پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور کیمرہ مین مسعود بٹ سے بات چیت
یہ چند ماہ اُدھر کی بات ہو گی میں باری فلم اسٹوڈیوز میں نامور فلم ڈائریکٹر حسن عسکری بھائی سے ملنے گیا۔ اُن کے پاس انڈسٹری کے نامور کیمرہ میں خالد محمود صاحب اور مایہ ناز استاد کیمرہ مین مسعود بٹ صاحب کو بیٹھے دیکھا۔ حسن عسکری بھائی کو گھنٹہ بھر کے لئے سیٹ پر جانا تھا لہٰذا موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اِن لوگوں سے بات چیت کا بہترین موقع مل گیا۔ لیجیے آپ بھی یہ دلچسپ گفتگو سنئیے :
” مسعود بٹ صاحب مجھ سے بہت سینئیر ہیں بلکہ میرے استاد ہیں۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ فلم ٹریڈ میں کیسے آئے؟ ایک بہت بڑے ڈائریکٹر وحید ڈار صاحب اِن کے فرسٹ کزن تھے۔ اُن کے ساتھ آئے اور پھر کام سیکھا۔ لیکن بلا شبہ انہوں نے بڑی محنت کی۔ ان کی پہلی فلم“ نواب زادہ ” ( 1975 ) تھی اور ہدایت کار مسعود بٹ المعروف سودی بٹ صاحب کے ساتھ پہلی فلم“ اللہ رکھا ” ( 1987 ) تھی۔ بس پھر تو اللہ نے انہیں بڑی عزت دی“ ۔ کیمرہ مین خالد محمود صاحب نے تعارف کرایا۔
فلمی صنعت میں آمد:
” وحید بٹ صاحب آپ کے انڈسٹری میں آنے کا سبب بنے لیکن کیا آپ خود بھی اس شعبہ میں آنا چاہتے تھے؟“ ۔ میں نے کیمرہ مین مسعود بٹ صاحب سے سوال کیا۔
” مجھے فلم لائن میں جانے کا بالکل شوق نہیں تھا۔ وحید بٹ صاحب بھی ہماری گلی میں رہتے تھے۔ میری والدہ نے ان سے میرے لئے بات کی۔ مجھے تو بالکل پتا نہیں تھا کہ وہ فلم لائن سے منسلک ہیں۔ وہ مجھے اسٹوڈیو لائے اور کیمرہ مین نسیم حسین شاہ صاحب کا شاگرد کرا دیا جو رضا میر صاحب کے شاگرد تھے۔ نسیم حسین شاہ صاحب اسٹوڈیو میں چھِمی شاہ جی کے نام سے مشہور تھے۔ نوجوان تھے اور انڈسٹری میں اپنے کام کی وجہ سے مشہور بھی تھے۔ اس طرح رضا میر میرے دادا استاد ہوئے۔ جب میں پہلی مرتبہ سیٹ پر گیا تو وہ رات کی شوٹنگ تھی۔ میں نے نسیم حسین شاہ صاحب کو جب کام کرتے ہوئے دیکھا تو بے ساختہ میرے منہ سے نکلا کہ یہ کام میرے بس کا نہیں! اس فلم کے ڈائریکٹر عامر رشید صاحب تھے۔ گاؤں کے اوپن سیٹ کے آگے دو چار کمرے اور ایک ویہڑا تھا جہاں رنگیلا صاحب لال بجھکڑ کے کردار میں دیگر لوگوں کے درمیان رقاصہ چھم چھم پر فلمایا جانے والا گانا سُن رہے تھے۔ پھر رات 9 : 00 بجے ایک وقفہ ہوا تو میرے استاد نے مجھے 10 روپے دیے کہ باہر سے کھانا کھا لو۔ اس وقت میرے پاس بس وہی دس روپے تھے۔ میں کھانا کھانے باہر نہیں گیا بلکہ ادھر اُدھر اسٹوڈیو میں ہی گھومتا اور سوچتا رہا کہ میں دس روپے میں کتنا کھانا کھالوں گا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ زیادہ پیسے مانگیں اور میں نہ دے سکوں لہٰذا میں ویسے ہی واپس شوٹنگ میں چلا گیا۔ انہوں نے مجھ سے کھانے کے بارے میں پوچھا لیکن میں سچ بات گول کر گیا۔ رات کو جب شوٹنگ پیک اَپ ہوئی تو میں اپنے گھر واقع مصری شاہ چلا گیا۔ میری تنخواہ 60 روپے لگی تھی لیکن پھر وقت کے ساتھ بڑھتی گئی“ ۔
