کتاب ریاض نامہ: برلن میں 46 سال کا احوال

سر ونسٹن چرچل نے کہا تھا :
کتاب لکھنا ایک معرکہ سر کرنا ہے۔ اس کی شروعات ایک کھلونے کی طرح ہے، ایک تفریح لگتی ہے۔ ایک مہم جوئی ہے پھر یہ ایک مالکن بن جاتی ہے، اور پھر یہ ایک جابر بن جاتی ہے اور، آخری مرحلے میں، جس طرح آپ اپنی غلامی سے مصالحت کرنے والے ہیں، آپ عفریت کو مارتے ہیں اور اسے عوام کے سامنے پھینک دیتے ہیں
بشریٰ رحمٰن مرحومہ نے لکھا تھا کہ جو لوگ دلوں میں یادوں کی امانتیں رکھتے ہیں وہ کبھی بوڑھے نہیں ہوتے۔
اپنی سوانح حیات لکھنے کا خیال بہت پرانا ہے لیکن ذاتی کاہلی اور خاندانی مصروفیات کی وجہ سے یہ کتاب ابھی لکھی ہے۔
میں ایک لیٹ بلومر، معمولی لکھاری اور نوشت و خواند کا طالبعلم ہوں۔ فیصلہ یہ کرنا تھا کہ یہ تحریر کس زبان میں ہو، انگریزی، جرمن یا اردو۔ پاکستان میں سرکاری اسکولوں میں مجھ جیسے پڑھنے والوں کو انگلش پر مکمل عبور حاصل نہیں ہوتا اور جرمن زبان پاکستانی قارئین کے لئے موزوں نہیں تو اردو زبان میں لکھنے کا انتخاب کیا ہے۔ اگرچہ میری مادری زبان پنجابی ہے۔ آج کل میری گفتگو، ان چاروں زبانوں کا آمیزہ ہوتی ہے۔ دوسرا مرحلہ انتخاب عنوان تھا۔
کافی سوچ بچار کے بعد کتاب کا نام ریاض نامہ منتخب کیا ہے۔ اتنی طویل زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور حالات، انسان کافی حد تک بھول چکا ہوتا ہے۔ ہاں اگر روزانہ کی بنیاد پر ڈائری لکھی جائے تو یہ سوانح عمری لکھنے میں بہت معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یا پھر وقت تحریر ایسا ہو کہ واقعات زندگی، دماغ کے کسی گوشہ میں محفوظ ہوں اور غلطی کا شائبہ نہ رہے۔ میری یہ پہلی کاوش ہے۔
میں کوئی سیاستدان، کوئی عالم اور نہ ہی کوئی مشہور شخصیت ہوں۔ میں ایک عام انسان ہوں۔ میں نے اپنی زندگی کے چھپن سال اپنے آبائی وطن پاکستان سے باہر گزارے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ وقت جرمنی میں گزرا ہے۔ کچھ عرصہ میں نے ایران، عراق میں بھی گزارا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور یورپ کے بہت سے ممالک میں بطور سیاح بھی جا چکا ہوں۔ میں نے زندگی کے اس طویل سفر میں بہت سے نشیب و فراز دیکھے ہیں۔ بہت سی مشکلات پیش آئیں۔ ان کا سامنا کرنا پڑا۔ جدوجہد کی اور گھبرانے کی بجائے، ان مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ان کو خوش اسلوبی سے حل کیا
پاکستان میں رہتے ہوئے، مجھے کبھی بھی ایسے تجربات نہ ہوتے جو بیرون ملک رہتے ہوئے ہوئے ہیں۔ میں فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ غیر ملک میں رہتے ہوئے، مجھے انسانیت کو سمجھنے میں بہتر مدد ملی۔ جس کو میں پاکستان میں تمام زندگی گزارنے کے باوجود نہ سمجھ سکتا تھا۔ میرے تجربے کا نچوڑ ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے اور مجھ سے بھی زندگی میں بہت غلطیاں ہوئی ہیں۔ لیکن میں نے ان غلطیوں سے سبق سیکھا ہے۔ انسان کو اپنے اصولوں پر کبھی بھی، دوسرے مفادات کو ترجیح نہیں دینی چاہیے اور اپنے اصولوں پر ہمیشہ پابند رہنا ضروری ہوتا ہے اس کے علاوہ پاکستانی قارئین کو ریاض نامہ پڑھنے کے بعد ، جرمن معاشرے، جرمن قوانین اور جرمنی سے متعلق دوسرے معاملات سے آگاہی ملے
میری داستان بہت سے اوورسیز پاکستانیوں کی داستان بھی ہو سکتی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ جرمن معاشرے کی عکاسی بھی کرتی ہے میں نے پاکستانی معاشرے یا دوسرے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے واقعات اور حالات کو مخفی نہیں رکھا ہے۔ ریاض نامہ میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستانی اور جرمن معاشرے کا موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے
میں گزشتہ چھیالیس سال سے، برلن میں سکونت اختیار کیے ہوئے ہوں۔ میں نے کوشش کی ہے کہ ریاض نامہ میں، برلن اور جرمنی کی تاریخ، ثقافت اور تاریخی عمارات پر لکھ کر قارئین کو معلومات مل سکیں۔ مثلاً بہت سوں کو مغربی اور مشرقی جرمنی کے متعلق کچھ آگاہی دینا بھی میرا مشن تھا۔ میری ذاتی رائے میں، جرمن معاشرے میں رہتے ہوئے اور جرمنی میں تقریباً تمام عمر گزارنے کے بعد مجھ میں اور میری سوچ میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ جرمنی میں مستقل قیام کے تجربات اور مشاہدات سے مجھے لگتا ہے کہ اگر انسان کی جڑیں جرمنی میں نہیں ہیں، یعنی آبا و اجداد جرمن نہیں تھے یا جرمنی میں نہیں تھے تو انسان کبھی بھی ”جرمن“ نہیں ہو سکتا۔
میرے جیسے اکثریتی غیر یورپین باشندوں کو یہاں اپنی اصلی شناخت نہیں ملتی ہے، خصوصاً ان کے جرمنی میں پیدا ہوئے بچوں کو وہ درجہ نہیں دیا جاتا جو جرمن نژاد اور ان کے بچوں کو ملتا ہے، جس کی وجہ سے وہ غیر مطمئن رہتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے جرمن قوانین، میری جوانی کے دورانیے کے برعکس، موجودہ دور میں، غیر یورپین باشندوں کے لئے مثبت سمت میں بدل چکے ہیں
اس کتاب میں، جرمن زبان، کلچر اور تاریخ کے متعلق بھی تحریر کیا گیا ہے۔ مثلاً جرمن زبان کی خاصیت یہ ہے کہ جیسے الفاظ لکھے جاتے ہیں ویسے ہی ان کو پڑھا جاتا ہے۔ مثلاً لاہور کو جرمن زبان میں آخر میں ”ای“ کی وجہ سے ”لاہورے“ پڑھتے ہیں۔
جرمنی کے متعلق ایک قابل تعریف بات ہے کہ مغربی اور مشرقی جرمنی کے باشندوں نے، 40 سال مختلف نظام حکومت کے تحت بھی، کبھی ایک دوسرے سے نفرت نہیں کی تھی اور نہ ہی کبھی آپس میں جنگ وغیرہ کی تھی۔ جبکہ دنیا میں، کانگو، ایتھوپیا، ویت نام، کوریا وغیرہ میں ایک قوم کے ہوتے ہوئے بھی آپس میں بہت نفرتیں تھیں۔
میں چھپن سال سے پاکستان سے باہر رہنے کے باوجود، اپنے آپ کو پاکستانی تصور کرتا ہوں۔ جرمن پاسپورٹ وصول کرتے اور پاکستانی پاسپورٹ واپس کرتے وقت، میں تذبذب کا شکار تھا اور میری حالت دیکھی نہیں جا سکتی تھی۔ لیکن مجبوری تھی۔
آخر میں میں یہ لکھنا ضرور چاہوں گا کہ مجھے یہ ہمیشہ تشنگی رہے گی کہ جن خواتین و حضرات کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے بہترین لمحات گزارے تھے /ہیں، ان میں اکثر لوگ اب حیات نہیں ہیں یا ان لوگوں سے میرے روابط نہیں ہیں
میری داستان بہت سے اوورسیز پاکستانیوں کی داستان بھی ہو سکتی ہے۔ ”ریاض نامہ“ میں زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے پاکستانی اور جرمن معاشرے کا موازنہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے
برلن اور جرمنی کی تاریخ، ثقافت اور تاریخی عمارات پر بھی لکھا گیا ہے ۔ جرمنی میں مستقل قیام کے تجربات اور مشاہدات سے مجھے لگتا ہے کہ اگر انسان کے آبا و اجداد جرمن نہیں ہیں تو وہ کبھی بھی ”جرمن“ نہیں ہو سکتا۔ میرے جیسے غیر یورپین باشندے کو یہاں اپنی اصلی شناخت نہیں ملتی۔ پاکستان سے باہر رہنے کے باوجود، میں اپنے آپ کو پاکستانی تصور کرتا ہوں۔
میں نے اپنی زندگی کے تجربات کو ”ریاض نامہ“ میں لکھا ہے۔ یہ کتاب لکھنے کا اولین مقصد یہ ہے کہ آنے والی نسلیں میری طویل زندگی کے تجربات سے مستفید ہوں۔ میں امید کرتا ہوں کہ قارئین اس کتاب کو پسند فرمائیں گے۔ میری سوانح عمری ”ریاض نامہ؛ یادوں کے چراغ“ کے عنوان سے پریس فار پیس فاؤنڈیشن یو کے نے شائع کی ہے۔ احباب کتب کے حصول کے لئے ادارے کے ساتھ ان نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں :

