2 ایک پر اسرار کائنات: روشنی کی حقیقت
روشنی ہماری زندگی کی سب سے اہم ضرورت ہے۔ روشنی کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن لگتا ہے۔ لیکن روشنی کیا ہے؟ یہ سوال اتنا سادہ نہیں ہے۔ آئن سٹائن، جنہوں نے روشنی کی اصلیت سمجھنے میں اہم کردار ادا کیا، روشنی کی حقیقت کے موجودہ تصور سے اس قدر غیر مطمئن رہے کہ، اپنی زندگی کے اختتام کے قریب، انہوں نے کہا:
”تمام پچاس سال کی شعوری کوشش کے باوجود مجھے اس سوال کا حتمی جواب نہیں مل سکا کہ روشنی کی حقیقت کیا ہے؟ بے شک آج ہر ایرا غیرا یہ سمجھتا ہے کہ اسے اس سوال کا جواب معلوم ہے، لیکن وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے۔“
اس مضمون میں، میں روشنی کی حقیقت کے بارے میں انسانی تاریخ کے مختلف ادوار میں پیش کیے گئے خیالات کا ایک مختصر جائزہ پیش کروں گا اور پھر اس اہم سوال کی طرف اؤں گا کہ اخر روشنی سے وابستہ وہ کیا پر اسراریت ہے جس کی بنیاد پر آئن سٹائن جیسے عظیم سائنسدان غیر مطمئن نظر آتے ہیں۔
روشنی کی نوعیت قدیم زمانے سے دلچسپی کا موضوع رہی ہے۔ شروع میں روشنی کے مطالعے کا تعلق بنیادی طور پر بصارت سے تھا۔ مثال کے طور پر، قدیم مصریوں کا خیال تھا کہ روشنی ان کے دیوتا، را کے دیکھنے کی سرگرمی ہے۔ جب را کی آنکھ (سورج) کھلتی ہے تو دن ہوتا ہے۔ اور جب را کی انکھ بند ہوتی ہے، تو رات ہوتی ہے۔
روشنی اور بصارت کی نوعیت کے ابتدائی مطالعے کو یونانی روایات سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ یونانی تہذیب نے ڈیموکریٹس، ایپیکورس، افلاطون اور ارسطو کے کاموں کے ذریعے بصارت کے بارے میں بہت سے ابتدائی تصورات پیدا کیے۔
بصارت سے وابستہ پہلا نظریہ افلاطون نے پیش کیا۔ اس نظریہ کا مرکزی خیال یہ تھا کہ جس طرح دوسرے حواس، جیسے لمس اور ذائقہ، اشیاء کو محسوس کرتے ہیں، اسی طرح سے بصارت کا سبب آنکھ سے نکلنے والی روشنی کی کرنیں ہیں جو اشیاء کو محسوس کرتی ہیں۔ اس نظریے کے مطابق جب ہم آنکھ کھولتے ہیں تو روشنی کی شعاعیں نکلتی ہیں جو مختلف اجسام سے جا کر ٹکراتی ہیں۔ اس طور ان شعاعوں کے ’چھونے‘ سے ہم مختلف اشیا تک کا فاصلہ، ان کے سائز، شکل اور رنگت کا ادراک کر سکتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بصارت کو سمجھنے کا یہ نظریہ جو آج انتہائی عجیب و غریب تصور کیا جائے گا، تقریباً ایک ہزار سال تک قائم رہا۔ اس دوران یونانی دور کے سائنسدانوں، مثلاً اقلیدس اور جالینوس اور ابتدائی مسلم تاریخ کے فلاسفروں مثلاً الکندی نے اس نظریے کی تو سیخ کی اور اس کو آگے بڑھا یا۔
بصارت اور روشنی کا یہ نظریہ ایک عرب سائنسدان ابن الہیثم نے گیارہویں صدی کے آغاز میں حتمی طور پر غلط ثابت کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ بصارت کے روایتی نظریے کے برخلاف روشنی آنکھ سے نہیں، بلکہ روشن اشیاء سے پیدا ہوتی ہے۔
ابو علی الحسن بن الحسن ابن الہیثم، جو مغرب میں الحازن کے نام سے جانے جاتے ہیں، سائنس کی تاریخ کی ایک مرکزی شخصیت ہیں۔ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے اس تصور کو اپنایا کہ کسی سائنسی نظریے کی اساس تجربات پر ہے۔ اس طور بہت سے لوگ ان کو انسانی تاریخ کا پہلا سائنسدان سمجھتے ہیں۔
ابن الہیثم نے افلاطون اور دیگر سائنسدانوں کے تجویز کردہ اس نظریہ کو غلط ثابت کیا کہ روشنی آنکھ سے نکلتی ہے اور یہ ثابت کیا کہ روشنی، روشنی کے ذرائع سے نکلتی ہے۔ انہوں نے اس بات کا ثبوت ایک سادہ تجربہ کر کے دیا۔ انہوں نے مختلف اونچائی پر رکھی ہوئی دو لالٹینوں کے ذریعے ایک سوراخ کے ذریعے روشنی ایک تاریک کمرے میں بھیجی، تو کمرے کی دیوار پر دو مقام پر روشنی نظر آئی۔ یہ روشنی ان شعاعوں کی وجہ سے تھی جو ہر ایک لالٹین سے دیوار میں موجود سوراخ سے گزری تھیں۔ جب انہوں نے ایک لالٹین کو ڈھانپ لیا تو اس لالٹین سے وابستہ روشنی غائب ہو گئی۔ اس سے انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ روشنی انسانی آنکھ سے نہیں نکلتی بلکہ لالٹین جیسی اشیاء سے پیدا ہوتی ہے اور ان اشیاء سے سیدھی لکیروں میں سفر کرتی ہے۔
روشنی کی نوعیت سمجھنے کی کوششیں سترہویں صدی کے اوائل میں شروع ہوئیں۔ اس صدی کے آخر میں آئزک نیوٹن نے تجویز پیش کی کہ روشنی چھوٹے ذرات پر مشتمل ہوتی ہے۔
نیوٹن نے روشنی کی نوعیت کے بارے میں سوچتے ہوئے روشنی کے مادی نظریہ کی حمایت کی۔ ان کے مطابق، روشنی انتہائی چھوٹے ذرات سے بنتی ہے، جب کہ عام مادہ بڑے ذرات سے بنا ہوتا ہے۔ انہوں نے قیاس کیا کہ ایک قسم کی کیمیائی تبدیلی کے ذریعے روشنی اور مادے کے ذرات ایک دوسرے میں بدل جاتے ہیں۔ نیوٹن کے الفاظ میں،
”کیا بڑے اجسام اور روشنی ایک دوسرے میں تبدیل نہیں ہوتے ہیں، اور کیا اجسام اپنی زیادہ تر سرگرمی روشنی کے ذرات سے حاصل نہیں کر سکتے جو ان کی ساخت میں داخل ہوتے ہیں؟“
یہ حیرت کی بات ہے کہ نیوٹن نے روشنی کے ایسے نظریے کی وکالت کی، جس کے مطابق روشنی مادی ذرات پر مشتمل ہے۔ جب کہ ایسے شواہد موجود تھے جو روشنی کے لہر کے رویے کی حمایت کرتے تھے۔
انیسویں صدی کے آغاز تک، سائنسی دنیا میں نیوٹن کا مقام اتنا عظیم تھا، خاص طور پر برطانوی جزائر میں، کہ بہت کم لوگوں نے ان کے روشنی کے نظریے کو چیلنج کرنے کی ہمت کی۔ تاہم، تقریباً سو سال بعد ایک برطانوی سائنسدان، تھامس ینگ، نے 1802 عیسوی میں، ایک ڈبل سلٹ (double slit) تجربے کے ذریعے ثابت کیا کہ روشنی ذرات پر مشتمل نہیں، بلکہ ایسی لہر کی نوعیت رکھتی ہے جس کا کوئی وزن نہیں۔
ینگ کا ڈبل سلٹ تجربہ نہ صرف نیوٹن کے نظریہ روشنی کو حتمی طور پر ختم کرنے میں فیصلہ کن تھا، بلکہ یہ بیسویں صدی میں بھی روشنی اور مادے کی نوعیت کے بارے میں ہماری سمجھ میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔
روشنی کی نوعیت جاننے کے لیے، ہم تھامس ینگ کے اس تاریخی تجربے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ذرا تصور کریں کہ ایک اسکرین میں قریب قریب دو ننھے منے سے سوراخ ہیں۔ اس اسکرین پر روشنی کی شعاعیں بھیجی جاتی ہیں۔ یہ شعاعیں ان دو سوراخوں سے گزر کر ایک دیوار پر پڑتی ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ دیوار پر ہم کیا دیکھیں گے؟