اپنے کام میں دلچسپی لینا :
” تو کیا پھر آپ کو فلم لائن سے دلچسپی پیدا ہو گئی!“ ۔
” ایسا نہیں ہوا! میں اسٹوڈیو میں بیزار ہو جاتا تھا کہ یہ تو میرے مطلب کا کام نہیں! میں تو تصویریں بنانے اور برش آرٹسٹ بننے کا شوق رکھتا تھا۔ میں کافی ناغے کرتا اسی لئے اپنی پوری تنخواہ گھر لے کر نہیں جاتا تھا۔ بلکہ اکثر ایسا بھی ہوا کہ میں دس اور پندرہ روپے گھر لے کر گیا! جب میں اسٹوڈیو نہیں جاتا تو والدہ زبردستی بھیج دیتیں۔ میں پھر داؤ لگا کر واپس گھر آ جاتا وہ پھر اسٹوڈیو بھیج دیتیں۔ اوپر سے جب میرے استاد اسٹوڈیو میں لائٹ کرواتے تو وہ میری سمجھ میں نہیں آتی کہ کیسے کرا رہے ہیں! کوئی کو اپنی کمزوریاں اور کوتاہیاں نہیں بتاتا لیکن میں اپنے بارے میں صاف بات بتلاتا ہوں۔ خاصا وقت گزار کر مجھے یہ بات سمجھ آئی کہ آدمی خود کام سیکھتا ہے کوئی اُسے نہیں سِکھا سکتا! انسان جب خود غور کرتا ہے تو بات بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ تم غور کرو تو ہی پتا چلے گا! میں بھی جب روز روز والدہ کے اسٹوڈیو واپس بھیجنے سے تنگ آ گیا تو اپنے کام پر غور کرنا شروع کر دیا۔ اُس وقت کیمرے باکسوں میں ہوتے تھے۔ کسی باکس میں لینس کسی میں کیمرہ تو کسی میں کیمرے کی موٹر۔ بیرونی عکس بندی میں جاتے تو موقع پر ان کو جوڑ کر تھری فیس کرنٹ والے کیمرے کی موٹر کی اسپیڈ چیک کرتے تا کہ کام شروع ہو سکے۔ اس کے لئے آؤٹ ڈور میں جنریٹر ساتھ لے جانا پڑتا“ ۔
کام میں دلچسپی بڑھنے لگی:
” تو جب اپنے کام پر غور کیا تو یہ عقدہ کھُلا کہ کام تو ایک ہی ہے! وہ برش کے ساتھ اور یہ روشنی کے ساتھ۔ تصویر تو روشنی سے بنتی ہے۔ کیوں نہ میں اس کو باقاعدہ سیکھوں؟ میرے استاد اِن ڈور میں اسکائی لائٹ کرواتے تھے۔ اس میں ڈے نائٹ دونوں تاثر ہوتے۔ شوٹنگ کے فلور پر بہت بڑی اسکائی بنی ہوتی تھی۔ ایک طرف شوٹنگ کے لئے چھوڑی جاتی اور تین اطراف لائٹنگ کرتے۔ سیٹ بھی اسی حساب سے لگتے تھے۔ بہرحال دائرے کی صورت اسکائی لائٹ کی سمجھ آنے لگی۔ یہ کہ اگر کوئی لائٹ تیز ہے تو اس کو کم کیسے کرتے ہیں اور کوئی کم ہے تو اس کو تیز کیسے کیا جاتا ہے۔ غور کرنے پر یہ بھی سمجھ آنے لگی۔ اُس وقت میری عمر بمشکل 15 سال ہو گی“ ۔
” شروع میں تو پھر آپ کو تین چار ماہ مشکل لگے ہوں گے؟“ ۔
” نہیں! کافی عرصہ مشکل وقت گزرا کیوں کہ یہ کام اتنا آسان بھی نہیں! “ ۔
” یہ کام اچھا لگنا کب شروع ہوا؟“ ۔
” اس میں مجھے کافی عرصہ لگ گیا۔ تب کہیں جا کر مجھے کچھ لائٹنگ کی سمجھ آئی۔ جب جب اپنے سینئیر کو کام کرتا دیکھتا تو شوق بھی پروان چڑھتا“ ۔
