایک محل تعمیر کرایا گیا تھا لیکن اب یہ محل موجود نہیں رہا۔ پہاڑی مقام پر ہونے کی وجہ سے ایک زمانے میں، رانی کھیت کو برٹش انڈیا کے سمر ہیڈ کوارٹر کے طور پر نامزد کیا گیا تھا لیکن پھر شملہ کو منتخب کر لیا گیا۔ رانی کھیت آج کل بھارتی فوج کا ایک رجمنٹل ہیڈ کوارٹر ہے۔ رانی کھیت کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہاں نو ہول والا گالف کورس ہے جو ایشیا میں سب سے اونچا گالف کورس ہے اور اپنی خوبصورتی کی وجہ سے بھی خاص اہمیت کا حامل ہے۔
ہم نے اپنے بچپن میں رانی کھیت کا نام سنا تھا لیکن اس کا حوالہ ہندوستان کا پہاڑی مقام نہیں تھا بلکہ مرغیوں میں ہونے والی بیماری رانی کھیت کے حوالے سے تھا۔ یہ 1963 کی بات ہے میں تیسری جماعت کا طالب علم تھا۔ والد صاحب کے ساتھ اتوار کے اتوار لالو کھیت کراچی (اب لیاقت آباد) کی مارکیٹ میں گھر کا سودا سلف لینے جایا کرتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب گھروں میں مرغی (چکن) کھانے پکانے کا اتنا رواج نہیں تھا، خاص موقعوں پر ہی گھر میں مرغی کا گوشت پکا کرتا تھا۔
یہ اسی زمانے کی بات ہے کہ ہمارے گھر میں کچھ مہمانوں نے رات کے کھانے پر آنا تھا اس لیے پاپا (میرے والد صاحب) نے سودا سلف کے ساتھ مرغی خریدنے کا قصد کیا جب مرغی کی دکان پر پہنچے تو مرغی نظر ہی نہ آئی البتہ دکاندار بیٹھا ہوا تھا پاپا نے کہا میاں مرغی چاہیے تھی، اس نے کہا ”بھائی تین دن ہو گئے بیٹھا ہوا مکھیاں مار ریا ہوں مرغیوں پر تو را نی کھیت پڑ گئی ہے، سندھ اور پنجاب سے بھی سپلائی بند ہے۔“ پاپا مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہنے لگے یار اب ایسا کرتے ہیں بچھیا (نوعمر گائے ) کا گوشت لے لیتے ہیں پلاؤ بنوا لیں گے۔
اس وقت گھروں میں پلاؤ ہی پکا کرتا تھا بریانی کا رواج نہیں ہوا تھا۔ میرے لیے لفظ ”رانی کھیت“ ایک نیا لفظ تھا میں نے پاپا سے پوچھا یہ رانی کھیت کیا ہے۔ پاپا نے بتایا یہ مرغیوں کی ایک متعدی بیماری ہے جس سے آنا فاناً مرغیوں کے غول کے غول مر جاتے ہیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب پاکستان میں صرف دیسی طریقوں سے پرورش کی ہوئی مرغیاں بازار میں ملا کرتی تھیں۔ بازار میں مرغی کا گوشت بھی نہیں ملتا تھا۔ زندہ مرغی گھر پر لائی جاتی تھی اور گھر میں ہی ذبح کر کے پکائی جاتی تھی۔
یہ تو خدا بھلا کرے پاکستان انٹر نیشنل ائر لائنز پی، آئی، اے کا جس نے کراچی میں 1966 میں کینیڈا کی ایک کمپنی کے تیکنیکی تعاون سے مرغیوں کی افزائش کا پہلا جدید فارم قائم کیا۔ اس فارم کے قیام کا مقصد یہ تھا کہ پی۔ آئی۔ اے، ہمہ وقت اپنے ملکی اور غیر ملکی مسافروں کو دوران پرواز مرغی کے تازہ، صحت مند اور عمدہ گوشت سے تیار کردہ کھانے فراہم کر سکے۔ اس کے بعد ہی پاکستان میں مرغیوں کی افزائش کے جدید قسم کے فارم معرض وجود میں آنے لگے اور پورے ملک میں تجارتی بنیادوں پر نجی شعبہ میں مرغیوں کے فارم قائم کیے جانے لگے اور اب پاکستان کے کونے کونے میں فارمی مرغی ہی ملتی ہے۔
فارمی مرغیوں کی افزائش جدید اور سائنٹفک طریقوں سے کی جاتی ہے۔ اس وجہ سے 1970 کی دہائی سے مرغیوں کے حوالے سے رانی کھیت کی بیماری کا نام سن نے میں نہیں آیا۔ البتہ حالیہ برسوں میں صحرائے تھر پار کر میں کم از کم 100 مور انتہائی متعدی بیماری سے مر گئے جبکہ در جنوں بیمار ہو گئے۔ جنگلی حیات کے اہلکار یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے کہ مور کو کیا چیز بیمار کر رہی ہے، کئی دنوں کی تحقیقات کے بعد یہ پتہ چلا کہ یہ رانی کھیت ہی کی بیماری ہے۔
جس طرح رانی کھیت کا وائرس پرندوں کے نظام تنفس اور دماغ پر اثرانداز ہو تا ہے جس کی وجہ سے پرندوں کو سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے۔ اور ان کا پورا اعصابی نظام متاثر ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں ان کے تمام افعال اور جسمانی اعضا میں ہم آہنگی اور ربط قائم نہیں رہتا۔ اس مرض کی وجہ سے شرح اموات 90۔ 10 فیصد تک ہو سکتی ہے۔ بیماری ظاہر ہونے کے بعد اس کا علاج ممکن نہیں جو پرندے اس بیماری سے بچ بھی جائیں ان کی پیداواری صلاحیت بے حد متاثر ہوتی ہے اور وہ اقتصادی لحاظ سے نفع بخش نہیں رہتے۔
اسی طرح سن 2000 سے ہماری قومی ائر لائن کی بھی کچھ ایسی ہی حالت ہے۔ پی آئی اے بحیثیت ادارہ مسلسل رانی کھیت کی بیماری جیسی کیفیت میں بری طرح مبتلا ہے اور آج 2023 میں ہمارا پورا ملک ہی رانی کھیت کی بیماری کا شکار ہو چکا ہے۔ آج پچیس کروڑ عوام کا اعصابی نظام اور نظام تنفس تباہ کرنے کے لئے صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا جس کو عرف عام میں بجلی کا بل کہا جاتا ہے، ہی کافی ہے۔


