جڑانوالہ واقعہ کی تفتیش اور پولیس کا موقف


اگست 2023 صبح 5 بجے نا معلوم افراد مبینہ منصوبہ کے تحت نعوذ باللہ قرآن پاک کے توہین کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور مبینہ طور پر اس عمل میں راجہ عمیر اور اس کے والد کی تصویر جائے وقوعہ سے ایک چارٹ پیپر پر چسپاں مع اعترافی بیان، شناختی کارڈ نمبر، فون نمبر اور گھر کے پتہ کے ساتھ مقامی محلہ داروں کو دستیاب ہوتی ہے۔

06 : 45 پر سٹی تھانہ جڑانوالہ کی پولیس سینما بستی جڑانوالہ میں راجہ عمیر سلیم اور عمر سلیم کے گھر آتی ہے۔ اس دوران مقامی لوگ (دو خواتین اور عمر نامی لڑکا) سلیم مسیح کے گھر پہنچ جاتے ہیں جن سے خبر ملنے کے بعد سلیم مسیح کا خاندان اپنے گھر سے فرار ہو جاتے ہیں۔ پولیس کو 07 : 00 بجے پولیس ایف آر نمبر 1258 راجہ عامر اور راکی مسیح کے خلاف درج کرتی ہے۔

ایف آئی آر 1259 کے مطابق یٰسین ولد شفیع نامی بندے نے 09 : 20 مہتاب مسجد کے لاؤڈ سپیکر سے اعلان کیا اور لوگوں مذکورہ واقعہ کا حوالہ دے کر اشتعال دلایا، جس کے بعد مہتاب مسجد کے باہر مفتی محمد یونس رضوی امیر جماعت اہلسنت، آصف اللہ شاہ بخار ولد کفایت اللہ شاہ رہنما تحریک لبیک پاکستان، رائے ناصر ولد وریام، عبد القیوم اعوان، قاری سہیل ولد بشیر، ع، عبد الرحمان عرف مانا ڈون کیمی، زاہد حسین ولد محمد حسین اور 500۔ 600 نا معلوم اشخاص مسلح ڈنڈے سوٹے، پٹرول بوتل، روڑوں وغیرہ کے تھیلے لے کر جمع ہو گئے۔ اور کرسچن کالونی (سینما بستی) میں واقع چرچ اور مسیحیوں کے گھروں پر حملہ آور ہو گئے۔

آخری حملہ پولیس کے مطابق درج ایف آئی آر 467 کے مطابق رات 8 : 20 چکو موڑ پر چرچ کو آگ لگائی گئی، حالانکہ رات 8 بجے رینجرز فورسز بھی جڑانوالہ میں آ چکی تھیں۔

اس دوران مسیحیوں کے 22 چرچز 85 گھر ایک قبرستان، دو پاسٹر ہاؤسز اور ایک سکول نذر آتش ہو چکے تھے اور جان بچانے کی غرض سے مسیحی لوگ اپنے گھروں سے محفوظ پناہ گاہوں کی طرف ہجرت کر گئے، کچھ دوسرے شہروں میں چلے گئے کچھ، کچھ مقامی لوگوں کے گھر چلے گئے اور کچھ کھلے میدانوں، کھیتوں سے ظلم و جبر، بے بسی، شر انگیزی اور قیامت خیزی کا تجربہ کرتے ہیں۔

مقامی پولیس جو کہ 6 : 30 سے اس وقوعہ کا باقاعدہ حصہ بن چکی تھی، کے تحصیل سربراہ ایس پی بلال سلہری 8 بجے اپنے سینئر افسر جو کہ فیصل آباد میں موجود تھے کو سب کچھ کنٹرول میں ہے کی خبر دیتے ہیں۔ اس کے بعد 09 : 30 بجے ایس ایس پی آپریشن دوبارہ کنٹرول کی کال موصول ہونے کے بعد ایس پی بلال سلہری کی یقین دہانی کے باوجود جڑانوالہ پہنچ جاتے ہیں۔ ایس ایس پی کے مطابق تحصیل جڑانوالہ میں 500 پولیس مین کی نفری تھی اور مزید درخواست کرنے پر 500 پولیس مین تقریباً 2 : 30 بجے جڑانوالہ پہنچے اس دوران رینجرز کی درخواست کر دی گئی تھی مگر سسٹم کے طریقہ کار کو پورا پورا کرتے کرتے رینجرز قریباً 8 بجے جڑانوالہ پہنچے۔ اس دوران ڈی سی فیصل آباد عنان قمر، سی پی او فیصل آباد بھی 2 : 30 بجے ویڈیو کے ذریعے سامنے آئے جو کہ جڑانوالہ میں سب کنٹرول کی خبر دے رہے تھے۔

لالہ روبن ڈیئنیل نے بتایا 8 بجے مجھے جڑانوالہ سے مذکورہ واقعہ کی کال آئی اور میں تصدیق کرنے کے بعد لوگوں کی جان کی حفاظت کے لئے 9 بجے آئی بی اور سی پی او کے نمائندوں سے درخواست کر دی تھی۔ قریباً 10 بجے تک یہ خبر چیف سیکرٹری، آئی جی پنجاب، آئی بی اور آئی ایس آئی تک پہنچ چکی تھی اور شاید میڈیا تک بھی۔ مگر سب کی پر اسرار خاموشی اور صبح 5 سے رات 9 تک مظاہرین کو کھلی چھوٹ دینا، مقامی پولیس سمیت انتظامیہ کے کردار پر بہت سارے سوالوں کو جنم دیتا ہے۔ ایک سوال کا اظہار تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کیا اور سی پی او فیصل آباد کو ایس ایچ اور ایس پی کو شامل تفتیش کرنے کے بارے میں پوچھا۔

اس کے بعد واقعہ کے تیسرے دن میڈیا کے ذریعے، حکومتی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس واقعہ میں بین الاقوامی کردار شامل ہیں اور انڈیا کی ایجنسی ”را“ کی شمولیت کی ثبوت ملے ہیں۔ کچھ دن بعد آئی جی نے دعویٰ کیا کہ تمام مرکزی ملزمان کو پکڑ لیا گیا ہے، اور ایک اخبار کے ذریعے خبر فیڈ کروائی کی گئی کہ رابرٹ چارلس نامی بندہ جس کے فرانس کی این جی او کے ساتھ رابطہ ہے وہ اس واقعہ کا مرکزی ملزم ہے۔ جس کی بنیاد ایک سی سی ٹی وی فوٹیج ہے۔ مقامی پولیس نے رابرٹ چارلس کے علاوہ 6 اور مقامی مسیحیوں کو بھی حراست میں لے لیا۔ رابرٹ چارلس سمیت تمام ملزمان کے غیر قانونی حراست کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں رٹ سامنے آنے کے بعد پولیس ایک قدم پیچھے ہٹتی ہے اور تمام زیر حراست لوگو ں کو چھوڑ دیتی ہے۔

آئی جی پنجاب جناب ڈاکٹر عثمان انور پریس کانفرنس کے ذریعے نمودار ہوتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کو پولیس کو ثبوت مل گئے ہیں اور، جس کے بعد محترم آئی جی صاحب پردہ سکرین پر یورپی یونین کا لوگو لہراتے ہیں اور واقعہ کو بھارت میں جاری منی پور فسادات سے توجہ ہٹانے کا مدعا بنا کر پیش کر کے انٹرنیشنل سازش کا دعویٰ سامنے لے آتے ہیں۔

 3 ستمبر کو فیصل آباد کی مقامی پولیس اپنے پیج پر پرویز عرف کوڈو کو سارے واقعہ کا مرکزی ملزم بنا کر پیش کر دیتی ہے اور واقعہ کی بنیاد پرویز کوڈو کی راجہ عمیر سے ذاتی رنجش ( پرویز کو ڈو کی بیوی کے راجہ عامر سے تعلقات) کو قرار دیتی ہے۔

اس دوران وزیر اعلیٰ بھی یک نکاتی ایجنڈے پر مبنی صوبائی کابینہ کا اجلاس چرچ میں کرتے ہیں اور متاثرین کو 20 لاکھ کی امدادی رقم اور چرچز کی تعمیر کا اعلان کرتے ہیں۔ دو دن بعد وزیر اعظم صاحب تشریف لاتے ہیں اور چیک متاثرین میں تقسیم کر کے تین دن میں فنڈز منتقل ہونے سے لے کر کافی سارے وعدے وعید کرتے ہیں۔ صرف ایک 48 گھنٹے والے وعدے کا ذکر کروں تو مقامی لوگوں کے مطابق تا حال لوگوں میں فنڈز ٹرانسفر نہیں ہوئے ہیں۔

اس دوران مسیحی کمیونٹی کی جانب سے غم و غصے کا اظہار سامنے آیا۔ کسی نے اندرونی ہجرت، کسی نے ٹی ایل پی سے حکومتی معاہدہ کی منسوخی اور حسب روایت کارروائی کی بجائے گوجرہ انکوائری کی روشنی میں ملزمان کو قرار واقعی سزا دینے کی اپیل کی۔ متاثرین کا استحقاق ہے کہ اپنے اوپر گزری قیامت بارے سوالات اٹھائیں جن کا اظہار انہوں نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ

1۔ اگر یہ آئی جی پنجاب کے مطابق سازش ہے تو ، ہمیں بتایا جائے کہ جڑانوالہ، کرسچن کالونی اور راجہ عامر کے خاندان کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا؟

2۔ مبینہ طور پر ملزمان تو راجہ عامر اور ان کا خاندان تھا مگر 300 خاندانوں، چرچز، سکولوں، پیرش ہاؤسز اور قبرستان اس قدر کو نقصان کیوں پہنچایا گیا؟

3۔ سازش تھی تو سازش پر عمل درآمد کرنے والے عناصر کے خلاف غداری کی دفعات کو مقدمات میں شامل کیوں نہیں کیا گیا؟

4۔ پی ڈی ایم کے مذہبی جماعت سے معاہدے کے بعد، عالمی سازش پر عمل درآمد کرنے اور ملک کے اندر زیادہ تر تکفیر مذہب کے مقدموں میں مدعی مقدمہ یا تخریب کاری کے ذریعے شامل مذہبی جماعت کے کتنے لوگوں کو فورتھ شیڈول میں شامل کیا گیا؟

5۔ دہشت گردی اور دشمن ملک کی سازش میں شامل ہونے کے باوجود ایک مذہبی جماعت کو کالعدم کرنے کی سفارش کرنے کی بجائے ان کو لیڈران کو آئی جی پنجاب پروٹوکول میں ساتھ لے کے کیوں گھوم رہے تھے؟

یہ وہ سوال ہیں جن کے جوابات بطور مسیحی کمیونٹی ہمارا استحقاق ہے اور ان سوالات کے تفتیش کا حصہ بنا کر ملزمان کی قرار واقعی سزا دلوانا آئی جی صاحب آپ کا اولین کام۔

Facebook Comments HS