کُچھ ذمہ داری معاشرے کی بھی ہوا کرتی ہے
میں بہت طویل عرصے کے بعد گاؤں کچھ دن کے لیے رُکا ہوں۔ گاؤں قیام کرنے سے ہمیشہ ہی طمانیت کا خوشگوار احساس ہوتا ہے۔ رات کھُلے آسمان تلے بادلوں اور چاند تاروں کی آنکھ مچولی دیکھتے گُزاری۔ ٹھنڈک کا خوشگوار احساس، مشرق سے مغرب کو جھُومتے بادِ صبا کے جھونکے، گلی میں بلا سُود بھونکتے آوارہ کُتّوں کی گھن گرج جس کو بدمست کرتا ہوا کبھی کبھار نگرانی پر مامُور کسی پالتو بُل ٹیرئیر یا بُوہلی کُتے کا تنبیہی کاشن، دور آسمانوں میں بولتی ٹٹیری کہ جس کا من شاید ابھی بھی بارشوں سے بھرا نہیں تھا، ساون میں جگہ جگہ اٹکھیلیاں کرتے نمودار ہوئے حشرات الارض کی آوازیں جن کو بچپن سے سُنتے چلا آ رہا تھا جو اب میرے حافظے کا ایک اہم حصّہ بن چکی تھیں اور گلی میں کھمبے کے ساتھ لٹکتے ملگجے بلب کی زرد نیم تاریک روشنی میں گُزری رات ایک ایسی رومانویت ہے جو آپ کو اندر سے کہیں جکڑ لیتی ہے۔ یہ رات بھی ایسی ہی تھی۔ جکڑ لینے والی، کبھی نہ بھولنے والی یا پھر ہمیشہ زندہ رہ جانے والی۔
صُبح منہ اندھیرے آنکھ کھُل گئی۔ ملگجا اندھیرا ہر سُو پھیلا ہوا تھا۔ رات نہ جانے کس پہر آسمان پر روشن اُجلے تین تاروں سے گفتگو کرتے کرتے آنکھ لگ گئی اور پھر ایسی بھرپور نیند آئی کہ درمیان کے پانچ چھ گھنٹے پلک جھپکتے گُزر گئے۔ رات بھر میرے بائیں ہاتھ چوآسیدن شاہ اور دائیں ہاتھ کلر کہار کے آسمانوں پر کالے سیاہ بادل موجود رہے اور کبھی کبھار گھٹائیں چیر کر آسمانی بجلی بھی اپنا دیدار کرواتی رہی مگر میرے سر پہ ایستادہ نیلے آسمان نے ایک بوند بھی نہ ٹپکائی۔ شاید اُسے میری نیند کا احترام ملحوظِ خاطر تھا۔ بادل تو ابھی بھی اتنے ہی گھنے، دبیز اور سیاہ تھے مگر دودھیا روشنی میں عین میرے سامنے چند فرلانگ دُور نیم کمان میں لال بھُورے پربت سر اُٹھائے کھڑے دکھائی دے رہے تھے جن کے چہروں پر سبزے کے دلفریب گھنی تہہ آنکھوں کو تراوٹ بخش رہی تھی۔ سورج نکلنے میں ابھی کافی وقت باقی تھا۔ میں نے پاؤں میں جوگرز کَسے اور بنگلے والی گلی سے سیدھا نالہ بھناؤ کے ساتھ ساتھ ڈیم کو جاتے رستے پر قدم بڑھا دیے۔
کھوکھر زیر ڈیم پر جانا ہمیشہ سے ہی میرے لیے باعثِ فرحت رہا ہے۔ لڑکپن میں جب سکول سے موسمِ گرما کی تعطیلات ہوا کرتی تھیں اور ہمارا قیام کھوکھر زیر ہوتا تھا تو میں ہر روز بلاناغہ منہ اندھیرے اس ڈیم کے سُرخ پانیوں کو سلام کرنے آیا کرتا تھا۔ اس راستے پر قدم بڑھاتے ہوئے میں اپنے اندر اسی لڑکپن والے دور کی توانائیاں بحال ہوتا محسوس کر رہا تھا۔ وہی پُرانا آشنا راستہ تھا جس کی ہیئت میں اکلوتی تبدیلی یہی تھی کہ پچھلی مرتبہ میں جب اس کی زیارت کے لیے آیا تھا تو یہ سارا راستہ کچا تھا جس پر جا بجا پانی کھڑا ہوا تھا مگر اب یہ کنکریٹ سے بنا ہوا دس فُٹ چوڑے پختہ راستے کی شکل اختیار کر چُکا تھا۔ اس پختہ راستے نے ڈیم تک پہنچنا بہت آسان بنا دیا تھا ورنہ ساون کے ان دنوں میں تو یہ راستہ دلدل کی شکل اختیار کر چکا ہوتا تھا۔ لڑکپن کے سفر کی یادوں کو تازہ کرنے کی نیّت سے میں نے راستے میں جا بجا اُگے کیکر کے درختوں میں سے ایک سے بالشت بھر مسواک بنائی اور ایک سحر زدہ معمول کی طرح اپنی منزل کی جانب بڑھتا گیا۔
ڈیم پر اس وقت پہنچنے والا میں اکلوتا شخص تھا۔ میرے سامنے تا حدِّ نگاہ کھوکھر زیر ڈیم کا مدہوش کر دینے والا حُسن عیّاں تھا۔ سورج نکلنے کو تیار بیٹھا تھا۔ اسے شاید اسی بات کا انتظار تھا کہ میں ریسٹ ہاؤس والی آخری عمودی چڑھائی چڑھ کر ڈیم کنارے پہنچوں تو اسے بھی اپنے بل سے نکل آنے کا اشارہ کروں۔ پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں سُنتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ یہ آوازیں ہماری زندگیوں سے عَنقا ہو گئی ہیں۔ ڈیم میں پانی دھیمے سُروں میں اوپر نیچے ہلکورے لیتا مسلسل حرکت میں محسوس ہو رہا تھا۔ تھوڑی دیر اس پانی پر نظریں جما کر رکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ آپ سمیت کائنات کی ہر چیز حرکت میں ہے۔ کھوکھر زیر ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1974 ء میں ہوا۔ یہ ڈھوک ٹاہلیاں ڈیم کے بعد تحصیل چکوال میں تعمیر ہونے والا دوسرا سمال ڈیم تھا۔ اس کی تعمیر کا کام 1979 ء میں مکمل ہوا۔ اینٹ، پتھر اور گارے سے تعمیر ہونے والے اس ڈیم پر اس وقت دو کروڑ ایک لاکھ تیس ہزار روپے لاگت آئی تھی۔ یہ ڈیم 77 فٹ اونچا اور 1460 فٹ لمبا ہے جبکہ اس کے پیٹ کی گہرائی 1921 فٹ ہے۔ یہ پانچ ہزار تین سو بیس کیوسک پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی آب رسانی کا تخمینہ 1571 ایکڑ فٹ ہے۔ اسی ڈیم سے پورے چکوال شہر کو پانی مہیا کیا جاتا ہے۔
مختلف پرندے پانی کی اوپری سطح پر غوطے لگاتے نظر آ رہے تھے۔ مختلف چرند پرند اپنے روزمرّہ کے معمول میں مصروف تھے۔ ڈیم کنارے بنے ہوئے رستے پر میں ٹہلتا ہوا اسی ڈیم سے ملحقہ دوسرے سُرلہ ڈیم کی جانب روّاں دوّاں تھا۔ سُرلہ ڈیم اس ڈیم سے بہت چھوٹا اور ایک عشرے کے بعد تکمیل پذیر ہونے والا ڈیم ہے۔ یہ ڈیم بھی 61 فٹ اونچا جبکہ 675 فٹ لمبا ہے۔ دونوں ڈیم ویسے تو ایک پہاڑی سلسلے کی وجہ سے ایک دوسرے سے الگ ہیں مگر عین درمیان میں موجود ایک درّے کے طفیل بڑے ڈیم کا پانی سُرلہ ڈیم میں سرایت کر جاتا ہے جہاں آگے سپیل وے کے ذریعے زائد پانی کی نکاسی کا انتظام موجود ہے۔ جب پانی 1909 فٹ تک پہنچتا ہے تو اسی سپیل وے کے ذریعے برساتی نالوں میں بہا دیا جاتا ہے۔ دو جڑواں ڈیم اور اس سے ملحقہ سپیل وے اس جگہ کو انتہائی خوبصورت اور دلکش بنا دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ارد گرد کے مضافات سے سیاحوں کی اکثریت یہاں پہنچتی ہے۔ موسم خوشگوار ہو، چھٹی کا دن ہو یا کوئی تہوار ہو تو یہاں عموماً میلہ لگا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ لوگ یہاں کچھ وقت گزار کر، قدرتی حسن کے دلکش نظاروں کو آنکھوں میں سمو کر، تروتازہ ہو کر واپسی کی راہ لیتے ہیں۔
میری توجّہ نیولوں کے ایک خاندان نے اپنی طرف کھینچ لی۔ ایک جوان نیولوں کا جوڑا اپنے تین عدد بچوں کے ہمراہ شاید پیاس بجھانے ڈیم کنارے موجود تھا۔ اٹکھیلیاں کرتے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگتے وہ ارد گرد سے بے نیاز اپنے کھیل کود میں مگن تھے۔ انہیں شاید خبر نہیں تھی کہ ایک انسانی آنکھ انہیں مسلسل دیکھ رہی ہے۔ اتنی صبح صبح وہ شاید انسانوں کی یہاں آمد کا تصوّر نہیں رکھتے تھے اور اسی لیے بے دھڑک گھوم پھر رہے تھے ورنہ کسی آدم زاد کی موجودگی میں وہ یہاں آنے کی جرات نہ کرتے۔ انسان اس کرّہ ارض کا سب سے ناقابلِ اعتبار حیوان ہے جس کی وجہ سے جنگلی حیات بہت تیزی کے ساتھ معدوم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔ انسان کی دست بُرد سے صرف چرند پرند ہی نہیں بلکہ دیگر تمام قدرتی ذخائر بھی محفوظ نہیں ہیں۔ اسی کھوکھر زیر ڈیم کو لے لیجیے۔ انسان کی چیرہ دستیوں نے اسے بھی تباہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
اپنے بچپن میں جب میں یہاں آتا تھا تو اس وقت یہ ایسا تفریحی مقام نہیں تھا جیسا اب بن چُکا ہے مگر اُس وقت یہاں کی فضا قدرتی حُسن سے مالا مال تھی۔ اب میں نے جس طرف بھی نظر دوڑائی وہاں پلاسٹک کے خالی لفافوں، پلاسٹک کی بوتلوں، ڈسپوزیبل گلاسوں، سگریٹ کے خالی پیکٹوں اور ایسے ہی جملہ لوازمات کا ڈھیر دکھائی دیا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ جگہ ایک کچرا گھر ہو جہاں اردگرد کے بستیوں کے باسی اپنے اپنے علاقے سے گند اکٹھا کر کے پھینکنے آتے ہوں۔ مجھے انسانی سیر و تفریح پہ کوئی اعتراض ہے نہ اُن کے یہاں بیٹھ کر کھانے پینے پر۔ میں تو فقط ان کے یہاں کچرا پھینک کر جانے پر واویلا کر رہا ہوں۔
ہم من حیث القوم۔ اگر ہم اس ہجوم کو قوم کہہ سکیں تو۔ انتہائی بے حس اور غیر ذمہ دار ہیں۔ سوک سینس کیا ہوتی ہے، ہم اس کے ہجّوں تک سے واقف نہیں ہیں۔ آپ بیشک کھائیں، پئیں، موج اُڑائیں مگر اس موج مستی کے عینی شاہدین کو بھی انہی شاپنگ بیگز میں ڈال کر واپس لے جائیں جس میں آپ انہیں نہایت محبّت سے پیک کر کے لائے تھے کہ یہ جگہ آپ کے کوڑا کرکٹ پھینکنے کے لیے نہیں بنی۔ غیروں سے تو شکوہ ہی کیا ہے، میرے اپنے گاؤں کے باسی جو عموماً ہر شام یہاں پہنچے ہوتے ہیں، کبھی خالی ہاتھ تو آتے ہی نہیں ہیں۔ ایک دو سافٹ ڈرنکس کی ڈیڑھ لیٹر والی بوتلیں اور چار پانچ ڈسپوز ایبل گلاس ان کے شانہ بشانہ ہوتے ہیں۔ تاہم ان کے ہمراہ آنے والے ان کے یہ عارضی ساتھی کبھی ان کے ساتھ واپس جاتے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔ وہ سب یہیں ادھر اُدھر اڑتے پھرتے آپ کو نظر آئیں گے۔