” بٹ صاحب وہ کون سی پہلی فلم تھی جس میں خود آپ نے لائٹنگ بھی کی؟“ ۔
” میں نے پہلے پہل اپنے استاد کے سیٹ پر لائٹنگ کی تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ لڑکا ٹھیک کام کر رہا ہے۔ پھر مجھ سے سینئیر ایک صاحب کیمرہ مین ہو گئے اُن کا نائب میں تھا۔ اُن دنوں بھارتی فلمیں ٹی وی چینل پر لگنا شروع ہو گئی تھیں۔ ایک دن شام کو کوئی مشہور بھارتی فلم دور درشن ٹی وی پر آ رہی تھی جسے دیکھنے کے لئے تمام بڑے لوگ جیسے ڈائریکٹر، کیمرہ مین وغیرہ چلے گئے۔ فلم شام کو لگتی تھی جو تین گھنٹے کی ہوتی۔ اِدھر شام کی شِفٹ شروع ہو گئی۔ میری عادت تھی کہ جب ڈائریکٹر کیمرہ مین کو شاٹ بتاتا تھا تو میں اُس کے پیچھے کھڑا ہو جاتا تا کہ سمجھ سکوں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ یوں آہستہ آہستہ ڈائریکشن کا بھوت بھی سوار ہو گیا“ ۔
” واہ! آپ کی کہانی میں کیا خوب موڑ آیا۔ کہاں یہ لائن ہی نا پسند اور کہاں دو دو شعبوں میں دلچسپی بڑھنے لگی“ ۔ میں نے کہا۔
” پھر میں نے ڈائریکشن پر بھی غور کرنا شروع کیا۔ بہرحال اُس روز سب بھارتی فلم دیکھنے چلے گئے تو میں نے سیٹ پر لائٹ مین سے کہا کہ چلو یار لائٹ کرتے ہیں۔ کیوں کہ اب شفٹ کے لائٹ مین جان گئے تھے کہ میں لائٹنگ کی الف ب جان گیا ہوں۔ میں نے ایک گھنٹہ لگا کر سین کے سیکوینس یعنی ترتیب کے حساب سے سیٹ پر لائٹ مکمل کر دی اور ہم سب اطمینان سے بیٹھ گئے۔ اب جب ڈائریکٹر حسن عسکری صاحب اور کیمرہ مین سیٹ پر آئے تو کسی نے بتا دیا کہ لائٹنگ تو ہو گئی ہے۔ حسن عسکری صاحب نے کیمرہ مین سے فُل لائٹ کرنے کا کہا۔ جب فُل لائٹ ہوئی تو انہوں نے کہا کہ واہ کیا لائٹ کروائی۔ اب داد اُن کو مل رہی تھی اور خوش میں ہو رہا تھا۔ وہ فلم“ سر دھڑ دی بازی ” ( 1972 ) تھی۔ یوں بتدریج میں نے اپنے شعبے میں دلچسپی لینا شروع کی اور دل جمعی سے کام کرتا گیا“ ۔
” ماشاء اللہ!“ ۔ میں نے بے ساختہ کہا۔
” مجھے یہ سمجھ آئی کہ یہ کام کوئی کسی کو سِکھا نہیں سکتا۔ اگر کوئی اس کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ غلط کرتا ہے! یہ نارمل کام نہیں بلکہ ابنارمل کام ہے۔ جتنا بھی فنونِ لطیفہ کا کام ہے سب ہی ابنارمل ہے“ ۔
” گویا یہ کام کرنے والے بھی ابنارمل ہیں؟“ ۔
” جی ہاں بالکل ابنارمل ہیں۔ میں تو سادا الفاظ میں کہتا ہوں کہ فنون کا تمام کام پاگلوں والا ہے! میں لوگوں سے کہتا ہوں کہ جب تم یہ کام کرو گے تو خود کہو گے کہ ہاں یہ واقعی پاگلوں کا کام ہے“ ۔
” رقص کی فلم بندی بھی خاصی متحرک اور چکر والی ہوتی ہے۔ کچھ یاد ہے کہ آپ کا پہلا ڈانس کون سا تھا؟“ ۔
