ظلم تو ظلم ہے، بڑھتا ہے مٹ جاتا ہے
پانچ ستمبر 2023 کے دن میرپور ڈویژن اور پونچھ ڈویژن میں بھی عوامی ایکشن کمیٹی کی کال پر پیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی۔
اس ہڑتال کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ یہ ہڑتال کسی سیاسی جماعت، کسی سماجی گروپ یا کسی بھی مذہبی گروپ کی جانب سے نہیں تھی بلکہ یہ ہڑتال عوامی ایکشن کمیٹی کے پلیٹ فارم سے دی گئی تھی جو کہ غیر جانبدار گروپ ہے۔ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر میں ایک ایسا گروپ ہے جس میں ہر مکتبہ فکر اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔ عوامی ایکشن کمیٹی کی غیر جانبداری ہی اس کو موثر بنا رہی ہے۔ مظفر آباد ڈویژن ہو یا میرپور ڈویژن اور پونچھ ڈویژن، تینوں ڈویژنز میں ہونے والی ہڑتالیں کامیاب رہی۔ اس کامیابی کا سہرا اگر تاجر برادری، ٹرانسپورٹ یونین، طلباء تنظیمیں، وکلاء، مقامی سماجی گروہوں اور سب سے بڑھ کے عام آدمی کے سر جاتا ہے۔
ان ہڑتالوں کا مقصد بجلی کے بلوں میں ظالمانہ حد تک ٹیکسز کا اضافہ، آٹا کی فراہمی میں حکومتی نا اہلی، بجلی کے مختلف پروجیکٹس کے نتیجے میں ہونے والی ماحولیاتی تبدیلیاں اور اس طرح کے بہت سے مسائل ایجنڈے میں شامل تھے۔ ان ہڑتالوں کی سب سے منفرد بات یہ تھی کہ یہاں پہ کسی بھی سیاسی جماعت کہ کسی بھی سیاسی کھڑپینچ کو تقریر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا کیونکہ عام آدمی یہ سمجھتا ہے اور یہ جان چکا ہے کہ آج جو جو بھی حالات ہیں، جس نہج پہ ہم پہنچ چکے ہیں اس کی ایک بہت بڑی ذمہ دار، ہماری سابقہ و موجودہ حکومت ہے۔
جس طرح عوام نے ان ہڑتالوں کا خیر مقدم کیا اور ان میں حصہ لیا، اس سے ایک بات تو واضح ہو چلی ہے کہ ذمہ دار کوئی بھی ہو، اگر ان مسائل کا جلد از جلد حل نہ کیا گیا تو شاید یہ پرامن تحریک پرامن نہ رہے۔ حکومت وقت کی طرف سے اپنے وزراء اور سرکاری ملازموں کو باقاعدہ ہدایات دی گئی تھیں کہ ان دنوں اپ اپنی سرکاری گاڑیوں میں مت گھومیں اور عام لوگوں میں جانے سے اجتناب کریں، شاید حکومت وقت بھی یہ جان چکی ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھتا ہے تو مٹ ہی جاتا ہے۔
آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اٹے کی فراہمی میں ناکامی لوگوں کو خودکشیوں پر مجبور کر رہی ہے۔ بجلی کے بلوں کی بات کی جائے تو عوام اتنی مجبور ہو چکی ہے کہ مہینے کے راشن کا خرچہ ایک جانب اور بجلی کا بل اس سے زیادہ اتا ہے، اب ان حالات میں لوگوں کے لیے دو دو میں سے ایک اپشن ہی رہ جاتا ہے یا تو وہ مہینے کا راشن خریدیں یا پھر بجلی کا بل دیں۔ اس ہڑتال سے، عوام کی جوک در جوک اس ہڑتال میں شمولیت سے یہی لگتا ہے کہ شاید عوام نے فیصلہ کر لیا ہے کہ راشن تو لیں گے اور بجلی کو خیر آباد کہہ دیں گے۔
اس کی جھلک ہمیں پونچھ ڈویژن اور مظفر آباد ڈویژن میں نظر بھی آئی جہاں پر صارفین اپنی درخواستیں لے کر برقیات کے دفتر پہنچ گئے۔ ان درخواستوں میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ ہماری زمینوں پر جو بجلی کے کھمبے لگے ہیں جو تاریں ہماری زمینوں کے اوپر سے گزر رہی ہیں اور اور ان کھمبوں اور تاروں کی وجہ سے ہماری فصل کا جو نقصان ہوتا ہے یا گھاس کا جو نقصان ہوتا ہے، اس کا ازالہ کیا جائے اور محکمہ برقیات جرمانہ ادا کرے۔ سب سے مزے کی بات تو یہ ہے کہ صارفین نے یہ جرمانہ صرف ایک ایک دن ایک مہینے یا ایک سال کا نہیں، بلکہ اس دن سے مانگا ہے جس دن کوئی کھمبے، یہ تاریں نصب کی گئی۔
مظفر آباد ڈویژن سے تعلق رکھنے والے راجہ قذافی الطاف اور ان کے دوستوں نے محکمہ برقیات میں ایک درخواست جمع کرائی، جس میں موقف اپنایا گیا کہ 40 سال سے ہماری زمینوں میں اپ کے کھمبے لگے ہوئے ہیں اور تاریں گزر رہی ہیں۔ اگر موبائل کی کمپنیاں اپنے ٹاورز کا کرایہ ادا کرتی ہیں تو برقیات کو چھوٹ کیوں؟ درخواست میں ان کا مزید موقف یہ ہے کہ ہمیں گزشتہ 40 سال کے کرائے ادا کیے جائیں اور جلد از جلد محکمہ برقیات اپنی تاریں اور کھمبے ہماری زمینوں سے اکھاڑ کے لے جائے۔ کیونکہ ہم نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم نہ بجلی لیں گے نہ ان کو بل ادا کریں گے، ہم سارا سسٹم سولر پر شفٹ کرنے لگے ہیں۔ اس طرح کی درجنوں مثالیں اور موجود ہیں یہاں پہ صارفین محکمہ برقیات کے دفتروں میں جا کر درخواستیں دے چکے ہیں۔
خیر کچھ بھی ہو، محکمہ برقیات کچھ بھی کرے ایک بات تو واضح ہے، کہ عوام فیصلہ کر بیٹھی ہے ان ظالمانہ ٹیکسز کا نفاذ کبھی کبھی بھی عوام دوست نہیں ہو سکتا۔ عوام کی سیاسی اور سماجی طبقات سے بالاتر ہو کر، مذہبی تفرقوں سے بالاتر ہو کر اس ہڑتال کی حمایت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ظلم مزید نہیں چل سکتا۔ اب حکومت کو چاہیے کہ وہ دیکھیں کس طرح ان مسائل کا حل ممکن ہو سکتا ہے تاکہ ریاست میں امن و امان کی صورتحال قائم رہے اور کسی بھی طرح کی بدامنی نہ ہو۔


