یوسف خالد : فکر و احساس کا شاعر


الفاظ کی جادوگری کو شاعری سے موسوم کرنا بے جا نہیں ،کیوں کہ یوسف خالد جب الفاظ اور جذبے کے نامیاتی کل سےشعری آہنگ تخلیق کرتے ہیں تو قاری کے قلب و ذہن میں جمالیاتی سر شاری کی سحر آگیں کیفیات پیدا ہوتی ہیں۔ان کیفیات کے بیچ میں سے ان کا منفرد اُسلوب اور طرزفکر جنم لیتا ہے جو قاری کو شعورو آگہی کا نور عطا کرتا چلا جاتاہے۔یوسف خالد کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ وہ نثری نظم کی روایت میں ایک ایسا شاعر ہے جو منفر شناخت کا حامل ہے تو غلط نہ ہو گا ۔ان کی نثری نظموں کی کتاب” سمے کا دھارا” ان کے تخلیقی سفر کا اہم سنگِ میل ہے۔”سمے کا دھارا”کی شاعری فکری اور جمالیاتی اعتبار سے قابلِ رشک ہی نہیں قابلِ تحسین بھی ہے۔
ناقدینِ ادب، شاعری کو عمومی طور پر دو زمروں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ عظیم شاعری ممکنات کے بند دروازے کھولتی اور امکانات کو نشان زد کرتی ہے۔مستقبل سے وابستہ ایسے مناظر قاری کے سامنے رکھتی ہے جہاں نئے رنگ اور نئے آہنگ موجود ہوتے ہیں ۔اس کے برعکس ایک ایسی شاعری بھی ہوتی ہے جو ماضی کی باز گشت ہوتی ہے۔اس طرح کی شاعری پر افسانوی رنگ غالب نظر آتا ہے اور سوائے ماضی کی جزئیات اور تفصیلات کے اس میں کچھ موجود نہیں ہوتا ۔یوسف خالد کے اس مجموعے کی نظموں کو اول الذکر خانے میں رکھا جا سکتا ہے۔وہ اپنی نظموں میں ممکنات تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ "چیتر”،”حصار” ،”موسمِ گل”اورقوتِ نمو” جیسی نظموں کواس حوالے سے مثال کے طورپر پیش کیا جا سکتا ہے۔خوب صورت اور دلپذیر شاعری کے لیے جس کوملتا اور نزاکت کی ضرورت ہوتی ہے ، وہ مسلسل ریاضت کے بغیرصریرِ خامہ میں ڈھل کر نوائے سروش نہیں بن سکتی۔یوسف خالد نے نظم میں نزاکت اور کومل احساس کو رچانے کے لیے مسلسل ریاضت کی ہےجونثری نظموں کی صورت ،ظہور پذیرہوئی ہے۔انھوں نے اپنے پورےتخلیقی جوہر سے ہر اس جذبے کو شعری پیکر عطا کیا ہے جو ان پہ وارد ہوا ہے:
"کتنے ماہ و سال گزر گئے ہیں
بے اطمینانی کم ہوئی ہے اور نہ ہی جستجو
میں اکثر جھیل کنارے بیٹھا
یہ جاننے کی کوشش کرتا ہوں
کہ جھیل کی تہہ میں کیا ہے” (آنکھیں بند کرو)
ایک اور نظم کا اقتباس دیکھیں :
"آواز اورروشنی
یہ قائم رہیں تو امکانات کے در وا رہتے ہیں
روشنی وسعت کی طلب گار اور وسعت آشنا رہتی ہے
جب کہ آواز
وسعتوں کے دوش پر سوار رہتی ہے
اور کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتی
پابند ہوتی ہے نہ دم توڑتی ہے” (آواز اورروشنی)
یوسف خالد کی نثری نظموں میں وہ ابہام اور گنجلک پن دکھائی نہیں پڑتا جو جدید شعرا کے ہاں موجود ہے۔مگر ان کی سادگی میں پُرکاری ضرور موجود ہے جو احساس اور جذبے کو فکر اور تدبر سے ہم آہنگ کر کے ترفع عطا کرتی ہے۔یوسف خالد کی نظموں کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے جذبات کو عامیانہ سطح پر اترنے کی اجازت نہیں دیتےاور نہ ہی اپنی فکر کوکسی نعرے کی نذر ہونے دیتے ہیں ۔ان کی نظموں کا عقبی دیار احساس ،جذبے ،لطافت اورمحبت جیسی صفات سے عبارت ہے۔یہی وجہ ہے کہ قاری ان کی نظموں کی قرات سے اکتاتا نہیں بلکہ ہمیشہ”ھل من مزید” کا خواہاں رہتا ہے۔قاری ان کی نظموں کے توسط سے ان کی تخلیقی کائنات کی سیر سے لطف اندوز ہوتا ہے:
