آئی پی پیز: اشرافیہ کا بل عوام کیوں دیں؟
ڈاکٹر مبشر حسن نے آئی پی پیز کی تنصیب کے وقت کہا تھا کہ ان کارخانوں کی تنصیب قومی معیشت کے لیے تباہ کن اور عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے کی گھناؤنی واردات ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ مہنگی بجلی کے بل ادا کرنا عوام کے بس میں ہو گا نہ صنعت و تجارت کا چلنا آسان ہو گا۔
1994 ء میں بے نظیر بھٹو نے لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے پرائیویٹ سرمایہ کاروں کے 15 انڈی پینڈنٹ پاور کمپنیز (آئی پی پی) کو بجلی بنانے کے لئے متعارف کروایا۔ ان کے ساتھ معاہدہ ہوا کہ یہ لوگ بجلی کی پیداوار کے لئے پاور پلانٹس خود یا غیر ملکی سرمایہ کاری سے لگائیں گے اور حکومت پابند ہو گی کہ ان کی پیداواری گنجائش (کیپیسٹی پیمنٹس) کے تحت ان سے تمام بجلی خریدے جس کے عوض ادائیگیاں ڈالرز میں کی جائیں گی۔ یعنی کہ اگر کسی آئی پی پی کی پیداوار 1500 میگا واٹ ہے اور حکومت صرف 700 میگا واٹ بجلی خریدے تو ادائیگیاں 1500 میگا واٹ کی ہوں گی۔
اس وقت جو ریٹ طے ہوا وہ کچھ سے 14 ڈالرز سینٹ فی یونٹ اور کچھ کے ساتھ 15 ڈالرز سینٹ فی یونٹ تھا۔ غلام مصطفی کھر بے نظیر دور میں بجلی و پانی کی وزارت کے انچارج تھے۔ میاں نواز شریف نے اپوزیشن لیڈر کے طور پر حکومتی منصوبوں کی مخالفت کی۔ قوم کو بتایا کہ ان کارخانوں کی تنصیب کا مقصد عوام کو وافر بجلی فراہم کرنا نہیں بلکہ کمیشن اور کک بیکس کا حصول ہے لیکن جب وہ اقتدار میں آئے تو انہوں نے بھی کسی آبی منصوبے پر کام کرنے کے بجائے انہی آئی پی پیز پر توجہ دی۔
ان کارخانوں کی تنصیب کی حقیقت جاننے کے لیے ماضی میں غلام مصطفی کھر کا بیان کردہ ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔ ”جب بین الاقوامی کمپنی کا وفد بنگلہ دیش اور بھارت کے دورے کے بعد اسلام آباد آیا اور وزارت پانی و بجلی کے حکام سے ایک روزہ مذاکرات کے بعد ایم او یو پر دستخط ہوئے تو وفد کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا، کھر نے وفد کے سربراہ سے پوچھا کہ آپ نے بنگلہ دیش، بھارت اور پاکستان تینوں ممالک کے سرکاری اہلکاروں کے برتاؤ ’میں کیا فرق محسوس کیا؟
اس نے کہا اگر آپ برا نہ منائیں تو حقیقت عرض کروں کہ ہم پانچ دن کے لیے ڈھاکہ پہنچے مگر مذاکرات ایک ہفتہ جاری رہے۔ بنگلہ دیشی وفد نے خوب بھاؤ تاؤ کے بعد تین ساڑھے تین سینٹ فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدنے پر آمادگی ظاہر کی۔ بھارت کے لیے ایک ہفتہ کی بکنگ کرائی مگر مذاکرات دس دن تک چلے اور بھارتی حکام اڑھائی سینٹ فی یونٹ کے نرخوں پر آمادہ ہوئے۔ جب معاملہ طے پا گیا تو بھارتی وفد کے سربراہ نے کمیشن طلب کیا‘ ہم چکرا گئے کہ اتنے کم نرخ اور پھر بھی کمیشن کا مطالبہ؟
ہم نے لیت و لعل سے کام لیا تو صاف کہا گیا کہ ٹھیک ہے دیگر کئی کمپنیاں معاہدے کے لیے تیار ہیں۔ مجبوراً ہم نے ڈیمانڈ پوری کی۔ پاکستان کے لیے پندرہ روزہ شیڈول ترتیب دیا۔ خیال تھا کہ پاکستان کی معاشی حالت دگرگوں ہے، لہٰذا سخت سودے بازی ہوگی، مگر ہم پہنچے تو ’ہمیں آرام کے لیے بھیج دیا گیا۔ دوسرے دن مذاکرات کے آغاز میں ہی پوچھا گیا کہ ہمارا کمیشن کتنا ہو گا۔ ہم نے کک بیکس کی یقین دہانی کرائی۔ نرخ طے کیا اور آج ہی وطن واپس روانہ ہو جائیں گے۔