دیوار کے ہر پوائنٹ پر روشنی، اسکرین کے دونوں سوراخوں سے گزر کر پہنچ رہی ہے۔ ہم دیوار پر روشن اور تاریک پوائنٹس کا ایک پیٹرن دیکھیں گے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ان دو سوراخوں سے نکلنے والی لہریں دیوار پر کچھ مقامات پر ایک دوسرے کو تقویت دیتی ہیں، یہ مقامات روشن ہو جاتے ہیں اور دوسرے مقامات پر ایک دوسرے کو منسوخ کر دیتی ہیں، یہ جگہیں تاریک ہو جاتی ہیں۔ یہ صورت حال ایسی ہے جیسے جھیل کے ساکن پانی میں دو کنکریاں گرا دی جائیں۔ توہم لہروں کے اتار چڑھاؤ کا ایک نمونہ دیکھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر یہی تجربہ ذرات کے ساتھ کیا جائے تو روشنی اور تاریکی کا یہ نمونہ نہیں حاصل ہو سکتا۔ اس صورت میں، کچھ ذرات ایک اور کچھ ذرات دوسرے سوراخ سے گزریں گے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ذرات دیوار پر یا ایک سوراخ سے گزر کر پہنچیں گے یا دوسرے سوراخ سے۔ اس معاملے میں لہروں کے مل جانے جیسا عمل نظر نہیں آئے گا۔
اس طرح، روشنی اور تاریکی کا نمونہ اس بات کی علامت ہے کہ روشنی ایک لہر کی طرح ہے۔
لہر کی خصوصیات میں طول موج (wavelength) اور تعدد (frequency) شامل ہیں۔ روشنی اور آواز، لہر کی مثالیں ہیں۔
روشنی کی کلاسیکل تصویر 1865 عیسوی میں جیمز کلارک میکسویل نے مکمل کی جب انہوں نے ثابت کیا کہ روشنی کی لہریں برقی اور مقناطیسی لہروں پر مشتمل ہوتی ہیں اور تیس ہزار کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے حرکت کرتی ہیں۔
انیسویں صدی کے اخر میں یہ سوچ نمایاں تھی کہ تمام قوانین فطرت دریافت ہو چکے ہیں اور سائنس اپنی اخری منزل تک پہنچ چکی ہے۔ میکسویل کی دی گئی روشنی کی تصویر حتمی سمجھی جانے لگی۔
پھر دسمبر 1900 عیسوی میں ایک انقلاب رونما ہوا جس نے روشنی کی ہیت کے بارے میں ہمارے تصورات کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا، اور ایک ایسی تصویر کشی کی۔ جو آج تک عام سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ انقلاب کوانٹم مکینکس کی دریافت سے وابستہ تھا۔
1890 کی دہائی میں، ہینڈرچ ہرٹز (اور بعد میں فلپ لینارڈ) نے مشاہدہ کیا کہ جب کسی دھات، مثلاً لوہا یا تانبہ پر روشنی کی شعائیں پڑتی ہے، تو منفی چارج سے مزین الیکٹرون دھات کی سطح سے باہر نکل آتے ہیں۔ اس مشاہدے کو سمجھنے کے لیے جو ماڈل استعمال کیا گیا وہ یہ تھا کہ الیکٹرون ایٹم کا حصہ ہیں اور اگر انہیں کافی توانائی فراہم کی جائے، جو مختلف دھاتوں کے لیے مختلف ہوتی ہے۔ تو یہ دھات سے باہر نکل آتے ہیں۔ یہ الیکٹران، فوٹو الیکٹرون، کہلاتے ہیں۔
تاہم یہ مشاہدہ کیا گیا کہ، کچھ خاص رنگوں جیسے سرخ کے لیے، کوئی فوٹو الیکٹران خارج نہیں ہوتا، چاہے روشنی کی شعاع کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو۔ تاہم، دوسرے رنگوں کے لیے، جیسے نیلے اور بنفشی، فوٹو الیکٹران خارج ہوتے ہیں، چاہے روشنی کی شعاع کتنی ہی کمزور کیوں نہ ہو۔ اس طرح کی روشنی کی شعاع کے لیے، دھات پر روشنی کے چمکنے کے بعد فوٹو الیکٹران کا اخراج، بغیر کسی تاخیر کے، تقریباً فوری طور پر ہوتا ہے
