ماڑی چڈھیاں والی


جب وہ میرے پاس بیٹھے بیٹھے ان سیڑھیوں کی طرف دیکھ رہی تھی جو ایک ایسے ہال میں اترتی تھیں جس کی دیواروں پر چھت تک نصب چوبی تختے کتابوں سے لدے ہوئے تھے، جی، ان کتابوں سے جو میری عمر بھر کی کمائی تھیں اور نہ جانے ایک ایک کر کے میں نے کہاں کہاں سے اور کتنے جتنوں سے جمع کی تھیں، تب مجھے یاد آیا تھا کہ پچھلی بار اس نے میرے پہلو میں بیٹھے بیٹھے یوں آنکھیں گیلی نہیں کی تھیں۔ وہ بھاگ کر سیڑھیوں سے نیچے اتری تھی اور اس سے پہلے کہ میں اس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اترتا اس کی سسکیاں اوپر آئی تھیں۔

ہوا یوں تھا کہ پہلے خالدہ حسین کا گھر بکا تھا اور پھر منشا یاد کا۔ دونوں سے میرا تعلق کئی برسوں پر محیط تھا اور تعلق بھی ایسا کہ وہ ہم میاں بیوی کو اپنے گھر کے افراد سمجھنے لگے تھے۔ ہم نے خالدہ حسین پر گزرنے والے کئی مشکل زمانے دیکھ رکھے تھے۔ ان میں ایک زمانہ وہ تھا کہ جب اس کا شوہر بھی زندہ تھا اور بیٹا بھی۔ یہ اس گھر کے دو ایسے مرد تھے جن کے لیے فکشن لکھنا پڑھنا گویا جہنم کا ایندھن اکٹھا کرنا تھا۔

انہوں نے گھر کی فضا ایسی بنا رکھی تھی کہ دادی اپنی پوتی کو کہانیاں تک نہیں سنا سکتی تھی۔ اس گھر میں یہ کام خرافات کے زمرہ میں سمجھا جاتا تھا۔ وہ طعنے تشنے سنتی رہی اور کہانیاں لکھتی رہی حتیٰ کہ ایک روز اسے اپنی پوتی سے وہ جملہ سننا پڑا تھا جو یقیناً اس نے اپنے باپ دادا سے سنا ہو گا۔ یہی کہ ”دادی دوزخ میں جائے گی۔“ دونوں جنت مکانی مرد ایک ایک کر کے مر گئے تو یہ دوزخی دادی انہیں یاد کرتی، ان کے لیے اپنی آنکھیں بھگوتی اور دعائیں کرتی تھی۔

اس دوسرے زمانے میں ہم نے خالدہ کو ٹی وی لاؤنج میں پڑے بستر پر دیکھا تھا۔ ایک دو بار نہیں ؛ مرتے دم تک کئی بار۔ اب ہم وہاں آ جا سکتے تھے۔ اس سے مل سکتے تھے اور ملتے تھے کہ وہ بہت اکیلی ہو گئی تھی۔ اس کے اردگرد کتابیں ہوتی تھیں اور بس۔ ہم جب جاتے وہ ان کتابوں کے بارے میں باتیں کرتی یا وہ ان کتابوں کا پوچھتی جو میں پڑھ رہا تھا۔

ہر بار مجھے یوں لگتا تھا جیسے وہ تھوڑا تھوڑا کر کے مر رہی تھی۔ جتنی بھی وہ زندہ تھی، ان لفظوں کے سہارے زندہ تھی، جو وہ لکھ دیتی تھی، پڑھ رہی تھی یا ہم سے کہہ لیا کرتی تھی۔ اسی دوران اس کا گھر بک گیا۔ جی، ابھی وہ زندہ تھی کہ اس کا گھر بک گیا تھا کہ وارثوں میں وراثت تقسیم ہونا تھی اور وہ انتظار نہیں کر سکتے تھے۔ جس شخص نے مکان خرید ا تھا وہ اتنا مہربان نکلا کہ گھر خالی کرنے کے لیے مہلت دے دی۔ اس مہلت کے اندر ہی ایک روز وہ مر گئی اور اس کے ادھر ادھر پڑی ہوئی کتابیں منظر سے ہمیشہ کے لیے غائب ہو گئیں۔

