جڑانوالہ واقعہ: متاثرین اور فریقین کی باتیں


مورخہ  16 اگست 2023 کو صبح 5 بجے چکی والی گلی میں مبینہ واقعہ سامنے آتا ہے جس کے بعد دو خواتین جن میں ایک بزرگ ہاتھ میں تسبیح تھامے ہمراہ ایک لڑکی رانی (جو کہ راجہ عمیر کی بہن کی کلاس فیلو تھی) اور لڑکا عمر، سلیم مسیح کے گھر خبر لے کر آتے ہیں۔ جس وقت عمر عرف روکی انٹر لوپ میں صبح کی شفٹ کے لئے گھر سے نکل گیا تھا۔ جبکہ عمیر سلیم باہر گلی میں اپنی چارپائی پر سویا تھا۔ خواتین نے مطالبہ کیا کہ آپ کے بیٹوں نے کچھ صفحات پھینک دیے ہیں باقی کتاب ہمیں واپس کر دو۔

جس پر راجہ عمیر کی بہن نے ان خواتین کو اپنی صفائی میں کہا کہ ہمارا بھائی تو گھر کے باہر گلی میں سویا ہے اور دوسرا کام پر چلا گیا ہے وہ کیسے یہ سب کر سکتے ہیں۔ ہمارے اوپر ہم پر جھوٹا الزام ہے ہمارے اس واقعہ سے کوئی تعلق نہ ہے مہربانی سے ہمیں اس الزام سے معاف کریں (یہ بات کرتے ہوئے عمیر سلیم کی بہن ان کے قدموں میں گر کر اپنی صفائی دینے لگی) ۔ جس کے بعد وہ خواتین راجہ عمیر کے گھر سے چلی گئیں اور اس دوران یہ خبر مسجد میں اعلان ہونے کے بعد ساری تحصیل میں پھیل گئی۔

سلیم مسیح درجہ چہارم کا ملازم ہے اور ساتھ ایک چرچ کا ایلڈر ہے۔ سلیم مسیح کے 6 بچے ہیں جن میں 4 بیٹیاں 2 بیٹے شامل ہیں۔ 2 مرلے کا گھر ہے جس کے نیچے والے حصے میں سلیم مسیح کا خاندان اور اوپر سلیم مسیح کے بھائی کا خاندان رہائش پذیر ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہمیں پہلی اطلاع صبح 6.30 پر ملی جس پر 7 بجے مقامی ایس ایچ او ہمراہ تین سپاہیوں کے سینما بستی پہنچا اور مقامی لوگوں کو قائل کرنے لگے کہ ہمیں راجہ عمیر اور عمر سلیم کی مذکورہ الزام کے تحت گرفتاری مطلوب ہے۔ جس پر مقامی لوگوں نے یقین دلایا کہ وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں لہٰذا ہم مذکورہ عمل کی شدید مذمت کرتے ہیں اگر وہ گنہگار ہیں تو انہیں ضرور سزا دیں۔

مقامی شہری سنیل ٹامس نے بتایا کہ مقامی لوگوں سے بات کر کے 7.30 پر پولیس واپس چلی جاتی ہے اور مقامی مساجد میں اعلانات کے بعد مسجد مہتاب کے باہر مقامی لوگوں کی تعداد جمع ہونا شروع ہو جاتی اور تحریک لبیک کی مقامی قیادت اپنے مقاصد کو لوگوں کے سامنے بیان کر کے اشتعال دلانا شروع کر دیتے ہیں۔ اس بات کی شہادت اس بات سے سمجھنے میں مدد ملتی ہے جب قیادت زور دیتی ہے کہ مقامی اے سی کی پشت پناہی سے ملزمان نے یہ گھناؤنا عمل کیا ہے۔ اور بستی کے ساتھ ساتھ اے سی کے آفس اور گھر پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اور قریب 10 بجے مقامی ایس پی بلال سلہری کے خبر کے بعد جو وہ حملہ آوروں سے مخاطب ہو کر کرتے ہیں کہ واقعہ مقدمہ درج کر لیا گیا اور اے سی صاحب کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ جس کا اظہار تحریک لبیک کا لیڈر اپنے کیمپ میں اپنے ووٹرز کے سامنے ان الفاظ میں کرتا ہے کہ چوہڑے اے سی کو معطل کر دیا گیا ہے اور اپنی جماعت کے نعرے لگانا شروع کر دیتے ہیں۔

