سانحہ جڑانوالہ اور حکمت عملی


ہمارے ملک پاکستان کا شمار اگرچہ نیوکلیر طاقتوں میں ہوتا ہے مگر مذہبی جنونیت کی وجہ سے نہ صرف معاشی و سماجی بلکہ اخلاقی طور پر بھی پست سے پست تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ مہذب معاشرہ بننے کی بجائے اخلاقی و سماجی قدروں سے بھی دور ہو گیا ہے جس کی وجہ سے طرح طرح کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ امن اور سکون نہ ہونے کی وجہ سے ملک کی اقلیتیں تو کیا اکثریت بھی ملک سے فراریت کا راستہ اختیار کرتے چلے جا رہے ہیں۔ لاکھوں روپے خرچ کر کے جائز و ناجائز راستوں سے دوسروں ملکوں کا رخ کر رہے ہیں۔ 2023 میں 5 مئی کا واقعہ رونما ہوا۔ اور ماہ اگست میں سرگودھا کے تین مسیحی گاؤں میں مذہبی کشیدگی رہی جو اب تک بھی جاری ہے اور اب سانحہ جڑانوالہ نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

جڑانوالہ کے اندوہناک سانحہ پر ہر زبان پر ایک ہی جملہ ہے کہ اگر ماضی میں ہونے والے ایسے واقعات پر مجرموں کو سزا دی ہوتی تو یہ واقعات دہرائے نہ جاتے۔ انتہا پسندی کے ناسور نے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ یہ ایسا ناسور ہے جس پر سب دوا دارو ناکام ہو چکے ہیں۔ اگر گزشتہ واقعات کے مجرموں کی قرار واقعی سزا دی ہوتی تو آج ایسے بے رحم لوگ قانون اپنے ہاتھوں میں نہ لیتے، غریب اور امن پسند مسیحیوں کے عبادت خانے اور گھر نہ جلتے، بائبل، صلیبوں اور قبرستانوں کی بے حرمتی نہ ہوتی۔

295 سی کے قانون نے انتہا اور شدت پسندوں کو اپنے ظلم کی آگ بجھانے، جائیدادیں چھیننے اور دشمنی کا بدلا لینے کا بہترین رستہ فراہم کیا ہے۔ جیسے 16 اگست کی علی الصبح جڑانوالہ میں قرآن کی مبینہ توہین کی پاداش میں انتہا پسند مسلم نوجوان نے مسیحی آبادیوں، عیسیٰ نگری، کرسچن ٹاؤن اور اس کے گردونواح میں 25 چرچ اور سینکڑوں گھروں کو آگ لگا دی۔ بہت سی موٹر سائیکلوں کو نذر آتش کر دیا، بائبل مقدس اور صلیب کی بے حرمتی کی گئی۔

جوان بچیوں اور عورتوں نے قریب کھیتوں میں گھس کر پناہ لی۔ اس اندوہناک خبر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد تمام پاکستانی مسیحی چاہے وہ کسی بھی ملک میں مقیم ہیں، یا ان کا تعلق کسی بھی مذہبی فرقے سے ہے، اس مصیبت کی گھڑی میں ان کا دل ایک دوسرے کے لئے کس قدر پریشان ہو گیا ہے۔ جڑانوالہ کے متاثرہ مسیحیوں کی اس مشکل گھڑی میں خیبر، مہران، سندھ اور پنجاب کے مسیحی جوق در جوق اپنے بھائیوں سے اظہار یکجہتی اور ان کی داد رسی کے لئے آ رہے ہیں اور ان کی مدد اور ضروریات زندگی کی اشیاء بہم پہنچانے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں اور اس سانحہ کے خلاف پوری دنیا میں سرتاپا احتجاج بن گئے ہیں۔ زندہ قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں۔ اور زندہ رہنے کے لئے قربانیاں بھی دینا پڑتی ہیں۔ یہ ایک مثلث حقیقت ہے کہ ایسی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ افسوس اور دکھ تو ہم سب کو ہے کہ جس وطن کی آزادی میں ہمارے آبا و اجداد کی قربانیاں شامل ہیں، جس کے حصول میں ہمارے ووٹ شامل ہیں اس وطن میں ہمیں آج تک وہ قبولیت نہیں ملی جس کے ہم حقدار ہیں۔