” میری تو پہلی اسٹوڈیو آمد ہی پر رقص ہو رہا تھا۔ ہاں البتہ جب سمجھ آئی تو اللہ کے فضل سے جو لوگ ہمیں بتاتے تھے کہ یوں کرو تو میں نے انہیں بتانا شروع کیا کہ یوں کرو۔“ ۔
” اچھا!“ ۔
” جی ہاں! ایسا بھی ہوا“ ۔
” اپنی اولین بیرونی عکس بندی کے بارے میں کچھ بتائیں“ ۔
” میری بحیثیت کیمرہ مین پہلی مکمل فلم“ خاموش ” ( 1977 ) ہے جس کے ہدایتکار محمد طارق صاحب ہیں۔ اس سے پہلے فلمساز وحید بٹ صاحب کی فلم“ نواب زادہ” (1975) کی عکس بندی کے دوران ڈائریکٹر اکرم خان اور مذکورہ فلم کے کیمرہ مین کے درمیان کوئی جھگڑا ہو گیا اور انہوں نے فلم چھوڑ دی اور مجھے وہ فلم مکمل کرنے کو کہا۔ میں وہ فلم نہیں کرنا چاہتا تھا کیوں کہ وہ میرے سینئیر تھے۔ لیکن پھر معاملہ باری اسٹوڈیو کے چیف کیمرہ مین تک گیا اور پھر باقی فلم“ نواب زادہ ”میں نے مکمل کی۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ حالات کچھ بھی رہے میں کام سیکھتا رہا اور اب بھی سیکھ رہا ہوں“ ۔
” بہت خوب۔ ماشاء اللہ بٹ صاحب!“ ۔
” کیوں کہ کام کوئی بھی ہو انسان ساری زندگی سیکھتا ہی رہتا ہے“ ۔
” ایک عام تاثر ہے کہ آپ تھوڑے سے کڑک مزاج ہیں؟“ ۔
” کڑک مزاج میں شروع میں تھا کیوں کہ مجھے غصہ آتا تھا کہ لوگ کام کرتے ہی نہیں تھے۔ مثلاً میرے شروع کے دنوں میں کسی کا یہ کہنا کہ یہ قالین اُٹھاؤ تو میں وہ کام کر دیا کرتا۔ کسی نے یہ کہا کہ یہ کرسی ادھر رکھ دو میں نے رکھ دی۔ گویا میں نے وہ کام بھی کیے جو میرے کرنے والے نہیں تھے بلکہ میں اب تک وہ کام کرتا ہوں! پھر اپنے شعبے میں جب لوگوں سے کہتا کہ ایسے کرو تو وہ سنتے ہی نہیں تھے۔ پتا نہیں توجہ کہاں ہوتی تھی۔ اس بات پر غصہ آتا تھا۔ کیوں کہ سامنے والے کو اپنے شعبہ کی الف ب تو معلوم ہونا چاہیے۔ شاید وہ معلوم کرنا ہی نہیں چاہتے ہیں! جب کہ وہ اپنی مرضی سے اس شعبے میں آئے تھے، میری طرح زبردستی نہیں بھیجا گیا تھا۔ پھر میں تو اپنے تمام جونئیر کو کام کے دوران ساتھ ساتھ بتاتا تھا کہ یہ کام ایسے کرتے ہیں۔ لیکن ہمیں اس طرح کسی نے نہیں بتایا۔ انسان کو جب کوئی عہدہ ملتا ہے تو اس کا سنبھالنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ میرا فارمولا یہ ہے کہ آپ جب عہدے یا مرتبے پر بیٹھتے ہیں تو جتنا کام کرنے کی توقع ہے اس سے دگنا کریں گے تو ہی آپ کی بچت ہے! “ ۔
” بٹ صاحب آپ کو اپنی فلموں میں سب سے اچھی فلم کون سی اور کیوں لگتی ہے؟“ ۔
” فلمساز اور ڈائریکٹر طارق بٹ صاحب کی فلم تھی“ بگڑی نسلیں ”(1983)۔ میں نے اس میں جو کچھ بھی کم زیادہ آتا تھا وہ سب لگا دیا۔ اس فلم میں جیسی لائٹنگ ہونا چاہیے تھی وہ میں نے کی“ ۔
” یعنی اُس فلم میں کھیلنے کے لئے آپ کو پورا پورا میدان دیا گیا!“ ۔
” جی ہاں بالکل ایسے ہی ہے! “ ۔