منشایاد کی کتابوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا۔ وہ سارے جیتے جاگتے مناظر جو ہماری آنکھوں نے دیکھ رکھے تھے، انہیں ساتھ لے کر وہ بھی ایک روز اچانک مر گئے تھے۔ منشایاد کو افسانہ نگاری کا جنون تھا۔ اس نے اپنا نیا گھر بنایا تو اس کے باہر ”افسانہ منزل“ کی تختی نصب کروائی تھی۔ وہ سب کو محبت کے کلاوے میں بھر کر اکٹھا کر لینے کا ہنر جانتا تھا، خوشی غمی کا کوئی بھی موقع نکلتا، اس کے سب پیارے اس بڑے گھر میں سما جایا کرتے۔

منشایاد کا اسلام آباد میں بسنا اور اپنے عزیز رشتہ داروں کو اس شہر میں بسا لینا ایک افسانے جیسا دلچسپ تھا۔ کہہ لیجیے ایک افسانہ ”افسانہ منزل“ کا بھی تھا؛ جو اسلام آباد کی ادبی تہذیب کی تاریخ ہونے کے باوجود بک جانے سے نہ بچ سکا۔ حالاں کہ اس سڑک کا نام سرکاری طور پر منشایاد کے نام پر رکھ دیا گیا تھا۔ وہ مکان اتنا بڑا تھا کہ ان کے بیٹے چاہتے تووہ اس میں بہ سہولت رہ سکتے تھے اور اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہ رہتے رہے تھے کہ باپ نے بیٹوں کے مستقبل میں بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر ایک سے زیادہ منزلیں تعمیر کروائی تھیں۔

منشایاد کے مرتے ہی بچوں کے دل میں الگ الگ رہنے کی خواہش جاگ اٹھی۔ گھر بک گیا تو منشایاد کی ساری کتابیں ایک جگہ ڈھیر کر دی گئیں۔ جب میں اپنی بیگم کے ساتھ وہاں گیا تھا تو کتب خانے کی ساری الماریاں بھائیں بھائیں کر رہی تھیں۔ ہمیں بھابی نے بلوا بھیجا تھا اور مجھے کہا تھا کہ ”بھائی آپ منشا جی کے بہت قریب تھے جو کتابیں آپ کو چاہئیں لے جائیں۔ بچوں کو یہ نہیں چاہئیں۔ ان کی منزل کہیں اور ہے۔“ ایسا کہتے ہوئے بھابی کی آواز رندھا گئی تھی اور وہ اس کتب خانے سے نکل کر سیڑھیاں نیچے اتر گئی تھی جس میں یوں ڈھیر کی جانے والی کتابیں کبھی ایک سلیقے سے دیوار گیر الماریوں میں سجی ہوئی ہوتی تھیں۔

واپسی کے سارے راستے پر ہم دونوں چپ رہے۔ گھر پہنچتے ہی وہ سیدھی نیچے گئی تھی۔ میں نے اوپر سے جھانک کر دیکھا وہ نیچے چوبی تختوں پر سجی کتابوں پر دونوں ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔ جب اس کی سسکاریاں اوپر پہنچیں تو مجھے ہمت نہ ہوئی تھی کہ اس کے پیچھے نیچے اترتا۔

انکت چڈھا کے مرنے کی خبر سن کر وہ سیڑھیوں سے اتر کر نیچے نہیں گئی تھی، بس اس طرف دیکھتی رہی حتی کہ اس آنکھیں گیلی ہو گئیں تھیں۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب وبا میں مرنے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ ادھر ہندوستان میں تو وائرس کی کوئی نئی قسم پھیل چکی ہے کہ ہسپتالوں سے باہر آکسیجن کے لیے منتظر مریضوں کے جتھے تھے تو شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں اپنی آخری رسومات کی ادائی کے انتظار میں پڑی مرنے والوں کی لاشوں کی قطاریں۔ نو مئی کی شام، یعنی اس وقت جب کہ ہم دونوں کے سامنے اس کے مرنے کی خبر آئی تھی، تین سال پہلے عین اسی وقت وہ مر چکا ہو گا یا پھر ایک اذیت ناک موت مر رہا ہو گا۔

میرے لیپ ٹاپ کے مانیٹر پر انکت چڈھا کی زندگی سے بھرپور تصویر جھلملا رہی تھی اور خبر کے مطابق وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ اکسان جھیل گھومنے گیا تھا۔ وہاں کیچڑ پر پاؤں رپٹنے سے جھیل میں جا پڑا اور گہرے پانی میں ڈوب کر مر گیا تھا۔

