ایک پراسرار کائنات: ایٹم کی دنیا


ایٹم کا تصور ہزاروں سال پرانا ہے۔ اس عرصے میں ایٹم کی ساخت کو سمجھنے میں ایک طویل عرصہ لگا۔ یہ مضمون اس سفر کی کہانی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایٹم کے بارے میں ہمارا موجودہ تصور اتنا عجیب و غریب ہے، کہ ناقابل یقین ہے۔

ایٹم کی تاریخ 450 قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے۔ جب ڈیموکریٹس نامی یونانی فلسفی نے سوچا کہ اگر کسی چیز کو چھوٹے اور مزید چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کیا جائے، تو کیا ہو گا؟ انہوں نے سوچا کہ تقسیم کرتے کرتے ایک ایسا مقام آ جائے گا جہاں مزید تقسیم ممکن نہیں ہو گی۔ ڈیموکریٹس نے ان ’ناقابل تقسیم‘ ٹکڑوں کو ’ایٹموس‘ کہا۔ یہیں سے جدید اصطلاح ’ایٹم‘ آئی ہے۔ ڈیموکریٹس کا خیال تھا کہ ایٹم تعداد میں لامحدود، غیر تخلیق شدہ، اور ابدی ہیں، اور یہ کہ کسی چیز کی خصوصیات اس قسم کے ایٹموں سے پیدا ہوتی ہیں جنہوں نے اسے بنایا ہے۔

تقریباً سو سال بعد یونانی فلسفی ارسطو نے مادے کے بارے میں اپنا نظریہ پیش کیا جو ڈیموکریٹس کے ایٹم کے تصور سے متصادم تھا۔ ارسطو کا خیال تھا کہ ہر چیز چار عناصر زمین، ہوا، آگ اور پانی سے بنتی ہے۔ مثال کے طور پر، ایک بھاری عنصر، جیسے لوہا اور دیگر دھاتیں، زیادہ تر بھاری عنصر، زمین اور کچھ حصہ باقی تین عناصر سے بنتا ہے۔ اسی طرح، ہلکی چیزیں بڑی حد تک ہلکے عناصر، ہوا اور آگ، اور تھوڑی مقدار میں بھاری عناصر، زمین اور پانی پر مشتمل ہوتی ہیں۔

ہماری سائنسی سوچ پر ارسطو کا اثر تقریباً دو ہزار سال تک حاوی رہا۔ مادے کے چار اجزاء کے بارے میں ان کے خیالات کو سترہویں اور اٹھارہویں صدی میں سائنسی انقلاب کے آغاز تک قبول کیا گیا۔ اس وقت تک، ڈیموکریٹس کے خیالات کم و بیش بھلائے جا چکے تھے۔ ڈیموکریٹس کے نظریات کو اٹھارہویں صدی میں ایک برطانوی کیمیا دان جان ڈالٹن نے زندہ کیا۔ گیسوں کے دباؤ پر اپنے مطالعے کی بنیاد پر، انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ گیسوں میں چھوٹے ذرات، ایٹم، مستقل حرکت میں ہوتے ہیں۔ ان کی بنیادی دلچسپی مرکبات کی خصوصیات کا مطالعہ کرنا تھی۔

ڈالٹن کے جوہری نظریہ کے مطابق تمام عناصر انتہائی چھوٹے ذرات سے بنے ہیں جنہیں ایٹم کہتے ہیں۔ ایٹم مادے کے سب سے چھوٹے ذرات ہیں۔ انہیں مزید چھوٹے ذرات میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ ایک ہی عنصر کے تمام ایٹم سائز، کمیت اور دیگر خصوصیات میں ایک جیسے ہیں۔ مختلف عناصر کے ایٹم سائز اور دیگر خصوصیات میں مختلف ہوتے ہیں۔ مختلف عناصر کے ایٹم مل کر مرکبات بناتے ہیں۔ ایک دیا ہوا مرکب ہمیشہ ایک ہی تناسب میں ایک ہی قسم کے ایٹموں پر مشتمل ہوتا ہے۔

ڈالٹن کے نظریہ کے بہت سے پہلو درست تھے اور یہ ایک وسیع پیمانے پر قبول شدہ نظریہ بن گیا۔

تاہم، وہ یہ فرض کرنے میں غلط تھے کہ ایٹم سب سے چھوٹے ذرات ہیں اور ناقابل تقسیم ہیں۔ ڈالٹن نے فرض کیا کہ ایٹم ٹھوس کروں کی طرح ہیں۔ اس ماڈل کو یہ بتانے میں بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ مرکبات بنانے کے لیے ایٹموں کو کس طرح ملایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے سوچا کہ ایٹموں میں سوراخ ہو سکتے ہیں اور ہکس کا استعمال کرتے ہوئے آپس میں جڑ سکتے ہیں۔ یہ بہت سادہ سا ماڈل تھا، مگراس کی لیبارٹری میں تجرباتی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ڈالٹن کا ماڈل اس وقت غلط ثابت ہوا جب 1897 میں جے جے تھامسن کے علمی کام کے ذریعے الیکٹران جیسے چھوٹے ذرات دریافت ہوئے، اور یہ محسوس ہوا کہ ایٹموں کی ساخت کافی پیچیدہ ہے۔

