لون ایپس کے مظلوموں کی داستانیں


قرض شخصی ہو یعنی آپ کسی شخص سے قرض لیں یا کسی ادارے سے ظاہر ہے یہ انتہائی قدم بندہ کسی مجبوری ہی کی بنا پر اٹھاتا ہے اور جب یہ مجبور شخص کسی لون ایپ کا سہارا لیتا ہے تو لون ایپس اُس سے بہت ساری شرائط منواتی ہے اور وہ اپنی مجبوری کی وجہ سے ہر شرط مانتا چلا جاتا ہے۔

جیسے ہی کوئی شخص کوئی بھی لون ایپ ڈاؤن لوڈ کرتا ہے وہ ایپ سب سے پہلے اُس کی فون بک تک رسائی مانگتی ہے کیونکہ اُس شخص نے اپنی فون بک یا کانٹیکٹس میں اپنے تمام جاننے والوں اور رشتہ داروں کے فون نمبر محفوظ کیے ہوتے ہیں۔ یہ رسائی دیے بغیر لون ایپ مزید کارروائی آگے نہیں بڑھاتی اس لیے مجبوراً ہر شخص کو لون ایپ کو یہ رسائی دینا پڑتی ہے۔ اس کے بعد لون ایپ گیلری یعنی کہ موبائل میں محفوظ کی گئی تصاویر تک رسائی مانگتی ہے اور صارف کو یہ رسائی بھی دینا پڑتی ہے۔ قرض دیتے وقت لون ایپ والے انتہائی مناسب شرح سود بتاتے ہیں یعنی دو یا چار فیصد، صارف کے ذہن میں خیال آتا ہے کہ سود کی شرح زیادہ نہیں اور وہ مقررہ وقت میں آسانی سے قرض سود سمیت ادا کر دے گا لیکن جیسے ہی وہ قرض لیتا ہے وہ ایک عذاب میں پھنس جاتا ہے۔

لون ایپ والے قرض لی گئی رقم سے کئی گنا زیادہ رقم کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دس ہزار قرض لینے والے کو قرض لینے سے قبل یہ سمجھایا جاتا ہے کہ اُس نے صرف بارہ ہزار ادا کرنا ہوں گے لیکن قرض لینے کے فوری بعد اُسے پیغام آ جاتا ہے کہ آپ نے پچیس ہزار فلاں تاریخ سے قبل ادا کرنا ہیں۔ صارف پریشان ہوجاتا ہے اور اتنی بھاری رقم کی واپسی سے معذوری ظاہر کرتا ہے۔ لون ایپ والے اصرار کرتے ہیں، وہ انکار کرتا ہے، پھر سلسلہ دھمکیوں تک پہنچ جاتا ہے، اگر دھمکیوں کے بعد بھی صارف رقم اضافی سود سمیت ادا کرنے کو راضی نہ ہو تو وہ صارف کے موبائل فون میں محفوظ فون نمبروں پر رابطہ کرتے ہیں اور اُنہیں بتاتے ہیں کہ فلاں نام کے شخص نے اُن سے اتنا قرض لیا ہے اور اب ادا نہیں کر رہا۔

یہ ٹیلی فون کالز عام طور پر رشتہ داروں یا دوستوں کو جاتی ہیں، اگر اب بھی صارف رقم ادا نہ کرے تو لون ایپس والے اُس کی گیلری سے تصویریں اُٹھا کر اُنہیں ایڈیٹ کرتے ہیں اور اُس کے رشتہ داروں کو بھجوانے لگتے ہیں۔ اس حرکت کے بعد یا تو صارف قرض سود سمیت ادا کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے یا خودکُشی جیسا انتہائی قدم اُٹھا لیتا ہے۔

لون ایپس کے مظلوموں کی داستانیں

سُور کی شکل اور گالی

لاہور کے رہائشی ایک رکشہ مکینک نے بتایا کہ اُس کی والدہ کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی جسے وہ ڈاکٹر کے پاس لے کر گئے، علم ہوا کہ اُنہیں دل کا دورہ پڑا ہے اور ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔ چونکہ گھر میں کوئی اور مرد موجود نہیں تھا، اس لیے اُس نے اپنی دُکان بند کی اور والدہ کے ساتھ ہسپتال میں تیمارداری پر مامور ہو گیا۔ والدہ کوئی دو ماہ ہسپتال میں رہیں جس کے بعد اُن کا انتقال ہو گیا۔ اس دوران جمع پونجی ماں کے علاج اور تدفین پر خرچ ہو گئی۔ دکان پر پُہنچا تو دُکان پر دو تالے نظر آئے۔ پڑوسی دکانداروں نے بتایا کہ دُکان کا مالک آیا تھا، دو ماہ کا کرایہ نہ دینے کی وجہ سے اُس نے دُکان کو تالا لگا دیا ہے۔ رکشہ مکینک نے فون کر کے مالک کی منت سماجت کی اور وعدہ کیا کہ اُسے دُکان کھول کر کام کرنے دیا جائے وہ دو ماہ کا کرایہ چند دنوں میں ادا کردے گا مگر مالک نہ مانا البتہ اُس نے مکینک پر یہ مہربانی ضرور کی کہ اُسے کہا کہ اگر وہ ایک ماہ کا کرایہ بھی ادا کردے گا تو دُکان کھول کر کام کرنے کی اجازت مل جائے گی، اب اس ایک ماہ کے کرائے کے لیے اُس نے کسی دوست کے مشورے سے لون ایپ والوں سے تیس ہزار روپے قرض لیا۔ چند دن بعد لون ایپس والوں کی جانب سے پیغام آیا کہ آپ قرض کی رقم اور فنانس چارجز (سُود) پچاس ہزار روپے آج ہی ادا کر دیں ورنہ آپ پر جُرمانہ عائد ہو گا اور آپ کو اسی ہزار روپے ادا کرنا ہوں گے۔

میسج ملتے ہی اُس نے ہیلپ لائن پر کال کی اور بتایا کہ قرض دیتے وقت تو ایپ انتظامیہ نے ایسی کوئی بات نہیں کی تھی اور اُس کے پاس قرض ادا کرنے کے لیے پندرہ دن کی مہلت ہے مگر ہیلپ لائن والوں نے اُسے مزید ڈرا دیا اور کہا کہ پچاس ہزار فوری ادا کریں ورنہ آپ بُری طرح پھنس جائیں گے۔ چونکہ وہ رقم ادا نہ کر سکا، اس لیے بُری طرح پھنس گیا۔ لون ایپ والوں نے پہلے اُس کے رشتہ داروں کو فون کرنا شروع کیے، رقم پھر بھی ادا نہ ہو سکی تو اُنہوں نے اُس کی گیلری میں سے اُس کی تصویر اُٹھائی، اُس پر سور کی شکل چپکائی اور لکھا کہ ”یہ وہ سُور ہے جو قرض لیتا ہے، مگر ادا نہیں کرتا“ اور تصویر اُس کی ساس کے نمبر پر وٹس ایپ کر دی۔ اُس نے پھر ہیلپ لائن پر فون کر کے احتجاج کیا مگر لون ایپ والوں نے اُس کی ایک نہ سُنی اور اُسے ہی ڈراتے رہے۔ پھر کسی دوست نے اُس کی مدد کی اور وہ اسی ہزار ادا کر کے اپنی جان چھڑانے میں کامیاب ہُوا۔

