پاکستان یا بیرون ملک – لمحہ فکریہ


جس طرح پہلی جماعت کا طالب علم سالانہ امتحان میں کامیابی اور جماعت دوم میں پہنچنے کو اپنا مقصد سمجھتا ہے۔ جماعت دوم کا طلب علم سالانہ امتحان میں کامیابی اور جماعت سوم میں پہنچنے کو اپنا مقصد سمجھتا ہے۔ اسی طرح یہ سلسلہ جماعت در جماعت چلتا رہتا ہے اور اس میں والدین اور اساتذہ کرام کا کلیدی کردار ہے۔ یہ خیال بچے کے ذہن میں اس قدر پختہ ہو جاتا ہے کے وہ جماعتوں کے ورق پلٹنے اور سند حاصل کرنے کو مقصد بنا لیتا ہے۔

موجودہ دور میں علم حاصل کرنے کی پہلی سیڑھی میٹرک کو مانا جاتا ہے۔ جس میں کامیابی اور سند حاصل کرنے پر طالب علم خود کو امتیازی درجہ دیتے ہوئے دوسروں سے جدا سمجھنے لگتا ہے۔ تسلسل وقت اس خیال کو بھی معدوم ہونے پر مجبور کر دیتا ہے جب طالب علم انٹر میڈیٹ یا پیشہ ورانہ تعلیم میں قدم رکھتا ہے اسے یوں لگتا ہے کہ گزشتہ برس جو تعلیم وہ حاصل کر رہا تھا وہ تو محض رسمی تھی اصل علم تو اب سیکھ رہا ہوں۔

وقت ایک بار پھر پلٹ کھاتا ہے اور طالب انٹرمیڈیٹ کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے پچھلی چند بار کی طرح اس دفع بھی وہ خود کو امتیازی درجہ دیتے ہوئے دوسروں سے جدا جانتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مقصد حاصل کو گیا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اسے یہ احساس ہوتا ہے کہ جو تعلیم اس نے حاصل کر رکھی ہے وہ نوکری حاصل کرنے یا کوئی معقول ذریعہ معاش بنانے کے لیے ناکافی ہے۔ لہذا گھر والوں، اساتذہ، احباب اور اپنی فہم کو بروئے کار لاتے ہوئے وہ ایک بار پھر تعلیم حاصل کرنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے اور دو یا چار سال کی بیچلر ڈگری کے لیے خود کو وقف کر دیتا ہے۔ چار سال گھر سے جامع جانے کی تکلیف، گھر سے دور ہاسٹل رہنے کی تکلیف، وغیرہ وغیرہ۔ عرض ان تھک محنت و ریاضت کے بعد وہ وقت بھی آ جاتا ہے جب اسے بیچلر ڈگری سے نواز دیا جاتا ہے۔ ہمیشہ کی طرح امتیازی درجہ کا احساس اس کے کندھوں پہ ہوتا ہے۔

اب نوجوان تین چار ڈگریاں تھامے روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے جہاں ظالم ہوس پرست سسٹم اس کا استقبال کرنے کے لیے بانہیں پھیلائے بیٹھا ہوتا ہے۔ ابتدا میں اسے پیشہ ورانہ تجربہ ناکافی ہونے کے بابت ٹھکرا دیا جاتا ہے۔ پھر کچھ محنت اور مفت میں اداروں کے چکر کاٹنے کے بعد اسے ایک عدد نجی ادارے میں نوکری مل جاتی ہے۔ ہمیشہ کی طرح یہ عمل بھی اس کو امتیازی درجہ دلاتا ہے۔ لیکن کچھ وقت گزرنے کے بعد اسے معلوم ہوتا ہے کہ جس اجرت پر وہ کام کر رہا ہے اس سے زیادہ تو ایک خواندہ دیہاڑی دار مزدور کما لیتا ہے تو اس کی ڈگریاں کس لائق؟

یہ احساس اس کو نوکری چھوڑنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ پھر وہ سرکاری نوکری یا کاروباری مواقع تلاش کرنے لگتا ہے۔ افسوس سرکاری محکموں میں پانچ آسامیوں کے لیے پانچ ہزار درخواست گزار حاضر لائن ہوتے ہیں اور آخر میں کہی سے پتا چلتا ہے کہ دفتر کے کسی سٹاف کا رشتہ دار یا تگڑی سفارش والا آسامی پر کر چکا ہے۔ ملکی حالات اور کرپٹ سسٹم کے بابت کاروباری حالات بھی مستحکم نہیں جس کی وجہ سے کسی بھی کاروبار میں قدم رکھنے سے اکتایا ہوا جوان فکر معاش میں ملک چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے اور پرکھوں کا سب سرمایہ، رشتے ناتے سب چھوڑ کر بیرون ممالک نکل جاتا ہے۔

ہمسری کے اس دور میں جہاں پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ پیسہ ہی رہائش، ملازمت، رشتہ، رتبے وغیرہ کا ضامن سمجھا جاتا ہے وہاں مناسب ضروریات کے مطابق کمانے والے کی بھی قدر نہیں کی جاتی جس کے سبب ایسے بے شمار کارآمد ثابت ہونے والے افراد اس بے رحم معاشرے کے دامن سے نکل جاتے ہیں۔ اسی بے روزگار جوان کو بیرون ملک پہنچنے پر معاشرہ امتیازی درجہ دینے پر مجبور ہو جاتا ہے لیکن وہاں پہنچنے پر اس مرتبہ ابتدا میں اس کا نفس خود کو امتیازی درجہ دینے سے قاصر ہوتا ہے کیونکہ شاید وہ جو کچھ کھو کہ وہاں پہنچتا ہے وہ اس کے لیے زیادہ قیمتی ہو سکتا ہے۔

بہرحال وقت اس حجت کو بھی ختم کر دیتا ہے اور وہ معقول سرمایہ بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اب نفس کو سامان راحت میسر آنا شروع ہو جاتے ہیں اور وہ پھر سے خود کو برتر سمجھنے لگتا ہے۔ معاشرہ اس کی واپسی پر پھولوں سے استقبال کے لیے منتظر رہتا ہے مگر وہ پھول اس کی حیات میں نہیں تابوت پہ ڈالنے کے کام آ ہی جاتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں چار لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد ملک چھوڑ کر جا چکے ہیں کیونکہ پاکستان میں ان کی تمام تر امیدیں ختم ہو چکی تھیں ان میں زیادہ تر اعلی تعلیم یافتہ اور ہنر مند افراد شامل ہیں۔ اگر حالات اور سوچیں یہی رہی اور ان پر قابو پانے کی کوشش نہ کی گئی تو انجام عبرت ناک ہو سکتا ہے۔

کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو
کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی

Facebook Comments HS