عدل کی فضیحت اور زخموں کے کیڑے
ابلاغ کے جدید ذرائع پہ نگاہ دوڑائیں، طبع مغموم ہو جاتی ہے کہ افق پہ چاروں اور یاس کے بادل چھا گئے ہیں۔ اسی دھندلکے میں پژمردہ سانحات، قوم کی اجتماعی محضر میں ایزاد ہو رہے ہیں۔ یہ واقعات اور حادثات، اب اس اقلیم کے امروزہ کا معمول بن گئے ہیں۔ ان پے در پے غمگین حوادث کے وقوع پذیر ہونے سے احساس کی لہر دوڑتی ہے کہ رفتہ رفتہ حساسیت زائل ہوتی جا رہی ہے۔ وطن کی آفرینش سے، اس کے باشندے، کئی محاذوں پہ، سانحات کے انبوہ میں گھرے ہوئے ہیں۔
حصول مملکت سے عہد حاضر تک، قریبا پون صدی کا سفر، اقتدار کے مجادلے پہ منتج ہے۔ 12 مارچ 1949 کی اسمبلی کے اکثریتی ارکان نے بانی پاکستان کے نو دمیدہ ریاست کے امور کے نظم و نسق کے رہنما اصول کو تاراج کرنے کی کامیاب مشق فرمائی۔ اس کا نتیجہ تھا کہ شہری کو محکوم کا رتبہ مرحمت کیا گیا۔ حاکم اور محکوم کے نظریے کی نہ صرف ترویج کی گئی بلکہ اسے عملی پوشاک پہنائی گئی۔ معاشرے کی تفریق کا ایک عملی نمونہ، 16 دسمبر 1971 کا سانحہ ہے۔
نوزائیدہ مملکت کے کچے دھاگے پہ بنے نسق کا ایک ماحصل، شہریوں سے حق انتخاب کا چھیننا تھا۔ جمہوریت کے پودے کو متعدد مرتبہ تلف کرنے پہ تام جھام کیا گیا۔ شہریوں کے حقوق سلب کرنے کو، قاضی القضاہ نے اپنے فیصلے میں ”کامیاب انقلاب“ کی سند پیش کی۔ اس کا ثمرہ ہے کہ باشندوں کی فلاح یکسر نظر انداز کر دی گئی۔ شہریوں کی ترقی کو ثانوی حیثیت بھی نہ مل پائی۔ اس کا ثبوت درکار ہو تو سات دہائیوں میں محض تعلیم کے بجٹ کا معائنہ کر لیجیے۔
جس المناک واقعے کا ابتدائی سطور میں اشارہ ہے، وہ ایک منصف کے قصر پہ کم سن ملازمہ پہ جبر کی ایک دلسوز داستان ہے۔ گزشتہ دنوں وطن عزیز کے دارالحکومت میں اس دلخراش واقعے کے منصہ شہود پر آنے سے ذہن مرتعش ہو گیا۔ علت کی جانچ میں واقعہ کو پرکھیں تو کئی جہتیں راستہ بناتی ہیں جو تاریخ کی شاہراہوں، جغرافیہ کی پگڈنڈیوں اور جہالت کے دریا سے غسل کرتی ہیں۔ تشدد، اپنی کاملیت کے ساتھ، قابل مذمت اور قبیح فعل ہے خواہ پنجاب کے کسی پسماندہ قطعے پہ رونما ہو، سندھ کے کسی وڈیرے کی جاگیر پہ، پختونخوا کے کسی ملک ارجمند کے علاقے میں یا بلوچستان کے کسی سردار کی سلطنت پہ ہو۔ چشم ششدر رہ جاتی ہے جب اس خبر سے گزرتی ہے کہ یہ قصہ، انصاف کی جمعیت پہ رونما ہوا ہے۔
اب کی بار، واقعہ، اس مسند نشیں کی چاردیواری میں نمو پایا ہے جو دستور کی کتاب کا بغور مطالعہ کرنے اور ایک مخصوص عرصہ بطور وکیل، عدل کی دہلیز پہ اپنی ذہانت و فطانت کی پڑتال کے بعد ، عدل و انصاف کی فراہمی کے مسند پہ فائز ہوتا ہے۔ یہاں اس معصوم بچی، رضوانہ پہ تشدد کے گہرے گھاؤ سے رستے لہو کو کس کے ہاتھ پہ تلاش کریں کہ تشکیک کی گہر ہے کہ ملزم کے عدالت سے متصل ہونے کی بنیاد پہ اس کا حلقہ یاراں فصیل کے کنگرے نہ بن جائیں؟ اس کمسن کے زخموں سے نکلتے کیڑے، دراصل، انصاف کی راہ میں پڑنے والے آبلوں پہ رینگتے کیڑے ہیں جو انصاف کی فراہمی کی تعطیل کو کھینچے ہوئے ہیں۔
افسوس کا ہر اشک اس کھوج میں ہے کہ ملزم کی تربیت گاہیں، عدل کے اعتبار سے، اس کو اخلاقی درس سے مزین کرنے میں کہاں کوتاہ واقع ہوئی ہیں؟ یہاں کلک کا ایک سیاہ نشان، ان درسگاہوں کی پیشانی پہ شہود ہے جو اس جیسے منصف کی پیدائش کر رہی ہیں اور (عدل کا) نظام جو ان ایسوں کی افزائش، ضمانت کی خلعت فاخرہ سے کرتا ہے۔ نونہال بچوں کو اپنے دست کے اشارے سے زیر کرنے والے مختار، کیا نہیں جانتے کہ دستور کی شق 11 کمسن کی ملازمت پہ پابندی کی زنجیر لٹکاتی ہے۔ امکان کے دریا کی لہر بتا سکتی ہے کہ منصف کی زوجہ غیر تعلیم یافتہ ہوں یا جاہلیت کی پیروکار ہوں مگر کیا عدیل ودیعت ہوئے قانون کے تلمیذ رشید نہ تھے؟ کیا کتاب ان کی اخلاقی اقدار کو مرتب نہ کر پائی؟ ایسے کئی سوالات ہیں جن کے جواب معاشرے اور معاشرت کی تفہیم کے متقاضی ہیں۔
اب معاشرے کی ساخت کے پیمانے پہ واقعے کو پرکھیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ طبقاتی تقسیم کا پیرہن، فطرت کی تفویض کی شرح میں زیبائش سے آرائش کیا گیا ہے۔ جہاں ملا و پیر، ن م راشد کے سادہ دل انسانوں کی حالت دگرگوں کو راگ درباری میں فطرت کی تال میں الاپ دیں، وہاں مساوات کے اجالے کی شعاع کیسے پہنچے گی۔ اس دیس میں معاشی لحاظ سے گروہی تقسیم کی شب کے اختتامیہ کی سحر کا پیرہن کیسے کھلے گا۔ ایسے وطن میں قانون خورشید، خیمہ اور محلات کی تفریق کے بغیر، کیسے اپنی کرنوں کو آنگن میں پھیلائے گا کہ وہ چہرے، رتبے اور عہدے، دیکھے بغیر عدل کے ترازو کا توازن برقرار رکھ سکیں۔ سانحات کے خاتمے کی کئی تجاویز، اخبارات کی زینت بنی ہیں، اداریوں میں بیان ہوئی ہیں۔ سب اہمیت کی حامل ہیں مگر بنیادی طور پہ ان واقعات کی رات اسی صورت ممکن ہے جب شعور سول سوسائٹی کا منشور بن جائے اور اخلاقیات سے مرتب ہوئے ضمیر کی سحر ہو۔