پولیس کے مطابق 10 بجے تک تحصیل میں 7 ایس ایچ او سمیت 500  پولیس والوں کی نفری تھی جو کہ مظاہرین کو روکنے کے لئے ناکافی تھی اس دوران ایس پی بلال سلہری مقامی بین المذاہب کی قیادت اور مسیحیوں کے قیادت کے ساتھ امن ڈائیلاگ میں مصروف تھا اور ایس پی نے اپنے ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کو صورتحال کنٹرول میں ہے کا پیغام دیا۔ جبکہ سینما بستی کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ پولیس کے لوگوں سمیت مظاہرین نے ہمیں گھر چھوڑ کے بھاگ جانے کا پیغام دینا شروع کر دیا۔

ایک طرف پولیس امن ڈائیلاگ میں مصروف تھی جبکہ دوسری جانب سینما بستی میں مظاہرین نے عمیر سلیم کے گھر سے شروع کر کے چرچ سمیت پوری بستی کو آگ لگا دی ماسوائے ان گھروں کے جن کو مقامی لوگوں نے مسلمانوں کے گھر بتا کر بچایا۔ مال غنیمت کی لوٹ مار، توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے عمل میں مظاہرین نے پولیس کی مداخلت کے باوجود تقریباً 2 گھنٹے کا وقت استعمال کیا۔ جس سے شک گزرتا ہے کہ مظاہرین تمام تر واردات کے لئے پہلے سے تیار تھے۔ ایس ایس پی ڈاکٹر رضوان کے مطابق ہماری پہلی ترجیح لوگوں کی جان بچانا تھا اور نفری کم ہونے کی وجہ سے ہم مظاہرین کو روکنے میں ناکام رہے، مزید یہ کہ گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے ہم آنسو گیس نہ چلا سکے، ان حالات میں صرف ایک ہی آپشن تھا کہ ہم مظاہرین پر فائرنگ کر دیتے مگر سینئرز کے حکم کے بغیر فائرنگ کے نتائج کے خوف سے ہم وہ عمل بھی نہ کر سکے۔ گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے فائر بریگیڈ کو بھی متاثرہ گھروں تک رسائی نہ مل سکی۔

مظاہرین کے عمل سے دو چیزیں واضح تھیں کہ ایک تو تمام جلوس بغیر کسی قیادت کے عمل کر رہے تھے دوسرا مظاہرین کے عمل سے شہریوں کے مسیحیوں سے نفرت بھی جھلک رہی تھی۔ ایسا میں اس لیے کہہ رہا کہ ماضی میں تقریباً 20 کے قریب بین المذاہب کے تصادم کی درخواستیں رپورٹ ہوئی ہیں۔

اگرچہ رات 8 بجے رینجرز فورسز جڑانوالہ میں آ چکی تھیں پھر بھی دو چرچ رینجرز کے آنے کے بعد بھی تقریباً رات 9 بجے جلائے گئے ہیں۔ اس طرح کل ملا کر 21 چرچ، 40 سے زائد گھر اور ایک قبرستان کو جلایا اور نقصان پہنچایا گیا ہے۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئی مظاہرین کے خلاف 5 ایف آئی آرز کاٹی جن میں دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔

اتنی تعداد میں چرچز کی تباہی کے سوال کو سمجھنے کے لئے ہمیں PP۔ 100 کی حلقہ بندی میں جواب ملے گا مخصوص سیاسی جماعت نے پورے انتخابی حلقے میں اپنی موجودگی اور اثر بڑھانے کے غرض سے اس حد تک مذہبی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچایا مزید مذکورہ حلقے سے 2018 میں مبینہ سیاسی جماعت رزلٹ ٹیبل پر پہلے پانچ نمبروں میں تھی۔ اس کے علاوہ 17 جون 2023 کو پی ڈی ایم گورنمنٹ نے بذریعہ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ اور سردار ایاز صادق سیاسی جماعت کے عہدیداران سے معاہدہ کیا۔ جس کا عنوان معاہدہ مابین فریقین ہے مگر معاہدہ کی تحریر پڑھیں تو نظر آتا ہے کہ تمام تر شرائط ایک فریق کی مرضی پر مبنی ہیں، بلکہ تحریک لبیک کے سیاسی منشور کی جھلک ہے جس کو گورنمنٹ میں منظوری دی ہے۔

ان سب میں مستفید ہونے والے ارکان کا جائزہ لیں تو، نمبر ایک تو جڑانوالہ کی تاجر برادری، ناجائز قابضین، مقامی ایم این اے اور مذہبی قیادت کو اے سی شوکت مسیح سندھو سے پرابلم تھے۔ دوسرا رانا ثنا اللہ سے معاہدے کے بعد تحریک لبیک کی قیادت کو بڑا سیاسی شو کرنا تھا اور سویڈن کے واقعہ پر اپنا ردعمل دینا تھا۔ جس کا اشارہ آپ کو مبینہ دستاویزات کی تحریر سے بھی ملتا ہے۔ تیسرا تحریک لبیک کے مقامی رہنما نے باقاعدہ کیمپ لگا کر اپنے ووٹرز کے ساتھ اسسٹنٹ کمشنر کی مبینہ معطلی اور تبدیلی کا جشن منایا۔ اپنے نعرے لگائے۔

جو ممکنہ مقاصد اس وقوعہ سے نظر آ رہے ہیں ان کی تفصیل کچھ یوں ہے

1۔ ایک تو اے سی کو وہاں سے معطل یا ٹرانسفر کروانا جو کہ مقامی ایم این اے سمیت تاجر برادری، ناجائز قابضین اور صحافی برادری کا مطالبہ تھا

2۔ دوسرا تحریک لبیک کی مقامی قیادت کے لئے حلقے میں رسائی حاصل کرنا اور مرکزی قیادت کا سویڈن واقعہ کے بعد اپنے ایجنڈے زندہ رکھنا اور عوام میں اپنے ایجنڈے کی ترویج

3۔ تیسرا سینما بستی (کرسچن کالونی) شہر کی مرکزی زمین پر آباد ہے قبضہ مافیا کا مقامی مسیحیوں کو خوف کے ذریعے یہاں سے ہجرت پر مجبور کرنا

4۔ چوتھا ایک سیاسی گروپ کے قائدین کو نشانہ بنا کر آئندہ الیکشن میں کمزور کرنا

5۔ پانچواں ڈاکٹر قبلہ ایاز کی ( محمد مالک کے شو میں ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ اگر طے کرے تو جڑانوالہ کا واقعہ آخری واقعہ ہو سکتا ہے) بات مانیں تو حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے مفادات کو بھی دخل ہے۔

راجہ عمیر سلیم کے خاندان کا تعلق سمجھنے کے لئے ہمیں 11 اگست کو TMA ہال جڑانوالہ میں یوم اقلیت کا پروگرام منعقد ہوتا ہے جس میں راجہ عامر کے بھائی کو پی ایم ایل این کے منارٹی ونگ کا عہدیدار کا نوٹیفکیشن دیا جاتا ہے اور عمر عرف روکی اور شوکت مسیح، خلیل سندھو اور طلال چوہدری صاحب اس پروگرام کے مہمان خصوصی تھے۔

