محترم وزیر اعظم! بہت دیر کی مہرباں…



ملک میں دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک منظم انداز میں دہشت گرد پاک فوج اور پولیس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ چند روز گزرتے ہیں کہ پھر کچھ جوانوں کی شہادت کی خبر پڑھنے کا عذاب جھیلنا پڑتا ہے۔ جب گھر میں آگ لگی ہو تو کیا کوئی غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ لگائے گا؟ کیا ملک کے اقتصادی حالات سنبھل پائیں گے؟ پڑھنے والے اس کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں۔ چار ستمبر کو نگران وزیر اعظم محترم انوارالحق کاکڑ صاحب کا ایک بیان نظر سے گزرا کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے دوران پیچھے رہ جانے والا امریکی فوجی ساز و سامان عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں چلا گیا اور بالآخر پاکستانی طالبان (ٹی ٹی پی) کے پاس پہنچ گیا ہے۔ وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ صاحب نے غیرملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فوجی ساز و سامان میں نائٹ ویژن چشموں سے لے کر گولہ بارود جیسے اسلحے کی وسیع اقسام شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب یہ ملک کے لیے ایک نئے چیلنج کے طور پر ابھر رہا ہے کیونکہ فوجی ساز و سامان نے پاکستانی طالبان کی لڑائی کی صلاحیتوں کو بڑھایا ہے۔

ہر ملک کی حکومت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے ملک کو درپیش خطرات کا بروقت اندازہ لگائے۔ ان خطرات کا فوری سد باب کرے اور ان کے بارے میں عوام کو اعتماد میں لے۔ وزیر اعظم صاحب کا یہ بیان قابل تعریف ہے کہ انہوں نے اس مسئلہ کی نشاندہی کی لیکن کیا یہ نشاندہی بر وقت کی گئی ہے؟ کاکڑ صاحب نے چند روز قبل وزارت عظمی ٰ کا قلمدان سنبھالا ہے لیکن ملک میں ہر وقت کوئی نہ کوئی حکومت تو ہوتی ہے تاکہ ملک کا نظام چلتا رہے۔ پڑھنے والوں سے میری درخواست ہے کہ وہ 31 مارچ 2023 کو ہم سب پر اس عاجز کا شائع ہونے والا کالم ”انکل سام کا اسلحہ اور خون ہمارا“ ملاحظہ فرمائیں۔ اس کالم میں اس عاجز نے کیا عرض کی تھی؟ میں معین الفاظ درج کرتا ہوں :

” جب امریکہ نے طالبان سے ہونے والے معاہدے کے بعد افغانستان سے اپنی افواج نکالنی شروع کیں تو کم از کم سات ارب ڈالر کی مالیت کا عسکری ساز و سامان سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت افغانستان میں چھوڑ دیا گیا۔ اور جیسا کہ کہتے ہیں ’بڑے میاں تو بڑے میاں چھوٹے میں بھی سبحان اللہ‘ ، اس کے بعد افغان افواج اسی طرح غائب ہو گئیں جیسے اردو محاورے میں گدھے کے سر سے سینگ غائب ہوتے ہیں۔

دنیا بھر میں ایک اصول ہے کہ اگر کسی فوج کو ہتھیار ڈالنے پڑیں یا کسی میدان جنگ سے رخصت ہونا پڑے تو وہ ایسا اسلحہ اور ساز و سامان پیچھے نہیں چھوڑتے کہ جو کہ دشمن کے ہاتھ لگ کر اس کی قوت بڑھانے کا باعث ہو۔ اور اگر ایسا ساز و سامان اپنے ساتھ نہ لے جایا جا سکے تو اسے تباہ کر دیا جاتا ہے تا کہ اس سے دشمن فائدہ نہ اٹھا سکے۔ لیکن اس کا کیا حل کیا جائے کہ امریکی افواج کو اس کی کوئی خبر ہی نہیں تھی۔ اور تربیت یافتہ افغان افواج نے بھی اس حکمت عملی کا ذکر کبھی نہیں سنا تھا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گزشتہ سال فروری میں افغان طالبان کے لطیف اللہ حکیمی صاحب نے فخر سے پریس کانفرنس کی کہ امریکی افواج کا چھوڑا ہوا اسلحہ طالبان کے ہاتھ لگا ہے۔ ان کے بیان کردہ ہوش ربا اعداد و شمار ملاحظہ ہوں۔ تین لاکھ کی تعداد میں وہ اسلحہ ان کے ہاتھ لگا ہے جسے عسکری اصطلاح میں لائٹ آرمز کہا جاتا ہے۔ اور چھبیس ہزار کی تعداد میں وہ اسلحہ ہے جسے ہیوی آرمز کہا جاتا ہے۔ اور جو عسکری گاڑیاں مہیا ہوئی ہیں ان کی تعداد 61000 ہے۔ اور اس کے علاوہ بہت سے ہیلی کاپٹروں اور جہازوں کا مال غنیمت بھی حاصل ہوا۔

