قصہ حصول ویزہ برائے دولت مشترکہ آسٹریلیا
جب میں نے آسٹریلیا جانے پر رضا مندی کا اظہار کیا تو بچے بہت خوش ہوئے۔ اور تیمور نے میرے کاغذات وغیرہ منگوا کر جھٹ پٹ ویزے کے لیے آسٹریلین کونسلیٹ میں درخواست گزار دی۔ ایسا لگتا تھا کہ آسٹریلوی حکومت کو میری ذات میں پوشیدہ صلاحیتوں کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے۔ جن سے میں بقلم خود، جملہ احباب، رشتہ داروں، واقف کاران اور حتیٰ کہ اہل خانہ بھی قطعاً نابلد تھے۔ کیوں کہ دو ہفتوں کے بعد ہی انہوں نے مجھے لاہور میں واقع اپنے کونسلیٹ میں تشریف آوری کے لیے دعوت دے ڈالی۔
اب سب یار دوست حسب توفیق مفید مشوروں سے نواز رہے تھے۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اپنے بنک اکاؤنٹ میں ڈھیروں پیسے ڈلوا لو اور پچاس ساٹھ لاکھ کی بیلنس شیٹ ساتھ لے کر جانا۔ اس سے بڑا رعب پڑتا ہے۔ لیکن حسب معمول میرا بنک اکاؤنٹ تو بھوکے کے پیٹ کی طرح خالی پڑا ہوا تھا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ فلاں فلاں سرٹیفیکیٹس ساتھ لے کر جانا وہ انٹرویو کے وقت کچھ بھی مانگ سکتے ہیں۔ ایک دوست اس دن کپڑے پہننے کے سلسلے میں خصوصی ہدایات جاری کر رہے تھے۔
بلکہ ایک ظالم نے تو یہ تجویز بھی دے دی کہ بقیہ دن کسی اچھی سی انگلش اکیڈمی میں لگا لو اور اپنی پینڈو پروڈکشن انگریزی کو اچھی نسل کی گوری سٹائل انگلش میں ڈھالنے پر توجہ دو ۔ جب تم ان لوگوں سے انہی کے لہجے میں بات چیت کرو گے تو تمہاری خوب بلے بلے ہو جائے گی اور تمہارا ویزہ پکا۔ بہر حال جتنے منہ اتنی ہی بھانت بھانت کی تجاویز کو میں بڑے غور کے ساتھ ایک کان سے سن کر دوسرے سے اس لیے بھی نکالتا جا رہا تھا۔ کیوں کہ ان پر عمل درآمد میرے لیے ممکن نہیں تھا۔
مقررہ تاریخ پر میں صرف ایک عدد پاسپورٹ اور اپنے شناختی کارڈ کے ہمراہ حصول ویزہ کے لیے کونسلیٹ میں بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔ کچھ دیر میں یہاں بے دھیانی اور لا تعلقی کی سی کیفیت میں بیٹھا رہا۔ اس کے بعد صورت حال کا بغور جائزہ لینا شروع کیا۔ اس بڑے سے ہال میں سامنے آٹھ بوتھ بنے ہوئے تھے۔ اور ہر بوتھ کے سامنے اس کا نمبر درج تھا۔ ہر بوتھ پر ایک ایک فرد اپنے اپنے ڈاکو منٹس چیک کروا رہا تھا۔ جب ایک شخص وہاں سے فارغ ہو جاتا تو ہال میں موجود بیٹھے ہوئے افراد میں سے ایک اور شخص اس کی جگہ لے لیتا۔
میرا خیال تھا کہ سب لوگ باری باری خالی ہونے والے بوتھ پر جا رہے ہیں۔ جب میری باری آئے گی تو میں بھی چلا جاؤں گا۔ صورت حال کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد میں بے فکری سے مطمین انداز میں اپنی نشست پر براجمان ہو گیا۔ لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد مجھ پر یہ حقیقت منکشف ہوئی کہ صورت حال اس قدر سادہ بھی نہیں ہے۔ جتنا اسے میں نے سمجھ رکھا ہے۔ کیوں کہ ایک آدمی آگے سے اٹھ کر جا رہا ہے اس کے بعد سب سے پچھلی قطار میں بیٹھا ہوا آدمی بوتھ پر جا رہا ہے۔
اور پھر درمیان سے ان کے آنے جانے کی ترتیب یقینا وہ نہیں ہے جو میں نے سمجھ رکھی ہے۔ اس کے بعد میں نے ایک بار پھر اپنی عقل کے گھوڑوں کو ادھر ادھر دوڑایا۔ تو سمجھ میں یہ بات آئی کہ جونہی کوئی بوتھ خالی ہوتا ہے تو تیز طرار اور پر اعتماد لوگ فوراً اپنے کاغذات لے کر وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ اور مجھ جیسے جھجک اور شرم کے مارے ہوئے پینڈو لوگ بس منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ اب میں بھی پر اعتماد نظر آنے کی کوشش میں گردن کو ذرا اکڑا کر سیدھا ہو کر کرسی پر براجمان ہو گیا اور نظریں سامنے بوتھ پر جما دیں۔
