کرتے حکمران ہیں اور بھرتے بیچارے عوام
جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے ہم تنزلی کی طرف جا رہے ہیں وہ معاشی تنزلی ہو، وہ سماجی تنزلی ہو وہ اخلاقی تنزلی ہو وہ سیاسی تنزلی ہو وہ مذہبی تنزلی ہو وہ روایتی، ثقافتی، تہذیبی تنزلی ہو وہ تعلیمی تنزلی ہو وہ سائنسی تنزلی وہ ٹکنالوجی کی تنزلی ہو یا بین الاقوامی روابط کی تنزلی ہو ہم اس میں پیچھے کے بجائے آگے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ایک وقت تھا کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ رات میں صرف ایک گھنٹے کے لئے ہوا کرتی تھی جو ہم سے تقاضا کرتی تھی کہ اگر ہم اس میں پورے سال میں صرف ایک منٹ کی کمی کا منصوبہ بناتے تو آج ہم اس مسئلے سے دو چار ہونے کے بجائے نمٹ چکے ہوتے۔ ایک وقت تھا کہ ہم واقعی زرعی ملک تھے ہم کپاس سے لے کر آٹا چینی پیاز ٹماٹر تک میں خود کفیل تھے لیکن ہم نے بجائے آگے بڑھنے کے یا جوں کا توں رہنے کے اس نہج پر آئے کہ آٹا چینی تو کیا پیاز ٹماٹر بھی ہمیں درآمد کرنے پڑے۔
سب سے پہلے ہم نے کپاس کو ہاتھ سے جانا دیا اور جو کاٹن ایکسچینج تھا اس پر ہاتھ صاف کیے اور اس کا بھٹا بٹھا دیا۔
ہم گیس میں اتنے خود کفیل تھے کہ گیس کے ادارے کی مثالیں دیتے تھے کہ گیس والے نہ صرف سپلائی اچھی دیتے ہیں بلکہ بل بھی بڑے مناسب بھیجتے ہیں گیس کی لوڈ شیڈنگ کا تو تصور ہی نہیں تھا بلکہ ہم اتنے خود کفیل تھے کہ سی این جی اور دیگر گیس پمپس لگائے اور اس پر گاڑیاں چلانی شروع کیں لیکن اس میں ہم اتنے آگے بڑے کہ جہاں پانچ پمپس کی ضرورت تھی وہاں ہم نے پچاس کے پرمٹ جاری کیے اور بالآخر گیس کی کمی بھی در آئی اور گیس کی نہ صرف کمی سے آشنا ہوئے بلکہ گیس لوڈ شیڈنگ بھی معمول کا قصہ بن گئی اور سی این جی صرف پیٹرول سے بھی مہنگی ہو گئی اور غریب غربا جو سستی سی این جی حاصل کیا کرتے تھے اس سے بھی محروم ہو گئے۔
گندم ہمارے ہاں اتنی ہوا کرتی تھی کہ گودام کے گودام بھرے رہتے تھے اور مجھے یاد ہے کہ ہوٹلوں میں روٹی کا کوئی حساب نہیں ہوا کرتا تھا ہوٹل والے صرف سالن کے پیسے چارج کیا کرتے تھے روٹی جتنی مرضی کھا لو۔ لیکن آج حالت یہ ہے کہ گندم تو گندم آٹا ہی ناپید ہو چکا ہے باہر سے گندم اور آٹا منگوانا پڑتا ہے۔ گندم اور آٹے کی کھپت کی وجہ سے غریب کے منہ سے نوالہ بھی چھین لیا گیا۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ دال روٹی کھانے کی مثال غریبی ہوا کرتی تھی لیکن آج کل وہ بھی ان کی پہنچ سے نکل چکی ہے۔
پیٹرول اتنا سستا ہوا کرتا تھا کہ بڑے سے بڑے سٹاپ کا کرایہ بارہ آنے ہوا کرتا تھا اور جب ایک روپیہ ہو گیا تو لوگ سیخ پا ہو گئے جس کا ازالہ یہ کیا گیا کہ نئے کوچ متعارف کروائے گئے جس کا کرایہ پانچ روپے مقرر کیا گیا خواہ کسی کو اگلے سٹاپ پر اترنا ہو یا اختتامی سٹاپ پر۔
لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق بلکہ یہ بھی شاید غلط ہو دوا تو تب اثر کرتی ہے یا تجویز کی جاتی ہے جب مرض کی تشخیص ہو ہم نے تو تشخیص ہی نہیں کی بلکہ مرض کو ایسے بڑھنے دیا کہ آج پیٹرول تین سو روپے فی لیٹر کا ہندسہ پار کر چکا ہے لیکن یہ بھی نہیں معلوم کہ مزید کہاں تک یہ سلسلہ دراز ہوتا جائے گا۔
اس کے باوجود جب بھی ملک پر کوئی برا وقت یا کوئی قدرتی آفت آئی ہے یا ملک کے لئے مالی یا جسمانی سہارا دینے کا وقت آیا ہے تو یہی عوام ہیں جو اجتماعی طور پر جذبہ حب الوطنی کے ساتھ کھڑے ہو جاتے ہیں۔
وہ قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ ہو۔ وہ زلزلے ہوں، وہ سیلاب ہوں، وہ ڈیم کے لئے عطیات ہوں، وہ کرونا ہو یا دیگر واقعات ہوں عوام نے اس میں دل کھول کر حصہ لیا لیکن بعد میں اس کا نزلہ عوام ہی پر گرا اور مسلسل گرتا جا رہا ہے۔
ایک وقت تھا کہ ہم نے دنیا کے اچھے خاصے ممالک کی مالی اور دیگر مد میں مدد کی۔ لیکن پھر قرضوں کا جو سلسلہ ہم نے اندرونی اور بیرونی طور پر شروع کیا اس کا فائدہ صرف اور صرف مراعات یافتہ طبقے نے لیا۔ اندورنی قرضے معاف کروائے اور بیرونی قرضے لوٹ کے کھائے اور اس کا خمیازہ عوام مہنگائی اور قرضوں کی واپسی کے نام پر آئی ایم ایف کے ساتھ یک طرفہ ڈیل کے نتیجے میں بجلی کے بلوں اور دیگر صورتوں میں واپس کر رہے ہیں۔
عوام ان اپنے ادا کردہ ٹیکسوں کے پیسوں سے علاج معالجے کے لئے ڈھنگ کے اسپتال، تعلیم کے لئے معیاری سکولز، کالجز یونیورسٹیز اور آمدورفت کے لئے روڈ یا دیگر بنیادی سہولیات تک نہیں حاصل کر سکتے جبکہ مراعات یافتہ طبقہ قرضوں پر قرضے لے لے کر اور ڈالر کی قیمت بڑھا بڑھا کر مزے لوٹ رہے ہیں اور عوام ہے کہ مسائل میں گرتے جا رہے ہیں۔
لیکن حکمران یہ بھول جاتے ہیں کہ ریاست کے بنیادی عناصر زمین، حکومت اور اقتدار اعلی کے ساتھ ساتھ آبادی اور عوام بھی ہیں اگر عوام ہیں تو حکمرانی ہے اگر عوام خدا نخواستہ عوام نہیں رہے تو حکمران کس پر حکمرانی کریں گے۔ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو۔