یہ ساز و سامان جدید ترین نوعیت کا تھا۔ ان میں سے بہت سے آلات ایسے تھے جنہیں خاطر خواہ تیکنیکی ٹریننگ کے بغیر چلانا ممکن نہیں تھا۔ اس کے با وجود یہ معجزہ ملاحظہ ہو کہ طالبان نے فوری طور اس اسلحہ کو قابل استعمال بھی بنا لیا۔

لیکن کیا اس وقت پاکستان کی حکومت نے یہ مطالبہ کیا کہ امریکی فوج نکلتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کروائے کہ ان کو چھوڑا ہوا اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھ نہیں لگے گا؟ کیا ہماری حکومت اس بات سے بے خبر تھی کہ جب 1980 کی دہائی میں امریکی آشیر باد سے سوویت افواج کے خلاف جہاد کیا جا رہا تھا تو ان کے فراہم کردہ اسلحہ نے پاکستان میں فروخت ہو کر ملک کا امن برباد کر دیا تھا۔ اور مزید یہ کہ حکومت نے خود افغانستان میں مقیم پاکستانی دہشت گردوں کو اسلحہ سمیت پاکستان میں آنے دیا۔ اس کے نتیجہ میں ملک خون ریزی کی ایک اور لہر کا نشانہ بن رہا ہے۔ ”

یہ کالم پانچ ماہ قبل شائع ہوا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچ ماہ قبل خاکسار جیسے کم علم شخص کو بھی ان تفصیلات کا علم ہو چکا تھا۔ یہ کوئی نئی خبر نہیں ہے۔ کیا ان پانچ ماہ میں ایک مرتبہ بھی حکومت پاکستان نے ان خطرات کی نشاندہی کی؟ یا عالمی سطح پر یہ مسئلہ اٹھایا کہ کس طرح امریکہ اور اس کی اتحادی فوج کی غلط حکمت علمی کا نتیجہ ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ان پانچ ماہ میں اس جن کو واپس بوتل میں بند کرنے کے لئے کیا اقدامات کیے گئے؟

مجھے یہ غلط فہمی تو بالکل نہیں کہ اہل اقتدار ہم جیسے مردودان حرم کی تحریروں کو پڑھنے کا تکلف کرتے ہوں گے لیکن اس صورت حال سے باخبر رہنا ان کا فرض ہے۔ اتنا طویل عرصہ گزرنے کا بعد یہ بیان کافی نہیں کہ امریکہ کی افواج یہ اسلحہ پھینک کر واپس چلی گئی تھیں اور یہ اسلحہ پاکستانی طالبان کے ہاتھ لگ گیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان میں خون ریزی شروع کر دی۔ اب تو یہ بیان آنا چاہیے تھا کہ ہم نے اس مسئلہ سے نمٹنے کے لئے یہ حکمت عملی مرتب کی تھی اور ان اقدامات سے یہ مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

یہ سوال تو بہر حال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کو لگام دینے میں ناکام کیوں رہی؟ ایک مرتبہ پھر اپنے ایک سابقہ کالم کو دوبارہ پڑھنے کی درخواست کروں گا۔ آج سے سوا سال قبل 5 جولائی 2022 کو ہم سب پر خاکسار کا ایک کالم ”کس کو لگام دینے کی ضرورت ہے“ شائع ہوا تھا۔ اس میں دست بستہ عرض کی گئی تھی کہ ایک طرف تو ملک میں بالعموم اور خیبر پختون خوا میں بالخصوص دہشت گردی اور قتل و غارت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف اس صوبہ کی اسمبلی میں اس پر قابو پانے کی منصوبہ بندی کرنے کی بجائے یہ مطالبات کیے جا رہے ہیں کہ حکومت احمدیوں کو لگام دے کہ مسلمانوں کی طرز پر اپنی عبادت گاہوں کی عمارات تعمیر نہ کریں۔ اگر کسی کو لگام دینی ہے تو دہشت گردوں کو لگام دو تاکہ ملک میں خون ریزی ختم ہو۔ اگر خود ریاستی ادارے مذہبی تعصب کو ہوا دیں گے تو اس کے وہی نتائج برآمد ہوں گے جو ہم ملاحظہ کر رہے ہیں کہ سنگ و خشیت مقید اور سگ آزاد۔

جہاں تک نگران وزیر اعظم صاحب کے بیان کا تعلق ہے تو اتنا عرض کروں گا کہ ان کا بیان سر آنکھوں پر لیکن داغ یاد آ گئے

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

(محترم الم نگار، ہم پڑھنے والوں کو یہ بھی یاد دلائیے کہ یہ وہی اسلحہ ہے جس کے بارے میں ہم برسوں سینہ پھلا کر اعلان کرتے رہے کہ امریکیوں کو اپنا اسلحہ پاکستان سے گزار کر واپس لے جانا ہے لہٰذا ان کی گردن ہماری گرفت میں ہے۔ یہ خواب دھرے کے دھرے رہ گئے۔ و – مسعود)

Facebook Comments HS