2002 ء میں جنرل مشرف نے مزید 15 نئے آئی پی پیز متعارف کروائے۔ یہ معاہدے بھی پیپلز پارٹی حکومت کی طرح تھے یوں 2002 ء تک کل 30 آئی پی پیز بجلی بنانے بلکہ ڈالرز چھاپنے کے انتہائی نفع بخش دھندے میں ملوث ہوئے۔ 2006 ء میں جنرل مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے 38 مزید آئی پی پیز کو ڈالرز چھاپنے کے لائسنس بانٹے اور یوں آئی پی پیز کی تعداد 68 تک جا پہنچی۔ 2015 ء میں مسلم لیگ نون نے 7 مزید سرمایہ کاروں کو آئی پی پیز کے لائسنس جاری کیے اور تعداد 75 ہو گئی اگر چہ مسلم لیگ نے جو پلانٹ لگائے وہ کوئلے سے چل رہے ہیں لیکن یہ بھی پن بجلی کی نسبت کافی مہنگے ہیں۔
ان کے ساتھ انہی خطوط پر معاہدہ کیا گیا۔ 2023 ء میں صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ ملک بھر میں ان آئی پی پیز کے علاوہ واپڈا کے اپنے پن بجلی و نیو کلیئر ذرائع کے تحت بجلی بنانے کی گنجائش 38 ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے لیکن پاکستان کی اس وقت کل ضرورت 23 / 24 ہزار میگا واٹ سے زیادہ نہیں ہے۔ واپڈا کی پانی کی بجلی صرف 3 روپے 25 پیسے فی یونٹ ہے لیکن ان آئی پی پیز سے جو بجلی واپڈا کو موصول ہوتی ہے اس کی قیمت 80 روپے فی یونٹ ہے۔
2013 ء سے 2023 ء تک 10 سالوں میں ان آئی پی پیز کو 18 ہزار ارب روپے کی ادائیگیاں ہو چکی ہیں جن میں سے خریدی جانے والے بجلی کی مالیت تقریباً 9 ہزار 650 ارب روپے ہے جبکہ پیداواری گنجائش کی مد میں ان آئی پی پیز کو تقریباً 8 ہزار 350 ارب روپے کی ادائیگیاں ڈالرز میں کی جا چکی ہیں۔ جوں ہی ڈالر کی شرح بلند ہوتی ہے، بجلی بھی مہنگی ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے مالکان کھربوں روپے کما رہے ہیں جبکہ غریب کے لئے بجلی کے بل موت کا پروانہ بن گئے ہیں۔
عموماً نجی سرمایہ کاری کے جو معاہدے حکومتیں کرتی ہیں وہ ”اپنا پیسہ لگا کر بناؤ، کچھ سالوں کے لئے چلاؤ اور پھر ہمیں ٹرانسفر کرو“ کے اصول پر ہوتے ہیں یعنی build، operate اور اس کے بعد transfer (bot۔ بی او ٹی) ۔ عموما کوئی بھی سرمایہ کار اس طرح کی انویسٹمنٹ میں 10 سال ایسے پراجیکٹ چلاتا ہے اور پھر حکومت کو اس کی مالیت منتقل کر کے اپنے گھر واپس چلا جاتا ہے۔ بعض اوقات جب ان پراجیکٹس کو چلانے (operate) کے لئے بھی سرمایہ کاری درکار ہو تو معاہدوں کی ٹرانسفر کی مدت 20 سال تک بڑھا دی جاتی ہے۔ عوام کا حق ہے کہ حکومت انہیں ان آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی اختتامی مدت بتائے۔ لیکن یہاں کسی کو کچھ معلوم نہیں۔ پرانی ٹرانسمشن لائنوں سے ہونے والے 35 ٪ لائن لاسز، بڑے لوگوں کی مفت بجلی اور بجلی چوری کی لاگت کو اس میں شامل کر دیں تو یہ قیمت 85 روپے فی یونٹ تک پہنچ جاتی ہے۔
ڈیم بنانے میں پرائیویٹ سیکٹر کو لایا جاتا تو نہ صرف سستی بجلی میسر ہوتی بلکہ سمندر میں ضائع ہونے والا پانی زراعت کے لئے بھی استعمال جا سکتا۔ عمران خان نے تین سو چھوٹے ڈیم بنانے کا دعویٰ کیا لیکن تین بھی نہ بنا سکے۔
پاکستان میں توانائی کے بحران کے قومی جرم میں سب شریک ہیں۔ پاکستان دریاؤں کی نعمت سے مالا مال ہے اور ڈیموں کے لیے درجنوں مثالی مقامات ہیں لیکن ہمارے حکمرانوں نے اس نعمت سے فائدہ نہ اٹھایا۔ کالاباغ ڈیم سیاست کی نذر ہو گیا۔ داسو اور مہمند ڈیم کی تعمیر میں غیرمعمولی تاخیر ہوئی۔ افغان جنگ میں ڈالروں کی آمد کے باعث جنرل ضیا کا ڈیم بنانے کے لئے مناسب ترین دور تھا لیکن وہ بھی ڈیم نہ بنا سکے۔ یہ موقع جنرل مشرف کے پاس بھی تھا لیکن ڈیم بنانا تو درکنار وہ ملک کو ایسی حالت میں چھوڑ گئے کہ توانائی کا شدید بحران تھا۔