” میں نے یونس ملک کے ساتھ بھی کام کیا ہے۔ “ مولا جٹ ” ( 1979 ) ،“ ضدی جٹ ” ( 1979 ) ،“ وحشی گجر ” ( 1979 ) وغیرہ ان کی مشہور فلمیں ہیں۔ اِن فلموں میں فلم“ مولا جٹ ”سنسر میں جا کر پھنس گئی۔ اُدھر ہم“ مولا جٹ اِن لندن ”کی شوٹنگ پر چلے گئے۔ وہاں علم ہوا کہ“ مولا جٹ ”سنسر بورڈ نے پاس کر دی ہے۔ اس فلم کے ہِٹ ہونے کے بعد ہمیں صحیح معنوں میں کام ملنا شروع ہوا اور اتنا ملا کہ ہمارے اوپر چڑھ دوڑا۔ ہم ادھر اسٹوڈیو ہی میں صوفوں پر سوتے اور یہیں سے کام شروع کرتے“ ۔
” کچھ تکلیف دہ سوال کرنے کی جسارت کرتا ہوں۔ اس دور میں تمام اسٹوڈیوز میں اتنا کام ہوتا تھا کہ کوئی فلور خالی نہیں ملتا تھا۔ اب آپ کو کیسا لگتا ہے؟“ ۔
” اب تو وہ دور ہی ختم ہو گیا!“ ۔ بٹ صاحب نے جواب دیا۔
” کیا وہ دور واپس آنے کی امید ہے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” امید تو تب ہو گی جب ایسے لوگ یہاں آئیں گے“ ۔
” ایسے لوگ آپ نے خود کیوں پیدا نہیں کیے؟“ ۔ میں نے پوچھا۔
” اسی کا تو مجھے بھی گلہ ہے نا! میں بھی تو یہاں بالکل جونئیر بندے کی حیثیت سے کبھی آیا تھا؟ جو ہمارے سینئیر تھے انہوں نے بعد کے آنے والی کھیپ تیار ہی نہیں کی۔ جس نے سیکھا اپنی ذاتی کاوش سے سیکھا“ ۔
” آپ کے خیال میں اب کیا کرنا چاہیے؟“ ۔
” یہ سوال بہت پوچھا جاتا ہے لیکن اب کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا!“ ۔
” کچھ بھی نہیں ہو سکتا؟“ ۔
” جی ہاں۔ وہ دور ختم ہو گیا اور وہ لوگ ختم ہو گئے۔ اب گنتی کے چند لوگ رہ گئے ہیں۔ ان کے پاس بھی وہ طاقت نہیں ہے کہ انڈسٹری کو آگے لے کر جائیں“ ۔
” گویا جو آج ہماری فلمی دنیا میں ہو رہا ہے وہ خود بخود نہیں ہو رہا۔ اس کے ذمہ دار کیا وہ لوگ ہیں جو اُس دور میں اپنے اپنے شعبوں میں عروج پر تھے؟“ ۔
” جی ہاں بالکل! اُس وقت جب کوئی جونئیر کسی بڑے یا سینئیر سے کچھ پوچھ لیتا تھا تو وہ اس کا جواب نہیں دیتے تھے“ ۔
” کیا یہ پکّی بات ہے؟“ ۔
” ہاں بے شک یہ پکّی بات ہے“ ۔
” جیسے کوئی فنکار اپنا فن دوسروں کو منتقل نہیں کرے اور اپنے ساتھ قبر میں ساتھ لے جائے! “ ۔
” یہی تو ہوا۔ ہماری انڈسٹری کیوں تباہ ہوئی؟ پھر جو منافقت ہے اس نے تو رہی سہی کسر بھی پوری کر دی۔ میں ادھر بیٹھ کر آپ کی تعریف کر رہا ہوں۔ اُٹھ کر گیا تو کوئی اور آ گیا اُس نے مجھے برا کہنا شروع کر دیا۔ تو آپ بھی اسی کی ہاں میں ہاں ملانے لگے“ ۔
قصور وار کون؟ :
” ٹھیک ہے سرمایہ ہو گا تو فلمیں بنیں گی لیکن فلمساز، تقسیم کار، سنیما والے اور دیگر فلم کے شعبے بھی کسی نا کسی طرح قصور وار ہوئے نا!“ ۔
” دیکھو! قصور وار تو سب ہی ہیں! کوئی ایک فرد یا شعبہ نہیں۔ اس فلم لائن کے پندرہ بیس تو شعبے ہیں۔ اب یہ تمام شعبے نئے آنے والوں کو تیار نہیں کریں گے تو پھر یہی ہو گا!“ ۔
” بٹ صاحب اگر کوئی آپ سے کہے کہ خود آپ نے کتنے افراد تیار کیے؟“ ۔
