بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور گلوبل ساوتھ کی ترقی
سلک روڈ اکنامک بیلٹ کی باضابطہ تجویز ستمبر 2013 میں چین کے صدر شی جن پھنگ کے قازقستان کے دورے کے دوران دی گئی تھی۔ اسی سال اکتوبر میں انڈونیشیا میں چین کے صدر شی جن پھنگ نے 21 ویں صدی کے میری ٹائم سلک روڈ کی تجویز پیش کی۔ ان دونوں تجاویز کو ملا کر بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب 2008 کے عالمی مالیاتی بحران کے سنگین منفی اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں معیشتیں محسوس کر رہی تھیں۔
گلوبل ساؤتھ کوئی بین الاقوامی تنظیم یا سیاسی گروہ نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی واضح رکنیت ہے۔ یہ متنوع اقدار، ثقافتی روایات اور ترقی کے مختلف معیار کے حامل ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک مجموعہ ہے۔
گزشتہ چند دہائیوں میں، ترقی پذیر ممالک اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کی مسلسل ترقی کے باعث ”گلوبل ساؤتھ“ عالمی منظر نامے میں ایک اہم طاقت بن کر ابھرا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ صدی کے 80 کے عشرے کے آخر میں، عالمی جی ڈی پی کا تقریباً 75 فیصد جی سیون گروپ سے آتا تھا جو اب 41 فیصد تک رہ گیا ہے۔ جبکہ ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کا عالمی جی ڈی پی میں تناسب تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی ابھرتی ہوئی معیشتیں عالمی اقتصادی ترقی میں اسی فیصد حصہ فراہم کر کے عالمی اقتصادی ترقی کی اہم محرک قوت بن گئی ہیں۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے میں اضافے کی بدولت ”گلوبل ساؤتھ“ کی اسٹریٹجک قدر مسلسل عیاں ہوتی گئی ہے
1970 کی دہائی کے آخر میں اپنے تجربے کی بنیاد پر چین نے ایسے حل تلاش کیے جو غریبوں اور بے اختیار لوگوں پر منفی اثر نہ ڈالیں۔ اسی وجہ سے چین نے باہمی فائدے اور باہمی سلامتی کی بنیاد پر ایک نئی قسم کے بین الاقوامی تعلقات کو فروغ دیا۔ یہ ایک ایسا نقطہ نظر ہے جو دنیا کو ایک ایسی جگہ کے طور پر دیکھتا ہے جہاں تعاون، ترقی کے لئے سب سے اہم شرط ہے۔
چین کی اصلاحات اور کھلے پن کی پالیسی کے آغاز کے بعد معاشی طاقت میں اضافہ ہوا تو تعاون کے اسی نظریے پر عمل کرتے ہوئے اس نے دنیا کے غریب ترین ممالک کی مدد کرنا شروع کی اور کمزور معیشتوں کے حامل ممالک کی جانب مدد کا ہاتھ بڑھایا۔ ترقی پذیر ممالک کے ساتھ چین کا تعاون اس لحاظ سے مختلف رہا ہے کہ چین کبھی بھی ان ممالک کو یہ حکم نہیں دیتا کہ انہیں کیا کرنا چاہیے بلکہ ان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرتا ہے اور اپنے فائدے کے لئے کسی ریاست کو زیر کرنے کی کوشش نہیں کرتا۔
یہی وجہ ہے کہ چین کی طرف سے دی جانے والی زیادہ تر امداد کا مقصد پائیدار ترقی کے حالات پیدا کرنا ہے۔ چین کی سرمایہ کاری کے منصوبے بنیادی طور پر سڑکوں، پلوں، ریلوے اور بندرگاہوں کے ساتھ ساتھ توانائی کے بنیادی ڈھانچے جیسے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹس ہیں۔ ان تمام منصوبوں کا مقصد اقتصادی ترقی کو فروغ دینا اور سہولت فراہم کرنا ہے۔ چین کی جانب سے سماجی بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لئے بہت ساری امداد کی گئی ہے، جس نے انسانی سرمائے کی ترقی پر مثبت اثر ڈالا ہے اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا ہے۔