قرض ادا نہ کر سکنے والی بیوہ کو بدکاری کی دعوت

ایک بیوہ نے رابطہ کیا اور بتایا کہ اُس نے اپنی بیٹی کی سکول کی فیس کے لیے لون ایپ سے دس ہزار روپے ادھار لیا۔ لون ایپ والوں نے کہا تھا کہ دس ہزار کے بدلے میں بارہ ہزار ادا کرنا ہوں گے۔ بیوہ نے سوچا کہ سکول میں بچی کو روز نہ بے عزت کیا جاتا ہے، بہتر ہے کہ سُود پر قرض لے لُوں چند دنوں تک کہیں سے انتظام ہُوا تو رقم ادا کر دوں گی مگر وہ انتظام نہ ہوسکا۔ دس ہزار سُود سمیت پچاس ہزار بن گئے۔ دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہُوا۔ بیوہ کے داماد کو کال کی گئی، وہ بھی غریب آدمی ہے تاہم وہ کہیں سے دس ہزار کا انتظام کرنے میں کامیاب ہو گیا اور دس ہزار لون ایپ والوں کو ادا بھی کر دیے مگر لون ایپ والے باقی کی رقم کے لیے اصرار کرتے رہے۔ بیوہ کے بقول ایک دن لون ایپ کے ایک آپریٹر نے اُنہیں کہا کہ اگر رقم ادا نہیں کر سکتی ہوتو ہمارے صاحب کے ساتھ آ کر سو جاؤ، تمہارا قرض ادا ہو جائے گا۔ بیوہ کہتی ہیں کہ اُنہوں نے اُسے گالیاں دیں جس کے بعد اُس نے بیوہ کی بیٹی کی تصویر ایڈیٹ کر کے اُنہیں وٹس ایپ کی جس میں وہ برہنہ تھی۔ بیوہ نے جب ہم سے رابطہ کیا تو ہم اُن کا کیس ایف آئی اے کے سائبر کرائم یونٹ میں لے گئے، جن کی مداخلت سے مزید پانچ ہزار دے کر بیوہ کی جان بخشی کی گئی۔

قارئین! کہانیاں تو کئی ہیں اور سب دردناک لیکن طوالت کا خوف رُکاوٹ ہے۔ عام طور پر کالج اور یونیورسٹیوں کے طلبا و طالبات فیس فوری ادا کرنے کے لیے یا کسی دوست یار کی فرمائش پوری کرنے کے لیے ان لون ایپس سے قرض لے لیتے ہیں۔ وہ اپنے والدین کو بھی نہیں بتاتے اور ان لون ایپس کے ہاتھوں بلیک میل ہونے لگتے ہیں۔ اس لیے خدارا اپنے بچوں کو سمجھائیں کہ وہ کسی بھی صورت ان لون ایپس کے چنگل میں نہ پھنسیں۔

آپ کو اب یہ بتاتے ہیں کہ خدانخواستہ اگر آپ کو کسی لون ایپ سے قرض لینا ہی پڑے تو آپ کیا کریں۔

سب سے پہلے تو کوشش کریں کہ کسی دوست، رشتہ دار یا عزیز سے ادھار پکڑ لیں اور ان لون ایپ کی طرف نہ جائیں لیکن اگر خدانخواستہ ایسا کرنا ہی پڑے تو لون لیتے وقت اُن کی تمام شرائط کے سکرین شارٹ لیتے جائیں۔ قرض جتنی مدت کے لیے لیں، کوشش کریں اُس مدت کے اندر ادا کر دیں۔ لون ایپ والے جب بھی فون کریں، اُن کی کال ریکارڈ کریں اور اگر وہ کوئی دھمکی دیں تو اس بات کا انتظار نہ کریں کہ وہ دھمکی پر عمل کر سکیں، نہ یہ سوچیں کہ محض دھمکی ہے وہ کُچھ نہیں کر سکتے بلکہ فوری طور پر ایف آئی اے سائبر کرائم یونٹ کو شکایت درج کرائیں، شکایت آپ آن لائن بھی درج کرا سکتے ہیں۔ اس کے لیے ویب سائٹ کا ایڈریس یہ ہے۔

www.fia.gov.pk
اس ویب سائٹ پر جا کر سائبر کرائم یونٹ کو سیلیکٹ کریں اور اپنی شکایت درج کرائیں۔ پھر سات دن کے اندر اپنے نزدیکی ایف آئی اے آفس میں جاکر متعلقہ افسر سے خود ملیں اور اُسے تمام ثبوت دیں تاکہ وہ لون ایپ والوں کے خلاف کارروائی کر سکے۔

۔

Facebook Comments HS