نواز شریف اور قدرت کے امتحان


پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے پہلی بار مشرف دور میں پاکستان میں ڈالروں کی بارش کی دیکھی۔ لیکن جس حساب سے ڈالر پاکستان آئے اسی حساب سے یہاں کی اشرافیہ اور اصحاب اقتدار نے بوریوں کے حساب سے ڈالر ملک سے باہر بھیجے جبکہ انہی دنوں جنرل امجد چیئر مین نیب ملک کی لوٹی دولت واپس لانے کا بھی مشن سرانجام دے رہے تھے۔ ان کا ایجنڈا صرف نواز شریف کے بیٹوں کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ اور زرداری کے سرے محل کو کسی طریقے سے فروخت کر کے وہ رقم پاکستان واپس لانا تھی جبکہ جنرل امجد کو ملک سے باہر جاتے ڈالروں کی فکر نہیں تھی۔

شہزاد اکبر، آدم خان، فاروق نول اسی دور کی پیداوار ہیں۔ مشرف دور میں ملک میں ڈالر آئے لیکن ترقی نہیں آئی۔ 2013 میں نواز شریف تیسری بار وزیراعظم بنے تو عمران خان نے چند ماہ بعد چار حلقوں میں دھندلی کا شور مچانا شروع کر دیا۔ اس وقت ان کے ساتھ ان کے کزن طاہر القادری بھی شامل تھے۔ یہ چار حلقوں کا شور اتنا طویل ہوا کہ ان کو اسلام آباد میں 126 دن دھرنا دینا پڑ گیا اس دھرنے کے دوران جنرل ظہیر اسلام نے نواز شریف کو دو آپشن دی، ایک نواز شریف ملک سے باہر چلے جائیں، دو ۔ نواز شریف مستعفی ہو جائیں اور کسی اور کو وزیر اعظم بننے دیں۔

یہ انکشاف مرحوم مشاہد اللہ خان نے بی بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران کیا، مرحوم اس وقت وزیر ماحولیات تھے۔ اس انٹرویو کے بعد جنرل راحیل شریف کے دباؤ پر مرحوم مشاہدہ اللہ کو وزارت سے ہٹا دیا گیا۔ پھر عمران خان ایمپائر کی انگلی کے اشارے کا انتظار کرتے رہے لیکن وہ دوبارہ نہ اٹھی۔ اسی دوران جنرل راحیل شریف نے عمران خان اور طاہر القادری کو جی ایچ کیو بلایا ان کو دھرنا ختم کرنے کا کہا لیکن دونوں نے انکار کر دیا۔

پھر اس ملاقات کے تین دن بعد دونوں کزنوں نے پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کر دیا۔ پہلے یہ کام 1999 میں ہوا اس بار سیاست کے لبادے میں چھپے گھس بیٹھیوں نے یہ حملہ کیا۔ سپریم کورٹ کی دیوار پر گندی شلواریں لٹکی بھی سب نے دیکھی۔ یہ تمام واقعات ہوتے رہے پارلیمنٹ، عدلیہ اور فوج تماشا دیکھتی رہی۔ لیکن اس کو ملک کی خوش قسمتی سمجھیں یا جنرل راحیل شریف کی مہربانی سمجھیں انہوں نے میرے عزیز ہم وطنوں کا نعرہ نہیں لگایا۔

اس دوران پشاور میں آرمی پبلک سکول میں دھماکہ ہو گیا اور دونوں کزنوں کو سوگ میں دھرنا ختم کرنا پڑا۔ سوگ ختم ہونے کے بعد یہ معاملات پھر ایسے ہی چلتے رہے چار حلقوں کے کھولنے کا شور جاری رہا۔ پھر چینی صدر شی جن پنگ پاکستان آئے انہوں نے پاکستان میں 42 ارب ڈالر کا سی پیک شروع کر دیا۔ جیسے ہی سی پیک کا پروجیکٹ شروع ہوا اگلے ہی لمحے ڈان لیک کا ڈرامہ شروع ہو گیا۔ اس ڈان لیک کے چکر میں نواز شریف کو پھر اپنے تین قریبی فارق فاطمی، راؤ تحسین اور پرویز رشید کی قربانی دینا پڑی۔

اس کے باوجود جنرل آصف غفور کی جانب سے نوٹیفکیشن ریجیکٹڈ کی ٹویٹ کی گئی۔ جنرل راحیل شریف نے مہربانی کی ملک کا انتظام اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا لیکن اب وہ توسیع لینے کے چکروں میں پڑ گئے۔ جب نواز شریف کو بار بار بلیک میل کرنے کے باوجود توسیع نہ مل سکی تو پاناما لیک آ گئی۔ سراج الحق سپریم کورٹ پہنچے ان کی پٹیشن اس وقت کے چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے یہ کہتے ہوئے مسترد کردی کہ اس کی انکوائری کروانا سپریم کورٹ کا کام نہیں آپ متعلقہ فورم ایف آئی اے سے رابطہ کریں۔