یہ مشاہدات انتہائی حیران کن تھے اور ان کی انیسویں صدی کے آخر میں علم طبیعیات کے کلاسیکی قوانین کی بنیاد پر وضاحت نہیں کی جا سکتی تھی۔ مثال کے طور پر، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ روشنی کے بعض رنگوں کے لیے فوٹو الیکٹران خارج نہ ہوں خواہ روشنی کی شدت بہت زیادہ ہو لیکن پھر فوٹو الیکٹران کچھ دوسرے رنگوں کے لیے کمزور روشنی کی شعاع کے باوجود بھی خارج ہوتے ہیں؟ اور پھر سب سے زیادہ پراسرار بات فوٹو الیکٹران کا فوری اخراج تھا یہاں تک کہ جب دھات پر روشنی کی ایک بہت ہی کمزور شعاع مرکوز ہو۔
اس وقت روشنی کی تصویر یہ تھی کہ یہ لہروں پر مشتمل ہے اور اگر روشنی کی کافی شدید لہریں دھات پر واقع ہوں توان کی توانائی اتنی ہو سکتی ہے جو الیکٹران کو باہر نکال دینے کے لیے کافی ہو۔ ان لہروں کو کافی توانائی جمع کرنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے لیکن جب یہ توانائی جمع ہوجاتی ہے، تو یہ فوٹو الیکٹران کے اخراج کا باعث بننے والے الیکٹرانوں کو فراہم کی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ لہر کی تصویر مشاہدہ شدہ رویے کی وضاحت کرنے سے قاصر تھی۔ اس بات کی کوئی توجیہ نہیں تھی کہ بعض رنگوں کی لہریں الیکٹران کو نکالنے کے قابل ہوں اور دوسرے رنگ ایسا نہ کر سکیں۔
آئن سٹائن نے توانائی کے کوانٹا کے میکس پلانک کے مفروضے کا استعمال کرتے ہوئے فوٹو الیکٹرک اثر کی وضاحت کی۔ آئن سٹائن نے فرض کیا کہ روشنی ذرات یا کوانٹا کے مجموعے پر مشتمل ہے، جنہیں فوٹون کہتے ہیں۔ ہر فوٹون میں توانائی کی مقدار رنگ کے لحاظ سے ہوتی ہے، اور ہر رنگ کی شناخت اس کی فریکوئنسی سے ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر، چھوٹی فریکوئنسی والے سرخ فوٹون میں نیلے فوٹون سے کم توانائی ہوتی ہے۔ قوس قزح کے رنگوں میں فوٹون کی توانائی سرخ، نارنجی، پیلے، سبز، نیلے، انڈگو، سے بنفشی تک بڑھتی جاتی ہے۔ جب ان میں سے ایک فوٹون دھات میں داخل ہوتا ہے، تو یہ اپنی تمام توانائی الیکٹرون کو منتقل کر دیتا ہے۔
آئن سٹائن نے فرض کیا کہ ہر فوٹون ایک الیکٹرون سے ’ٹکراتا ہے‘ اور اپنی توانائی الیکٹران کو فراہم کرتا ہے۔ اگر فوٹون کی توانائی کسی دی گئی دھات کے لیے ایک مخصوص کم از کم قدر سے زیادہ ہے تو الیکٹرون دھات سے نکل اتا ہے۔ یہ وضاحت واضح کرتی ہے کہ کیوں، کسی خاص دھات کے لیے، سرخ روشنی کی شعاع الیکٹرون کو خارج نہیں کر سکتی چاہے روشنی کتنی ہی شدید کیوں نہ ہو۔ سرخ فوٹون، چاہے وہ تعداد میں بہت زیادہ ہوں، الیکٹرون کو نکالنے کے لیے کافی توانائی نہیں رکھتے۔ دوسری طرف، ایک نیلے رنگ کا فوٹون، چاہے صرف ایک ہی ہو، الیکٹران کو زبردستی باہر نکالنے کے لیے کافی توانائی رکھتا ہے۔ یہ فوٹو الیکٹران کے فوری اخراج کی وضاحت کرتا ہے۔
ایک تشبیہ اس رویے کی وضاحت کر سکتی ہے۔ فرض کریں، ہم چاہتے ہیں کہ کسی ناپسندیدہ شخص کو کمرے سے نکال دیا جائے۔ اگر اس مقصد کے لیے چھ انچ لمبے Lilliputians کی ایک بڑی فوج بھیجی جائے تو وہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ لیکن ایک واحد طاقتور شخص، جیسا کہ گلیور، اس شخص کو کمرے سے نکالنے کے لیے کافی ہونا چاہیے۔ آئن سٹائن کی وضاحت میں، کم فریکوئنسی والے سرخ فوٹون Lilliputians کا کردار ادا کرتے ہیں اور ہائی فریکوئنسی والے نیلے فوٹون گلیور کا کردار ادا کرتے ہیں۔
لہذا، ایک ہی جست میں، آئن سٹائن کے فوٹون کے تصور نے فوٹو الیکٹرک اثر کی بہت خوبصورتی سے وضاحت کر دی۔ اس وضاحت کی خاص بات یہ تھی کہ اس نے روشنی کے لیے ’ذرہ‘ قسم کی تصویر پیش کی اور ’لائٹ کوانٹا‘ یا فوٹون کا تصور متعارف کرایا۔ یہ ایک جرات مندانہ اقدام تھا۔
یہ پہلا موقعہ تھا کہ روشنی کو فوٹون جیسے بے وزن ذرات کے مجموعے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ یہ خیال کہ روشنی فوٹون پر مشتمل ہوتی ہے کوانٹم تھیوری کی مکمل تشکیل میں بعد میں ہونے والی پیش رفتوں پر بہت اثر انداز ہوا۔
آئن سٹائن نے فوٹون کے تصور کے ساتھ فوٹو الیکٹرک اثر کی توجیہ انتہائی کامیابی کے ساتھ کر دی۔ لیکن اس توجیہ میں ایک بڑی مشکل پنہاں تھی۔
اب روشنی کی حقیقت کے بارے میں ایک عجیب صورت حال کا سامنا تھا۔ ایک طرف تو فوٹو الیکٹرک اثر کی وضاحت صرف اسی صورت میں کی جا سکتی تھی جب روشنی کو ایک ذرہ (فوٹون) کی طرح سمجھا جائے۔ اگر روشنی کو لہر کی طرح سمجھا جائے تو فوٹو الیکٹرک اثر کی وضاحت کر نا ممکن نہیں۔ دوسری طرف تھامس ینگ کے ڈبل سلٹ تجربے کی وضاحت صرف اس صورت میں کی جا سکتی تھی اگر روشنی کو لہروں کا مجموعہ سمجھا جائے۔ اگر روشنی کو ذرات کا مجموعہ سمجھا جائے تو تھامس ینگ کے تجربے کی وضاحت کر نا نا ممکن ہو جاتا تھا۔
اس طرح، ہمارے پاس روشنی کی ایک متضاد تصویر سامنے آئی: کچھ تجربات میں یہ ایک لہر کی طرح برتاؤ کرتی ہے اور دوسروں میں، یہ ایک ذرہ کی طرح برتاؤ کرتی ہے۔
اس سوال کا جواب دینا ممکن نہیں کہ آیا روشنی لہر ہے یا یہ ایک ذرے کی مانند ہے۔ سب سے پراسرار بات یہ ہے کہ روشنی لہر کی طرح بر تاؤ کرتی ہے یا ذرہ کی مانند، اس کا سارا دار و مدار اس بات پر ہے کہ ہم کون سا تجربہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اگر تھامس ینگ کے ڈبل سلٹ کا تجربہ کیا جائے تو روشنی لہر ہے اور اگر فوٹو الیکٹرک تجربہ کیا جائے تو یہی روشنی ذرہ بن جاتی ہے۔
ایک اور سوال اس معمے کو مزید گمبھیر بنا دیتا ہے۔ اگر ہم فوٹو الیکٹرک تجربہ کرتے ہیں اور روشنی ذرات کے مجموعے کے طور پر نظر اتی ہے تو کیا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ روشنی تجربہ سے پہلے بھی ذرات پر مشتمل تھی؟
حیرت کی بات ہے کہ کوانٹم مکینکس ہمیں یہ کہنے کی اجازت نہیں دیتی کہ تجربہ کرنے سے پہلے روشنی کی کیا اصلیت تھی۔
ایک اور سوال، جس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہیں، یہ ہے کہ تجربہ کی کس سٹیج پر روشنی لہر یا ذرہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیتی ہے۔
یہ سب سوالات سو سال سے جواب طلب ہیں۔
کوانٹم مکینکس ایک پراسرار تھیوری ہے جس کی بنیادیں، ویو پارٹیکل ڈوئلٹی (wave۔ particle duality) کے تصور پر رکھی گئی ہیں۔ روشنی کی حقیقت کیا ہے؟ اس سوال کا حتمی جواب شاید آنے والی نسلیں ہی دے سکیں گی۔


