بجلی کے بل اور عوام کے ڈوبتے دل
بجلی کے بلوں میں آئے دن کے اضافوں سے نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اب بجلی کے گھریلو صارفین یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ اشیاء خورونوش کو کتنا کم کریں کہ بجلی کا بل ادا کیا جا سکے۔ اسی طرح تاجر اور صنعت کاروں کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ کتنے ملازمین کو نوکری سے نکالیں کے اخراجات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ جب کہ حکومت اور ارباب اختیار کا حال یہ ہے کہ ہر ماہ ایک نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے کہ بجلی کے فی یونٹ ریٹ میں اتنے روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کا اطلاق گزشتہ دو یا تین ماہ سے ہو گا۔
راقم کے اپنے بجلی کے بل میں یہ نوٹ درج ہے کہ۔ ”بجلی کے بل میں ایندھن کی قیمت کا فرق (FPA) دو ماہ بعد شامل کیا جاتا ہے۔ آپ کے اس بل میں جون۔ 23 کے صرف شدہ یونٹس کے ایندھن کی قیمت 1165 روپے ہے“ ۔ راقم کے سامنے آئیسکو کا بل ہے۔ جس میں قیمت بجلی، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، ایف سی سرچارج، ٹی آر سرچارج شامل ہیں جو بجلی کی قیمت کا 15 فیصد ہیں۔ اس کے بعد گورنمنٹ کے محصولات ہیں، جن میں ای ڈی، ٹیلی ویژن فیس، جنرل سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ، ای ڈی اور فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ شامل ہیں، یہ محصولات بجلی کی قیمت کا 33 فیصد ہیں۔
اس کے علاوہ بل میں تصحیح بل 8 فیصد ہے۔ بجلی کی قیمت کے علاوہ دیگر محصولات بل کا تقریباً 56 فیصد ہیں۔ جب بجلی کی قیمت میں اس بھاری شرح سے دیگر محصولات شامل کر دیے جائیں گے تو وہاں سفید پوش طبقہ کیا کرے گا اور وہاں صنعت اور تجارت برباد نہ ہوگی تو کیا ہو گا۔ اخبار ات یہ بتاتے ہیں کہ اوسطا بنگلہ دیش میں فی یونٹ 18 روپے، بھارت میں 14 روپے اور پاکستان میں 52 روپے ہے۔
ہمارے یہاں مفت بجلی یونٹس کا سلسلہ بھی اپنی نوعیت کا خوب سلسلہ ہے۔ دانشور اور سیاسی کارکن فرخ مرغوب اپنے ایک ویڈیو پیغام میں بتاتے ہیں کہ 42 کروڑ بجلی کے یونٹ ہر ماہ مفت سول و ملٹری بیوروکریسی، ججز، وزراء اور دیگر ارباب اختیارات میں بانٹے جاتے ہیں۔ مگر ایک دیہاڑی دار مزدور، تنخواہ دار طبقہ ہر حال میں بل دینے پر مجبور ہے۔ شاید اسی مجبوری کو اور پختہ کرنے کے لیے ”کے الیکٹرک“ کے سی ای او کا اعلان ہے کہ اگر ابل ادا نہ کیے تو بجلی نہیں ملے گی۔
اسی طرح ایک اور سیاسی کارکن نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ واپڈا کے ایک ملازم کے پچھلے ماہ 1219 یونٹ کا بل 614 روپے تھا۔ جب کہ اس ماہ موصوف نے 1547 یونٹ استعمال کیے اور واپڈا ان کا 308 روپے کا مقروض ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آٹا اور کپڑا تیار کرنے والی ملوں میں ملازمین کو آٹا اور کپڑا مفت دیا جاتا ہے؟ کیا سیمنٹ اور اسٹیل فیکٹریوں کے ملازمین کو سیمنٹ اور اسٹیل مفت دیا جاتا ہے؟ اس طرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں، مگر ہمارے یہاں بدقسمتی سے خسارے میں چلنے والے اداروں میں بھی مفت کا رواج ڈھٹائی کے ساتھ موجود ہے جس کی سب سے بڑی مثال پی آئی اے اور پاکستان ریلوے ہیں۔