راجہ عمیر کا والد سلیم مسیح چرچ ایلڈر تھا، روکی ایک سیاسی جماعت میں شامل ہوتا ہے۔ 6 ماہ پہلے عمیر نے سکول میں درجہ چہارم نوکری حاصل کی جن میں عموماً سیاسی جماعتوں کے ورکرز کو فائدہ پہنچایا جاتا ہے۔ وقوعہ صبح 5 بجے چکی والی گلی میں وقوع پذیر ہوتا ہے۔ اور وقوعہ سے رابرٹ چارلس کا سی سی ٹی وی کی فوٹیج کے ذریعے پکڑا جانا اس کڑی کو سمجھنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

18 اگست 2023 کو چئیرمین تحریک لبیک سعد رضوی اور ایک دوسرے اہلسنت مولوی صاحب نے خطاب میں واضح انداز میں بیان کیا۔ سعد رضوی صاحب نے واضح کیا کہ اقلیت چھوڑ کوئی کلمہ گو بھی ناموس مرتکب ہو گا تو وہ بھی اسی سزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ بستیاں صرف اقلیتوں اور زیادہ تر مسیحیوں کی جلی ہیں۔ رضوی صاحب بتاتے ہیں بات ہمارے عقیدے کی ہو تو یہ بستی تو ایک طرف، دو جہانوں کی بھی پرواہ نہیں، مگر گورنمنٹ کہتی ہے کہ اس واقعے میں غیر ملکی ایجنسیوں کی سازش ہے تو موصوف بتائیں گے کہ دو جہانوں کو آگ لگانے کے بعد اگر پتا لگا کہ تحریک لبیک کو سازش کے تحت پھنسا لیا گیا ہے اور جڑانوالہ میں بھی توہین نہیں بلکہ سازش ہوئی ہے تو جو مسیحیوں کے گھروں کو اگ لگائی گئی ہے اس کا کیا جواز ہے؟ دوسرے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ ریاست اسلامی، ریاست کا مذہب اسلام تو ایسے میں اے سی کیسے غیر اسلامی ہو سکتا ہے؟

پہلے دن شام ہونے تک کسی بھی سیاسی و حکومتی عہدیدار کا ردعمل نہ آیا۔ مگر پھر نگران وزیر اعظم نے بشپ آزاد مارشل کے ٹویٹ کو ری ٹویٹ کر کے اپنا ردعمل دیا۔ جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھرپور ٹویٹ کیے۔ آج مورخہ  20 اگست  2023 کو پیپلز پارٹی کے وفد نے شیری رحمان صاحبہ کی قیادت میں جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور لوگوں سے اظہار ہمدردی کیا۔ اس کے علاوہ طلال چوہدری صاحب کا انتخابی حلقہ ہے سو انہیں نے بھی وزٹ کیا۔

مگر اہم بات یہ کہ مسلم لیگ نون کے صوبائی صدر رانا ثنا اللہ خان نے اپریل 2023 میں پنجاب کے اسی حلقے سے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اور صدر پنجاب ہونے کے باوجود موصوف نے اپنے حلقہ انتخاب کا دورہ نہ کیا۔ جون 2023 میں تحریک لبیک سے معاہدہ ہوا جس سے تحریک لبیک  کی سیاست میں واپسی ہوئی اس دوران سویڈن میں ایک انتہائی دلخراش واقعہ ہوا مگر تحریک لبیک کو اپنا پاور شو کرنے کا موقع نہ ملا۔ اب جب اگست میں تحریک لبیک نے اپنے سیاسی مقصد حاصل کیے اور پی ایم ایل کے صوبائی صدر اور حلقہ PP۔ 100 کا امید وار ہونے کے باوجود رانا ثناء اللہ کا اپنے ووٹرز سے نہ ملنا، بقول رانا ثنا اللہ پچھلی گورنمنٹ نے دہشت گردوں سے مذاکرات کیے اور اب کی بار رانا ثناء نے معاہدہ کر کے موقع فراہم کیا۔ جس کے بعد مشکوک سوالوں کا جنم لینا ناگزیر ہے۔

Facebook Comments HS