مکالمہ: ایک ازلی ضرورت


مکالمہ گفتگو کی اُس صورت کو کہا جاسکتا ہے جس میں شاملِ گفتگو ایسے مسائل کو زیربحث لائیں جِن کا کوئی حتمی یا کم ازکم رسمی حل درکار ہو۔ اگر چہ حق اور سچ تک پہنچنا بھی مکالمے کا مقصد ہو سکتا ہے مگر یہ صورت شاملِ مکالمہ کو انا کی نقاب اُتار کر مکالمے میں شمولیت پہ اُکساتا ہے جو حد درجہ انسان کے لیے ناقابلِ قبول یا کم سے کم ناقابلِ اطمینان ہوتا ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ ہر انسان کے حق اور سچ کا راستہ اپنا اپنا رہا ہے۔ البتہ میلوں دور جا کر یہ راستے کہیں نہ کہیں کچھ قدموں کے برابر ملتے ہیں۔ اور مختلف راستوں کا یہ مختصرسا ملاپ ہی مکالمے کی راہ نکلالتا ہے جو ایک نئی راہ ہوتی ہے۔ اِس رہداری پہ چلنا اگر چہ کٹھن اور دشوار ہوتا ہے مگر انسان اپنے اطمینان کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور حاصل محصول کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ ایسے انسان پھر اپنے گھر، خاندان، معاشرے میں دوسروں سے مختلف دکھائی دیتے ہیں۔ گویا کٹھن اور دشوار راہوں کے مسافر کو اب کانٹوں بھری راہ پہ چلنا ہوتا ہے۔ اگر وہ ثابت قدم رہے اور اِس مشکل راہ کی شدید سے شدید تکالیف کو برداشت کر جائے تو پھر ایک وقت آتا ہے کہ دوسرے لوگ اِس کی راہ سے کانٹوں کو کم کرنے اور پھر ہٹانے پہ آمادہ ہو جاتے۔ اور پھر وہ وقت بھی آتا ہے کہ وہی راستے جو کبھی کٹھن اور دشوار تھے سہل ہو جاتے ہیں اور جہاں کبھی کانٹے لگائے جاتے تھے ہری بھری نرم گھاس اور خوبصورت خوشبودار پھولوں سے سجا دیے جاتے ہیں۔

سو، مکالمہ ہر دور میں انسانی عقل، نفس، اور رقلب کی ضرورت رہا ہے۔ انسان نے اپنے بہت سے عقلی مسائل کی گھُتیاں مکالمے سے سلجھائی ہیں یا کم ازکم قابلِ قبول حل تک اِن مسائل سے نمٹنے میں کامیاب رہا ہے۔ انسان نے اپنے نفس کو بھی مکالمے سے ہی مغلوب رکھ کر جینے کی نت نئی راہیں کھولیں یہاں تک کہ نفس ہارا اور مکالمہ جیت گیا۔ اور تو اور انسان اپنی قلبی ضروریات کے لیے بھی مکالمے کا محتاج رہا ہے۔ مکالمے نے ہی انسان کے قلب کواتنی وسعت عطاکی اورہر قسم کی تفریق کے باوجود انسانی قلب میں دوئی کی وحدت سموئی جانے لگی۔ گویا مکالمہ ہی انسان کو سوچنے سمجھنے کا ڈھب عطا کرتا ہے۔ جب انسان سوچنے سمجھنے میں کامیاب ہوتا ہے تو پھر مکالمہ نت نئے فکر و نظریات کو جنم دیتا ہے۔ وہ فکرونظریات اگر انسان کی عقلی، نفسی، اور قلبی ضررورتوں کو پورا کرے تووہ قبولیے جاتے ہیں۔ اور اگر انسانی سوچ کے یہ پہلو اطمینان بخش نہ ہوں تو رد کر دیے جاتے ہیں۔ اور جب مکالمہ انہی پہلووٗں کو نئے سرے جوڑنا شروع کرتا ہے تو اچھے نتائج حاصل کرہی لیتا ہے۔