کہ جونہی کوئی بوتھ خالی ہوتو میں جھپٹ کر وہاں پہنچ جاؤں۔ لیکن یہ کوشش بھی ناکام رہی۔ کیوں کہ بوتھ خالی ہونے پر اگلا امید وار وہاں پہلے سے ہی موجود ہوتا اور ایسی صورت حال میں میں وہاں پر کوئی کسی بھی قسم کا جھگڑا کر کے اپنے لیے خطرہ مول لینا نہیں چاہتا تھا۔ کیوں کہ ان لوگوں کی نازک مزاجی کے بارے اپنے حلقہ احباب سے پہلے ہی بہت کچھ سن رکھا تھا۔ کچھ دیر مگو کی کیفیت میں بیٹھا چاروں طرف دیکھتا رہا۔ ایک طرف دیوار پر ایک روشن پٹی نظر آ رہی تھی۔
جس پر لکھا ہوا تھا Aus۔ 89۔ B۔ 5 اور میرے حق میں بہتر یہ ہوا کہ میرے دیکھتے ہی دیکھتے وہ پٹی Aus۔ 90 B۔ 8 میں تبدیل ہو گئی۔ تو میں چونک اٹھا اور تھوڑی دیر غور خوض کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ اس پٹی کے مطابق آسٹریلیا جانے کے خواہش مند 90 نمبر کو بوتھ نمبر 8 پر بلایا جا رہا ہے۔ اب میرے سامنے ایک اور بھاری مسئلہ سر اٹھائے کھڑا تھا کہ میرا اپنا نمبر کیا ہے اور یہ کہاں سے ملے گا۔ پھر مجھے خیال آیا کہ انٹری پر مجھے ایک پرچی تھمائی گئی تھی۔ یہ نمبر یقیناً اسی پرچی پر درج ہو گا۔ میں ایسی پرچیوں اور رسیدوں کو اپنے پاس رکھنے کا عادی نہیں ہوں۔ عام طور پر انہیں چر مر کر کے پھینک دیتا ہوں۔ اب میں نے گم شدہ پرچی کو اپنی جیبوں میں ٹٹولنا شروع کیا ایک جیب ٹٹولی، ندارد، دوسری نہیں، تیسری خالی، ہوتے ہوتے بات پرس تک آ پہنچی۔ پرس کی مختلف جیبوں اور خانوں کی تلاشی لیتے ہوئے مجھے ان کی کثیر تعداد پر بھی خاصا اعتراض تھا۔ تقریباً تمام خانے وغیرہ دیکھ چکا تھا۔
پرچی کہیں پر بھی نہیں تھی۔ ایک چھوٹی سی پاکٹ میں کچھ وزٹنگ کارڈ، اے ٹی ایم وغیرہ پڑے ہوئے تھے۔ ان سب کو میں نے ایک ساتھ ہی باہر نکال لیا ان کے درمیان میں ایک چرمر کیا ہوا کاغذ پڑا تھا۔ کانپتے ہوئے ہاتھوں اور دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ آہستہ آہستہ احتیاط کے ساتھ سیدھا کیا تو اس پر Aus۔ 98 جگمگا رہا تھا۔ اس قدر تلاش بسیار کے بعد بالآخر میں مطلوبہ پرچی تلاش کرنے میں کامیابی حاصل کر چکا تھا۔ اب سامنے دیوار پر نظر ڈالی تو وہاں پر Aus۔96 چل رہا تھا۔ اپنی باری پر میں بڑے اعتماد کے ساتھ چلتا ہوا اپنے متعلقہ بوتھ پر گیا۔ اور بغیر کچھ کہے سنے اپنا پاسپورٹ نکال کر وہاں پر موجود شخص کو تھما دیا۔ اس نے بغور مجھے دیکھا۔ پھر پاسپورٹ کو دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا اور پھر پاسپورٹ کو پھر سکیورٹی پر مامور ایک باوردی ملازم کو بلا کر مجھے پاسپورٹ سمیت اس کے حوالے کر دیا جو مجھے ایک اور کمرے میں لے آیا۔ جہاں پر میرے جیسے کچھ اور لوگ بھی موجود تھے۔
میں نے سابقہ تجربے اور اس سے حاصل حصول علم کی روشنی میں کمرے کی چاروں دیواروں پر نظریں دوڑائیں۔ یہاں پر کوئی روشن پٹی موجود نہیں تھی میں سمجھ گیا۔ کہ یہاں پر کوئی نیا رپھڑ ہو گا پاسپورٹ ایک سرخ رنگت کی لیدر فائل میں لگا ہوا میرے ہاتھ میں تھا۔ پہلے بوتھ والے نے شاید یہی کام کیا تھا۔ اتنے میں ایک خاتون میرے پاس آئیں اور انہوں نے شیشے کے ایک کیبن میں بیٹھے ہوئے ایک دفتری کے پاس جانے کو کہا وہ مشین لیے ہوئے پہلے سے تیار بیٹھا تھا۔