پھر جیسے ہی جسٹس تصدق جیلانی گئے اور ثاقب نثار چیف جسٹس بنے تو جسٹس کھوسہ نے ایک روٹین کے کیسز میں ریمارکس دیے سپریم کورٹ کے باہر بیٹھنے کی بجائے عمران خان ہمارے پاس پاناما لیکس کی درخواست لائیں ہم سنیں گے۔ پورے پاناما لیک میں نواز شریف کا نام نہیں تھا لیکن قصہ مختصر نواز شریف کی بار بار نیوز چینلز پر تصویریں چلوا کر اس لیک کو براہ راست نواز شریف سے منسوب کیا گیا۔ یہ وہی ایون فیلڈ اپارٹمنٹ تھے جن کی تحقیقات مشرف دور میں چیئرمین نیب جنرل امجد کرچکے تھے۔

خیر نواز شریف کو 2017 میں اقامہ رکھنے اور اپنے بیٹے سے تنخواہ وصول نہ کرنے جو قابل وصول اثاثہ تھا اس جرم میں نا اہل کر دیا اور مریم نواز پر الزام تھا وہ ایون فیلڈ کی بینفشری ہیں ان کو بھی نا اہل کر دیا جو کبھی کسی عوامی عہدے پر نہیں رہی۔ اب آتے ہیں اصل ایشو کی طرف، ایک طرف نواز شریف کے ساتھ یہ سب کچھ ہو رہا تھا دوسری طرف پاکستان ترقی کر رہا تھا۔ ڈالر نواز شریف کے چار سالوں میں 9 روپے بڑھا، پیٹرول 65 لیٹر، چینی 50 کلو، گھی 140 کلو، کوئی بھی دال 150 روپے سے اوپر نہیں گئی سادہ الفاظ میں مہنگائی نہ ہونے کے برابر تھی ہر چیز عام آدمی کی پہنچ میں تھی۔

سٹاک مارکیٹ 52 ہزار پوائنٹ پر ٹریڈ کر رہی تھی۔ عام آدمی بہت اچھی زندگی گزار رہا تھا لیکن مجھے آج تک اس بات کی سمجھ نہیں آئی اس وقت کی اسٹبلشمنٹ جس میں راحیل شریف، قمر باجوہ، ظہیر اسلام، فیض حمید سمیت تین چار اور جنرلز شامل تھے۔ ان لوگوں نے عمران خان پر ہوم ورک کیوں نہیں کیا۔ جب ملک اچھا بھلا چل رہا تھا پھر عمران خان کو لانے کے لئے دونوں اداروں فوج اور عدلیہ نے اپنا وقار داؤ پر کیوں لگا دیا؟ کیا ان کو معلوم نہیں تھا عمران خان کرکٹ کا کپتان تھا اس وقت بھی ڈکٹیٹر کی طرح کپتانی کرتا تھا کسی کی بات سننے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔

جو شخص اپنا گھر چلانے کے دو بار تجربے کر کے ناکام رہا جس کے اپنے سگے بیٹھے اس کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں۔ جس کا خاندان اس کے ساتھ بیٹھنے کو تیار نہیں تھا اس کو وزیراعظم بنانے کا سوچا بھی کیسے جا سکتا تھا۔ کیا ان کو معلوم نہیں تھا یہ کل کو ہمارے گلے بھی پڑ سکتا ہے۔ 9 مئی کے واقعات ماضی کی اسٹبلشمنٹ اور اس وقت کے ججز کی نوازشات کا شاخسانہ ہیں۔ آج پاکستان جس نہج پر پہنچ چکا ہے اس میں سدھار مشکل نظر آ رہا ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔

کل کو نواز شریف پھر وزیر اعظم بن جاتا ہے جو کہ نظر آ رہا ہے کیونکہ اس وقت گراؤنڈ میں ان کے علاوہ وزیراعظم کا کوئی امیدوار ہی نہیں ہے تو اس کی کیا گارنٹی ہے کہ نواز شریف کی پھر ٹانگیں نہیں کھنچی جائیں گئی۔ ویسے فیصلے کرنے میں ہم بہت دیر کرچکے ہیں پھر بھی اگر کوئی ہلکی سے امید کی کرن نظر آ رہی ہے تو وہ اس وقت صرف نواز شریف ہیں۔ فوج اپنا کام کرے عدلیہ اپنا کام کرے تو شاید پاکستان پر قدرت مہربان ہو تو ہم اس بحرانی کیفیت سے باہر نکل آئیں۔ نواز شریف سے شاید اللہ تعالی پھر کوئی بڑا کام لینا چاہتے ہیں کیونکہ اس وقت نواز شریف ہی واحد لیڈر ہیں جو پاکستان کو بچا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS