دو افراد کی گرفتاریوں پرمختلف رد عمل!


اب یہ نہیں کہ ایمان حاضر مزاری کے ساتھ یہ ہو، تو آپ زور دار اداریہ لکھ دیں۔ ادھر آپ ایک زوردار اداریہ لکھیں، ادھر ہم گھروں میں بیٹھے آبدیدہ ہوجائیں۔ اگر انسانی حقوق ہیں تو سب انسانوں کے ہیں۔ یا کہ پھر یہ بھی آپ ہی نے طے کرنا ہے کہ کن کی گرفتاریوں پر منہ دوسری طرف کر لینا ہے اور کس گرفتاری پر سیخ پا ہونا ہے۔ مہینوں گزر گئے جو ہو رہا ہے، آپ نیم دلانہ اظہار تشویش تو کرتے رہے ہیں۔ تاہم اظہار تشویش بھی ایسا کہ آئیں بائیں شائیں۔

ایک ہی سانس میں آگے پیچھے والی حکومتوں میں ہونے والی زیادتیوں سے تقابل کیے بغیر آگے نہ بڑھتے۔ ظلم و جبر کی غیر مشروط مذمت آپ کے منہ سے ہم نے کبھی ایک بار بھی نہ سنی۔ یہ درست ہے کہ آج جو زیرعتاب ہیں، خود ان کے دور اقتدار میں بھی سیاسی رہنماؤں کے ساتھ زیادتیاں ہوئیں، بار بار ہوئیں۔ لیکن کیا اسی درجے پر ہوئی تھیں؟ یوں بھی کیا دو برائیوں کا تقابل دوسری برائی کو جائز قرار دے سکتا ہے؟ گاندھی جی نے فسادات کے ہنگام کہا تھا، ’آنکھ کے بدلے آنکھ پھوڑتے جاؤ گے تو ایک دن پوری دنیا اندھی ہو جائے گی۔‘ کیا اس ملک میں اب سب اندھے بستے ہیں؟ یا کہ پھر آپ صرف دوسروں کو اندھا سمجھتے ہیں؟ سیاسی جماعتوں کے مقلدوں کی بات کچھ اور ہے۔ اسلام آباد یونیورسٹی میں پڑھانے والے ایک صاحب نے اگلے روز اسی انگریزی اخبار میں چھپنے والے اپنے مضمون کے اندر جب انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذکر کیا تو بریکٹ میں صرف علی وزیر اور ایمان مزاری کا نام لکھا۔ اب سر کیوں نہ پیٹ لیا جائے؟

ایک مقدمے کے بعد دوسرے مقدمے کی گرفتاری پر اگر آپ نے خلوص دل سے احتجاج اس وقت کیا ہوتا جب بیمار اور ضعیف شیریں مزاری کو عدالت کی سیڑھیوں یا جیل کے دروازے پر سے پے در پے اٹھا لیا جاتا تھا تو آج ایمان مزاری سے متعلق بھی لوگ آپ کی بات توجہ سے سنتے۔ شریف گھرانوں کی پڑھی لکھی خواتین کو جیلوں میں ڈالا گیا تو ایک خاتون صحافی نے لکھا، ’کیا ہوا، جیل میں حالات اس قدر بھی برے نہیں، ہفتے میں چار دن قیدیوں کو کھانے میں چکن ملتا ہے۔‘

خود ایمان مزاری بطور ایک پیشہ ور وکیل، اگر اپنی ماں کی کمزوری بننے کی بجائے اس کی طاقت بنتیں، بتھکی ہوئی دل شکستہ عورت کی پریس کانفرنس کے دوران عقب میں کھڑی ہو کر عجلت میں دکھائی نہ دیتیں، پارٹی کے چیئرمین سے اپنی نفرت کے باوجود اصولی موقف اپناتیں، تو کیا عجب تھا کہ کچھ اور بھی حوصلہ پکڑ لیتے۔ آنے والے دنوں میں یوں پریس کانفرنسوں کی برسات نہ ہوتی۔

ہم جانتے ہیں نوجوان خاتون وکیل کا تعلق ہمارے ہاں پائے جانے والے اس قبیلے سے ہے کہ جسے افواج پاکستان سے چڑ ہے۔ اب بھی یہ قبیلہ یہی سمجھتا ہے کہ آج قید تنہائی میں پڑا شخص اور زندان کی چابی جن کی جیب میں ہے، کل کے فطری حلیف ہیں۔ افواج پاکستان کو تو جو خود سے زیادہ اہم قرار دیتا ہے، مگر خطے میں امریکی پالیسیوں سے جسے اختلاف ہے۔ بار بار غیر محتاط زبان میں کیا گیا یہ اختلاف اسے یوں مہنگا پڑا ہے کہ افغانستان میں ذلت آمیز پسپائی کے بعد عالمی اسٹیبلشمنٹ کھلے عام اس کی سرکوبی پر اتر آئی۔

