کیا ہماری بچیاں کپڑے سے بنائی گئی گڑیائیں ہیں؟


کیا ہماری بچیاں کپڑے سے بنی گڑیائیں ہیں کہ جن کو بنایا، سجایا پھر توڑ مروڑ کر پھینک دیا جا‏‏‍‌‌ئے؟

یہ ہی سب ہوتا تھا۔ دور جاہلیت میں لیکن اللہ نے جو ہم بیٹیوں کو عزت دی اس عزت کی ترجمانی آپ صلعم نے عملی طور پر سمجھائی، جو عورت کسی خاندان یا کسی زور زبر والے گھرانے کی ہے۔ اس کو وہ عزت دی جاتی ہے۔ جیسے دور جاہلیت میں عزاء بت کو اور جو عورت کمزور یا لاوارث ہو اس کو توڑ مروڑ کر نہیں بلکہ ذبح کیا جائے، افسوس ہے کہ دین اسلام کے اندر مشرق میں جو مقام عورت کا ہے۔ وہ مقام مغرب نے وہاں کی عورت کو دیا، مغربی عورت آزاد ہوتی ہیں پر ایسے ظلم کا شکار نہیں۔

التجا ہے کہ اپنی بیٹیوں کی حفاظت خود کریں ان کو خود کفیل کرنے کے لئے سلائی کڑھائی اور دیگر گھر بیٹھ کر سیکھنے والے ہنر سے آگاہی دلائیں گھر سے باہر بھیجنے سے پہلے اپنی بیٹیوں کو پر اعتماد بنائیں اور آج کل تو ویسے بھی انٹرنیٹ کی سہولت نے ساتھ دے رکھا ہے۔ بچیوں کو گھر بیٹھے اعتماد کے ساتھ کاروبار سکھائیں، عورت کو بھی اللہ نے دماغ دیا ہے۔ اس کو بھی غیر تعمیری سوچ سے نکال کر مثبت راستوں کے لئے راہنمائی کر کے گھر کی کفالت میں شریک دار بنائیں، لیکن بچیوں کو فاطمہ اور ان کے طرح کی اور گزشتہ معصوم بچیوں کی طرح عبرت سے محفوظ کریں، عورت کی حفاظت اور ان سے نرمی اور وراثت میں حق دینے کا ذمے دار اللہ تبارک و تعالی نے مرد کو بنایا ہے۔

مرد کو اللہ نے طاقت دے کر کچھ معاشرتی ذمہ داریاں سونپیں ہیں۔ ان کو مرد حضرات ادا کریں جو بھی بیٹیوں والے غیرت مند مرد ہوتے ہیں۔ وہ کسی کی بھی بیٹی کے ساتھ نا انصافی نہیں کرتے چاہے وہ ان کی اپنی ماں یا بیٹی اور بہن ہونے کے علاوہ بیوی ہو، عورت کی ذمہ داری اللہ نے مرد کو دی کہ عورت کے ساتھ نرمی اور اخلاق اور آرام دینے کا سلوک کریں اگر ہمارے معاشرے میں کسی بھی دین کی اندر پیدا ہونے والی بیٹی کے ساتھ بد سلوکی یا ظلم ہو تو عورت سے زیادہ تکلیف، غیرت اور دکھ مرد کو ہونا چاہیے کیوں کے اللہ نے مرد کو احساس دلایا ہے کہ عورت کمزور ہے۔ اس کی کسی بھی معاملے میں حق تلفی نہیں کریں،

اور عورت کی ہمیشہ سے حفاظت اس کے گھر کی چار دیواری ہے تو اللہ کے واسطے گھر بیٹھ کر اپنے گھر کے مردوں کی کفالت میں شریک دار بن کر اور اپنے وقت کو بہتر جگہ گزارنے کے لئے گھریلو ہنر کو معمولی اور گھر سے گزرے باہر کے وقت کو تعلیم یافتہ عورت ہونے کا ثبوت، سوچنا چھوڑ دیں۔

اپنی بچیوں کی حفاظت اپنے گھر کے مردوں کی غیر موجودگی میں کسی میدان جنگ میں کھڑے سپہ سالار کی طرح کریں، عورت جسمانی کمزور ہونے کی وجہ سے جلدی تھک۔ ضرور جاتی ہے لیکن ذہنی طور پر غافل نہیں ہوتی۔

عورت اپنے گھر کی ملکہ ہوتی ہے۔ جہاں اس کی بات کو غور سے سن کر عمل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ چاہے اس کا خاوند یا اولاد ہو، گھر میں عورت کی کفایت شعاری اور ذمہ دارانہ انداز طریقہ دیکھ کر خاندان و اہل محلہ سب تعریف و عزت کریں گے اور ایک گھر دوسرے گھرانے کو دیکھ کر مثال بنانے کی کوشش کرے گا اور ویسے بھی ہم عورتیں ایک دوسرے کو دیکھ کر جیسے اور باتیں اور چیزیں دیکھا دیکھی اپناتے ہیں تو اچھی اور محفوظ زندگی گزارنے کے ڈھنگ کیوں نہیں!

ایک واقعہ آپ کی نظروں کے آگے رکھ کر اس تحریر کی زینت بنانا چاہوں گی کہ ایک بار دور حضرت علی ع کے ایک قصائی آواز لگا رہا تھا کہ تازہ و صحت مند جواں جانور کے گوشت لے لو حضرت علی ع کو دیکھا تو آپ علی ع کو گوشت خریدنے کی دعوت دی، آپ علی ع نے فرمایا کہ گوشت تو بہترین ہے پر خریدنے کی طاقت نہیں تب قصائی نے کہا کہ آپ مجھ سے ادھار کر لیں کیوں کہ گوشت بہت اچھا ہے۔ آپ علی ع نے فرمایا کہ یہ ادھار کیوں نا اپنے پیٹ سے کرلوں جب گنجائش ہو تو لوں گا۔ تو اس واقعہ کا ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اپنی ضرورتوں کو محدود اور خود کو ہر بلا سے محفوظ کریں خاص طور پر قرض جیسے موذی مرض سے، اللہ پر بھروسا کریں اور خود کو مصیبتوں میں مبتلا ہونے سے بچائیں کسی بھی طرح کے قرض سے۔

اپنی بچیوں کو تحفظ دیں اپنے بچوں کو بلاوجہ گھر سے باہر جانے یا زیادہ دور جانے سے خیال رکھیں کسی ضرورت کے تحت بھیجنا مقصود ہو تو کسی ذمہ دار شخص کے ساتھ بچوں یا بیٹیوں کو بھیجیں کوشش یہ ہی ہو کہ بیٹیوں کو اس کے محرم کے ساتھ گھر سے باہر جانے دیں، دیکھا جائے کہ معاشرے میں سدھار کا دار و مدار ہم عورتوں پر زیادہ، کیوں کہ جتنا ہم گھرداری کی طرف زیادہ رجحان رکھیں گی۔ اتنا زیادہ ہم معاشرے میں نیک اولاد اور غیرت مند و ذمہ دار اور مضبوط کردار شوہر کو بھیجیں گی۔ اچھی عورت اپنے گھرانا کو ذمہ داری سے جب سنبھالتی ہے تو وہ حالت جہاد میں ہوتی ہے۔ ہمارے بھائی ہمارے بیٹے ہی ہمارا مستقبل ہیں۔ اپنے بھائیوں اور بیٹوں کو ذمہ دار مرد تیار کرنا بھی عورتوں کی تربیت کا ایک خاص حصہ ہے۔

Facebook Comments HS