دیسی چکن، دیسی گھی میں بھنا مٹن۔ لفنگی سیاست، بدمعاش معیشت


سابق وزیر اعظم عمران خان مختلف مقدمات میں اٹک جیل میں قید ہیں، دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کو یہ فکر لاحق ہے کہ پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان کو جیل میں سہولیات دی جا رہی ہیں یا نہیں جبکہ ان سہولیات میں کھانے پینے کی سہولتیں سر فہرست ہیں۔ یہ پاکستانی ریاست کی تصویر کا ایک رخ ہے کہ ریاست کے منصف اعلیٰ جیل میں قید ایک سابق وزیر اعظم کی سہولتوں کے حوالے سے اس قدر سنجیدہ ہے کہ معاملہ کو باریک بینی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں جبکہ ریاستی تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ ملک کے آزاد شہری مہنگائی، بیروزگاری کی وجہ سے اس قدر تنگ آچکے ہیں کہ وہ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہیں، بھوک افلاس ان کا مقدر ٹھہر چکا ہے اور ٹیکس کے نام پر ریاستی بھتہ خوری عام ہے، پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں اپنی جگہ شہریوں کا خون چوس رہی ہیں جبکہ بجلی کی مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتوں نے تو شہریوں کو پوری طرح سے موت میں دھکیل دیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستانی قوم جسے گزشتہ کئی عرصے سے ”مردہ قوم“ ہونے کا طعنہ دیا جا رہا تھا، وہ اب سڑکوں کر نکل آئی ہے لیکن اس بار قوم کسی سیاسی جماعت اور سیاسی قیادت کے بغیر ہی سڑکوں پر اپنا مقدمہ لے کر آئی ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ریاست کا حکمران طبقہ بالخصوص چیف جسٹس آف پاکستان اس مقدمہ کو سنتے ہیں یا نہیں، جہاں تک عوام کو فوری ریلیف دینے کا معاملہ ہے تو اس ضمن میں سابقہ روایات اور مشقیں تو یہی پتہ دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم کا ایسا مقدر ہی نہیں ہے جس میں کوئی ریلیف کا عنصر شامل ہو۔ یہاں صرف خواص یعنی اشرافیہ کے معاملات کو سنا جاتا ہے، پرکھا جاتا ہے اور ان کے حق میں فیصلے دیے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں یہ تازہ ترین دلیل پیش کی جا سکتی ہے۔

گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کو اٹک جیل میں میسر سہولیات کے حوالے ایک رپورٹ جمع کرائی گئی ہے۔ اس ضمن میں نجی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والی خبر میں جو تفصیلات بتائی گئی ہیں وہ کچھ اس طرح سے ہے۔ اٹارنی جنرل پاکستان کی طرف سے جمع کرائی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو اٹک جیل میں سب سے محفوظ ہائی آبزرویشن بلاک میں رکھا گیا ہے اور اس سے ملحقہ بیرکس کو خالی رکھا گیا ہے۔

عمران خان کو 9 بائی 11 کے سائز کی بیرک میں رکھا گیا ہے، واش روم کی دیوار 6 فٹ اونچی اور واش روم کا سائز 7 بائی 4 ہے، جیل میں وائٹ واش، پکا فرش اور ایک پنکھے کی سہولت میسر ہے، بہتر کلاس کا قیدی ہونے پر چیئرمین پی ٹی آئی کو میٹرس، ائر کولر، 4 تکیے، میز اور کرسی کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ عمران خان کو 4 قرآن پاک انگلش ترجمہ اور 25 تاریخی کتابیں بھی فراہم کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ چیئرمین پی ٹی آئی کو 21 انچ کا ٹی وی اور روزانہ اخبار فراہم کیا جاتا ہے، بیرک، واش روم اور کپڑوں کی صفائی کے لیے اسٹاف بھی دیا گیا ہے، سکیورٹی کے لئے جیل میں اضافی 54 اہلکاروں کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے۔

قانون کے مطابق قیدی کے اہلخانہ منگل کو 2 سے 3 گھنٹے کی ملاقات کر سکتے ہیں جبکہ قیدی کے وکلا بدھ کو 2 سے 3 گھنٹے کی ملاقات کر سکتے ہیں۔ عمران خان کو ناشتے میں بریڈ، آملیٹ، دہی اور چائے فراہم کی جاتی ہے، دن اور رات کے کھانے میں انہیں تازہ پھل، سبزیاں، دالیں اور چاول دیے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کی خواہش پر ہفتے میں 2 بار دیسی چکن اور ہفتے میں ایک بار دیسی گھی میں پکا ہوا مٹن بھی دیا جا رہا ہے۔

یہاں یہ واضح رہے کہ کھانے پینے کے حوالے سے عمران خان کو جیل میں جس طرح کی سہولیات حاصل ہیں وہ پاکستان میں کروڑوں آزاد شہریوں کو بھی میسر نہیں ہیں جبکہ اس ضمن عالمی سطح پر جو اعداد و شمار جاری کیے جاتے ہیں وہ ہر ذی شعور کے لیے باعث شرمندگی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ رواں برس کے جولائی کے مہینے میں بھوک کے شکار ممالک کی ایک عالمی رینکنگ جاری ہوئی تھی جس کے مطابق پاکستان 121 ممالک کی فہرست میں میں 99 نمبر پر ہے۔

دنیا بھر میں بھوک کے شکار ممالک کی عالمی درجہ بندی گلوبل ہنگر انڈیکس۔ 2022 کے مطابق اس فہرست میں پاکستان کا اسکور 2006 میں 38.1 تھا جو کہ اب کم ہو کر 2022 میں 26.1 پر آ گیا تاہم اس کے باوجود بھوک کے شکار ممالک کی فہرست میں اس سطح کو سنگین سمجھا جاتا ہے۔ دوسری جانب ملک بھر سے بالخصوص تھر جیسے دیگر پسماندہ علاقوں سے آئے روز یہ خبر آتی ہے کہ بھوک اور افلاس سے کتنے بچے، بچیاں اور بزرگ شہری موت کا شکار ہو گئے ہیں۔

بھوک شہریوں کو نگل رہی ہے، یعنی کروڑوں افراد ملک میں ایسے ہیں جنھیں دو وقت کا کھانا تو دور کی بات ڈھنگ سے ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہیں ہے جبکہ ہمارے ہاں جیل میں قید ایک قیدی کو دیسی مرغی اور دیسی گھی میں بھنا ہوا بکرے کا گوشت کھلایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ تو ”بے لگام“ ریاستوں میں ہوتا ہے، کیا ہماری ریاست بھی بے لگام ریاستوں کی فہرست میں شمار ہونے لگی ہے، ایسا ہونا ممکن ہے کیونکہ ریاست میں سیاست ”سیاسی لفنگوں“ کے ہاتھ میں ہے اور رہی بات معیشت کی تو وہ بدمعاش آئی ایم ایف کے شکنجے میں گروی پڑی ہے۔ بہر کیف اس وقت چیف جسٹس آف پاکستان سے یہی اپیل اور مودبانہ گزارش ہے کہ وہ ایک سو موٹو ایکشن ملک کے غریب عوام کے لیے بھی لے لیں تاکہ مہنگائی اور بیروزگاری کے ستائے ہوئے لوگوں میں جینے کی کچھ تو امید باقی رہے۔

Facebook Comments HS