انوار مستجاب: سرزمین چترال کے ایک داعی کی سرگزشت

پروفیسر اسرار الدین کی کتاب "انوار مستجاب” ایک بہترین تحقیقی کاوش ہے جس میں پاکستان کے ضلع چترال سے تعلق رکھنے والے ایک عظیم داعی، مصلح، اسلامی اسکالر اور روحانی پیشوا حضرت مولانا مستجاب رحمۃ الله علیہ کی زندگی اور کارہائے نمایاں کے بارے میں تفصیلی مضامین کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کتاب کو کل نو ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں دو "ضمیمہ جات” اور ایک "عقیدت نامے” کے نام سے شامل ہیں اور اس میں کئی ممتاز علماء، دانشور اور مصنفین کی تحریروں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کتاب کا نام چترال وژن کے ایڈیٹر مولانا عنایت الرحمٰن شمسی نے تجویز کیا ہے۔ مولانا عبدالرحیم چترالی کے مطابق:” میں نے حضرت شیخ الحدیث ولی کامل مولانا محمد مستجاب صاحب کے ارشاد با برکات اور کرامات کے مجموعے کے مختلف مباحث کا مطالعہ کیا لیکن بیماری کی وجہ سے لفظ بہ لفظ مطالعہ نہ کر سکا۔ حضرت والا کے متعلقین کے لئے ضروری ہے کہ اس کتاب کو مشعل راہ بنائیں، دُعا ہے کہ رب تعالیٰ اس کو مقبول و مفید بنائے اور پروفیسر اسرار الدین صاحب کو جزائے خیر عطا فرمائے جنہوں نے اپنے خاندان کے تعلق کا صحیح حق ادا کیا”۔
قاری فیض الله چترالی لکھتے ہیں "حضرت مولانا محمد مستجاب رحمتہ الله علیہ سرزمین چترال کے گل سرسبد، عظیم فرزند زمین، ثقه و راسخ عالم دین، خدا ترس بزرگ، ہردم مخلوق خدا کی اصلاح اور دین کی خدمت میں کوشاں داعی الی الله، عارف حق شناس اور مقبول بارگاہ حق ہستی تھے۔ حضرت بالائی چترال کے مردم خیز علاقہ اویر میں 1885ء میں پیدا ہوئے اور 1984 علم فضل اور زہد و ورع کا یہ آفتاب عالم تاب "اویون” چترال کی وادی میں غروب ہوا ۔ یوں آپ نے ننانوے برس کی طویل عمر پائی اور بچپن کے چند سال نکال کر آپ کی زندگی کے بیشتر ماہ و سال اور شب و روز علم دین کے حصول، طریقت کی ریاضت اور تربیت، خلق خدا کی اصلاح، دینی علوم کی تزویج و اشاعت ، اصلاح رسوم، سماج میں صالح انقلاب کی جد و جہد اور دعوت و تبلیغ دین جیسی با مقصد و پر سعادت سرگرمیوں سے عبارت رہے۔ حضرت مولانا محمد مستجاب نے بچپن اور پھر عنفوان شباب میں جب تحصیل علم کے مبارک سفر کا آغاز کیا تب چترال میں تعلیم کا زیادہ رواج ، ماحول اور بندوبست نہیں تھا، کسی میں بتوفیق الہی احساس وشعور جاگ جاتا تو اپنے طور پر تعلیم کے لئے جدو جہد کرتا اور محنت کر کے نام و مقام پیدا کرتا ۔ اس ماحول میں حضرت مولانا محمد مستجاب کے دل میں اوائل عمری میں ہی حصول علم کی جوت پڑی اور اللہ تعالی نے انہیں اپنے دین کے علم کے لئے منتخب فرمایا۔ ابتدائی تعلیم جس قدر ممکن تھی حضرت نے چترال میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے سفر کی صعوبتیں جھیل کر ریاست کی حدود سے باہر قدم نکالے اور ہندوستان کے مختلف مقامات سے دینی تعلیم کے متداول نصاب کی وسطی درجے کی کتابیں پڑھیں اور منتہی کتابوں کے لیے توفیق خداوندی نے مفتی اعظم مفتی کفایت الله کے زیر سایہ مدرسہ امینیہ دہلی کی طرف رہبری کی”۔