” ہم نے اس میدان میں خود ہی اپنے آپ سیکھا۔ مجھے تو کسی نے نہیں سکھایا نا ہی بتایا۔ اللہ نے مجھے عقل دی میں اس کام میں پاگلوں کی طرح گھس گیا اور سارے کام خود سیکھے“ ۔
” اگر کوئی آپ سے سنجیدگی سے سیکھنا چاہے تو جو آپ جانتے ہیں کیا وہ منتقل کریں گے؟“ ۔
” کیوں نہیں! جو بھی سیکھنے آئے گا اسے ضرور سکھاؤں گا، میں تو اب بھی سکھا ہی رہا ہوں۔ یہاں تک کہ میرے ساتھ جو ڈائریکٹر تھا جس نے مجھے پہلی مرتبہ کیمرہ مین کی حیثیت سے کھُل کر کام کرنے کا موقع دیا وہ پہلے میرے استاد کا شاگرد تھا۔ بات یہ ہوئی کہ ہدایتکار ایم جے رانا صاحب کا چار نمبر فلور پر سیٹ لگا ہوا تھا تو ہم دونوں اکٹھے باہر نکلے۔ فریش ہو کر واپس اندر گئے تو آگے خود ایم جے رانا کھڑے تھے۔ وہ مزاج کے بڑے سخت تھے۔ پوچھنے لگے کہ کون ہو کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا کہ میں شاہ جی کا شاگرد ہوں۔ فلور کے چھوٹے دروازے پر کھڑے ہو کر اندر شاہ جی کو مخاطب ہو کر کہنے لگے کہ شاہ جی مجھے آپ کے اتنے زیادہ شاگرد نہیں چاہیں! میں اندر اور طارق بٹ صاحب باہر چلے گئے۔ طارق بٹ صاحب پھر واپس ہی نہیں آئے اور شعبہ بدل کر ڈائریکشن میں آ گئے“ ۔
” یہ بتائیں کہ کیا آپ پھر ڈائریکشن لائن میں بھی آئے؟“ ۔
” میں نے ایک فلم“ عشق زندہ باد ”( 1992 ) بنائی جو ناکام ثابت ہوئی“ ۔
” کیا آپ اگر اس وقت ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کریں تو کامیاب رہیں گے؟ کیوں کہ آپ اس کام کی الف ب جانتے ہیں بلکہ مکمل گرفت حاصل ہے“ ۔
” وہ تو سب ٹھیک ہے لیکن میں اتنی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔ ڈائریکٹر کے اوپر بہت بوجھ ہوتا ہے“ ۔
” سودی بٹ صاحب جو بھی فلم بناتے ہیں اس میں کیمرہ مین ہمیشہ آپ ہی ہوتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟“ ۔
” میں تو یونس ملک کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ایک دور ایسا آیا کہ ایک پروڈیوسر نے مجھے کہا کہ اگر تم میری فلم میں کام کرو گے تو میں سودی بٹ کو ڈائریکٹر لوں گا ورنہ نہیں! شاہد صاحب! یہ بات میں آج پہلی مرتبہ آپ کو بتا رہا ہوں۔ بس اس بات کو دیکھتے ہوئے میں نے کیمرہ مین کی حیثیت سے وہ فلم کر لی۔ جب اُن کے ساتھ کام کیا تو پھر میں اُن کا کاندھا بن گیا۔ اور یہ سلسلہ دیر تک قائم رہا لیکن اب میں نہیں کروں گا!“ ۔
کیا آپ مطمئن ہیں؟
” آپ نے اپنی پوری زندگی فلم انڈسٹری کو دے دی۔ کیا آپ اس پر مطمئن ہیں؟“ ۔
” میں مطمئن ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو عقل اور مقام عطا کیا میں نے اس کے مطابق کام کیا اور اس پر خوش ہوں۔ اگر یہ مجھے عطا نہ ہوتا تو میں یہاں رل جاتا!“ ۔
” یعنی آپ اپنے انڈسٹری کے کام سے سو فی صد مطمئن ہیں“ ۔
