موجودہ دور میں حقائق چھپائے نہیں جا سکتے


سوات بہت پرامن تھا لیکن اب پرامن نہیں رہا۔ طالبانائزیشن کے ایک خونیں دور اور مختلف فوجی آپریشنوں سے گزرنے کے بعد اہل سوات پرامید تھے کہ اب علاقے میں امن و امان مستقل بنیادوں پر قائم ہو سکے گا لیکن وقفے وقفے سے بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگز اور طالبان کے دوبارہ آمد کے خدشات نے سوات میں خوف و ہراس کی ایک مستقل فضا پیدا کردی ہے۔ اب گزشتہ دنوں میں چند واقعات ایسے رونما ہوئے جن کی وجہ سے اہل سوات میں مزید خوف اور بے چینی پھیل گئی ہے۔ تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے مقامی رہنما خورشید احمد عرف دادا اور انجنئیر اسرار الدین کی گرفتاری، ان پر بہیمانہ تشدد اور دھمکیوں کے ساتھ ان کی رہائی، اس کے بعد دن دیہاڑے باوردی اور عام لباس میں ملبوس اہل کاروں کا سڑک پر نوجوان کا اغوا، ایک اور واقعہ میں ایک بچے کا اغوا اور دوسرے پر تشدد اور اب سوات کے ممتاز صحافی فیاض ظفر کی گرفتاری اور ان پر مبینہ تشدد سوات کی مجموعی امن و امان کی صورت حال کی ابتری اور ریاستی جبر کی سفاکی ظاہر کرتی ہے۔ ان تمام واقعات میں افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جن سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری امن و امان قائم رکھنا اور عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے، یہ سب کچھ ان کے ایما پر ہو رہا ہے۔

آج زمانہ بہت بدل چکا ہے لیکن افسوس ہمارے سیکیورٹی اب بھی 1971 ء کے دور میں جی رہے ہیں جب سانحہ مشرقی پاکستان کے دوران میڈیا کے ذریعے یہ پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا کہ وہاں ”محبت کا زمزم بہ رہا ہے“ لیکن دوسری طرف عملاً کچھ اور ہو رہا تھا اور پھر وطن عزیز ایک ایسے سانحے سے دوچار ہوا جس کی تلخیاں درد دل رکھنے والے اہل وطن اور بیش تر بنگالیوں کے ذہنوں میں ابھی تک موجود ہیں۔ اس نئے دور میں جب آپ حقائق کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی مخصوص سیاسی جماعت کے کارکنوں کو زبردستی اپنی جماعت کی وابستگی سے توبہ تائب کرنے کی مہم چلاتے ہیں، میڈیا پر پابندی لگاتے ہیں اور ملک کے طول و عرض میں صحافیوں کو دھمکاتے ہیں، انھیں گرفتار کرتے ہیں اور ان پر تشدد کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں غصہ، نفرت اور فرسٹریشن جنم لیتے ہیں۔ افواہوں کا بازار گرم ہوجاتا ہے اور ملک میں بے یقینی اور سیاسی افراتفری کی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔

اس وقت مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھر کر دیا ہے۔ بجلی کے بلوں میں سفاکانہ اضافہ عوام کے ذہنوں میں موجود لاوے کو مہمیز دے رہا ہے۔ اگلے مہینوں میں بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے سے عوام اور ریاست کے درمیان بغاوت کی سی صورت حال پیدا ہونے کے خدشات موجود ہیں۔ پی ڈی ایم کی حکومت میں موجود سیاسی جماعتیں عوام کا سامنا نہیں کر سکتیں کہ انھوں نے معیشت کی بہتری میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔ تحریک انصاف کو عملاً مفلوج کیا جا چکا ہے۔ عوام کے ذہنوں میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھی غصہ موجود ہے کہ اس کے نت نئے تجربوں نے ملک کو اس حالت تک پہنچا دیا ہے۔ موجودہ نگران حکومت کے عوام دشمن فیصلوں کے لئے اسٹیبلشمنٹ ہی کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے، اس لئے موجودہ مہنگائی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید عوامی رد عمل سے اسٹیبلشمنٹ بھی متاثر ہوگی۔ پراجیکٹ عمران نے عوام کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کر دی ہے کہ حکومتیں بنانے اور گرانے میں غیرسیاسی قوتوں کے عاقبت نا اندیشانہ فیصلوں اور ذاتی مفاداتی مصلحتوں کا ہاتھ ہے۔ اس لئے بعض ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی فضا مزید گہری ہوتی جا رہی ہے اور اگر عوام نے بجلی کے بلوں کو بہانہ بنا کر بغاوت کر دی تو اس بغاوت اور ہنگاموں کو لیڈ کرنے والا کوئی نہیں ہو گا اور جب عوام بپھر جاتے ہیں اور وہ بغیر کسی رہبر و رہنما کے احتجاج شروع کرتے ہیں تو پھر یہ احتجاج، احتجاج نہیں رہتا، یہ خونی انقلاب بن جاتا ہے۔

سیکیورٹی ادارے ہمارے لئے نہایت اہم اور محترم ہیں۔ ملک کی سلامتی اور بقا کا انحصار ان ہی اداروں پر ہوتا ہے۔ ہمارے فوجی جوان محب الوطن ہیں اور وہ اپنے ملک کی سلامتی کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں لیکن جب اس ادارے کے پالیسی ساز ایسے فیصلے کرتے ہیں جس کے نتیجے میں عوام اور ادارے کے مابین نفرت اور بد اعتمادی کی خلیج وسیع ہوجاتی ہے تو پھر نہ صرف ملک کے اندر امن و امان کے مسائل بڑھتے چلے جاتے ہیں بلکہ سرحدوں کی حفاظت بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس لئے ہمارے سیکیورٹی اداروں کو اپنی پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرنی چاہیے۔ انھیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ یہ 1971 ء کا دور نہیں۔ وقت بدل چکا ہے۔ آپ ظلم بھی کریں اور عوام سے یہ امید بھی رکھیں کہ وہ آپ کو عزت اور احترام دیں گے۔ آپ حقائق چھپانے کی ناکام کوشش کریں اور عوام سے یہ امید بھی رکھیں کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے حقائق تک رسائی حاصل نہ کریں، اب یہ ممکن نہیں رہا۔ آپ جتنا لوگوں کو دبائیں گے، اس کا رد عمل بھی اتنا ہی شدید ہو گا۔ آپ صحافیوں اور میڈیا پر پابندی لگا کر ملک میں موجود غیر یقینی کی کیفیت اور عوام کے ذہنوں میں بڑھتی ہوئی فرسٹریشن کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں۔ موجودہ سیاسی بے چینی، مہنگائی سے پیدا ہونے والا شدید عوامی اشتعال، میڈیا پر پابندی کے نتیجے میں جنم لینے والا گھٹن اور مجموعی امن و امان کی ناگفتہ بہ صورت حال کسی ناخوش گوار سانحے میں ڈھل سکتی ہے۔

ہم نے کالم کا آغاز سوات میں پھیلنے والی بے چینی اور سیکیورٹی اداروں کے مبینہ زیادتیوں سے کیا تھا۔ گرفتار کیے جانے والے اخبار نویس فیاض ظفر ہمارے دیرینہ ساتھی ہیں۔ وہ ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سینئر صحافی ہیں۔ صحافت کے ساتھ وہ گزشتہ پچیس تیس برس سے وابستہ چلے آ رہے ہیں۔ اس وقت وہ روزنامہ مشرق (پشاور) اور وائس آف امریکا کے پشتو سیکشن سے وابستہ ہیں۔ ان کو صحت کے پیچیدہ مسائل درپیش ہیں۔ بعض اوقات انھیں چلنے پھرنے میں سہارے کی ضرورت ہوتی ہے لیکن وہ ایک بہت خود دار انسان ہیں۔ اپنی پیچیدہ بیماری کے ساتھ بڑی بہادری اور استقامت کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔ اس کے باوجود وہ اپنے صحافتی فرائض بڑی خوبی اور جرات کے ساتھ انجام دے رہے ہیں۔ اس وقت وہ مقامی انتظامیہ کے تحویل میں ہیں۔ ان پر تشدد بھی کیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری کی وجہ بھی نہیں بتائی گئی۔ معلوم نہیں ایک ایسا شخص جو لاٹھی کے سہارے چلتا ہے، اس سے نقض امن کا کیا خدشہ لاحق ہو سکتا ہے۔ جب کہ حال ہی میں وہ ایک سرجری کے عمل سے بھی گزر چکے ہیں۔ وہ روزانہ کئی طرح کے ادویات استعمال کرتے ہیں۔ دوران حراست ان کے ساتھ کچھ انہونی ہو گئی تو اس کی ذمہ داری سوات کی مقامی انتظامیہ پر عائد ہو گی اور اس ذمہ داری سے وہ ادارے بھی بری الذمہ نہیں ہوں گے جن کے ایما پر فیاض ظفر کو گرفتار کیا گیا ہے۔

موجودہ دور میں حقائق چھپانے سے نہیں چھپ سکتے بلکہ جب حقائق چھپانے کی دانستہ کوشش کی جائے تو لوگوں کا تجسس بڑھ جاتا ہے اور آپ جو کچھ چھپانا چاہتے ہیں، وہ مبالغے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ہمارے لئے سیکیورٹی ادارے نہایت محترم ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ ہمیشہ ہی محترم رہیں اور ان کا کام ملک کے اندر امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے، عوام کے جان و مال کو تحفظ دینے اور ملکی سرحدوں کی حفاظت تک محدود رہے۔ تب ہی عوام اور سیکیورٹی اداروں کے مابین اعتماد اور احترام کا حقیقی تعلق قائم رہے گا۔ پھر انھیں اپنی عزت اور بھرم قائم رکھنے کے لئے اوچھے ہتھ کنڈوں کی ضرورت نہیں رہے گی۔

Facebook Comments HS