اس نے فوراً ہی میرے دونوں ہاتھوں کی دسیوں انگلیوں کے نشانات اپنی مشین میں محفوظ کر لیے پاسپورٹ کو لیدر فائل سے نکال کر فائل اپنے پاس رکھ لی اور پاسپورٹ میرے ہاتھ میں تھما دیا۔ پاسپورٹ کو فائل سے نکالنے پر مجھے ایسے لگا جیسے کہ کسی نے اس کے کپڑے اتار کر اسے برہنہ کر دیا ہو۔ بہر حال فائل لگائی بھی انہوں نے تھی ہٹا بھی انہوں نے ہی لی اور جس حالت میں پاسپورٹ وصول کیا تھا اسی میں واپس لوٹا دیا اس پر اعتراض نہیں بنتا تھا۔
پاسپورٹ جیب میں ڈال کر کمرے سے باہر آیا تو باہر وہی سیکورٹی گارڈ مجھے اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دیا اس نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا۔ میرے قریب آیا اور اپنی جیب سے میرا شناختی کارڈ نکال کر مجھے تھما دیا جو میں پہلے کا ؤنٹر پر بھول آیا تھا۔ باہر بدر گاڑی میں میرا انتظار کر رہا تھا جونہی میں اس کے پاس آیا۔ اس نے سوالوں کی بوچھاڑ کر دی کیا ہوا کیا پوچھا کیا جواب دیا۔ میں نے کہا کہ یار پہلے حواس میں تو آنے دو ۔
اس کے بعد میں نے اسے مختصراً بتایا کہ سب ٹھیک ہے۔ اب ہم نے عشا کو اس کے امتحانی سنٹر سے لینا تھا۔ رات اس سے فون پر بات ہوئی تو وہ حسب معمول آج کے پرچے کو لے کر رو رہی تھی کہ میں نے فیل ہوجانا ہے۔ میں نے اسے تسلی دی اور کہا کہ میں نے آن لائن تعویز بھیج دیا ہے۔ تم نہ صرف اس امتحان میں پاس ہوگی بلکہ ڈسٹنکشن لے کر پاس ہوگی۔ بر سبیل تذکرہ وہ ڈسٹنکشن لے کر ہی پاس ہوئی۔ بعض اوقات وہ رحیم و کریم، قادر مطلق اللہ سوہنا ہم جیسے اپنے گنہگار بندوں کے منہ سے نکلی ہوئی بات کو پورا کر کے ان کا بھرم رکھ لیتا ہے۔
اور ساتھ ہی اس سے وعدہ بھی کیا کہ کل جب تم پیپر دے کر باہر نکلو گی تو ہم لوگ تمہارا انتظار کر رہے ہوں گے۔ اس نے بھی آتے ہی سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔ ابھی میں اتنے سارے سوالوں کے جوابات دینے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر میرے جیب سے باہر جھانکتے ہوئے پاسپورٹ پر پڑی۔ وہ فوراً ماتھے پر ہاتھ مارکر بولی۔ ہائے ابو یہ پاسپورٹ تو آپ نے وہاں جمع کروا کے آنا تھا۔ اسی کے اوپر تو ویزہ لگنا تھا اور وہی آپ جیب میں ڈال کر لے آئے ہیں۔
اور اب وہ ویزہ کہاں لگائیں گے۔ چلیں چلیں واپس چلیں اور پاسپورٹ ان کو دے کر آئیں میں نے تنگ آ کر اسے کہا کہ ویزا ملے نہ ملے میں اب کہیں نہیں جاؤں گا۔ اگلے دن میرا میڈیکل تھا۔ جس ہسپتال میں میڈیکل تھا وہاں صرف متلاشیان ویزہ جات ہی مریضوں کی شکل میں موجود تھے۔ انہوں نے ٹیسٹ وغیرہ لینے کی بجائے ہمارے بیانات کو ہی کافی سمجھا۔ مثلاً مجھ سے پوچھا کہ آپ کو ٹی بی ہے میں نے جواب دیا کہ مجھے علم نہیں ہے۔ آپ کو کینسر تو نہیں ہے۔
بہر حال انہوں نے ڈیڑھ دو گھنٹوں میں بیس ہزار روپے فیس کی مد میں وصول کر کے ہمیں فٹ قرار دے دیا۔ اسی دن رات گئے ہم گھر پہنچے اور ایک دن چھوڑ کر اگلے دن دولت مشترکہ آسٹریلیا کی طرف سے ایک سال کا ویزہ آن لائن موصول ہو گیا۔ جس میں ہمیں ویزہ دیتے ہوئے حکومت آسٹریلیا ہماری مشکور ممنون بھی تھی اور خوش و خرم بھی اور یکم ستمبر تک وہ ہمارے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے ہوئے ہماری تشریف آوری کی منتظر تھی۔ اس کے اس فدیانہ اور مودبانہ طرز تخاطب سے متاثر ہو کر ہم نے وہاں پر قدم رنجہ فرمانے کا اٹل فیصلہ کر لیا۔