گویا مکالمہ انسان کی ازلی ضرورت رہی ہے۔ اور جب جب انسان اپنی اِس ضرورت کو پوراکرنے سے محروم رہا ہے تب تب انسان غیرحکیمانہ فیصلوں کا ارتکاب کرتا رہا۔ اور اُن فیصلوں نے انسانی عقل کو الجھائے رکھا؛ نفس کو پریشان؛ اور قلب کو بے سکون رکھا۔ جب جب مکالمے کو رد کیا گیا تب تب انسان زوال پذیر ہوتا رہا اور یہاں تک کہ ناگوں، اژدھوں اورشیطانوں کے مسکن تک جا پہنچا۔ اور اپنی تمام خوبیوں کا خون کرتا رہا۔ دہشت اور وہشت کے اُس مقام تک جاپہنچا کہ ناگ، اژدھے، اور شیطان بھی خوف کھائیں۔ پھر انسان انہی خصائص سے جانا اور پہچانا جانے لگا۔ مکالمے کی عدم دستیابی نے انسان کو وحشی درندوں سے بھی خطرناک اور خوف ناک بنا دیا۔ خود سری اور طاغوتی سوچ نے مکالمے کو انسان کی حدِ بینائی سے دور رکھا۔ مکالمے کو ناپید کرنے کی کوششوں میں انسان کی انا ہر اول دستہ میں رہی۔ انا کے خطرناک لشکریوں میں تعصب زدہ عقیدت؛ذاتی خواہشات کی اندھا دُھند پیروی؛ اور مکالمے سے خوف آگے آگے رہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جب جب انسان نے مکالمے کے خوف پہ قابو پاتو وہ تعصب زدہ عقیدت کوڈھیر کرنے میں کامیاب رہا، خواہشات کی اندھادُھند پیروی سے بیزار ہوا، اور اُس راہ پہ چل پڑا جہاں طویل راستوں کامیلاپ ہوتا تھا۔ یہ میلاپ مکالمے کی راہداری تھی جو ابتداء میں کٹھن اور دشوار مگر اطمینان بخش تھی۔ انسان اِن کٹھن، دشوار، اور کانٹوں بھری راہ پہ چلتا چلتا ایک ایسے راستے سے روشناس ہوا جو ہری بھری نرم گھاس بچھائے اور اطراف میں خوبصورت خوشبودار پھول کِھلائے انسان کو اُس کی عقلی، نفسی، اور قلبی منزل کی طرف گامزن کرتاگیا۔

مُلکِ پاکستان جو اِس وقت ناگوں، اژدھوں اور شیطانوں کے مسکن تک جا پہنچا ہے۔ ہر اخلاقی صفت میں پاکستان کی درجہ بندی کہیں پاتال تک جا پہنچی ہے جو گرِنے کی انتہا ہے۔ اِس زوال کی بنیادی اور واحد وجہ مکالمے سے بے رغبتی ہے۔ مکالمے سے دوری نے پاک سر زمین کو کشورِحسین شاد بننے سے روکے رکھا اور عالی عزم کے اِس نشان کو مرکزِ یقین سے کوسوں دور رکھا۔ مکالمے کی رد نے پاک سرزمین کے نظام کو اخوت کی قوت سے محروم کر دیا اور قوم مُلک سلطنت کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیاجس کی وجہ سے ابھی تک یہ دھرتی اپنی منزلِ مُراد کو نہ پاسکی۔ اور مکالمے سے بے عقیدتی نے ترجمانِ ماضی، حالِ شان، اور جانِ مستقبل کی علامت پرچمِ ستارہ و ہِلال کو سایہٗ خدائے ذولجلال سے محروم کیے رکھا۔ تو آئیے اپنے اپنے حلقوں میں مکالمے کی احیاء کریں کیونکہ مکالمہ انسانی عقل، نفس، اور رقلب کی ازلی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS