گیبون کی صورتحال
گیبون ایک افریقی مملکت ہے جس کے ہمسایوں میں گنی بساؤ شمال مغرب میں واقع ہے کیمرون شمال میں ہے جبکہ کانگو مشرقی اور جنوبی ہمسایہ ہے۔ اس کا کل رقبہ 270000 کلومیٹر ہے اور اس کی آبادی لگ بھگ 23 لاکھ نفوس پہ مشتمل ہے۔ مرکزی شہر لائبریولا ہے۔ یہ افریقہ کی ایک خوشحال اور قدرے مستحکم ریاست سمجھی جاتی رہی ہے۔ کہانی ادھر بھی وہی ملتی جلتی ہے کہ فرانسیسیوں کو اس کے سینے میں پوشیدہ قیمتی خزانوں کے بارے میں بروقت پتہ چل گیا تھا اور اس پہ اپنی کالونی بنا دیا تھا جی بالکل برطانوی طریقۂ کار کے تحت اس پہ فرانسیسی عملداری خاصے طویل عرصہ تک مسلط رہی۔
پھر ایک اعصاب شکن جدوجہد کے بعد 1960 میں اسے آزادی ملی مگر آزادی کا سانس اب تک نصیب ہوا نہیں کیونکہ تمام تر قدرتی وسائل و ذخائر پہ اب تک مکمل کنٹرول فرنچ کمپنیوں کا ہی رہا ہے۔ ظلم و تعدی کا آپ خود اندازہ لگائیں کہ جو کام مشکل اور کٹھن ہوتا وہ غریب ہم وطنوں کے حصے آتا اور جو کام سہل ہوتا وہ فرنچ کرتے۔ اور تنخواہ لیتے وقت یہ کلیٔہ الٹ جاتا اور یوں گویا سارا مال فرنچ خود ہڑپ جاتے۔ کہنے کو تو یہاں ایک جمہوری ڈھانچہ موجود تھا جس میں ایک شخص کی ذاتی اجارہ داری پچھلے پچاس سال سے بھی زائد عرصہ سے قائم و دائم تھی۔
صدر اس کا اقتدار سنبھالے ہوئے تھا اس کے بعد اس کا بیٹا علی بونگو اونڈیما اقتدار بھی قابض ہو گیا۔ اب تازہ ترین انتخابات کا انعقاد کیا گیا جس میں بھاری پیمانے پر دھاندلی اور مالی کرپشن کے الزامات کے بعد عسکری قیادت نے مناسب سمجھا کہ عنان اقتدار خود سنبھال لی جائے۔ انہوں نے انتخابی نتائج روک لیے اور صدر کو پابند سلاسل کر دیا اور قومی ٹیلیویژن اسٹیشن پہ قابو پاکر اعلان فرمایا کہ اب ہمارا راج ہو گا عوام کو انہوں نے پرامن رہنے کا کہا۔
ایک ایسی ناکام کوشش چند برس پہلے 2019 میں بھی کی گئی تھی۔ ادھر فرانس آگ بگولا ہو گیا کیونکہ اس کے اس مملکت کے اندر بہت سے مالی مفادات وابستہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں قریبی ملک نائیجر میں فوجی جنتا قائم ہو چکی وہاں بھی فرنچ اثر و رسوخ بھی عرصۂ دراز سے قائم تھا۔ گیبون کو افریقہ کا عدن بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں جنگلوں کی بہتات ہے، تیل اور دیگر معدنیات وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ اس اعلان بغاوت کے بعد دارالحکومت کے عین درمیان گولہ باری کی بھی اطلاعات ہیں۔
صدر بونگو جن کی عمر اب 64 برس کی ہے، ان کو اپنے گھر میں قید کر دیا گیا ہے جہاں ان کے اہل خانہ اور معالجین کی ایک ٹیم موجود ہے البتہ ان کا ایک بیٹا مزاحمت دکھانے کے بعد گرفتار کر لیا ہے اس پہ الزام ہے کہ وہ جمہوریت کی بات کر رہا تھا۔ اس تبدیلی کے کیا حتمی نتائج نکلتے ہیں دیکھنا ہو گا مگر اس نے ملکی سلامتی کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ فرانس کی وزیراعظم الزبتھ بورین نے شدید خدشات ظاہر کرتے ہوئے اس عمل کی شدید مذمت کی ہے ادھر یورپی یونین نے بھی شدید مذمت کی اور خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے اثرات دیرپا ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایرامات ایک بہت بڑی فرنچ کمپنی ہے جس نے اپنا گیبون میں اس تبدیلی کے بعد ٹھپ کر دیا ہے جس ہزارہا لوگ وابستہ تھے ان سب کے روزگار ختم ہو گئے ہیں جس سے بیروزگاری میں اضافہ اور جرائم میں اضافہ متوقع ہے۔
افریقی ممالک میں آج کل فوجی جنتا حکومتوں کے تختے الٹنے میں خاصی محو دکھائی دیتی ہے برکینا فاسو ہو، چاڈ ہو، مال ہو یا نائیجر سب جگہ ایک سا انداز ہے ایک سی شان بے نیازی ہے۔ اب گیبون کی باری ہے۔ آگے آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ فرانس کے یہ ایک نیا دھچکا ہے ابھی کچھ ہی روز قبل نائیجر کی اس کے مفادات کو زچ پہنچی تھی۔ اس کا پٹھو بونگا پچھلے ساٹھ سال سے اقتدار اور حاکمیت اعلیٰ سے چمٹ کر درحقیقت فرانسیسی مفادات کی نگہبانی کر رہا تھا۔
لکڑی، یورینیم، ربر، ہیرے جواہرات اور دیگر کئی اقسام کے قیمتی دھاتوں سے مزین یہ ملک فرانس کی ہوس کا شکار تھا۔ اب تو تازہ ترین گیس اور پٹرول کی دریافت تھی۔ اب ظلم کی انتہا دیکھیں کہ فرانسیسی ایک طویل عرصہ تک بازو مروڑ کر ان ذخائر کو نکالنے کا کام ان بے بس گیبون کے باسیوں سے لیتا رہا ہے اور ان کا خون نچوڑتا رہا ہے اور اب کچھ عرصہ قبل ہی عالمی دباؤ کے تحت وہ باہمی تجارت کے اصول و قوانین کے تحت ان سے خریداری کرنا شروع ہوا تھا۔
اب انہوں نے فرانس کے سفیر کو ملک سے نکل جانے کا بولا ہے بالکل ایسی ہی صورتحال نائیجر میں درپیش آئی تھی۔ دراصل یہ ساری تبدیلیاں جو یکایک آ رہی ہیں اس لئے ہیں کہ فرانس کا ظالمانہ لوٹ کھسوٹ کا نظام ختم ہو اور یہ ممالک بھی اپنی آزادی و خودمختاری کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے آباء و اجداد نے بے شمار ظلم و ستم سہے ہیں مگر نوجوان نسل کسی غلامی کو قبول نہیں کر سکتی۔ وہ اپنی آزادی و خودمختاری کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو تیار ہیں۔ پوپ فرانسس نے جنوری میں ایک خطاب فرمایا تھا اور واضح اشارہ دیا تھا کہ افریقہ سے دور رہو۔ ان کا روئے سخن ظاہر ہے فرانس کی جانب تھا۔
آزادی کی ایک لہر ولولہ نو کی طرح اب افریقی ممالک میں جاگزیں ہو چکی ہے۔ آزادی کے پروانے کسی خطرے اور کسی دھونس دھمکی کو خاطر میں نہ لانے کا عزم صمیم کرچکے۔ افریقہ میں صبحِ نو آنے کو ہے۔


