دریائے گم شدہ کے کنارے
اسلام آباد سے اقوام متحدہ کے طیارے نے چالیس منٹ میں کابل ائرپورٹ تک پہنچا دیا۔ اس ائرپورٹ کی ہنگامہ خیزی اور اس پر حملے کے خطرات کا ہمیں بخوبی علم تھا۔ اگست 2021ء میں اس ائرپورٹ کے ذریعے جان بچا کر نکلنے والے کئی مسافروں سے اسلام آباد اور لاہور میں ملاقات ہوئی تھی۔ بعض نے ایسی کہانیاں سنائی تھیں کہ ان پر کوئی فلم بنائی جا سکتی ہے۔ خیر 14 اگست کو کہ جب ہم اس ائرپورٹ پر پہنچے تو ہر چیز بالکل عام رفتار سے چلتی ہوئی نظر آئی۔
خواتین عملے کو دیکھ کر تھوڑی سی حیرت ہوئی لیکن ان کی پردہ داری اور عبائیں وغیرہ حسب توقع تھیں۔ مسافروں کی آمد کا حصہ بس یوں ہے کہ مرمت اور نئی پرانی تعمیر و آرائش کو ملا جلا کر ورکنگ حالت میں بحال کر دیا گیا ہے۔ ستمبر میں داخلے کے ساتھ ہی پر اشتیاق نظروں سے ہر چیز کو دیکھنا شروع کیا۔ زندگی رواں دواں تھی۔ ٹریفک نسبتاً زیادہ اور بے ہنگم مگر لاہور سے زیادہ بے ترتیب نہیں۔ یوں لگا کہ ستر اور اسی کی دہائیوں کے پشاور یا پنڈی شہر میں گھوم رہے ہیں۔
سرخ و صحت مند افغانی چہرے، مخصوص نقوش کی افغان عورتیں اور تیز تیز چلتے ہوئے افغانی بچے۔ شہر کا کوئی حال نہیں۔ ایک طرف بلند و بالا اپارٹمنٹس کی عمارتیں، دوسری جانب بالکل معمولی طرز کی دکانیں، نئے چمکتے ہوئے شادی ہال، کہیں کہیں شاپنگ مالز اور ان سب کے بیچوں بیچ سوکھا ہوا دریائے کابل۔ برسات کے دنوں میں اس میں خوب پانی آتا ہے لیکن سال کے اکثر مہینوں میں یونہی خشک۔ دریا کے کناروں پر گندگی اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر۔
پانی کی کمی کابل شہر کا بڑا مسئلہ ہے۔ جو اب سنگین شکل اختیار کر رہا ہے۔ شہر کو چھوٹے چھوٹے پہاڑی سلسلوں نے کئی حصوں میں بانٹ دیا ہے اور ان پہاڑوں کی چوٹیوں تک جاتی ہوئی نئی تعمیر شدہ بستیاں۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ افغانستان کے مختلف حصوں سے آ کر یہاں آباد ہونے والوں نے اپنے ٹھکانے اسی ترتیب سے بنائے ہیں۔ مشرقی افغانستان سے آنے والے شہر کے مشرقی حصے میں، اور مغرب سے آنے والے مغربی حصوں میں۔ گویا اپنے مسکن سے قریب تر۔
شہر کی سیکیورٹی کی صورتحال بڑی دلچسپ ہے۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ پچھلے چالیس برس میں کابل میں اتنا امن اور سکون کبھی نہیں تھا۔ زندگی رواں دواں ہے مگر داعش کا خطرہ بہت بڑا ہے اور پیچھے دو برس میں کابل پر بہت سے حملے بھی ہوئے ہیں۔ شاید اسی خطرے کے سبب افغان طالبان کھل کر پاکستانی طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کرتے کہ دشمن آپس میں اکٹھے نہ ہو جائیں۔ دو دو فٹ کے محیط کے موٹے افغانی نان جا بجا بکتے نظر آئے۔
ہم نے اپنے میزبان سے پوچھا کیا کوئی ایک شخص اس نان کو کھا سکتا ہے۔ وہ بولے کہ ایک عام افغانی مزدور ایسے دو نان کھاتا ہے اور ساتھ کچھ چاول بھی۔ افغان مزدوروں کی جفاکشی اور سخت محنت کرنے کی عادت کے تو ہم خود شاہد ہیں۔ ہمارے ایک پاکستانی مزدور کی نسبت دوگنا کام کرتے ہیں مگر خوراک شاید تین گنا کھاتے ہیں۔ موسم خشک تھا اگرچہ گرمی 34 ڈگری کی تھی لیکن ہوا میں نمی بہت کم۔ اس لئے ہم جیسے لاہور کے باسیوں کے لئے ایک نعمت۔ سوائے سونے کے وقت کے گرمی کا احساس بالکل نہیں ہوا۔

