مشاہداللہ خان: ایک انوکھا انٹرویو جو نہ ہو سکا
ایک کیمرہ بردار دوست پیچھے پڑا تھا کہ مل کے یوٹیوب چینل بناتے ہیں ’بڑے بڑے نہلے اس پر لاکھوں کما رہے ہیں، ہم کم ہیں کیا، کوئی آئیڈیا سوچو‘ اگرچہ وہ اپنے ساتھ ساتھ کہہ مجھے بھی ’نہلا‘ ہی گیا تھا لیکن لاکھوں کے سحر میں، فدوی نظرانداز کر گیا اور لگا سوچنے
اسی لمحے سماعتوں سے ایک آواز ٹکرائی
زمیں بیچ ڈالی، زمن بیچ ڈالا
لہو بیچ ڈالا، بدن بیچ ڈالا
اس نے فون پر شاید کوئی کلپ چلا دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ذہن میں چھناکا ہوا کہ کیوں نہ مشاہداللہ خان کا ایسا انٹرویو کیا جائے جس میں وہ سوال کے جواب میں صرف شعر سنائیں گے اور ظاہر ہے رابطے کی ذمہ داری میرے حصے میں آئی۔
کال کی تو جناب نے ریسیو نہیں کی۔ دس منٹ ہی گزرے تھے کہ کال بیک آ گئی علیک سلیک کے بعد فوراً مدعے پہ آ گیا کہ ایک ’سیاسی کم ادبی‘ قسم کا انٹرویو کرنا ہے۔ ان دنوں ان کی طبیعت ناساز تھی تاہم وعدہ کیا کہ جیسے ہی بہتری ہوتی ہے انٹرویو دے دیں گے۔
اس دوران ان کی طرف سے مختلف میسجز آتے رہے پھر خبر ملی کہ ان کا ہرنیا کا آپریشن ہوا ہے۔ فون کیا تو شفقت سے بولے یار ٹھیک ہو رہا ہوں لیکن افسوس ہے کہ تمہارا انٹرویو رکا ہوا ہے۔
چند روز بعد ٹویٹر پر ان کی تصاویر دیکھیں جو ترکی کی تھیں اور وہ کسی تقریب میں شریک تھے۔ جس پر تھوڑی سی دل شکنی بھی ہوئی کہ وہ تو بھلے چنگے ہیں پھر بھی وقت نہیں دے رہے۔ دبے سے احتجاج پر مبنی میسج کیا تو وائس میسج آیا
ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے
کیا زبردست ادائیگی تھی الفاظ کی
ساتھ ہی تحریری پیغام آیا کہ ’بیٹا یہ تصویریں پرانی ہیں‘ اور اسی تقریب کی ایک اور تصویر بھی بھجوائی جو کسی اخبار میں چھپی تھی اور کیپشن میں تاریخ لکھی ہوئی تھی۔
اپنی سوچ پہ افسوس ہوا کہ ایسے ہی بدگمانی پالے جا رہا تھا۔
پھر اچانک ایک تقریب میں ملاقات ہو گئی۔ دور سے دیکھ کر پاس آ گئے اور بولے یار افسوس ہے۔ آگے کا جملہ ادھورا چھوڑ کر بولے، ابھی کر لو انٹرویو، لاؤ کیمرہ
فوری کیمرہ بردار کو فون کیا تو نمبر بند جا رہا تھا۔ ایک دو تین کالز کے بعد ایک مشترکہ دوست کو فون تو پتہ چلا موصوف گاؤں گئے ہوئے ہیں۔
اب کیا کیا جائے کیونکہ میرا چائنہ کا موبائل اس قابل نہیں تھا کہ اس بڑی شخصیت کو ایسے ریکارڈ کر پاتا کہ تصویر اور آواز دونوں کا حق ادا ہو جاتا۔ اس لیے یہی الفاظ بچے تھے کہ ’چند روز بعد کر لیں گے۔ ‘
ویسے اگر مجھے پتہ ہوتا کہ اس کا موقع نہیں ملنے والا تو زمین کھود کر بھی کیمرہ نکالا پڑتا تو نکال لیتا۔
اس کے بعد بھی وٹس ایپ پر تحریری گپ شپ ہوتی رہی۔ جس سے اندازہ یہی لگ رہا تھا کہ ان کی طبیعت بہتر نہیں ہے۔
حال احوال پوچھنے کے لیے فون کیا تو انہیں وہی فکر لاحق تھی کہ ابھی تک انٹرویو نہیں ہو سکا۔
پھر ایک روز ان کا پیغام آیا کہ سوالات بھیج دو، میں جواب ریکارڈ کر کے بھیجتا ہوں۔
سوالات بھیجے ہی تھے کہ وٹس ایپ کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی اور ایک کے بعد ایک وائس میسج آنے لگا۔
تیرہ سوالات کے ایسے زبردست جواب آئے کہ ہونٹوں ہی نہیں دل و دماغ سے بھی واہ واہ نکلی۔
پھر کیمرہ بردار دوست نے بحث شروع کر دی کہ اس کا مزہ نہیں آئے گا اس لیے انتظار کیا جائے کہ وہ خود کیمرے پر سوالات کے جواب اشعار میں دیں۔
یہ انتظار ابھی چل رہا تھا کہ خبر ملی کہ مشاہد اللہ راہی ملک عدم ہو گئے۔
اب یہی راستہ بچا ہے کہ اپنی طرز کا یہ انوکھا انٹرویو تحریری شکل میں شائع کیا جائے، جو پیشِ خدمت ہے۔
مشاہداللہ خان کو بھجوائے گئے سوالات اور شعری جوابات
س: موجودہ حکومت (پی ٹی آئی والی) کی تعریف آپ کے خیال میں کیا ہو سکتی ہے؟
ج:
جب کمینے عروج پاتے ہیں، اپنی اوقات بھول جاتے ہیں
کتنے کم ظرف ہیں غبارے، چار پھونکوں سے پھول جاتے ہیں
س: اپوزیشن رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ پر کیا کہیں گے۔
ج:
جنہیں حقیر سمجھ کر بجھا رہے ہو تم
یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی
س: بجٹ کو کیسے دیکھتے ہیں؟
ج:
زندگی کے نرخ اتنے بڑھ گئے
موت کا سودا ہم کو سستا لگا
س: اکٹھی ہوتی اپوزیشن کیا کچھ کر سکتی ہے؟
ج:
مجھ کو بگڑے ہوئے حالات کی تہہ میں ساقی
چند بنتے ہوئے اسباب نظر آتے ہیں۔
س: عوام سے حکومتی وعدے کس حد تک پورے ہوئے؟
ج:
شہر اگر طلب کرے تم سے علاج تیرگی
صاحب اختیار ہو، آگ لگا دیا کرو
س: اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کو پیغام
ج:
تری نظر ہے میرا دل ہے کیا کیا جائے
جنوں خرد کے مقابل ہے کیا کیا جائے
س: اپوزیشن کو ملنے والی دھمکیوں پر کیا کہیں گے؟
ج:
کوئی دم کی بات ہے یہ، کوئی پل کی بات ہے یہ
نہ رہے گا کوئی قاتل، نہ رہیں گی قتل گاہیں
س: حکومت کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں؟
ج:
ہوں جن کی ہتھیلی میں سوراخ ہزاروں
وہ دینا بھی چاہیں گے تو کیا دیں گے کسی کو
س: نیب کیسز کے حوالے سے کیا کہتے ہیں؟
ج:
یہ منصف بھی قیدی ہیں، ہمیں انصاف کیا دیں گے۔
لکھا ہے ان کے چہرے پر ہمیں جو فیصلہ دیں گے
س: عدلیہ کے حوالے سے کیا موقف ہے؟
ج:
جو آگ لگائی تھی تم نے، اس کو تو بجھایا اشکوں نے
جو اشکوں سے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے
س: مسلم لیگ نون کے اندر اختلافات ہیں؟
ج:
گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے
حکومت کے سیاسی نقطہ نظر کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔
ج:
حکمران ہو گئے کمینے لوگ
خاک میں مل گئے نگینے لوگ
عوام کی مشکلات کس طرح بیان کریں گے؟
ج:
رہزنوں نے تو رہزنی کی تھی
رہبروں نے بھی کیا کمی کی تھی
مخالفین کو جیلوں میں ڈالنے کے حوالے سے کوئی شعر
ج:
جس وقت جرائم کی فہرست بیاں ہو گی
اس وقت عدالت کی اس بات سے مت ڈرنا
اے صبح کے متوالو! اس رات سے مت ڈرنا
جس ہاتھ میں خنجر ہو، اس ہاتھ سے مت ڈرنا
خورشید کے متوالو! ذرات سے مت ڈرنا
چنگیز نژادوں کی اوقات سے مت ڈرنا
واہ کیا بات تھی مشاہد صاحب کی، لگتا یہی ہے کہ اگلے جہان ہونے والے ’سوال و جواب‘ میں بھی وہ ایسے اشعار سنائیں گے کہ فرشتے واہ واہ کرتے ہوئے ایک طرف ہو جائیں گے۔
لطف کا موقع تب ہو گا جب ان کی ملاقات میرزا غالب سے ہو گی تو کہیں گے ’اماں چھوڑو یار تم نے ایسے ہی لکھ مارا تھا‘
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
چلو خیر آؤ اس نہر کے کنارے بیٹھ کے بات کرتے ہیں۔
الوداع مشاہداللہ خان صاحب


