ترکی کا عقاب اور پاکستان کا ڈاگ فوڈ


نومبر 1990 کو نواز شریف نے پہلی دفعہ منتخب وزیراعظم کے طور پر پاکستان کا اقتدار سنبھالا ان کے زمانے وزارت عظمی کے دوران نجی شعبوں کے تعاون سے ملکی صنعت تجارت کو مضبوط اور فعال بنانے کے لیے مثبت کوششیں کی گئی اور بہت سارے نئے منصوبے بنائے گئے 1991 میں نواز شریف کی حکومت نے پیلی ٹیکسی اسکیم متعارف کرائی۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا اور عوام کو جدید ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنا تھا۔ نواز شریف اپنی پہلی حکومت میں پانچ سال کی مدت پوری نہ کر سکے اور صدر نے ان کو 1993 میں استعفی دینے پر مجبور کر دیا اس کے بعد معین قریشی کی سربراہی میں ایک نگراں حکومت قائم ہو گئی جس نے فوری طور پر پیلی ٹیکسی اسکیم کو ختم کر دیا۔

میں اس زمانے میں پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری سے ہی منسلک تھا۔ ہماری کمپنی نے بھی اس اسکیم میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہماری کمپنی پاکستان میں اسکوٹر اور آٹو رکشا تیار کرتی تھی اور اس کا اٹلی کی ایک کمپنی سے تکنیکی اشتراک تھا۔ اٹلی کی کمپنی بلاواسطہ طور پر فیٹ گروپ اٹلی کا حصہ تھی۔ ہماری کمپنی نے کوشش کی کہ کسی طرح فیٹ کار کے کچھ ماڈل پیلی ٹیکسی اسکیم میں متعارف کرا دیے جائیں۔ لیکن فیٹ اٹلی نے بوجوہ اس سلسلے میں کوئی گرم جوشی نہیں دکھائی۔

میں پاکستانی کمپنی میں کمرشل مینجر کے عہدے پر فائز تھا اور پیلی ٹیکسی اسکیم میں حصہ لینے کے لیے صحیح پروڈکٹ کی تلاش میری ذمہ داری تھی۔ اس زمانے تک ای میل اور ویب سائٹ کا چلن نہیں تھا انٹرنیشنل ٹیلی فون اور فیکس ڈائریکٹری اس طرح کی مہم جوئی کے لیے واحد ہتھیار تھے۔ بہرحال ایک دن مجھے ترکی کی ایک کمپنی کا جوابی فیکس موصول ہوا یہ ترکی کی ایک کمپنی Turk Otomobil Fabrikasi A S کی جانب سے تھا جن کی فیکٹری ترکی کے شہر برسا میں تھی۔ فیکس کی تفصیل سے پتہ چلا کہ یہ کمپنی فیٹ کا ایک ماڈل جو فیٹ 131 کہلاتا ہے اور اٹلی میں 1974 سے 1984 تک بنائی گئی تھی اور اب ترکی میں ٹوفاس شین کے نام سے بنائی جا رہی ہے اور اب اس کے سو فیصد پرزے ترکی ہی میں بنتے ہیں۔ TOFAS کمپنی کے نام کا مخفف ہے اور Shain ترکی زبان میں عقاب کو کہتے ہیں۔

ہم نے اس کمپنی سے معاہدہ کر لیا، سیمپل کی 5 گاڑیوں کے پیسے بھی ترکی بھیج دیے پاکستان میں ڈیلر نیٹ ورک بھی بنا لیا۔ ییلو کیب کی بکنگ بھی شروع کر دی۔ ہماری پاکستانی کمپنی چونکہ ایک مکمل آٹو موبائل پلانٹ کی مالک تھی اس لئے ان گاڑیوں کو پاکستان میں بنا نے کا منصوبہ بھی بنا لیا گیا تھا۔ ہمارے سیمپل کراچی پہنچے ہی تھے کہ نواز شریف حکومت کو چلتا کر دیا گیا سارا کام ٹھپ ہو گیا۔ وائے افسوس!

حال ہی میں ترکی جانا ہوا تو استنبول کی اکثر سڑکوں پر یہ گاڑیاں نظر آئیں حالانکہ ترکی میں ٹوفاس شین کی پروڈکشن 20 سال پہلے بند کر دی گئی تھی مزید معلوم ہوا کہ اس سال یعنی 2023 اس ماڈل کی پروڈکشن ترکی میں دوبارہ شروع کی جا رہی ہے۔ اتنا پرانا ماڈل دوبارہ۔ کیوں! اس کی وجہ یہ ہے کہ ترکی کو پچھلے دو سالوں سے بدترین معاشی بحران کا سامنا رہا ہے۔ وہاں بھی پاکستان کی طرح بے انتہا مہنگائی ہوئی ہے اور افراط زر میں 70 فیصد تک کا اضافہ ہو گیا ہے۔

بجلی اور گیس کی قیمتیں بھی کئی گنا بڑھا دی گئیں ہیں۔ وہاں بھی اشیاء ضروریہ میں قیمتوں کے اضافے کے خلاف احتجاج کا ایک عوامی سلسلہ شروع ہوا اور عوام بغیر کسی سیاسی جماعت کی پشت پناہی کے اپنے طور پہ سڑکوں پر نکل آئے۔ جن میں ”ہمارا گزارا نہیں ہو رہا“ کے نعرے بلند کیے جاتے تھے۔ ان عوامی جلوسوں میں مظاہرین اپنے بجلی کے بل نذر آتش کر کے یہ نعرے بھی لگاتے تھے کہ ”ہم ان بلوں کی قیمت نہیں ادا کریں گے“ اس تمام صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکومت ترکیہ نے ہنگامی بنیادوں پر کثیر الجہتی منصوبے بنائے۔

ان منصوبوں میں سب سے زیادہ زور ملکی صنعتی اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے ملک میں موجود وسائل کو بروئے کار لانے پرزور دیا گیا اس ضمن میں ٹوفاس شین کو دوبارہ بنانے کا پروگرام بنایا گیا کیونکہ اس کے سارے پرزے ترکی میں ہی بنائے جاتے تھے اور اب بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ اس کار کو بنانے کی پوری ٹیکنالوجی ترکی میں موجود ہے یہ ماڈل ابھی تک ترکی میں مقبول بھی ہے اور مناسب قیمت پر صارفین کو فراہم بھی کیا جا سکتا ہے۔

افسوس کی بات ہے کہ 75 سال گزرنے کے باوجود ہم ایک ایسی گاڑی نہ بنا سکے جو 100 فیصد پاکستانی پرزوں سے بن سکتی ہو۔ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ہم ایک چھوٹی کار کا مکمل انجن پاکستان میں نہیں بنا سکتے جبکہ لاہور میں نجی شعبے کی ایک کمپنی نے آج سے 70 سال پہلے مکمل ڈیزل انجن بنانے کی نہ صرف صلاحیت حاصل کر لی تھی بلکہ ڈیزل انجن بنانا بھی شروع کر دیے تھے۔ لیکن اب ہر طرف ”میڈ ان چائنہ“ کا راج ہے۔

پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کے ابتدائی عرصے میں حکومت درآمدی اشیاء پر قدغنیں لگانے پر مجبور ہو گئی۔ جن درآمدی اشیاء پر پابندی لگائی گئی اس میں بلی اور کتوں کی غذا بھی شامل تھی جس کو عرف عام میں کیٹ اور ڈاگ فوڈز کہا جاتا ہے کیونکہ حکمران طبقے کے افراد اور ان کی اولادیں بڑی تعداد میں بلیاں اور کتے پالنے کی شوقین ہیں اس لیے پورے ملک میں اس پابندی پر ہاہا کار مچ گئی حکومت کیٹ اور ڈاگ فوڈز کی درآمد پر پابندی ہٹانے پر مجبور ہو گئی حالانکہ ان فوڈز کو تیار کرنے والا تمام خام مال پاکستان میں دستیاب ہے اور اس کو بنانے کے لیے نہ کوئی ہائی ٹیک مشینری چاہیے نہ اس کے بنانے کی ترکیب کے لیے کوئی ٹیکنالوجی درکار ہے۔ لیکن اس کا کیا کیجیے کہ صاحب لوگ کہتے ہیں کہ ”ہمارا کتا صرف امپورٹڈ فوڈ کھاتا ہے۔“

Facebook Comments HS

One thought on “ترکی کا عقاب اور پاکستان کا ڈاگ فوڈ

  • 09/09/2023 at 1:17 شام
    Permalink

    It’s not about the dog’s preference, it is about quality of the local pet food. There are some Pakistani brands of pet food but even pets who happily eat regular human food won’t even take more than the first mouthful, even stray cats and dogs leave it

Comments are closed.