کوئی چھ سال پہلے جب ہم ہندوستان گئے تھے کہ وہاں نئی دہلی میں ہمیں انڈیا گیٹ کے قریب اندراگاندھی نیشنل سینٹر فار آرٹ میں منعقد ہونے والے جشن ریختہ میں شریک ہونا تھا۔ اردو زبان و ادب سے محبت کرنے والے وہاں ہزاروں میں تھے اور ہم بہت سے ایسے لوگوں سے مل رہے تھے جن سے شاید عام حالات میں زندگی بھر نہ مل پاتے۔ گوپی چند نارنگ، جاوید اختر، اشوک باجپئی، شبانہ اعظمی، مہیش بھٹ، ودھا لال، ابھیمینو لال، ٹیگمنشو ڈھلیا، پرادیپ شرما سب وہاں تھے اور شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی جسے بڑے لکھنے والے بھی جن میں سے ایک کو وبا نے چار مہینے پہلے پچھاڑا تھا اور دوسرے کو محض چار دن پہلے۔ انکت چڈھا سے بھی ہماری وہیں ملاقات ہوئی تھی۔

ہمیں لی میریڈین ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا۔ وہاں کے معروف شاعر، نغمہ نگار اور فلموں کو تیکھے مکالمے دینے والا گلزار ایک روز صبح صبح ملنے آ گیا تو بیگم نے اس کے ساتھ کئی تصویریں بنوائی تھیں۔ ایک موذی بیماری کی اذیتیں سہ سہ کر آنے والے برسوں میں موت کا لقمہ ہو جانے والا فلمسٹار عرفان خان بھی پہلی اور آخری بار اسی ہوٹل میں ملا تھا تاہم وہاں نیشنل سینٹر کے اندر چائے کے ایک ڈھابے پر انکت چڈھا سے ہونے والی پہلی اور آخری ملاقات کی یاد میرے شہر کی ایک عمارت ماڑی چڈھیاں والی کے ساتھ جڑ کر بہت ذاتی سی ہو گئی تھی۔

بعد ازاں میں جب جب میں پنڈی گھیب جاتا رہا اور وہاں بازار سے پرے اس تنگ گلی سے گزرتارہا جس میں تین منزلوں پر مشتمل یہ عمارت تھی تو مجھے انکت چڈھا یاد آ جاتا رہا۔ یوں تو اس شہر میں کئی کئی منزلوں کی اور بھی کئی عمارتیں تھیں مگر اس ماڑی چڈھیاں والی کا اختصاص یہ تھا کہ اس کے دروازے اور کھڑکیاں ہوں یا ان پر بنی خشتی محرابیں، کام اتنا عمدہ تھا کہ دیکھنے والوں کی نظر باندھ کر رکھ دیتا تھا۔ چڈھوں کی ماڑی کو تعمیر ہوئے نوے پچانوے سال ہو چکے ہوں گے مگر اس کی دلکشی وقت گزرنے کے ساتھ مانند نہیں پڑی تھی۔ وہاں نیو دہلی میں، میں نے انکت چڈھا سے جب اپنے شہر کی اس عمارت کا ذکر کیا تھا جو کسی چڈھے کی ملکیت تھی تو اس نے کہا تھا کہ وہ اس کے مالک کو جانتا تھا۔

ریختہ کے وہ پروگرام جو باہر کھلے میں شامیانوں کے نیچے ہوئے تھے اور جن میں حاضرین کی تعداد بہت زیادہ تھی، ان میں داستان گوئی والا پروگرام بھی شامل تھا۔ سفید چادروں سے سارا منچ ڈھکا ہوا تھا۔ دونوں داستان گو سفید گھیرے دار قمیضوں اور کھڑے پاجاموں میں ملبوس تھے اور انہوں نے سفید دوپلی ٹوپیاں پہن کر اس قدیم تہذیب کی یاد دلا دی تھی جو مر مرا کر قصہ پارینہ ہو چکی تھی۔ لطف یہ ہے کہ اس قدیم وضع قطع کے سبب منچ پر آتے ہی توجہ بٹور لینے والے داستان گویوں نے پرانی دہلی والوں کے کرخنداری لہجے میں کوئی پرانا قصہ یا عام طور پر سنائی جانی والی داستان امیر حمزہ کے بجائے آج کی زبان میں ”داستان تقسیم ہند“ سنائی تھی اور وہ بھی یوں کہ سننے والوں کے دل مٹھی میں کر لیے تھے۔

