کارونجھر پہاڑ کو بچانے کے لیے بڑا احتجاج


بی بی سی اردو والوں نے انڈونیشیا کے ایک جزیرے میں کموڈور ڈریگن پہ ایک ڈاکیومینٹری بنائی ہے۔ اس ڈاکیومینٹری کا اصل موضوع یہ ہے کہ اتنی بڑی اور خطرناک مخلوق کے ساتھ انسان کیسے رہائش پذیر ہے کہ یہ اگر کاٹ لے یا چھو لے تو صرف باہ گھنٹے میں موت واقع ہو جائے۔ اس بارے میں میں جب آئی لینڈ پر رہنے والے لوگوں سے پوچھا گیا تو ان کا جواب تھا کہ یہ خطرناک تو آپ کو لگتے ہیں حقیقت میں یہ بہت معصوم ہیں۔ اسٹوری کرنے والا ایک ماں سے ملا کہ جس کا بیٹا اس ڈریگن نے زندہ نگل لیا تھا۔ اس نے پوچھا کہ کیا آپ نے اس ڈریگن کو مار ڈالا تو ماں نے جواب دیا کہ نہیں۔ میں اس کو کیوں ماروں گی؟ میرے نزدیک تو یہ حادثہ ایسے تھا کہ جیسے میرے بڑے بیٹے نے اپنے چھوٹے بھائی کو مار دیا ہو تو کیا میں اپنے بڑے بیٹے کو مار دوں؟

یہ صحراؤں، دریاؤں، بیٹوں، بیلوں اور جنگلوں میں رہنے والے لوگ فطرت کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ رکھتے ہیں۔ یہ بات کسی سرمایہ دار کو کبھی سمجھ نہیں آئے گی کہ یہ زمیں زاد فطرت کے ساتھ اتنا پیار کیوں کرتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ بات سمجھ آ رہی ہے تو آئیے ان لوگوں کی فطرت پسندی کے مددگار بن جائیں اور ان کا حوصلہ بڑھائیں۔ ان کی ہمت افزائی کریں کہ سرمایہ دار دنیا ان کے جبلوں کو معدنیات قرار دے کر انہیں ہتھیا نہ لے۔ ان کے دریاؤں پر توانائی بنانے کے لیے بند نہ باندھ دے۔ کوئلہ نکالنے کے لیے ان کے کھیت، راستے اور گاؤں نہ اجاڑ دے۔ ان کے بیلے اور جنگل نہ کاٹ لے جائے۔ آؤ ان کی آواز کے ساتھ اپنی آواز ملا لیں۔ ہم سب جس جس فورم پر موجود ہیں اس فورم پر فطرت کی بقا کے لیے لڑنے والے ان لوگوں کی آواز بن جائیں۔ یہی وہ اصل لوگ ہیں جو اس دھرتی پر فطرت کے رکھوالے ہیں۔

ابھی حال ہی میں پاکستان کے ایک کونے میں ایک لمبے عرصے سے تنہائیوں کا شکار اور دانستہ دیوار سے لگائے ہوئے لوگ اپنے محبوب جبل کارونجھر کی کٹائی کے خلاف فطرت کی خواب گاہ جیسے شہر ننگرپارکر میں ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے نکل آئے۔ ان لوگوں کا اس طرح پلے کارڈ اٹھائے ہوئے احتجاج کرنا ایک بڑا واقعہ تھا۔ ان کے پلے کارڈز پر انتہائی مہذب زبان میں انتہائی حسین جملے لکھے ہوئے تھے۔ جن کو دیکھ کے لگ رہا تھا کہ پلے کارڈز بول رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ”اے ہمارے جبل! ہم ایک لمبی جلاوطنی کے بعد لوٹ آئے ہیں۔ ہم جو پاتال میں اتارے گئے تھے دوبارہ لوٹ آئے ہیں۔

* یہ جبل ہمیں پالتا پوستا ہے۔
* جبل ہمارے لیے میٹھے پانی کا واحد وسیلہ ہے۔
* کارونجھر پرندوں، جانوروں اور جیتوں کی پناہ گاہ ہے۔
کارونجھر انگریز کے خلاف جنگ لڑنے والے ہیروز روپلو کولھی اور ویر ادھی سنگھ کا مورچہ ہے۔
کارونجھر معدنیات نہیں ہے یہ نایاب جنگلی جیوت کا وطن ہے۔

اس قسم کے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے بہت بڑی تعداد میں مقامی لوگوں کا روڈ پہ اپنے جبل کی دفاع میں نکل آنا ننگرپارکر کی تاریخ کا بہت بڑا واقعہ تھا جس کی گونج کئی زمانوں تک ابھرتی رہے گی۔ یہ مرکز سے دور پھینکے ہوئے لوگ اپنے محبوب جبل کے لیے اس امید پہ نکل آئے کہ اب ہماری آواز کو نہیں روکا جا سکتا۔ وہ اس یقین سے باہر نکلے کہ ہم بھی واپس لوٹ سکتے ہیں۔ اپنی دھرتی اور اپنے وسیلے دوبارہ واپس حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ لوگ شدید غصے کے ساتھ انتہائی صدمے میں تھے کہ فطرت کی طرف سے ہمیں تحفے میں ملا ہوا جبل، یہ کہ کر کاٹا جا رہا کہ اس سے سرمایہ ملے گا۔ کارونجھر جبل صرف انسانوں کے لیے میٹھے پانی کا واحد وسیلہ نہیں ہے بلکہ دنیا میں ناپید ہونے والے لاتعداد، درختوں، پرندوں اور جانوروں کی پناہ گاہ ہے۔ کیا وہ ریاست اس کرہ ارض پر عزت و احترام کی حامل ہو سکتی ہے جو سرمائے کی لالچ میں زمیں پر رینگنے اور چلنے والے لاکھوں جانوروں، اڑتے پرندوں اور درختوں سے ان کا وطن چھین لے۔

ننگر پار میں ہونے والے اس احتجاج میں دھرتی کے جھوٹے دعوے دار شامل نہیں تھے بلکہ وہ لوگ شریک تھے جن کے پاوٴں کل بھی زمین کے اندر کھپے تھے اور آج بھی زمین کے اندر ہی کھپے ہوئے ہیں۔ ویر ادھی سنگھ کے نام والے پلے کارڈ بھی اچھوتوں کے ہاتھوں میں تھے جن پہ لکھا ہوا تھا کہ ”کارونجھر ہمارے لیے ویر ادھی سنگھ کی امانت ہے“ یہ پلے کارڈ کسی راجپوت کے ہاتھ میں ہونا چاہیے تھا لیکن اس احتجاج میں دور دور تک کوئی راجپوت نہ تھا۔ یہ احتجاج جاگیر کے لیے لڑنے اور وطن کے لیے لڑنے کا فرق بھی واضح کر گیا۔ اچھوت کل بھی دھرتی کے لیے لڑ رہا تھا اور آج بھی دھرتی کی حفاظت کا ضامن ہے۔ کسی بھی اچھوت کو نہ کل جاگیر کی لالچ تھی اور نہ ہی آج کسی ڈیم کے ٹھیکے کی لالچ ہے۔ ہر قاتل کے ساتھ این۔ آر۔ او کرنا، ہر حملہ آور کی کابینہ میں شامل رہنا اور ہر حال میں اپنی دھرتی کے ساتھ وابستہ رہنا، دو مختلف عمل ہیں۔ حملہ آور کی لکھی ہوئی تاریخوں میں اور ہیرو ہیں اور اچھوتوں کی یاد گیری میں اور ہیرو ہیں۔

یاد رکھیں اچھوتوں کی یاداشت بہت تیز ہوتی ہے۔ اچھوت کیسے بھول جائے گا کہ اس کے باپ دادا کے قاتلوں سے سمجھوتہ کر کے کس نے جاگیریں لیں۔ آج سے ڈھائی سو سال پہلے کسی معرکے میں تین ہزار لوگوں کا مارا جانا بہت بڑا سانحہ ہے لیکن درباری موٴرخوں کی لکھی ہوئی تاریخوں میں اس واقعے کا سرسری ذکر ملتا ہے اور حملہ آور کے گزٹ میں بھی اس جنگ کا ذکر غیر اہم طریقے سے کیا گیا ہے۔ تاریخ کی تمام کتابوں میں تین ہزار کولھیوں کے مارے جانے کا ذکر ایک سطر میں کیا گیا ہے۔ اتنا بڑا قتل عام بس ایک سطر میں یوں لکھا گیا ہے کہ اس معرکے میں تین ہزار کولھی مارے گئے۔ ہم تو وہ اجتماعی قبر ڈھونڈ رہے رہے ہیں جو اچھوتوں کے سینوں میں تو موجود ہے لیکن نہ دھرتی پہ اس قبر کے نشان ہیں نہ ریاستی کتابوں میں اس قبر کا احوال ہے۔ ننگر پارکر جیسے چھوٹے شہر میں اتنا بڑا قتل عام چھپایا گیا۔ ہم اپنی قبروں کو ڈھونڈنے کے لیے لوٹ آئے ہیں۔ اس ایک سطر سے ہماری شاعری آگے بڑھے گی۔ ہمارا ادب آگے بڑھے گا کہ ہم لوٹ آئے ہیں۔ اچھوت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بھولتا نہیں ہے۔ لہو کی وہ ندی آج بھی اچھوتوں کے سینے میں بہہ رہی ہے۔ ننگر پارکر میں اچھوت اپنے جبل اور ماحول کو بچانے کے لیے اکٹھے ہو گئے ہیں۔ یوں کہیے کہ دھرتی کے اصل وارث لوٹ آئے ہیں۔ جھوٹے وارثوں کی تاریخیں کچھ مٹ گئیں کچھ مٹ جائیں گی۔

اچھوت آج بھی یہ دعوی کرتا ہے کہ ہم سیو کارونجھر والوں کے ساتھ ہیں سیل کارونجھر والوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ اس دھرتی کے نام نہاد دعوی داروں کے ہاتھ کارونجھر کے قتل میں ملوث ہیں۔ یاد رکھو تاریخ تمہیں معاف نہیں کرے گی، تمہارے محل اجڑ جائیں گے ہمارا کارونجھر سلامت رہے گا۔

Facebook Comments HS