” آپ کو یہ بتاتا ہوں کہ میں اپنے کام سے کیسے مطمئن ہوں۔ میں نے اتنا وقت اپنے گھر کو، بیگم اور بچوں کو نہیں دیا جتنا فلم انڈسٹری کو دیا۔ میں ایک شفٹ میں کام کرتا اور دوسری شفٹ میں سیٹ لگاتا۔ ایک ڈیوٹی پیسوں کے ساتھ تو دوسری شفٹ بغیر پیسوں کے“ ۔
” یعنی آرام کرنے کا وقت بھی مشکل سے ہی ملتا؟“ ۔
” جی ہاں ایسے ہی ہے! “ ۔
” آپ کے ساتھ جو حادثہ ہوا اس کا مختصر احوال بتائیے“ ۔
” حادثہ یوں ہوا کہ ہم نے متعلقہ فلم اسٹوڈیو کے شعبہ ایکشن کو کہا کہ فلم“ جنگل کا قانون ”( 1995 ) کے لئے ایک ’اسموک‘ بم درکار ہے جو ہم نے ریلوے اسٹیشن کے لاؤنج میں استعمال کرنا ہے۔ یہ یکم محرم کا واقعہ ہے۔ جب ہم شوٹنگ کرنے گئے تو ریلوے لاؤنج میں مسافروں کے روپ میں اسٹوڈیو کے آرٹسٹ بیٹھے ہوئے تھے۔ سب تیاری مکمل ہو گئی اور شاٹ عکس بندی کے لئے تیار ہو گیا۔ میں نے اسسٹنٹ کو کیمرے سے شاٹ لینے کو کہا اور خود اسموک بم کو کیمرے کے موٹے کپڑے کی چار تہوں میں دبا کر پکڑ لیا اور کیمرے کی ایک طرف کھڑا ہو گیا۔ میں چاہتا تھا کہ ایک ہی ٹیک میں شاٹ او کے ہو جائے کیوں کہ پُر ہجوم جگہوں پر ری ٹیک مشکل ہوتا ہے۔ شاٹ ریڈی ہوا۔ کیمرہ چلا اور ایکشن شروع ہوا۔ سین کے حساب سے کردار جب بھاگتے ہوئے آتے تو میں نے اسموک بم چلانا تھا۔ ایکشن ہوا اور اسموک بم بھی چلا۔ گرمی کا موسم تھا۔ کیمرے کے کپڑے کے نیچے میرا بازو اور ہاتھ خونم خون ہو گیا۔ ہر طرف شور مچ گیا۔ مجھے فوراً گاڑی میں بٹھا کر اسپتال لے جایا گیا۔ گاڑی تک اور پھر گاڑی سے ریلوے اسپتال تک میں خود چل کر گیا۔ میرا خون برابر جاری تھا۔ انہوں نے مرہم پٹی کرنے کے بعد کہا کہ انہیں میو اسپتال لے جاؤ۔ یہاں وقت گزر رہا تھا اور مجھے آپریشن تھیٹر نہیں لے جایا جا رہا تھا۔ پھر مجھے عمر اسپتال منتقل کیا گیا۔ اُدھر بھی میں سیڑھیاں چڑھ کر اوپر گیا۔ بس اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہیں رہا۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں لیٹا ہوا تھا۔ میرے سرہانے انجمن اور اس کی بہن گوری کھڑی تھیں اور سامنے میرا بیٹا کھڑا تھا۔ ہم دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں تو اس نے کہا کہ ابو فکر نہ کریں آپ ٹھیک ہو جائیں گے! مجھے اس بات سے بڑا حوصلہ ہوا کہ میرا بیٹا تسلی دے رہا ہے۔ میرے ڈاکٹر نے کہا کہ آپ اتفاق اسپتال میں داخل ہو جائیں میں وہاں آپ کا علاج کروں گا۔ یوں میں اتفاق اسپتال داخل ہو گیا۔ یہاں انہوں نے میرا ہاتھ کاٹ دیا اور کہا کہ اگر ابھی نہیں کٹوایا تو بعد میں اوپر سے زیادہ بازو کاٹنا پڑے گا۔ پھر ٹانکے لگا کر بند کر دیا۔ انہوں نے کوشش کی کہ انگوٹھا کسی طور بچ جائے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور اس کو بھی کاٹنا پڑا“ ۔
وہ اسموک بم نہیں تھا!