دونوں داستان گو نوجوان تھے مگر ان میں سے ایک، جس نے داڑھی مونچھیں بڑھا رکھی تھیں اور قد نکلتا ہوا نہ تھا دوسرے سے کم عمر لگتا تھا۔ جس کا قد نکلتا ہوا تھا اور داڑھی مونچھیں صفاچٹ تھیں، اس نے عین آغاز میں اپنے ساتھی کا تعارف انکت چڈھا کہہ کر کروایا تو میرا دھیان اپنے شہر کی ماڑی چڈھیاں والی کی طرف گیا تھا اور مجھے لگا تھا کہ ان دونوں میں کوئی نہ کوئی تعلق ضرور تھا۔ پروگرام ختم ہوا تو اس نوجوان سے ملنے کو بہت جی چاہا تھا مگر دیر ہو چکی تھی اور ہوٹل واپس پہنچانے کے لیے گاڑی ہماری منتظر تھی۔

اتفاق یہ ہوا کہ اس نوجوان سے اگلے روز وہیں میری ملاقات بھی ہو گئی تھی۔

وہ رات والے حلیے میں نہ تھا۔ میں نے پہلی نظر میں اسے نہیں پہچانا تھا۔ رات والا نوجوان بولتا ہوا تھا اور یہ خاموش۔ رنگت کا قدرے سانولا، جسم دھان پان سا، چہرے پر خس خسی اور چھدری داڑھی۔ اس کی سلیقے سے ترشی ہوئی مونچھوں کے گنے چنے بال ہونٹوں کی کنجوں پر پہنچ کر اتنے بڑھ گئے تھے کہ وہ انہیں بل دے سکتا تھا اور یاد آنے پر بل دے بھی لیتا تھا۔ میں ایک پروگرام میں شرکت کے بعد نیشنل سینٹر کے اس حصے میں پہنچا تھا جہاں ایک ڈھابے پر تندوری چائے کا سا لطف دینے والے مٹی کے پیالوں میں چائے ملا کرتی تھا؛ وہیں یہ نوجوان ایک بنچ پر بیٹھا تھا جس کے پہلو میں جگہ خالی تھی۔ میں نے اس سے وہاں بیٹھنے کی اجازت چاہی۔ اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا، ہاتھ سے بیٹھنے کا اشارہ کیا اور چپ چاپ چائے کی چسکیاں لینے لگا تھا۔

اسی دوران مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ پاس بیٹھا چھبیس ستائیس سالہ نوجوان وہی تھا جو رات اپنی مونچھوں کو تاؤ دے کر اپنے ساتھی داستان گو پر پہلے تو بڑے تیز جملے کس رہا تھا ؛ اتنے تیز کہ سارا مجمع قہقہے لگاتا تالیاں بجانے لگا تھا اور پھر تقسیم کے دوران فسادات کا قصہ سنانے پر آیا تھا تو سب کے دل درد سے بھر گئے تھے۔ وہ اپنی چائے ختم کر چکا تھا مگر اس سے پہلے کی وہ اٹھ کر چلا جاتا میں اسے اپنا تعارف کروا چکا تھا اور اسے بتا چکا تھا کہ رات اس کے نام کے ساتھ چڈھا سن کر مجھے اپنے شہر کی ایک عمارت یاد آ گئی تھی۔ تب میں نے اس عمارت کا نام لیا تھا ”ماڑی چھڈیاں والی۔“ اور اس نے چونک کر میری طرف دیکھا اور دہرایا تھا:

”ماڑی چڈھیاں والی؟“
”تقسیم میں اپنے خاندان کے ساتھ ادھر اٹھ آنے والے اجاگر سنگھ چڈھا کی ماڑی“
”میں اس کے مالک کا نام نہیں جانتا۔“
”یہی نام تھا اس کا۔“
اس نے پورے یقین سے کہا اور مجھ سے استفسار کرتے ہوئے اضافہ کیا تھا۔
”آپ کا شہر پنڈی گھیب ہے نا!“
میں نے بوکھلا کر اثبات میں جواب دیا تو انکت چڈھا نے کہا تھا:

”میرے دادا کا دوست تھا سردار اجاگر سنگھ چڈھا۔ وہ اس ماڑی کا اور آپ کے شہر کا ذکر مرتے دم تک کیا کرتے تھے۔ کہتے تھے تقسیم نہ ہوتی تو بچے اس ماڑی میں رہ رہے ہوتے۔“