"گیلی مٹی چاک پر گھومتی ہے
کوزہ گر کی انگلیاں صورت گری میں مصروف ر ہیں
دیکھنے والے نے جب یہ نظارہ دیکھا تو مبہوت ہو گیا
حالتِ استغراق میں
مٹی کی دوہری معنویت اس پر منکشف ہونے لگی
تجارت ایک بہانہ بنی
امارت چاکری میں بدلی
اور مٹی سے مٹی کا انسلاک پختہ ہوتا چلا گیا ”
مذکورہ مجموعے کی نظمیں محبت کی خوش بو اور فطرت کے حسیں مناظر کی جلوہ آرائی سے مزین ہیں ۔تمام نظمیں زندگی اور کائنات کے ارتقائی تحرک کے عقدوں کو وا کرنے والی ہیں ۔ان کے قلب و ذہن میں فطرت اور کائنات کے متنوع رنگوں سے والہانہ محبت رچی بسی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کا غالب رنگ رجائیت پسندی کا آئینہ دار ہے۔” کینوس "،”تلاش،”ایک مسکان کی خاطر” اور”خودشناسی” جیسی نظمیں ان کی اس جہت کی عکاس ہیں ۔ان کی نظمیں دراصل تنہائی کے لمحات میں انسانی وجود کے بھیدکو پالینے کی لگن ہیں ، فطرت سے ہم کلام ہونے کی تمنا ہیں ، انسانی جذبوں اور احساسات کو محسوس کرنے کا دوسرا نام ہیں ۔مثلا ان کی نظم ” بساط” کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو جو ان کے کائناتی تفکر و تدبر کو واضح کرتا دکھائی دیتا ہے:
"یہ کرۂ ارض ایک بساط ہے
اس بساط پر رکھے گئے سارے مہرے
ایک دوسرے سے مسلسل دست و گریبان ہیں
ایک میرا تھن ریس ہے
جس میں حصہ لینے والے تمام کے تمام کردار
اپنے کاندھوں پر اپنی اپنی کہانی کا بوجھ اٹھائے
ہانپتے ،لڑکھڑاتےدوڑتے چلے جا رہے ہیں” (بساط)
یوسف خالد کا شعری اسلوب کچھ اس طرح تشکیل پذیر ہوا ہے کہ وہ لفظوں کی حرمت کو مجروح نہیں ہونے دیتے بلکہ ان کی توقیر قائم رکھتے ہیں۔ وہ محبوب کے حسن کو کچھ اس انداز سے مصور کرتا ہے کہ وہ کسی جادو سے کم نہیں ہوتا ۔وہ حیات و کائنات کے تفکر میں گزرے لمحوں کو ایسا پہناوا عطا کرتا ہے کہ اس پر کسی ساحر کا گماں ہونے لگتا ہے۔اس کی نظمیں عالمِ لاہوت سے اترا ہو ا تحفہ یاباہمی احساس میں بانٹی ہوئی خوشبو محسوس ہوتی ہیں ۔یوسف خالد ایک محبت کرنے والا انسان ہے ۔اس کے دل اور روح میں محبت ایسے رچی بسی ہے کہ وہ اسے منظوم کرتے ہوئے سر شاری اور روحانی آسودگی محسوس کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے ہاں حسن و عشق کا اظہار خاص جمالیاتی رنگ کا آئینہ دار ہےجس میں کہیں کہیں صوفیانہ پن کی لطیف جھلک بھی محسوس ہوتی ہے۔ان کی شخصیت کا دھیما پن ،ان کی نظموں میں تسلسل کے ساتھ منعکس ہوتا ہے۔پروفیسر یوسف خالد کاتخلیقی سفر جاری ہے اور” سمے کا دھارا” اس کا ایک پڑاؤہے ۔آنے والے دنوں میں ان کی نثری نظمیں اپنی خوشبو سے شاعری کے ماحول کو معطر بناتی رہیں گی۔ان کے خیال کی برجستگی،فکر کی نفاست اوراسلوب کی تازہ کاری سے نئی نظموں کی کونپلیں پھوٹتی رہیں گی اور قارئین ان کی نظموں سے لطف کشید کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS