لال ٹوپی والا مسخرہ
اس قوم کے ساتھ سب سے بڑا مذاق بلکہ اب تو المیہ بن چکا ہے، وہ یہ ہے کہ انہیں 1947 کے بعد سے طرح طرح کی رنگ برنگی ٹوپیاں پہنائی جا رہی ہیں۔
ہر کوئی اپنے ایجنڈے کے ساتھ مسلط ہوتا ہے عوام کو سہانے خواب دکھاتا ہے اور اپنا ہدف پورا کر کے چلتا بنتا ہے۔
21 ویں صدی میں بھی یہ قوم اپنی حقیقی شناخت سے بے خبر ہے، ہم بدقسمتی سے شناخت کے بحران کا شکار ہو چکے ہیں۔ ہمیں نہیں پتا کہ آج کی دنیا میں ہمارا حقیقی چہرہ کیا ہے؟ خداوندان ریاست جب چاہتے ہیں اور جیسا چاہتے ہیں عوام کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائے رکھتے ہیں اور اب تو عوام بیچارے بھی بھاگ بھاگ کر تھک چکے ہیں۔ ان کے حصے کی خوشی، آزادی اور ڈھنگ سے زندگی جینے کے خواب نجانے کب کے خاک ہو چکے۔
وطن عزیز میں مسخرے اور جھوٹ کے بیوپاری خوب راج کر رہے ہیں، عوام کو جنونیت و روحانیت کے پاٹھ پڑھا کر انہیں جذباتی ہسٹیریا میں مبتلا کیے رکھتے ہیں۔ ان بیچاروں کو روٹی ملے نہ ملے، جتنے مرضی ان کے حقوق پامال ہو جائیں، کوئی فرق نہیں پڑتا مگر جیسے ہی کوئی پرائمری فیل مذہبی پیشوا بس اتنا سا کہہ دے کہ فلاں بندے نے توہین مذہب یا فلاں ملک نے مقدس ہستیوں کے کارٹون بنائے ہیں یہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اور معاملے کی تہہ تک پہنچے بغیر اس شخص کو بھی نوچ ڈالیں گے جس پر بلاسفیمی کا الزام لگ چکا ہو گا۔
ان کو پتا ہی نہیں ہے کہ ان کے ساتھ شروع دن سے مذاق ہوتا رہا ہے اور چند طاقتور ان کے ساتھ نجانے کب سے ”ہاتھ“ کرتے چلے آرہے ہیں۔
وطن عزیز میں چونکہ سوچ بچار کے کلچر کو جان بوجھ کر پنپنے ہی نہیں دیا گیا اور حفظ ما تقدم کے طور پر کہ ”کہیں سوچنے کی رسم ہی نا چل نکلے“۔
چند ماڈرن قسم کے روحانی بابوں کو عوام کے ذہنوں پر مسلط کر دیا گیا ہے جو عوام کو صابر و شاکر رہنے کے روحانی انجیکشن لگاتے رہتے ہیں، جس سے ان کا روحانی دھندا بھی چلتا ہے اور خداوندان ریاست گلشن کا کاروبار بھی خوب چلاتے رہتے ہیں۔
جنونیت اور روحانیت کی بدولت ہی تو مفاد پرست عناصر دن دگنی اور رات چوگنی ترقی کیے جا رہے ہیں جبکہ عوام انہی جھنجھنوں سے بہلتے رہتے ہیں۔ عوام کو اس حقیقت کی پہیلی کو سمجھنے میں شاید ابھی صدیاں درکار ہوں کہ یہ طاقتور عناصر ہمیں آخرت کی تیاری پر لگا کر خود دنیاوی وسائل پر قابض ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ ہمیں جذباتیت، جنونیت، روحانیت اور سادہ زندگی گزارنے کا منجن بیچ کر خود محلاتی زندگیوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔
ابتدائی لٹمس ٹیسٹ کے طور پر صرف سوشل میڈیا یا یوٹیوب چینلز کی ریٹنگ ملاحظہ فرما لیں ساری حقیقت کھل جائے گی، زیادہ دور نا جائیں تلقین شاہی بابوں اور ماڈرن قسم کے فیش ایبل مذہبیوں کے چینلز کا موازنہ ”دی بلیک ہول یا سید مزمل“ کے چینل سے کر لیں آپ کو پتہ چل جائے گا کہ ہمارے عوام کی ذہنی سطح کا معیار کیا ہے؟
جن بیچاروں کے شعور کو شروع دن سے اس حد تک مسمار کر دیا گیا ہو وہ بھلا ”مختلف یا ہٹ“ کے کیسے سوچ سکتے ہیں؟
جن کی سوچ پر روحانی داروغے تعینات ہوں وہ اپنی قسمت کو تقسیم خداوندی سمجھتے ہوئے صبر و شکر کے ساتھ جینے کو ہی ترجیح دیں گے نا!
جھوٹ کے بیوپاریوں میں سر فہرست بلکہ کامیڈی کنگ کہنا زیادہ مناسب ہو گا، ہمیشہ لال ٹوپی پہنے رکھتے ہیں اور لمبی لمبی چھوڑنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے، موصوف کا نام زید حامد ہے جو انگریزی کا رعب جھاڑ کر بڑے فخر سے جھوٹ بولتے ہیں۔
انہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ عقل کی باتیں کر رہے ہیں، خیر یہ ان کا گمان ہے مگر دنیا انہیں ”جھوٹ کا پلندہ“ یا بیوقوفانہ قسم کی باتیں کرنے والے سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔
جہاں بین الاقوامی میڈیا اور دنیا بھر کے ممالک چندریان۔ 3 کی کامیابی سے چاند پر لینڈنگ کی وجہ سے انڈیا کو اس بڑی کامیابی پر مبارکباد دے رہے ہیں ادھر ہمارے دانش گرد زید حامد اس کامیابی کو مکمل جھوٹ اور گرافکس کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔
حالانکہ سائنس اور سائنسی کامیابیاں انسانوں کی مشترکہ میراث ہوتی ہیں اور جو ممالک بھی سائنس کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ قابل تحسین ہیں، کیونکہ بہرحال وہ انسانی ورثہ میں اضافہ کر رہے ہیں۔
اگر آپ کی خوشی کسی کی ناکامی و شکست میں پنہاں ہے تو پھر آپ کو اپنی ذہنی سطح کا جائزہ لینا ہو گا؟
انتقامی رویوں سے بھلا معاشرے کیسے آگے بڑھ سکتے ہیں؟
اینکر نے موصوف سے پوچھا کہ جناب آپ اس کامیابی کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
جواب میں فرمانے لگے کہ عموماً میں ٹرولنگ نہیں کرتا مگر اس بار میں نے انڈیا کی ٹرولنگ کی ہے صرف انہیں رسوا کرنے کے لیے۔
اور کہا کہ میرے پاس انڈیا کی کامیابی کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
بھئی آپ ہو کون؟ سائنسدان ہو؟ اور آپ کے ثبوت کی کیا اہمیت ہے بھلا؟ کتنی ڈھٹائی سے دنیا کے سامنے ایک حقیقت کا انکار کر رہے ہو۔
اس شخص کی ذہنی سطح دیکھیں ذرا، پوری دنیا انڈیا کو مبارکباد دے رہی ہے جبکہ موصوف اکیلے ہی انہیں رسوا کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ ریکارڈ کی درستی کے لیے بتانا بہت ضروری ہے کہ یہ وہی لال ٹوپی والے ہیں جنہوں نے کووڈ 19 کے الفاظ کو ڈی کوڈ کرتے ہوئے کہا تھا
” کووڈ کا مطلب ہوتا ہے سرٹیفکیٹ آف ویکسینیشن آئی ڈی“
اب بھلا دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے پاس ایسا شاہکار ذہن ہو گا جو ہمارے ہاں پایا جاتا ہے؟ کرونا کے دنوں میں موصوف نے کچھ اور بھی نایاب قسم کے انکشافات کیے تھے جو مضحکہ خیزی میں اپنی مثال آپ تھے۔ آپ بھی ملاحظہ فرما لیں۔
” کرونا ویکسین کا مقصد دنیا کی آبادی کو کم کرنا اور انسانیت کو تباہ و برباد کر کے نئے ورلڈ آرڈر کے تحت انہیں غلام بنانا ہے، ہم سادہ سے مسلمان ہیں جو کفار کی کارستانیوں سے بے خبر رہتے ہیں۔ یہ نینو ٹیکنالوجی پر بڑے عرصہ سے کام کر رہے تھے چھوٹی چھوٹی چپس کے ذرات کو سرنج کے ذریعے سے انسانی جسم میں داخل کریں گے جو انسانوں کا ڈی این اے تبدیل کر ڈالے گی اور قدرت کی ابتدائی تخلیق کو یکسر تبدیل کر دے گی، کفار انسانی سرویلنس کی خاطر یہ سب کچھ کر رہے ہیں“ یہ زید حامد کی اس وقت کی پیش گوئیاں تھیں اور آج آپ ملاحظہ کر لیں کہ کتنے ڈی این اے تبدیل ہوئے ہیں اور کتنے افراد کی سرویلنس ہو رہی ہے؟
اور کیا سرویلنس کرنے والوں کو یہی سب کرنے کی ضرورت تھی؟
اور اگر آج وہ سرویلنس کرنا چاہیں تو کون انہیں روک سکتا ہے؟
مقابلہ کرنے کے لیے مدمقابل کے برابر آنا بہت ضروری ہوتا ہے سرکار۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اس قدر پستی کا شکار ہو چکا ہے کہ نا صرف اس قسم کے شخص کی بے وقوفیوں کو سنتے ہیں بلکہ سر بھی دھنتے ہیں، یقین نہ آئے تو اس بندے کی ریٹنگ یا فالونگ دیکھ لیں آپ کو خود بخود اندازہ ہو جائے گا۔
جس معاشرے میں جھوٹ اتنے اعتماد سے بولا جائے اور سننے والے سوال کرنے کی بجائے یقین کر لیں تو سمجھ لیں وہ معاشرہ مردہ ہو چکا ہے۔
جہاں سوال کرنے والے ناپید ہو جائیں وہاں جہالت کا راج ہوتا ہے۔ جہاں عقل کو اونگھ آ جائے، وہاں عفریت جنم لیتے ہیں۔