بجلی کے بلوں میں بے پناہ اضافے سے ملک میں سولر پینل کی مشہوری بھی زور پکڑتی جا رہی ہے۔ جس میں ملک کے بڑے بڑے تجارتی اور صنعتی گروپوں کے ساتھ ساتھ سیاستدان بھی شامل ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ یہ سولر پینل امپورٹ کیے جاتے ہیں جن پر بھاری زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ اس میں بھی شبہ نہیں کہ طاقتور طبقات نے اس کے لیے اقتدار کے ایوانوں سے نہ جانے کیسی کیسی مراعات چور دروازوں سے حاصل نہیں کی ہوں گی، اور جیسا کہ ہمارے یہاں روایت ہے کہ حقائق اس وقت سامنے لائے جاتے ہیں جب سور کھیت برباد کرچکے ہوتے ہیں، جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیز، نسلہ ٹاور اس کی صرف ایک مثال ہے۔ ، لہذا سولر کے حوالے سے بھی حقائق سالوں بعد ہی منظر عام پر آئیں گے۔
بات ہو رہی تھی سولر سسٹم کی۔ راقم نے جب اپنے گھر کے لیے سولر پینل کی مالیت معلوم کی تو پچیس لاکھ روپے کا تخمینہ دیا گیا۔ جب سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل تر ہو ایسے میں پچیس لاکھ کی رقم؟ یاد ہو گا کہ پرویز مشرف مرحوم کے دور میں سی این جی کا ڈھول بھی اسی شدت سے پیٹا گیا تھا۔ اس وقت بنک 90 فیصد قرض سی این جی پمپس کے لیے دے رہے تھے اور سی این جی کی قیمت کو پیٹرول سے نصف پر رکھا گیا تھا۔ اس کے بعد ہر 300 میٹر کے بعد سی این جی اسٹیشن نظر آتا تھا۔ اس کے لیے سی این جی پلانٹس، سی این جی کٹس بڑی تعداد میں در آمد کی گئیں اور آج وہ سی این جی اسٹیشن کھنڈر اور ویران نظر آتے ہیں۔ ملک کے وسائل اور فیصلوں کے اختیار جن طبقات کے ہاتھ میں ہیں، وہ تو مرگ انبوہ میں کفن بیچنا شروع کر دیں، یہ تو پھر سولر پینل ہیں۔
بجلی کے بلوں کے خلاف احتجاج ایک تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو دور رکھا جائے کہ پروان چڑھنے والی فصل کو آکاس بیل سے بچا کر رکھا جاتا ہے۔ اس حوالے سے مختلف تجاویز سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔ جس میں جناب احمد علی تاج کی پیش کردہ چار تجاویز جذبات کی بجائے عقل پر مبنی ہیں :
1۔ سرکاری اداروں اور شخصیات کو مفت بجلی کی فراہمی فوری طور پر ختم کی جائے۔ ان کی تنخواہوں میں اضافہ کر دیا جائے مگر یہ مفت کی بجلی کا سلسلہ ختم جائے۔
2۔ بجلی کے بل میں سوائے بجلی کی قیمت کے کوئی بھی ٹیکس شامل نہ کیا جائے، اور موجودہ ٹیکسوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔
3۔ بجلی کے یونٹ کی قیمت کرنٹ بل میں ہی وصول کی جائے۔ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اگلے مہینوں میں پھر سے ظلم نہ کیا جائے۔
4۔ میٹر ریڈنگ والی ایپ کو بل کے ساتھ ڈائریکٹ کنیکٹ کیا جائے۔ جس وقت اور تاریخ کی ریڈنگ کی تصویر ہو بل پر بھی وہی بل پر بھی آئے۔ جان بوجھ کر لیٹ کرنے کی اجازت نہ دی جائے تاکہ ایک دو یونٹ اوپر کر کے بل بڑھانے کا سلسلہ ختم ہو سکے۔


