سستی بجلی کا حصول
نگران حکومت نے بجلی کمپنیوں کے ملازمین کو ملنے والے فری یونٹس کی تفصیلات لیتے ہوئے انھیں ختم کرنے کا اظہار کیا۔ جس کی کمپنیوں کی جانب سے شدید مخالفت کی گئی اور بتایا گیا کہ فری یونٹس ختم کرنے سے کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو گا۔ حکومت کی طرف سے دوسرا پلان پیش کیا گیا ہے کہ فری یونٹس ختم کر کے اتنی رقم ملازمین کی تنخواہوں میں لگا دی جائے۔
دونوں پلان ہی نہایت بچگانہ ہیں۔ واپڈا ملازمین کے فری یونٹس ختم کرنے سے اُنھیں بجلی کی چوری سے کسی صورت نہیں روکا جا سکتا۔ اب بھی فری یونٹس کے علاوہ کم و بیش تمام ملازمین نہ صرف خود بجلی چوری کرتے ہیں بلکہ اُن کے کئی بہن بھائی و قریبی رشتہ دار بھی ان کے نام پر یہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اگر کوئی واپڈا اہلکار سختی دکھائے تو اُس کی فون پر بات کروا دی جاتی ہے۔
بجلی بلز کے مسائل کو سمجھنے کے لیے ہمیں واپڈا کے تمام شعبوں کے بارے میں علم ہونا ضروری ہے۔ واپڈا تین اہم شعبوں کی مدد سے بجلی کا نظام چلاتا ہے۔
ایک شعبہ بجلی بناتا ہے اور ایس ایس ٹی ( گریڈ اسٹیشن) کا شعبہ اس بجلی کو خرید کر آگے ایس ڈی اوز کی مدد سے عام صارفین تک بجلی پہنچاتا ہے۔ بجلی بنانے والا اپنا پورا بل گریڈ اسٹیشنوں سے وصول کرتا ہے وہ آگے دی بجلی کا بل ہر علاقے کے ایس ڈی او سے وصول کرتا ہے۔ کوئی بھی ایس ڈی او اپنے علاقے کے ٹرانسفارمرز پر آئے لوڈ سے کم بل جمع نہیں کروا سکتا ایسا کرنے پر اُس کے خلاف محکمانہ کارروائی ہو جاتی ہے اب ہوتا یہ ہے کہ وہ چوری شدہ بجلی کی رقم بل دینے والوں پر تقسیم کر کے اپنی رقم پوری کر لیتا ہے۔ مارا جاتا ہے بل دینے والا۔ اس لیے فری یونٹ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بجلی بلوں کی ریکوری آؤٹ سورس کر کے بجلی کی چوری کو بہتر انداز میں روکا جا سکتا ہے۔ آپ سب جانتے ہیں کہ کریڈٹ کارڈز، بنک لون۔ قسطوں پر لی گاڑی یا اشیاء کی ریکوری کا نظام ایسے لوگوں کو دیا جاتا ہے جو سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلنے پر انگلی ٹیڑی کر کے واجبات وصول کر لیتے ہیں۔ انھیں ریکور شدہ رقوم پر پرسنٹیج ملتی ہے۔
واپڈا میں کام کرنے والے لوگ جانتے ہیں کہ اگر صرف ایس ڈی اوز کی ریکوری والا کام ٹھیکے پر دے دیا جائے تو نہ صرف عام آدمی کے لیے بجلی چوری کرنا مشکل ہو جائے گی بلکہ واپڈا اہلکاروں کا اثر و رسوخ بھی ختم ہو جائے گا۔ حکومت کو پوری وصولی ہوگی اور ٹھیکیدار جب پورے پیسے دے گا تو انگلی ٹیڑی کر کے بل بھی وصول کرے گا اور چوری بھی روکے گا۔
اب آتے ہیں واپڈا ملازمین کے فری یونٹس ختم کر کے اتنی ہی رقم تنخواہ میں لگانے والے بل کی جانب۔