” اسموک بم سے اتنا شدید نقصان کیسے ممکن ہوا؟“ ۔
” وہ اسموک بم تھا ہی نہیں! یہی تو اُن لوگوں کی غلطی تھی۔ وہ تسلی کیے بغیر کوئی پرانا بم پکڑ کر لے آئے۔ اس میں تو سارا پھٹنے والا مادہ تھا“ ۔
” یہ تو صریحاً غفلت ہے۔ تو پھر ذمہ داروں کا کیا ہوا؟“ ۔
” کیا ہونا تھا! دیکھیں جب کبھی ایسی بات ہوتی ہے تو بڑے لوگوں کے حامی آ جاتے ہیں کہ معاف کر دو۔ جب یہ حادثہ ہوا تو فوراً ہی پولیس آ گئی۔ پوچھ گچھ کی کہ یہ کسی کی سازش تو نہیں؟ مجھ سے بھی کارروائی کرنے کا پوچھا میں نے کہا کہ کام کے دوران تھوڑی سی غلطی ہو گئی اور انہیں واپس بھیج دیا“ ۔
” بڑی بات ہے بٹ صاحب!“ ۔
” پھر جب میرے پاس لوگ آئے تو میں نے کہا کہ میرے ساتھ تو جو ہوا سو ہوا اب آئندہ ایسا نہ ہو اس سے نصیحت حاصل کریں! لیکن افسوس کہ اس کے بعد بھی اس سے ملتے جلتے واقعات ہوئے۔“ ۔
” اوہ! اللہ رحم کرے! “ ۔
” آج ہماری فلمی صنعت کے جو حالات ہیں ان میں کسی بہتری کی امید ہے؟“ ۔
” امید تو اچھی ہی رکھنا چاہیے! یہ نہیں ہے کہ کام دوبارہ نہیں ہو گا لیکن ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری زندگی میں نہیں ہو گا۔ اس کو سنبھالنے والے لوگ ضرور آئیں گے“ ۔
” بٹ صاحب یہ جو آج کل فلمیں بن رہی ہیں کیا ان میں کام ٹھیک ہو رہا ہے؟“ ۔
” بات یہ ہے کہ کام منظر پر تو آ رہا ہے نا! وہ کسی قابل ہیں تو ان کا کام چل رہا ہے! یہ بات ماننا چاہیے۔ نہیں مانیں گے تو پھر ہم ہٹ دھرمی پر ہیں۔ کوئی اچھا کام کر رہا ہے اس کو داد دینا چاہیے۔ یہ بھی تو دیکھو کہ انہوں نے کتنا پیسہ لگایا ہے! ہم نے تو اُن کو دعا دی ہے۔ اس میں انڈسٹری کا بھی تو فائدہ ہے نا۔ اگر ایسے پڑھے لکھے لوگ آئیں گے تو لازمی اپنے بعد آنے والوں کو تیار کریں گے“ ۔
کیمرہ مین خالد محمود صاحب نے ایک دلچسپ بات بتائی: ”مسعود بٹ صاحب کا ٹرننگ پائنٹ یہ ہے کہ ایک فلم“ جیلر تے قیدی ” ( 1975 ) شروع ہوئی۔ یہ ڈائریکٹر داؤد بٹ صاحب کی پہلی فلم تھی۔ انہوں نے اقبال نمی صاحب کو کیمرہ مین لیا۔ نمی صاحب نے کہا کہ اس لڑکے یعنی مسعود بٹ صاحب کا یہاں کیا کام؟ باری اسٹوڈیو کے سات نمبر فلور میں جیل کا سیٹ لگا ہوا تھا جہاں ایک قوالی عکس بند ہونا تھی۔ اقبال نمی صاحب نے شوٹنگ نہیں کی۔ اُن کی جگہ مسعود بٹ صاحب نے یہ کام کیا۔ وہ قوالی جب تین دن بعد ایڈیٹ ہو کر رش پرنٹ پر چلی تو لکشمی چوک میں دھوم مچ گئی۔ فلم لگنے سے پہلے پہلے داؤد بٹ صاحب کے پاس سات فلمیں تھیں! اس کے فوراً بعد اقبال نمی صاحب نے فلم“ جیلر تے قیدی ”دوبارہ پکڑ لی۔ ایور نیو والوں نے سودی بٹ کے ساتھ ایک فلم شروع کی تو
کہا کہ ہم اپنا کیمرہ مین لیں گے۔ ان کے پاس نگار ایوارڈ یافتہ علی جان صاحب، وقار بخاری صاحب اور دیگر کیمرہ مین ملازم تھے۔ سودی بٹ صاحب نے کہا میں مسعود بٹ صاحب کیمرہ مین کے ساتھ کام کروں گا نہیں تو فلم ہی چھوڑ دوں گا ”۔
” نگار ویکلی کے پڑھنے والوں کے لئے کوئی پیغام“ ۔
” میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ انسان کو محنت کرنا چاہیے۔ جب آپ صدقِ دل سے کوئی بھی کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ کامیابی دے گا! کیوں کہ منظوری تو اوپر سے ہی ہے“ ۔














