چیختے عوام اور قصور وار حکمران


کہا جاتا ہے کہ ”وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا“ انسانی ذہن عام طور پر انہونی کے ہونے میں جو عوامل کار فرما ہوتے ہیں ان کا ادراک نہیں کر پاتا۔ انہیں جان نہ پانے کی بہت سے وجوہات ہیں لیکن دور حاضر میں اس کی بڑی وجہ سیاسی وابستگی کی عینک ہے جسے پہننے کے بعد ایک اچھا بھلا سوج بوجھ والا آدمی بھی عصبیت پسندی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس وقت ملک کو جن مسائل کا سامنا ہے اور جس نے عوام کو بد حال اور فاقہ کشی پر مجبور کر دیا ہے، یہ اچانک نمودار ہونے والا حادثہ نہیں بلکہ اگر ہم یوں کہیں کہ اس کی بنیاد 28 جولائی 2017 کو اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ کے ذریعے حکومت سے ہٹا کر رکھی گئی یا پھر کہیں نہ کہیں اوائل آزادی سے ہی رکھی گئی ہو لیکن ان بنیادوں کو سیاسی افراتفری، معاشی عدم استحکام اور آئینی بحران جیسی کھاد سے تقویت پہنچائی گئی۔

جس کا نتیجہ آج عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی غلامی کی صورت میں سب کے سامنے ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ تین ارب ڈالر کا سٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدہ ہی وہ گلے کا طوق ہے جسے نہ نگلا جا سکتا اور نہ ہی تھوکا اور نہ ہی اس معاہدے کے ہوتے ہوئے عوام کو بجلی، پٹرول یا اشیاء ضروریہ کی چیزوں میں ریلیف دیا جا سکتا ہے۔ اگر سادہ لفظوں میں کہیں تو مہنگائی کا کوئی حل نام نہاد حکمرانوں کے پاس نہیں ہے۔

ملک میں اس بے یقینی کی صورتحال میں صرف دو صدائیں ہی سنائی دیتی ہیں ایک تو خیبر سے لے کر کراچی تک مہنگائی کی چکی میں پستی عوام کی آہ و بکا اور دوسری حکمرانوں کی جانب سے بھوک و افلاس سے بلبلاتی عوام کے خون کو قومی جذبے سے گرمانے کی یہ صدا ”صبر کریں ملک اس وقت نازک موڑ سے گزر رہا ہے، ہمیں مل کر اس مشکل وقت سے نکلنا ہے“ لیکن حقیقت میں کیمرے پیچھے کی سچائی یہ ہے کہ تم نے مل کر ہماری عیاشیاں برداشت کرنی ہیں۔

نہیں تو وہ کون سے نازک موڑ ہیں جو پچھلے چھہتر برسوں سے گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ کیا آئی پی پیز کے ساتھ مہنگی بجلی کے معاہدے عوام نے کیے؟ کیا آئی ایم کے ساتھ 2019 میں ہوئے معاہدے کی خلاف ورزی عوام نے کی؟ کیا اقتدار و طاقت کی حرص و ہوس میں سیاسی بحران عوام نے پیدا کیا؟ کیا تخت کی لڑائی میں آئینی بحران عوام نے پیدا کیا؟ کیا غلط خارجہ پالیسیاں عوام نے بنائی جس کے پیش نظر ہم آج ہم عالمی تنہائی کا شکار ہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر بار ملک کو مشکلات میں ڈالنے والا چند افراد پر مشتمل ٹولہ ہے۔

اس وقت ملک میں ڈالر اور پٹرول دونوں 305 روپے کی حد کو چھو رہے ہیں یعنی کہ محمود و ایاز دونوں ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے اور پاکستانی روپے کی قدر سری لنکن روپے سے بھی کم ہو گئی جو حال ہی میں ڈیفالٹ ہو گیا تھا۔ ہمارے ملک پر منڈلاتے ڈیفالٹ کے بادل صرف عوام پر برسے اور عوام ڈیفالٹ ہو گئی۔ آج شہر شہر میں جماعت اسلامی کی کال پر مہنگائی اور زائد بلوں کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہے، یہ وہ ہی جماعت اسلامی ہے جس کے امیر سراج الحق نے اس وقت کے منتخب وزیراعظم نواز شریف کے خلاف عدالت میں پانامہ ریفرنس دائر کر کے اس بگاڑ کی بنیاد رکھی۔ جسے اقتدار کی ہوس میں مبتلا پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم کی جماعتوں نے وقت کر ساتھ ساتھ مضبوط اور تناور درخت بنا ڈلا، جس کا سایہ حکمرانوں کو راحت اور جنتا کو اذیت پہنچا رہا ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کی تباہ کاریوں کو کم کرنے کے لیے آنے والی پی ڈی ایم سرکار کا دورانیہ خود انتہائی تباہ کن اور بدترین دورانیہ رہا، جبکہ سیاسی جماعتیں اس بگاڑ کا ملبہ ایک دوسرے پر ڈال کر خود بری الذمہ ہونے کی کوششیں کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ عوام مہنگائی سے شدید متاثر ہے لیکن اس کے باوجود وہ اپنی اپنی جماعتوں کو اس کا قصوروار تصور تک نہیں کرتیں۔ اب عوام یا تو ان حکمرانوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر پھر استعمال ہوگی یا پھر سمجھدار اور با شعور ہونے کا ثبوت دے اور سوال کرے کہ کب تک تم لوگوں کی خواہشوں کی وجہ سے ملک میں افراتفری قائم رہے گی؟

کب تک ملک میں لاقانونیت رہے گی؟ کب ملک میں آئینی بالادستی قائم ہوگی؟ کب ملک سیاسی اور معاشی استحکام آئے گا؟ کب ملک کے نوجوانوں کا مستقبل تابناک ہو گا؟ کیونکہ عوام کے بیدار ہونے سے ہی ملک میں حقیقی معنوں میں تبدیلی آئے گی یا پھر عوام خود کو سیاسی پسند اور ناپسند سے دور کر کے اپنے ذریعہ معاش کو بہتر کرنے کی تنگ و دو کرے، نہیں تو یہ حکمران عوام کو اپنی خواہشوں کی آگ میں ایندھن کی طرح استعمال کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS