سوز و سازِ کیمیا – دُخترِ رُومی

مولانا رُومی سے میرا پہلا تعارف سیکنڈری سکول کے دنوں میں علامہ اقبال کے اس شعر کے ذریعے ہُوا۔
اسی کشمکش میں گُزریں مِری زندگی کی راتیں
کبھی سوز و سازِ رُومی، کبھی پیچ و تابِ رازی!
یہ وہ زمانہ تھا جب رُومی کے سوز و ساز کی کچھ سمجھ نہ تھی اور رازی کے پیچ و تاب کی وجوہات کا تو بالکل ہی اندازہ نہیں تھا۔ (جو فی الحال آج کا موضوع بھی نہیں )
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کچھ مطالعے کی عادت کے طفیل اور کچھ دانشوروں کی صحبت کی بدولت رُومی کی زندگی سے آشنائی شروع ہوئی کہ کیسے 1207 میں بلخ میں پیدا ہونے والے جلال الدین بلخی، قونیہ پہنچ کے مولانا اور پھر شمس تبریزی سے روحانی فیض حاصل کر کے دنیا بھر کے لیے رُومی ہو گئے۔
پھر عمر کے ساتھ شعور و آگہی نے اپنے معنی کھولنا شروع کیے تو معلوم ہُوا کہ جب رُومی کو روحانی محبت محسوس کرنے کی ودیعت عطا ہوئی تو تبریز سے آئے ہوئے شمس و رُومی ایک ہو گئے۔ کیا وہ ایک دوسرے کی روح کے ساتھی تھے؟ اس کا جواب تو کسی کے پاس نہیں لیکن یہ امکان غالب ہے کہ دونوں کسی ایک طاقتور روحانی ڈور سے بندھے تھے اور خدا کی تلاش میں دائمی سچائی کی راہ کے ہمسفر تھے۔ موضوع کے حوالے سے آج لیکن ہماری توجہ کا مرکز ”کیمیا“ ہے۔ سوز و سازِ رُومی نہیں، سوز و سازِ کیمیا۔
تاریخ کی کتاب میں جُڑے ہوئے صفحوں کے اندر بند اور نسبتاً گُمنامی کے پردوں میں چھپی
کیمیا خاتون جو رُومی کی لے پالک بیٹی اور شمس کی بیوی تھی۔ اس انتہائی اہم کردار کو تاریخ دانوں اور ادیبوں نے سامنے لانے کی مقدور بھر کوشش کی ہے لیکن بہت کم مستند مواد کی دستیابی اور نہایت مختصر زندگی کی رفاقت کی وجہ سے اس mystic کردار میں mystery کا عنصر آج بھی قائم ہے۔
بہت سے غیر ملکی ادیبوں کے ساتھ ساتھ ایسی ہی ایک کوشش ہمارے لیے انگریزی سے اُردو ترجمہ کے ذریعے اس عہد کے نامور ادیب و شاعر، معلم اور مترجم محترم انعام ندیم نے کی ہے۔ ”دُخترِ رُومی“ انگریزی میں لکھی گئی میورئیل موفروئے کے شاہکار ”Rumi ’s Daughter“ کا شاندار ترجمہ ہے۔ دونوں زبانوں میں یہ کتاب پڑھنے والے میری بات سے اتفاق کریں گے کہ تیرہویں صدی میں انطونیہ ( موجودہ ترکی) کے دیہاتی اور شہری ماحول سے وابستہ انسانوں کے مزاج، رہن سہن اور سادہ خیالات کو جیتے جاگتے مناظر کی طرح ایسے پیش کیا گیا ہے کہ پڑھتے ہوئے قاری خود اسی زمانے میں پہنچ جاتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی جزئیات جو تیرہویں صدی کے قونیہ اور مضافات میں بسنے والوں کے رہن سہن اور خیالات سے جُڑی ہیں، مختلف کرداروں کے ذریعے ہم تک پہنچتی ہیں۔ تاریخ کے جھروکوں سے جھانکتے واقعات خاص طور پہ صلیبی جنگوں کے اثرات بھی اپنا رنگ دکھاتے ہیں۔ یہاں مترجم کی مہارت اور دونوں زبانوں پہ گرفت کی داد دینی پڑے گی کہ آپ کو کہیں بھی اس خاص کمی کا احساس نہیں ہوتا جو اکثر تراجم میں رہ جاتی ہے۔ انعام ندیم جو اس سے پہلے بنگالی ادیب ربی سنکر بال کی ”دوزخ نامہ“ جیسی شاہکار کتاب کا ترجمہ سامنے لا چکے ہیں ”دُخترِ رُومی کے ترجمے میں بھی کامیاب نظر آتے ہیں اور کہیں کہیں تو احساس ہی نہیں ہوتا کہ آپ ترجمہ پڑھ رہے ہیں۔