چین نے نہ صرف اسکولوں، ہسپتالوں اور عالمی معیار کے کھیلوں اور ثقافتی سہولیات کی تعمیر میں مدد کی ہے بلکہ ترقی پذیر ممالک کے طلباء کو سینکڑوں اسکالرشپس بھی فراہم کی ہیں۔ یہ سب کچھ کسی بھی ملک کی آزادی کو متاثر کرنے والی شرائط عائد کیے بغیر کیا گیا ہے۔ اس سفارتکاری نے چین اور دیگر ممالک کو بہت فائدہ پہنچایا ہے۔ آج 152 ممالک بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو میں شامل ہو چکے ہیں۔ یہ نئی قسم کے تعلقات ہیں جس نے چین کو دنیا کے بیشتر ممالک کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بننے کی اجازت دی ہے۔
اس اقدام سے ترقی پذیر ممالک کا جن میں سے بہت سے قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، مغرب پر انحصار کم ہو رہا ہے۔ اس کے جواب میں الزامات، سیاسی کنٹرول اور معاشی پابندیوں کی حکمت عملی سامنے آئی ہے جو اب تک کارگر ثابت نہیں ہوئی۔ ان اقدامات کے باوجود بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کو بڑے پیمانے پر قبول کیا گیا ہے۔ تمام ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک جو اس میں حصہ لے رہے ہیں وہ اس کے مثبت نتائج دیکھ رہے ہیں۔ سڑک، ریل اور سمندر کے ذریعے رابطے نے انفرادی اور علاقائی معیشتوں کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معیشت کو بھی متحرک کیا ہے۔
گزشتہ 10 سالوں میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو نے دنیا میں بہت سی مثبت تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ بیلٹ اینڈ روڈ میں شامل تمام ممالک اور خطوں کی طرف سے حاصل کی گئی واضح پیش رفت کے علاوہ، اس جرات مندانہ اور اختراعی منصوبے کے کچھ ٹھوس نتائج دیکھے گئے ہیں۔ ان منصوبوں سے دنیا بھر کے لوگوں کے درمیان قریبی تعلقات استوار ہو رہے ہیں جس سے مختلف ممالک اور براعظموں کے لوگوں کے درمیان دوستی اور یکجہتی کے فروغ میں مدد ملی ہے اور کوئی شک نہیں کہ اس سے بین الاقوامی یکجہتی میں اضافہ ہو گا۔
چین کی جانب سے گلوبل ساؤتھ ”ممالک کے مابین تعاون کو مضبوط بنانے کے لئے چار نکاتی تجاویز بھی پیش کی گئیں ہیں۔ ان تجاویز میں پہلی تجویز تنازعات کو ختم کرنا اور مشترکہ طور پر امن قائم کرنا ہے۔ دوسری تجویز یہ ہے کہ قوت محرکہ بحال کرتے ہوئے مشترکہ طور پر ترقی کو فروغ دیا جائے۔ تیسرا نکتہ کھلے اور جامع رویے کے ساتھ مشترکہ ترقی کی تلاش ہے اور چوتھی تجویز متحد ہو کر تعاون کے لئے باہمی مشاورت ہے۔ سو، یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ چار نکاتی تجاویز“ گلوبل ساؤتھ ”ممالک کی پالیسی کی بنیادی ضروریات کے عین مطابق ہیں۔ یعنی معاشی بحالی، اقتصادی سلامتی امن اور پائیدار ترقی۔
ایک بڑے ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے چین کا گلوبل ساؤتھ کے ساتھ یہ تعاون ان کی ترقی میں جو کردار ادا کر رہا ہے اس سے یقیناً بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تشکیل کے عمل میں قوت فراہم ہو رہی ہے جس کا فائدہ اس زمین پر رہنے والے انسانوں کو ہے۔