جب انکت چڈھا نے یہ کہا تھا تو تقسیم کی وہ داستان جو رات اس نے سنائی تھی وہ میرے شہر کی ماڑی چڈھیاں والی تک چلی آئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد ہم دونوں کے درمیان ایک تعلق قائم ہو گیا تھا۔ بعد میں ہمارے درمیان کچھ عرصہ تک ای میلز کا تبادلہ ہوتا رہا۔ پھر کسی وجہ کے بغیر ان ای میلز میں طویل وقفے پڑنے لگے اور رابطہ ہی ختم ہو گیا حتی کہ وہ مر گیا تو تین سال بعد مجھ تک اس کی خبر پہنچ پائی تھی۔

نو اپریل کوئی گیارہ بجے کے قریب، جب کہ وہ گھرداری کے کاموں سے فارغ ہو چکی تھی اور میں بھی لاؤنج میں لیپ ٹاپ پر ایک نیا افسانہ لکھنے میں کوئی چار گھنٹے صرف کر چکا تھا، اور اس کا اختتام لکھنے والا تھا کہ وہ و ہیں صوفے پر پھسکڑا مار کر بیٹھ گئی۔ میرا دھیان منتشر ہو گیا تھا۔ افسانہ جہاں تھا وہیں ٹھہر ٹھٹھک کر رک گیا۔ میں نے مزید لکھنے کا ارادہ التوا میں ڈالا اور سوشل میڈیا پر اپنا صفحہ کھول لیا۔ اچانک مجھے جھٹکا سا لگا۔ دکھ کا ایک کوندا سا میرے بدن میں تیر گیا۔ لگ بھگ میں نے چیختے ہوئے اسے کہا تھا:

”دیکھو ووووہ مر گیا تھا۔“

میں نے لیپ ٹاپ کا رخ بیگم کی جانب گھمایا تھا۔ وہ کچھ دیر پہلے پاس ہی آ کر بیٹھ گئی تھی اور سیب کا چھلکا اتار کر اسے قاشوں میں کاٹ کر میری جانب کھسکانے کے بعد اپنے حصے کا پھل چھیلے کاٹے بغیر دانتوں تلے دبائے ہوئے تھی۔ اس نے بوکھلا کر کہا:

”کون؟ کوکو کون؟ کون؟“
میں اتنی دیر میں لیپ ٹاپ کا رخ واپس اپنی طرف کر کے خبر کی تفصیلات پڑھ رہا تھا۔

وہ شاید مانیٹر ڈھنگ سے نہ دیکھ پائی تھی۔ اس لیے وہیں سے جھک کر مانیٹر کی طرف جھانکا اور کچھ نہ سمجھتے ہوئے ایک بار پھر کہا:

”کس نے مرنے کی بات کر رہے ہیں آپ۔ اور۔ یہ کیا کہا۔ مر گیا تھا۔ تھا کا مطلب؟“

جب وہ خاموش مجھے اپنے کام میں مگن دیکھ دیکھ کر اکتاہٹ محسوس کرنے لگتی تو کسی نہ کسی بہانے مجھے متوجہ کر لیتی تھی۔ عین اس وقت جب کہ وہ سیب میں دانت گڑو کر دائیں ہاتھ کو دائیں اور چہرے کو بائیں سمت ہلکا سا جھٹکا دے رہی تھی، میں نے اسے وہ خبر سنائی تھی جس نے مجھے حیرت اور دکھ میں ایک ساتھ مبتلا کیا تھا۔

تین سال پہلے کی، آج ہی کی تاریخ کی خبر، جو تب میری نظروں سے اوجھل رہ گئی تھی۔ اب اچھل کر سامنے آ گئی تھی۔

بوکھلاہٹ میں سیب کا دانتوں سے کاٹا ہوا ٹکڑا اس کی جیبھ کے اوپر ناچتا رہا اور تالو کو چھوتا رہا اور شاید سیب پر دانت پڑنے سے اس کا کچھ رس بھی ٹپک کر حلقوم میں جا پڑا ہو گا کہ اب تک اس نے جتنے لفظ ادا کیے تھے وہ ٹوٹ کر اور اس رس میں بھیگ کر مجھ تک پہنچے تھے۔

”آپ بتاتے کیوں نہیں کس کے مرنے کی بات کر رہے ہیں آپ؟“

”وہی دہلی میں ملنے والے نوجوان انکت چڈھا کی، جس کی بابت میں نے تمہیں بتایا تھا کہ وہ چڈھیاں والی ماڑی کے مالک کو جانتا تھا۔“

اس بار جھٹکے سے اس نے دونوں ٹانگیں سیدھی کر کے فرش پر پاؤں ٹکائے اور کولہے کھسکاتی میرے پہلو میں ہو گئی تھی۔ اس کی آنکھیں لیپ ٹاپ کے مانیٹر پر گڑی ہوئی تھیں۔

”اب دکھائیں نا وہ تصویر۔ مجھے چہرہ یاد نہیں رہا۔“
”حد ہو گئی، دہلی میں تم نے دیکھا تو تھا اسے، داستان گوئی والے پروگرام میں۔“
”ہاں، مگر وہاں دو تھے نا! کون سے والا؟“
”دونوں میں چڈھا تو ایک تھا۔ چھوٹے والا“

یہ بتا کر میں نے اسے، اس کے ڈوب مرنے والی خبر سنائی تھی تو جیسے دکھ اس کے بدن میں بھی تیر سا گیا تھا۔

میں نے ایڈریس بار میں ”ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو ڈاٹ انکت چڈھا ڈاٹ انفو“ ٹائپ کیا اور انٹر کا بٹن دبا دیا۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ وہاں خالی صفحہ ہمارا منھ چڑا رہا تھا۔ صفحہ بالکل خالی نہ تھا۔ اس پر لکھا تھا:دس سائٹ کانٹ بی ریچڈ۔ گویا انکت کی آفیشل ویب سائٹ بند ہو چکی تھی بالکل ایسے ہی، جیسے منشایاد کا ویب پیج اس کے مرنے کے کچھ عرصہ بعد بند ہو گیا تھا۔ میں نے رنجیدہ ہو کر کہا:

”اس پر تو اس کا بہت سا کام موجود تھا۔ میں نے ایک بار خود اس سائٹ پر جاکر دیکھا تھا۔ اس کی لکھی ہوئی کتابوں کی تفصیل۔ جو جو پروگرام کیے تھے اس نے ؛ان کی فلمیں۔ اور داستان گوئی کو جدید عہد سے جوڑنے کے حوالے سے اس کی کوششیں۔ افسوس سب گیا۔“

”یہی تو المیہ ہے کہ سب چلا جاتا ہے۔“

بیگم نے مایوس ہو کر لمبا سانس لیا آنکھ میچ لیں، دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے اور پھر ایک ہاتھ کی انگلیوں میں دوسرے ہاتھ کی انگلیاں اڑس کر اپنے سرکے اوپر سے پیچھے لے جا کر گردن کی پشت پر جما لیں۔ اب اس کے سر اور گردن کا بوجھ وہاں تھا اور اس کی کہنیاں سامنے کی سمت جھول رہی تھیں۔ میں اپنی گردن موڑے اسی کو دیکھ رہا تھا۔ جب بھی اسے کوئی صدمہ پہنچتا تھا وہ ایسا ہی کرتی تھی۔

”مرنے والوں کے لیے جو کام زندگی اور موت جیسا اہم ہوتا ہے، انہوں نے ایک جنون میں اپنی زندگیاں کھپا دی ہوتی ہیں جس کام میں، پیچھے رہ جانے والوں کے لیے کوئی اہمیت نہیں ہوتی اس کی۔ افسوس۔ افسوس۔“

وہ اپنی کہنیوں کو یوں ہی آگے کی سمت جھولاتی رہی۔ اس کی بند آنکھوں کی پلکوں سے گیلا پن باہر پھسلنے لگا تھا۔ میں جانتا تھا یہ محض انکت چڈھا کے لیے آنسو نہ تھے۔ پھر اس نے سامنے دیکھا۔ سامنے نہیں شاید گھر کی دیواروں کو چیرتی نظروں سے کہیں دور اور جیسے اپنے آپ سے سرگوشی کی تھی۔ :

”ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہاں ایسا ہی ہوتا ہے۔“

لیپ ٹاپ کا مانیٹر مدہم ہو کر بجھ گیا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں اسے جگانے کے لیے کی بورڈ کو چھوتا، وہ ان سیڑھیوں کی سمت دیکھنے لگی تھی جو نیچے میرے کتب خانے میں اتر رہی تھیں۔

Facebook Comments HS