اب بات ”کیمیا“ کی زندگی کے بارے میں کریں تو کوئی شے شروع میں ہی دل پکڑ لیتی ہے۔ کہانی کا آغاز سن 1939 سے ہوتا ہے جب قاری کا تعارف کیمیا سے ہوتا ہے ایک بھائی اور ایک بہن کے بعد سات سال کی عمر میں ایک غیر معمولی صفات رکھنے والی بچی جو وادی میں چلتے پھرتے گھریلو کام بھی کرتی ہے اور بیٹھے بیٹھے گُم بھی ہو جاتی ہے۔ واپس آ کر حیران کُن سوال بھی پُوچھتی ہے جو اس کے رشتے داروں کو پریشان کیے رکھتے ہیں۔
کہانی کے مطابق، سن 1232 میں قونیہ کے نواح میں پیدا ہوئی دیہاتی بچّی، جس کے اندر روحانی اور غائبانہ علوم کے ادراک کی صفات دیکھتے ہوئے ماں باپ اُسے نو سال کی عمر میں گاؤں سے دُور قونیہ شہر بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ مولانا جلال الدین رُومی کی درس گاہ سے فیض حاصل کر سکے۔ بوجھل دل سے وہ اس فیصلے پر عمل بھی کرتے ہیں اور کُھلی فضا میں پروان چڑھی کیمیا، مولانا رومی، اُن کی دوسری بیگم کرا خاتون اور اُن کے دو چھوٹے بچے علیم اور ملکہ کے ساتھ ساتھ پہلی مرحوم بیوی گوہر خاتون کے بطن سے مولانا کے دونوں بیٹوں علا الدین اور سلطان ولد کے ساتھ ایک گھر میں نئی زندگی شروع کرتی ہے، اس ماحول کی عادی بھی ہو جاتی ہے اور پھر کبھی لوٹ کے اپنی بستی نہیں جاتی جہاں کے جنگل اور بہتی ندی سے وہ کبھی نکلنا ہی نہیں چاہتی تھی۔
واپسی کا سفر یُوں بھی نہ ہو سکا کہ وہ کا تبِ تقدیر سے عُمر بہت ہی کم لکھوا کے لائی تھی۔ کہانی آگے بڑھتی ہے یہ 1244 کا قونیہ ہے۔ رُومی اپنے والد کی جگہ علامہ کے فرائض مکمل یکسوئی سے ادا کر رہے ہیں اور بارہ / تیرہ سالہ کیمیا بھی نئے ماحول میں رچ بس چُکی ہے کہ اچانک اس بظاہر مکمل فضا میں ایک ایسی ہستی کی آمد ہوتی ہے جس سے نہ صرف مولانا کی ہستی کے تار چھڑ جاتے ہیں بلکہ کیمیا پر بھی ایک نظر کے معنی کُھلنے لگتے ہیں۔ دُور کے شہر تبریز سے آئے ہوئے شمس نے مولانا کی زندگی کے لمحہ لمحہ پر مکمل تصّرف حاصل کر لیا ہے جس سے مولانا کے پُرانے دوست اور پیروکار نظر انداز کیے جانے پر تذبذب کا شکار ہیں۔ حیرت انگیز طور پر ان کی بیوی کرا خاتون کو کچھ فرق نہیں پڑتا کہ شاید اس نے بدلتے وقت کی دھڑکن محسوس کرتے ہوئے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ لیکن گھر میں ایک اور فرد ہے جس کی بے چینی اور غُصّہ بار بار نظر آتا ہے اور جس کی بے چینی کو تاریخ میں آگے چل کر انتقام سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔
اب سال 1246 ہے جب شمس اچانک غائب ہو جاتے ہیں۔ مولانا رُومی کی بے تابی اور خواہش کی بدولت دمشق سے واپس آتے ہیں تو انہیں خاندان کے فرد کا درجہ دینے کے لیے کیمیا سے ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔
تاریخ کے حوالوں اور کہانی کے مطابق کیمیا کی عُمر بارہ یا تیرہ سال اور رُومی کے مرشد شمس تبریزی کی عُمر اکسٹھ سال تھی۔ جو مولانا رومی کے مرشد تھے اور ان سے بائیس سال بڑے تھے۔ اس شادی کو ”نا آسودہ“ کہا گیا ہے کیونکہ شمس اپنا وقت اور توجہ رُومی پہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ مولانا کا بڑا بیٹا علا الدین، اپنی بے چینی کا اظہار بار بار کیمیا کے سامنے کرنا چاہتا ہے لیکن کیمیا بھی اس روحانی تعلق کو اپنے دل، دماغ اور روح سے قبول کر چکی ہے۔ مولانا جلال الدین