انہی مسیحیوں نے اس ملک سے جہالت دور کرنے کے لئے تعلیمی ادارے قائم کیے۔ بحالی صحت کے لئے اسپتال بنوائے اور اس شعبہ میں اپنی ناقابل فراموش خدمات سرانجام دیں۔ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں مسیحیوں کا ہمیشہ سے اہم رول رہا ہے مگر آج بھی ہم اپنے ہی وطن میں بدترین حالات، نفرت اور مذہبی انتہاپسندی کا شکار ہیں۔ سانحہ سانگلہ ہل، شانتی نگر، ساہیوال، بادامی باغ، جوزف کالونی، آل سینٹس چرچ پشاور اور یوحنا آباد کے بعد سانحہ جڑانوالہ تباہی، بائبل مقدس اور صلیب کی بے حرمتی کی بدترین مثال بن گیا ہے۔

1977 سے لے 2023 تک کے سانحات ایک آمر جنرل ضیاء الحق کی دین ہے جس نے ملک کو اسلامی سٹیٹ بنانے کی غرض سے، مذہبی نفرتوں اور مذہبی انتہا پسندی کا ایسا بیج بویا جو اب ایک خاردار توانا درخت بن چکا ہے۔ اس کے بعد آنے والے تمام ہی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے مذہبی کارڈ استعمال کیا۔ پوری دنیا میں اسلامو فوبیا کا رونا رویا گیا مگر اپنے لوگوں کی تربیت نہیں کی کہ وہ اسلامو فوبیا کے پھیلنے کی وجہ کا سدباب کریں۔

اور نہ ہی خود پاکستان میں دن بدن بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسند کے خاتمے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی اختیار کی۔ ماضی میں جتنے بھی انتہا پسندی کے واقعات ہوئے ہیں۔ اگر مجرموں کو اسی وقت سزا دی جاتی تو آج کسی کو بھی جھوٹا توہین مذہب یا توہین رسالت کارڈ استعمال کرنے کی جرات نہ ہوتی۔ ان میں اس قد زہر انجیکٹ کر دیا گیا ہے کہ ماضی میں اور اس جڑانوالہ سانحہ میں نوجوانوں کے علاوہ 12۔ 13 سال کے چھوٹے بچوں کو جنون کی حد تک جاتے دیکھا گیا ہے۔

نفرت کی انتہا ہے کہ چرچز، بائبل مقدس، صلیبوں اور قبروں کی بے حرمتی بغیر خوف خدا کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ مسیحیوں کو پاکستان میں دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔ ماضی کے تمام واقعات کو پس پشت رکھتے ہوئے یہ پہلا موقعہ ہے کہ اس سانحہ پر تمام گورنمنٹ آفیشل وفاقی و صوبائی، مذہبی اور سول سوسائٹی کے مدبرین نے جڑانوالہ کے مسیحیوں کے لئے اسٹینڈ لیا ہے اور ایک اچھی مثال قائم کی ہے۔ پنجاب حکومت متاثرین کی مالی امداد بھی کر رہی ہے۔

مگر اس انتہا پسندی کا قلعہ قمع کرنے کے لئے سخت حکمت عملی اختیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ کہ پھر ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔ اب ہماری کمیونٹی کی سیاسی و مذہبی قیادت کو بھی مقامی و ملکی سطح پر حکمت عملی اپنا نے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً اپنی یوتھ پر دھیان دینے اور عملی طور پر اس کی فلاح و بہبود پر زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے اور مثبت سوچ فروغ دینا ہے۔

Facebook Comments HS