پختونخوا اور بلوچستان تو کیا کراچی جیسے شہر میں بھی بجلی چوری کا رجحان زوروں پر ہے۔ یہ کام متعلقہ محکمے کے اہلکاروں کی سرپرستی سے ہوتا ہے۔ اس چوری کو بل والے صارفین کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ دنیا کے ہر مہذب ملک میں سہولت پسے ہوئے طبقے کو دی جاتی ہے لیکن یہاں اشرافیہ کو بجلی کے بلوں کی مد میں نوازا جاتا ہے۔
اعلیٰ سرکاری افسران، ججز، جرنیلوں اور واپڈا ملازمین کو ہزاروں یونٹ مفت کی سہولت ہے جو بے دریغ بجلی استعمال کرتے ہیں۔ روٹی کے تنوروں میں بھی بجلی کے ہیٹر استعمال ہوتے ہیں۔ مزید ظلم آئی ایم ایف سے معاہدوں میں عمران خان اور شہباز شریف کے وزرائے خزانہ نے کیا جنہوں نے آئی ایم ایف کی یہ شرط مان لی کہ بجلی کی مد میں سبسڈی نہیں دی جائے گی اور ہر ماہ مقررہ شرح کے ساتھ بجلی کے بلوں میں ٹیکس لگا کر مطلوبہ وصولی کی جائے گی۔
وزرائے خزانہ کو بجلی پر ٹیکسوں کے اضافے کی شرط ماننے کی بجائے سرمایہ داروں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور سگریٹ وغیرہ پر زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگانے کا آپشن دیتے۔ بجلی کے بھاری بل عام آدمی ادا نہیں کر سکتا۔ اس کے لیے ایک فوری قدم یہ ہو سکتا ہے کہ ایم این ایز اور سینیٹر کو جو اربوں کے فنڈز گزشتہ بجٹ میں دیے گئے، ان میں سے جو رقم خرچ نہیں ہوئی اسے واپس لیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مفت بجلی والے طبقات سے بل لے کر کمی پوری کی جائے اور ہر طبقے کی مفت بجلی کی سہولت ختم کی جائے۔ مستقل حل کے لیے بجلی کے استعمال میں کمی کے اقدامات اور معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے۔ سرکاری اسپتالوں کے علاوہ وزیراعظم ہاؤس سمیت تمام سرکاری دفاتر میں ائرکنڈیشنر کے استعمال پر پابندی ہو۔
ایک اور فوری کام یہ ہو سکتا ہے کہ شاپنگ مال اور بازاروں کو صبح جلدی کھولنے اور مغرب کی اذان کے ساتھ بند کیا جائے اور اس پر سختی سے عمل کیا جائے۔ امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا جیسے امیر ممالک میں یہ نظام رائج ہے اور اس پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے لیکن پاکستان میں ہمارے تاجروں سے یہ بات کی جائے تو وہ سیخ پا ہو جاتے ہیں۔
ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے لیکن یہ بات یاد رہنی چاہیے کہ پاکستان کا ڈیفالٹ سری لنکا یا یونان کی طرح کا پرامن نہیں ہو گا بلکہ انتہائی پرتشدد اور ہلاکت انگیز خونی واقعات اس ڈیفالٹ کا منطقی انجام ہوں گے نگران حکومت آئی ایم ایف کی مرضی کے بغیر عوام کو ریلیف بھی نہیں دے سکتی۔ تو 1994 ء سے 2017 ء تک مہنگے پاور پراجیکٹس کی منظوری دے کر اندرون و بیرون ملک بینک اکاؤنٹس، جائیدادوں میں اضافہ کرنے والے سول و عسکری حکمرانوں ’بیوروکریٹس اور ٹیکنوکریٹس سے عوام کی دولت نکلوانے کے لیے بھی اسے آئی ایم ایف کی اجازت درکار ہے؟ مگر یہ کام کون کرے کیوں کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ اور عوام کا عالم یہ ہے۔
میرا نصیب ہوئیں تلخیاں زمانے کی
کسی نے خوب سزا دی ہے مسکرانے کی