آپ یہاں آنے والے کسی بھی سیاح سے رُک کر پوچھ لیں۔ وہ اس حرکت پر سخت نالاں نظر آئے گا۔ ایک آدھ لیکچر اسے زبانی یاد ہو گا۔ اُس سے پوچھ لیں کہ یہ جو کچرے کا ڈھیر یہاں نظر آ رہا ہے، یہ کیوں ہے تو وہ فوراً ہی اینگری ینگ مین بنا نظر آئے گا۔ ایک ہی سانس میں حاکمِ وقت سے لے کر ڈپٹی کمشنر تک، سب کو رگڑ جائے گا۔ اس کے خیال میں نہ قاعدہ نہ ہی قانون، نہ ہی محکمے اور نہ ہی ان کے رکھوالے اپنا فرض ادا کر رہے ہیں۔ اب اگر کوئی اس سے پوچھے کہ میاں تم نے اپنا فرض ادا کیا؟ تم جو ڈیڑھ پاؤ کا کوڑا کرکٹ اپنے ہمراہ لائے تھے، اسے اپنے ساتھ واپس لے کر گئے ہو تو وہی دو منٹ پہلے کا افلاطون بغلیں جھانکنے لگے گا۔ ہم میں سے ہر ایک کو ہی سِوک سینس چھُو کر نہیں گزری۔
شعورِ شہریت (سِوک سینس) ہمیں کہیں باہر سے امپورٹ نہیں کرنی ہے۔ غربت اور احساس محرومی نے ہمیں جس جذباتی ہیجان میں مبتلا کیا ہوا ہے اس کا سب سے بڑا نقصان اپنا یہ شعورِ شہریت گنوانا ہی ہے۔ ہمیں یہ سیکھنا ہو گا کہ ہم اپنی کمیونٹی اور اپنے تفریحی مقامات کے خود ذمہ دار اور والی وارث ہیں۔ یہاں باہر سے آ کر کوئی اور ہمارے مسائل حل نہیں کرے گا۔ حکومتوں کے پاس نمٹانے کو اور بہت سے بکھیڑے ہوتے ہیں۔ بطور معاشرہ بھی افراد کی اپنی بہت سی ذمہ داریاں ہوتی ہیں جو انہیں ہر صورت ادا کرنی ہوتی ہیں۔ گھر کے اندر اور باہر اپنی سِوک سینس کا استعمال انہی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔
میں بطور معاشرہ کھوکھر زیر کے باسیوں سے بھی التماس کروں گا کہ یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے پاس موجود اس قدرتی نعمت کا خیال رکھیں۔ خود بھی یہاں کوڑا کرکٹ پھینکنے سے احتراز کریں اور دوسروں کو بھی روکیں۔ ہم سب مل کر ہی اس معاشرے کو رہنے کے قابل بنا سکتے ہیں ورنہ ایک وقت آئے گا کہ یہاں ہر طرف آپ کو پلاسٹک تو نظر آئے گا مگر جنگلی حیات ڈھونڈے سے بھی نہیں ملیں گی۔ میں کھوکھر زیر کی کفالت فاؤنڈیشن سے التماس کروں گا کہ اپنی مدد آپ کے تحت تین چار بڑی ڈسٹ بن ڈیم کنارے نصب کر دی جائیں تاکہ اِدھر اُدھر پھینکے جانے والا کچرا مناسب طریقے سے تلف کیا جا سکے۔ ٹی ڈی سی پی اور دیگر حکومتی اداروں کی تو کھوکھر زیر ڈیم پر خدا جانے کب نظر پڑے گی مگر کچھ ذمہ داری اُس معاشرے کی بھی ہوا کرتی ہے جس میں ہم سانس لے رہے ہوتے ہیں۔ ہمیں بس اُسی ذمہ داری کو ادا کرنا ہے۔