رُومی کی دانش سے فیض اور شمس کی روحانیت سے عشق اور پھر غیر روایتی شادی کے بعد چودہ / پندرہ سال کی نازک عمر میں کیمیا خاتون دائمی حقیقت یعنی موت سے ہمکنار ہوتی ہے جس کے بعد شمس بھی لاپتہ ہو جاتے ہیں۔ رُومی اور شمس جیسے دو برگد جن کی چھاؤں میں کوئی پودا بھلا کتنا پھیل سکتا ہے؟ لیکن کیمیا وہ کردار ہے جس نے سر اُٹھا کے دنیا کو بتانے کی کوشش کی ہے کہ میں بھی ہُوں اور پُورے وجود سے ہوں۔
کیمیا لفظ ہی اپنے اندر عجب پُراسراریت رکھتا ہے۔ اندر کی آگ کو باہر سے زیادہ رکھنے کے عمل میں خاک کو کیمیا کرنے کی حسرت کسی عہد میں ماند نہیں پڑی۔ اس کے کئی معنی ہیں اور کیا یہ اتفاق ہے کہ تصوف میں کیمیا کا مطلب مرشدِ کامل کی نظر یعنی عشق ہے؟
کیمیا۔ ایران اور ترکی جیسے خطوں میں یہ نام غیر مانوس نہیں لیکن ہمارے بّرِ صغیر کے لوگوں کے لیے بھی اس لفظ کے اندر ایک اور ہی جہانِ معنی آباد ہے۔
اب توجہ اگر رُومی اور شمس پہ رکھیں تو سن 1244 سے 1248 تک دو مختلف وقفوں کے درمیان کی کہانی جس میں دو عظیم مفکروں کی لگا تار چالیس دن رفاقت بھری قلبِ ماہیت جس کے بعد جلال الدین، مولانا سے رُومی بن گئے۔ رُومی جس کی عشق سے لبریز مثنویوں نے مشرق تو مشرق مغرب والوں کے دلوں میں بھی روحانی لَو اور صوفیانہ ضَو جگا دی۔
شمس سے ُرومی کی عقیدت غیر معمولی اور عام سوچ سے بالاتر ہونے کی وجہ سے تنازعات کا شکار بھی رہی اور خاص طور پہ رُومی کے بڑے بیٹے علا الدین کے لیے بے چینی کا باعث بنی رہی۔ اسی لیے شمس تبریز کی اچانک گمشدگی کو قتل پہ راغب کرنے والے انتقام سے بھی منسلک کیا جاتا ہے۔ ترکی کی مشہور ادیبہ ایلف شفق کے مشہور ناول ”محبت کے چالیس اصول“ کا آغاز ہی اس بھیانک واقعے سے ہو تا ہے۔ میورئیل موفرائے کی ”کیمیا“ میں البتہ شمس و رُومی کے تعلق پہ علا الدین کی نا پسندیدگی کا ذکر نرم الفاظ میں کیا گیا ہے۔
رُومی و شمس کی گہری اور روحانی محبت کے درمیان کہیں آتے جاتے شمس تبریزی کی آنکھوں میں ڈوب کر سُراغِ زندگی پانے کی تمنا کرتی ہوئی کیمیا خاتون جس کو خبر ہی نہ ہوئی کہ کب اس کا نازک سا دل، جُدائی، زندگی، نئے رشتے، عشق اور ”غیر آسودہ ازدواجی تعلقات“ کے تھپیڑے کھاتی ناؤ کے ساتھ ڈوب گیا۔
وہ سمجھ ہی نہ پائی کہ شمس و رُومی کے تعلق پہ علا الدین اپنے غصّے کا اظہار اسی کے سامنے کیوں کرتا ہے۔ لیکن اس کے لیے اطمینان کی بات یہ رہی کہ وہ اپنے آپ کو پہچان گئی اور جس نے خود کو پہچانا، اس نے اپنے رب کو پہچانا۔
”تم شمع ہو، تم شعلہ ہو، تم آگ ہو، تم خوشی اور روشنی ہو، تم محبت ہو“
اور بیمار دل سے آخری سہمی ہوئی دھڑکن رخصت کرنے سے پہلے اس نے وہ منظر دوبارہ دیکھا جب وہ اپنی روتی ماں ایودوکیہ، تڑپتے باپ فاروق، بڑے بھائی ظاہر اور بڑی بہن عائشل کو اپنی وادی میں چھوڑ آئی تھی کہ اس کی نگاہ آسمان پہ تھی۔
اور پھر اس کی زندگی لمحہَ آخر میں داخل ہو گئی جہاں سکون ہی سکون تھا۔
”ایک وقت آتا ہے جب سکون اور زندگی دو دریاؤں کی طرح ایک ہی سمندر کی طرف بہہ رہے ہوتے ہیں“
اور پھر کیمیا کی زندگی کے سارے سوز، ابدی نیند کے ساز میں ڈھل گئے!