اس طرز پر وفاقی حکومت پہلے ایک کام کر چکی جو بری طرف ناکام ہوا۔ وفاقی حکومت نے ایک اسکیم متعارف کروائی تھی کہ افسر کو مالکانہ حقوق پر گاڑیاں، اقساط پر دی جائیں گی اور انھیں فیول کی مدد میں کچھ رقم فیکس رقم جائے پھر ایسے افسر سرکاری گاڑی یا پیٹرول کے حق دار نہیں ہوں گے تا کہ سرکاری گاڑیوں کی مرمت اور پیٹرول کی مد میں ہوتے کروڑوں کے اخراجات بچائے جا سکیں۔ اس ملک میں کوئی سوچ سکتا ہے کہ ایسا ممکن ہے؟ پھر ہوا یہی کہ اربوں روپوں کی گاڑیاں بھی افسر لے گئے اور ان کے استعمال میں کئی سرکاری گاڑیاں بھی رہیں جن کا پیٹرول بھی کسی نہ کسی مدد میں لیا جاتا رہا۔ اب بھی یونٹ کے بارے رام والا پلان بری طرح فلاپ ہو گا اور وفاق پر تنخواہ میں دیا جانے والا اضافہ صرف بوجھ ثابت ہو گا جو آگے چل کر ایک وبال بن جائے گا۔
حکومت اگر واقعی بجلی بلز پر قابو پانا چاہتی ہے تو مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کرنے سے خاطر خواہ فائدہ ہو سکتا ہے
1۔ بجلی بلز کی ریکوری ایس ڈی او لیول پر پرائیویٹ سیکٹر کو دی جائے۔
2۔ حکومت کئی بار یہ کوشش کر چکی کہ کاروبار کو سورج کی موجودگی تک محدود کیا جا سکے۔ سختی کی گئی ہنگامے ہوئے۔ تاجر برادری نے ہڑتالیں کی مارا ماری ہوئی مگر مسئلہ حل نہ ہو سکا۔ کئی مسائل ڈنڈے سے نہیں بلکہ اچھی منصوبہ بندی سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ حکومت صرف صبح سات بجے سے لے کر رات اٹھ بجے تک کمرشل بل کا ریٹ کم کر دیا جائے اور اس کے بعد استعمال ہونے والی بجلی کا ٹیرف بڑھا دیے۔ اس طرح برسوں سے ہوتی کوشش سود مند ثابت ہوگی اور دکان دار مجبوراً اُن اوقات میں دکانیں کھولیں گے جو دکاندار خلاف ورزی کرے گا رات دیر تک دکان یا شاپنگ مال کھولے گا وہ اُس عیاشی یا خلاف ورزی کا اضافی بوجھ اٹھائے گا۔
3۔ تمام محکموں کے سربراہان سے اس سال مئی جون جولائی اور اگست کے مہینوں میں ادا شدہ بجلی بلز کی سمری لی جائے اور اگلے سال ان مہینوں میں بل کو کم رکھنے کا حکم دیا جائے بصورت دیگر سربراہ کے خلاف سخت ایکشن کا کہا جائے۔ وزیر اعظم آفس اسے مانیٹر کرے اور عمل نہ کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے۔
4۔ گھریلو صارفین کو دن کے اوقات میں بجلی استعمال کرنے پر الگ اور رات کے لیے الگ ٹیرف دیا جائے تا کہ رات دیر تک جاری رہنے والے فیملی پروگرامز میں بجلی کا ضیاع اور اے سی کے استعمال کو کم کیا جا سکے۔
5۔ ایک کنال سے بڑے گھر یا تین منزلہ بلڈنگ پر سولر سسٹم لگانا لازمی کر دیا جائے۔ اس کے بغیر نقشہ پاس نہ کیا جائے۔
حکومت کے پاس بڑے زرخیز دماغ موجود ہیں لیکن شاید ذاتی فوائد کو مد نظر رکھ کر پالیسیز بنائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے ایسے ایسے پلان پیش کیے جاتے ہیں۔ میں چند برس واپڈا میں کام کرنے کا تجربہ ہے اور میں بجلی متاثرین سے بھی ہو تو کوئی ایسا انسان جو کسی حادثے سے متاثر ہو وہ اپنی سو کوشش کرتا ہے کہ کوئی ایسا مشورہ دے تا کہ مستقبل میں مزید ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔ میں نے بھی اپنی عقل کے مطابق چند مشورے دیے ہیں۔ ویسے یورپ میں کہتے ہیں کہ کبھی کبھی ایک احمقانہ مشورہ سب سے بہترین مشورہ ہو سکتا ہے اس لیے امید کرتا ہوں کہ فیصلہ ساز ادارے اور لوگ ان مشوروں پر ایک بار ضرور سوچیں گے۔