ڈاکٹر فدا محمد رقمطراز ہیں "پروفیسر اسرار الدین صاحب کی کتاب ” انوار مستجاب” جو چترال کے ایک ولی کامل حضرت مولانا محمد مستجاب صاحب نقشبندی کی سوانح ہے، جس میں انہوں نے حضرت مولانا مستجاب صاحب کے ظاہری علم حاصل کرنے کے بعد حضرت مولانا فضل علی قریشی کی طویل صحبت کا تذکرہ کیا ہے جس میں انہوں نے کتاب میں بیان کئے ہوئے علم کے مطابق عملی طور پر صحبت کے ذریعے ان عقائد، اعمال، عادات واطوار، صفات و جذبات کو اپنے اندر جذب کیا جس سے ان کی شخصیت نکھر کر حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی تلقین فرمائی ہوئی زندگی کا عملی نمونہ بن گئی”۔
مولانا فیاض الدین چترالی لکھتے ہیں: "بے شمار بے دین اور شرک و بدعات میں ڈوبے لوگوں نے آپ کے دست مبارک پر توبہ و بیعت کی اور دین سے جڑ گئے ۔ یہ اتنی بڑی خدمت آپ نے تن تنہا سر انجام دی۔ آپ چونکہ سراپا اخلاص تھے، اس لئے آپ کا وعظ سنے کے لئے سنی ، اسماعیلی اور ہر طبقے کے لوگ تشریف لاتے تھے۔ آپ نے کبھی کسی کی دل آزاری نہیں کی ، سب کو محبت کے ساتھ ہمدردی کے جذبے سے دین کی طرف بلاتے تھے، آپ ایک مبلغ اسلام اور معلم دین اور شیخ الحدیث ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی علوم پر بھی دسترس رکھتے تھے ۔ آپ نے مسلمانوں کی باطنی اصلاح اور اخلاق کی تربیت پر بھی بھر پور توجہ دی، حضرت صاحب میرے استاد، میرے ناما اور میرے مرشد تھے”
ڈاکٹر محمد حامد "دنیائے تصوف کی ایک مایہ ناز شخصیت” کے عنوان سے لکھتے ہیں ” حضرت مولانا محمد مستجاب رحمتہ اللہ علیہ جن کا تعلق چترال سے ہے دنیائے تصوف کے ایک مایہ ناز فرد کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تمام عمر اصلاح و تبلیغ اور دلوں کی دنیا کو الله تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکامات کی بجا آوری پر آمادہ کرنے میں بسر کیا۔ وہ بیک وقت قلب اور زبان دونوں کے ذریعے اصلاح کے کام میں مصروف رہے۔ چترال کے ایک ایک گوشے اور ایک ایک قریے میں انہوں نے یہ پیغام پہنچایا۔ وہ بیسویں صدی کے ایک عظیم نقشبندی بزرگ حضرت مولانا فضل علی قریشی رحمۃ اللہ علیہ کے دست گرفتہ تھے۔ انہوں نے انہیں خلافت سے نوازا اور انہیں چترال میں دلوں کے چراغ روشن کرنے کا کام سپرد کیا جو انہوں نے کماحقہ اپنی آخری سانس تک پورا کیا۔ آپ نے دینی تعلیم مختلف مدارس میں حاصل کی لیکن مفتی اعظم ہند حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس علوم کی تکمیل کی جو بلاشبہ علم کا سمندر تھے۔ دہلی کے مدرسہ امینیہ میں آپ نے پانچ برس مفتی صاحب کے زیر سایہ تعلیم حاصل کی اور واپس چترال تشریف لا کر اویون میں مدرسہ شروع کیا۔ مجھے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ میں ڈاکٹر عنایت الله فیضی صاحب کی ہمراہی میں یہاں حاضر ہوا یہ میرے لیے خوش بختی کا سبب تھا کہ چترال کی عظیم ہستی کے حضور حاضری کا موقع میسر آیا”۔
ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی رقمطراز ہیں "مولانا صاحب کے حالات زندگی اور کوائف سفر و حضر لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں ۔ ان احوال و آثار کو کرید کر یکجا کرنا آسان کام نہیں تھا۔ پروفیسر اسرارالدین صاحب نے اپنی تصنیف کو متوازن اور حسب حال بنانے کی حتی المقدور کوشش کی ہے اور اس کوشش میں بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ مولانا محمد مستجاب کا شمار پاکستان میں سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور صوفیا میں ہوتا ہے۔ چترال خیبر پختونخوا کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ کا تعلق اس سرزمین سے تھا۔ علماء اور اولیاء کے تذکروں میں یہ بات التزام کے ساتھ لکھی جاتی ہے کہ آپ نے منقولات اور معقولات کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد تزکیہ نفس کیلئے اپنے مرشد کے دست حق پرست پر بیعت کی، چنانچہ کسی ولی کامل کے ارادتمندوں میں شامل ہونا حصول علم کے ساتھ لازم سمجھا جاتا تھا۔ مولا نا ممحد مستجاب کو مفتی کفایت اللہ دہلوی کے مدرسہ امینیہ دہلی سے علوم شرعیہ، حدیث تفسیر اور فقہ کی سند ملی جبکہ مولانا فضل علی قریشی کی طرف سے سلسلہ نقشبندیہ میں خرقہ خلافت عطا ہوا۔ عمر بھر آپ نے کفر، شرک ، بدعات اور منکرات کے خلاف علم جہاد بلند کئے رکھا۔ اگر چہ تشنگان علم و موعظت آپ کے پاس جوق در جوق آیا کرتے تھے، پھر بھی آپ نے کنویں کی طرح ایک جگہ ٹھہرنے پر دور دراز سفر کر کے گھومتے پھرتے خلق خدا کو دینی تعلیمات کی طرف بلانے کو ترجیح دی اور تبلیغی و اصلاحی دورے کر کے عوام و خواص اور مرد و زن کو بدعات اور منکرات سے روکنے کا فریضہ انجام دیا”۔
کتاب کا پہلا باب "کلماتِ ابتدایہ” کے نام سے ہے اور اسے مصنف نے خود لکھا ہے اس میں کتاب کو لکھنے کا مدعا بیان کیاگیا ہے۔ یہ ابتدائی حصہ باقی ابواب کو سمجھنے کے لیے ایک خاکہ پیش کرتا ہے اور قارئین کو مولانا مستجاب صاحب کی شخصیت و فن کو سمجھنے کے لیے ایک ٹھوس بنیاد فراہم کرتا ہے۔
دوسرا باب مولانا مستجاب صاحب کی زندگی اور کارہائے نمایان کے لیے وقف ہے۔ یہ اس کی پرورش اور حالات زندگی، تعلیم، اور ایک جید عالم اور بہترین استاد کے طور پر ان کے ابتدائی کیریئر کا تفصیلی بیان فراہم کرتا ہے۔ اس باب میں اسلامی علوم کے شعبے میں ان کی خدمات اور مقامی چترالی کمیونٹی پر اس کے اثرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
کتاب کے تیسرے باب میں مولانا مستجاب صاحب کی چترال واپسی اور علاقے کے لوگوں کے لیے بطور استاد اور سرپرست ان کے کردار اور خدمات پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ یہ باب مولانا مستجاب صاحب کی تعلیم اور تربیت کے بارے میں تحقیقی مواد فراہم کرتا ہے کہ اس نے اپنے طالب علموں کو کس قسم کی تعلیم اور تربیت فراہم کی، نیز اسلامی علوم اور روحانیت کو فروغ دینے کی اپنی کوششوں میں انہیں مختلف چیلنجوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
کتاب کا چوتھا باب مولانا مستجاب صاحب کی طرف سے ممتاز صوفی اور روحانی رہنما حضرت فضل علی قریشی کی "حلقہ ادارت” میں شمولیت کے بارے میں ہے۔ یہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ مولانا مستجاب صاحب کا حضرت فضل علی قریشی سے کیا تعلق تھا اور اس تعلق نے ان کی روحانی نشوونما اور تربیت پر کیاکیا اثرات مرتب کیے تھے۔
کتاب کا پانچواں باب مولانا مستجاب صاحب کی "دعوتِ تبلیغ” اور اسلام کے پیغام کو پھیلانے اور اسلامی اقدار اور اصولوں کو فروغ دینے کے لیے ان کی کوششوں پر مرکوز ہے۔ اس میں اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کیے جانے والے مختلف طریقوں اور مقامی کمیونٹی پر اس کے کام کے اثرات پر تفصیل کے ساتھ بحث کی گئی ہے۔
کتاب کا چھٹا باب مولانا مستجاب صاحب سے "منسوب یادیں اور "کرامات” اور ان کی روحانی قوتوں اور صلاحیتوں کے بارے میں ہے۔ اس باب کے مطالعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ اس کے روحانی تجربات کی نوعیت اور اس کے پیروکاروں اور شاگردوں پر ان کا کیا اثر تھا۔
کتاب کا ساتواں باب مولانا مستجاب صاحب کی "ذاتی صفات”(مکارم اخلاق) اور ان کے فضائل کے لیے وقف ہے۔ اس باب کے مطالعہ سے ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ مولانا مستجاب کس قسم کی شخصیت کے مالک تھے، اور اس نے کس قسم کی اقدار کے فروع میں کردار ادا کیا، اور ساتھ ہی اس کی زندگی اور کارہائے نمایاں سے ہم ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
کتاب کا آٹھواں باب مولانا مستجاب صاحب کی "ملفوظات” اور کھوار زبان میں ان کی تقریروں اور تعلیمات کا ترجمہ ہے۔ یہ باب مولانا مستجاب صاحب کے خیالات اور عقائد اور اس کے پیروکاروں اور شاگردوں پر اس کے اثرات کی بے شمار مثالیں فراہم کرتا ہے۔
کتاب کا نواں اور آخری باب "بہارِ آخر شُد” یا زندگی کا خاتمہ کے موضوع پر ہے۔ اس باب میں مولانا مستجاب صاحب نے موت اور بعد کی زندگی کے سلسلے میں جن عقائد اور عادات کو فروغ دیا اس کی تفصیل درج ہے۔
مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو پروفیسر اسرار الدین کی کتاب "انوارِ مستجاب” ایک بہترین تحقیقی کتاب ہے جو مولانا مستجاب صاحب کی زندگی اور کارہائے نمایاں پر ایک جامع اور بصیرت انگیز نظر ڈالتی ہے۔ یہ اچھی طرح سے تحقیقی انداز سے لکھا گیا ہے، اچھی طرح سے خوبصورت رنگین ٹاٹٹل ڈیزائن شدہ صفحات کے ساتھ شائع کیا گیا ہے، اور اس میں چترال اور چترال سے باہر کئی ممتاز اسکالرز اور مصنفین کی آرا کو بھی شامل کیا گیا یے۔ کتاب معقول قیمت یعنی صرف 650 روپے میں اور وسیع پیمانے پر چترال، پشاور، لاہور، میراندھ کھوت اور بونی میں دستیاب ہے، جس کا مطالعہ کرنے سے چترال کی اس مایہ ناز شخصیت کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی رکھنے والے ہر فرد خصوصاً جامعات کے طالب علموں کے لیے یہ کتاب بہترین حوالہ ہے۔