بھارت کی انتہا پسند حکومت تو پہلے سے ہی خواہشمند تھی کہ وہ اقتدار میں نہ آئے۔ جسے مودی کے کارندے ’کٹھ پتلی‘ قرار دیتے رہے۔ کسی اور نے نہیں بھارتیوں نے ہی اسے یہ نام دیا تھا۔ ہم نے اپنے ہاں اسے ’سلیکٹڈ‘ کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔ کبھی تو سینے وا ہوں گے۔ کبھی تو زمین راز اگلے گی۔ اگرچہ خدا کی زمین پر سب کچھ اب بھی برہنہ ہی پڑا ہے۔ ہم جانتے ہیں آسمان گر پڑے۔ زمین کانپنے لگے۔ سب سے بڑی سیاسی جماعت کو کھڑے کھڑے چیر پھاڑ کر رکھ دیا جائے۔

آئین بے وقعت ہو جائے۔ عدالتیں بے دست و پا ہو جائیں۔ ریاستی کارندے سڑکوں گلیوں میں دندناتے پھریں۔ محض کسی کے ہاتھ میں جھنڈا دیکھ کر جس کو جب جی چاہے اٹھا لیں۔ کوئی نہیں بولے گا۔ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے سے جب بھی پوچھا جائے گا، جواب ایک ہی ہو گا۔ ’یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے، وہاں ہمارا کوئی منظور نظر نہیں‘ ۔ کیا ہم یہ بات مان لیں؟ کیا ہم یہ بھی مان لیں کے امریکہ بہادر پاکستان میں آئین و قانون کی عملداری اور جمہوری اقدار کا تسلسل چاہتا ہے؟

ضرور چاہتا ہو گا۔ ہم مگر یہ کیسے مان لیں کہ جو کچھ وہ خطے میں چاہتا ہے، پاکستان میں جمہوریت ان اہداف سے زیادہ اہم ہے؟ ایک ایسا ملک جہاں دنیا کی ایک سے بڑھ کر ایک بہترین یونیورسٹی موجود ہو۔ فعال جمہوریت ہو۔ معاشرے میں انصاف ہو۔ جہاں معاشرتی اقدار اخلاقیات پر استوار ہوں۔ سب سے زیادہ نوبل انعامات جس کے باشندوں نے حاصل کر رکھے ہوں۔ بہترین دماغوں پر مشتمل تھنک ٹینک جہاں دن رات غور و فکر میں ڈوبے رہتے ہوں۔ اربوں ڈالرز جو اپنے اتحادی ملکوں میں امداد اور اپنے کارندوں کی آبیاری پر جھونکتا ہو۔ جس کے ویزے کے حصول کے لئے آسودہ حال زندگی کے متلاشی ہمہ وقت قطار اندر قطار کھڑے رہتے ہوں۔ ایسے عظیم ملک سے اس کی اتحادی قومیں اس قدر نفرت کیوں کرتی ہیں؟

یہ نہیں کہ تشویش کا اظہار صدر جو بائیڈن کو خود یا ان کے کسی نمائندے کو کرنا لازم تھا۔ ایسا ہر گز نہ ہوتا۔ اشارہ ہوجاتا تو بس پھر یہ ہوتا کہ یہاں کے مقامی کارندے نچلے نہ بیٹھتے۔ انگریزی اخبار میں پھسپھسے اداریوں کی بجائے آئے روز گرجتے برستے اداریے پڑھنے کو ملتے۔ مغرب زدہ دانشور اپنے مضامین کو آگ سے بھر دیتے۔ جمہوریت پسند اپنی انگلیاں فگار کر ڈالتے۔ انصاف کے سیکٹر میں کارندے سیمینار پر سیمینار برپا کرتے۔ اعلیٰ عدالتی شخصیات، چوٹی کے وکلاء اور ہم خیال میڈیا سٹارز ایک چھت کے نیچے جمع ہو کر آئین و قانون، سویلین بالا دستی اور انسانی حقوق کی دہائیاں دیتے۔ لیکن چونکہ اس وقت معاملات کو تائید حاصل ہے۔ اس لئے ہمارے ہاں سناٹا ہے۔ جب تک اشارہ نہیں آئے گا، دور دور تک سناٹا ہی ر ہے گا۔

چوہدری پرویز الٰہی کو عدالت کے واضح حکم کے باوجود دم بخود تماشائیوں کے سامنے کچھ لوگ یوں اٹھا کر لے گئے کہ گاڑی میں ساتھ بیٹھے کھوسہ صاحب نے نکل کر جیسے جان بچائی ہو۔ ہمارا حسن ظن تو یہی ہے کہ اب تک انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے کا نوٹس لے چکی ہوں گی۔ وکلاء کی سب سے بڑی تنظیم اس معاملے پر سیخ پا ہو کر ایک سخت قرارداد منظور کر چکی ہوگی۔ عزت مآب جج صاحب اب تک کوئی ایک آدھ خط لکھ چکے ہوں گے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اب تک انگریزی اخبار میں ایمان حاضر مزاری کے بعد ، چوہدری پرویز الٰہی کی گرفتاری پر بھی ایک زوردار اداریہ لکھا جا چکا ہو گا۔ پھر خیال آتا ہے اپنے چیئرمین کی طرح چوہدری صاحب کا بھی قصور یہی تو ہے کہ سر پر پڑی تمام تر افتاد کے باوجود انہوں نے کبھی وہ نعرہ نہیں لگایا جو علی وزیر کی تنظیم اور اب نوجوان خاتون وکیل کے کریڈٹ پر ہے۔

Facebook Comments HS