باغ چہل ستون سے باغ بابر تک
باغ چہل ستون انیسویں صدی میں تعمیر کیا گیا ایک باغ ہے۔ شہر کے بیچوں بیچ بے ہنگم آبادی اور شور کے درمیان حقیقی معنوں میں ایک نخلستان۔ یہ باغ پچھلے دو صدیوں میں بنتا، پھیلتا اور اجڑتا رہا اور زیادہ تر حکمران طبقے اور شاہی مہمانوں کے زیر تصرف رہا۔ سادگی اور فن تعمیر کی خوبیوں سمیت آج پوری شان سے شہر میں ایستادہ ہے۔ اس کے فن تعمیر کے بارے میں ہمارے میزبانوں نے بڑی عمدہ باتیں کیں۔ باغ میں جو محل کا حصہ ہے اس کے ڈیزائن میں دلچسپ تبدیلیاں کی گئیں۔
طرز تعمیر مکمل طور پر عصری آرکیٹیکچر ہے۔ بلند، وسیع اور عظیم لیکن ہمارے میزبانوں نے اس کے اصل سٹرکچر میں کئی تبدیلیاں کیں۔ چھت سے روشنی اندر لانے کے لئے سکائی لائٹس بنائیں اور پھر فرش میں قطع برید کر کے اس روشنی کو تہہ خانے تک پہنچایا گیا۔ یوں وہ زیریں منزل جو کاٹھ کباڑ اور بول و بزار کی جگہ بن گئی تھی، وہاں کھدائی کر کے زیر زمین چٹان کو سامنے لایا گیا۔ اس پراجیکٹ کے چیف آرکیٹکٹ بولے ہم نے فطری روشنی کو تہہ خانے میں قدرتی زمین تک پہنچا دیا ہے۔

کسی تاریخ ورثے میں کس قدر اور کون سی تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں یہ بڑا دلچسپ سوال ہے۔ ورثے کی بحالی کے لئے کئی حفاظتی منشور لکھے گئے ہیں، جو حدود متعین کرتے ہیں مگر کسی کے پاس حتمی جواب نہیں ہے۔ اٹلی، فرانس اور سپین وغیرہ کہ اس میدان کے پرانے اور عظیم ماہر ہیں، اپنے اصول بتاتے ہیں جبکہ ہندوستان ماہرین ”کم سے سے کم دوبارہ تعمیر“ کے اصول کو نہیں مانتے۔ ہم نے پاکستان میں بیچ کی راہ اپنانے کی کوشش کی ہے۔ مگر سب لوگ ایک دوسرے کے ناقد ہیں۔ ”کیا بدھا کے ایک مجسمے، جس کی ناک ٹوٹی ہوئی ہو، کی بحالی میں ناک دوبارہ تعمیر کی جانی چاہیے“ ۔ ہم نے ایک سوال اچھالا۔ تین ماہرین گفتگو کرتے رہے اور حسب توقع بے نتیجہ۔

باغ بابر کہ تاریخی اعتبار سے ایک قدیم اور عظیم مقام ہے، دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ باغ چہل ستون سے چار پانچ میل دور، اس Terraced Garden کے اٹھارہ ٹیرسز (تختے) ہیں۔ ایک بار پھر سادگی، نفاست اور عمدگی کا مجموعہ۔ بابر کے مزار کی بحالی انتہائی مہارت سے کی گئی ہے۔ سفید سنگ مرمر، اصلی لوح قبر کے ساتھ، آسمان کے نیچے بغیر چھت کے نور میں نہائی ہوئی مرقد۔ باغ بابر کی بحالی کی جس قدر تعریف کی جائے کم ہے۔ ان دونوں باغوں کی انتظامیہ نے بتایا کہ طالبان نے خواتین کا باغوں میں داخلہ بند کر دیا ہے جس سے ٹکٹ کی آمدن دسویں حصے کے برابر پہنچ گئی ہے۔ جب آمدن نہیں ہو گی تو ان جگہوں کی دیکھ بھال کے لئے فنڈ کہاں سے آئیں گے اور پھر کون سر پھرا ہو گا جو بیوی بچوں کو گھر میں چھوڑ کر اکیلا ان باغوں کی سیر کو جائے گا۔
من آمدم اور نصرت فتح علی خان
افغانی میزبانوں نے شام میں موسیقی کی محفل سجائی ہوئی تھی اور وہ بھی کابل کے قبضے کی دوسری سالگرہ والے دن یعنی پندرہ اگست کو ۔ چھپ چھپا کر دفتر کے ایک حصے کو افغانی قالین اور گاؤ تکیوں سے مزین کر کے چار موسیقار اور گلوکار بلائے گئے تھے۔ افغانی رباب، ڈھیروں قسموں کی بانسریاں لیے بانسری نواز، طبلے کی جوڑی اور ہارمونیم پر نغمہ گو۔ دری گیتوں سے آغاز ہوا اور ساتھ افغان قہوے کی برابر ترسیل جاری رہی۔ اچانک گلوکار نے نصرت فتح علی خان کا گیت ”تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی“ چھیڑ دیا تو گویا محفل میں جان پڑ گئی۔
ہمارے ہم سفر وجاہت نے ہنزہ کا روایتی رقص اپنے ہم کار نوروز کے ساتھ مل کر پیش کیا۔ گلوکار ہمارا مزاج اور ذوق پہچان گئے تو نصرت فتح علی، مہدی حسن، غلام علی کے گیتوں اور نغموں کو تواتر سے گاتے رہے۔ پھر اس خوب صورت نغمے کی باری آئی جو نصرت فتح علی خان نے ایرانی گلوکار ہمایوں شجربان کے ساتھ مل کر گایا ہے۔ مولانا روم کا کلام۔ دری زبان کے موسیقار اور گلوکار ہوں اور ناشناس اور گوگوش کے نغمے نہ چھیڑیں ممکن ہی نہیں۔ محفل اپنے عروج پر پہنچ گئی جب گوگوش کے من آمدم کی دھنیں چھیڑیں۔ حاضرین اگست کی اس نیم گرم خاموش رات میں محو رقص رہے۔ باہر کابل کی سڑکوں پر طالبان اپنے جھنڈے بلند کیے فلیگ مارچ کیے جا رہے تھے۔
یہ کچھ آثار ہیں اس خواب شدہ بستی کے
یہیں بہتا تھا وہ دل نام کا دریا، صاحب
(ادریس بابر)