تھامسن نے تجربات کیے اور مشاہدہ کیا کہ جب ویکیوم ٹیوب کے اندر دو دھاتی پلیٹوں کے درمیان وولٹیج کا اطلاق کیا جائے تو دونوں پلیٹوں کے درمیان ایک برقی رو بہنے لگتی ہے۔ یہ برقی رو ایسے منفی چارج شدہ ذرات پر مشتمل ہوتی ہے جن کا حجم ہائیڈروجن ایٹم سے تقریباً دو ہزارواں حصہ ہوتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ ان تمام چھوٹے سے ذرات کا وزن ایک ہی ہوتا ہے قطع نظر اس کے کہ وہ کسی بھی دھات سے آئے ہوں۔ یہ تھامسن کی الیکٹران کی دریافت تھی۔ انہوں نے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا کہ یہ ذرات ایٹم نہیں ہو سکتے بلکہ یہ ایٹم کے اندر سے آتے ہیں۔ اس مشاہدے نے یہ ثابت کیا کہ ڈالٹن کا یہ تاثر غلط تھا کہ ایٹم کو مزید چھوٹے ذرات میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔ الیکٹران ایٹم کے ذیلی ذرات ہیں۔ یہ ایک اہم دریافت تھی۔

اگلا سوال یہ تھا کہ ایٹم کے اندر چھوٹے سے الیکٹرون، جن پر منفی چارج ہوتا ہے، کس طرح موجود ہیں۔ ایٹم تو برقی طور پر نیوٹرل ہوتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ ایٹم الیکٹران جیسے منفی چارجز پر مشتمل ہوں اور پھر بھی برقی طور پر نیوٹرل ہوں۔

تھامسن نے ایٹم کا پلم پڈنگ سے ملتا جلتا قسم کا ماڈل تجویز کیا۔ انہوں نے تجویز کیا کہ جس طرح پلم پڈنگ میں پڈنگ ہوتی ہے اور اس میں جا بجا چھوٹے چھوٹے بیر ہوتے ہیں اسی طرح ایک کروی ایٹم یکساں طور پر مثبت چارج شدہ پڈنگ کی طرح ہوتا ہے اور الیکٹران اس میں بیر کی طرح سرایت کرتے ہیں۔ اس سے ایٹم کی چارج نیوٹرلیٹی کی وضاحت کرنے میں مدد ملی، تھامسن نے فرض کیا کہ ایٹم کی زیادہ تر کمیت مثبت چارج شدہ کرہ کی وجہ سے ہوتی ہے اور الیکٹرانوں کا حصہ بہت چھوٹا ہوتا ہے۔

یہ بیسویں صدی کے آغاز میں ایٹم کی تصویر تھی۔

نیوزی لینڈ کے ماہر طبیعیات ارنسٹ ردرفورڈ نے ایٹم کی ساخت کے بارے میں اگلی بڑی دریافت کی۔ انہوں نے نیوکلیس یا مرکزہ دریافت کیا۔

1899 میں، ردرفورڈ نے دریافت کیا تھا کہ بعض عناصر مثبت چارج شدہ ذرات خارج کرتے ہیں۔ انہوں نے انہیں الفا پارٹیکلزکا نام دیا۔ 1911میں، انہوں نے تجربات کیے جس میں سونے کی ایک بہت ہی پتلی چادر پر الفا کے ذرات کی بوچھاڑ کی گئی۔ اگر تھامسن کا پلم پڈنگ ماڈل درست تھا تو زیادہ تر الفا پارٹیکلز کو سونے کی اس پتلی سی چادر میں سے بہت چھوٹے انحراف کے ساتھ گزر جانا چاہیے تھا۔ مگر تجرباتی نتائج ڈرامائی طور پر مختلف تھے۔ یہ دیکھا گیا کہ زیادہ تر الفا ذرات سونے کے ورق میں سے بغیر کسی خاص انحراف کے گزر گئے۔ تاہم، چند الفا ذرات بڑے زاویوں پر بکھرے ہوئے تھے اور کچھ الٹی سمت میں بھی بکھر گئے۔ یہ بہت غیر متوقع تھا۔ جیسا کہ بعد میں ردر فورڈ نے کہا کہ یہ ایسا ہی تھا جیسے ٹشو پیپر سے ٹکرا کر ایک 15 انچ بڑی گیند واپس آپ سے ٹکرا جائے۔

اس تجربے کی بنیاد پر ردرفورڈ نے ایٹم کا ماڈل پیش کیا جس کے مطابق ایٹم کے درمیان میں نیوکلیئس یا مرکز ہے جس میں تمام مثبت چارج مرتکز ہوتے ہیں، اور منفی چارج زدہ الیکٹرون اس کے گرد چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔ تمام تر کمیت نیوکلیس میں مرکوز ہوتی ہے۔ اس طور وہ اپنے تجربے کے نتائج کی وضاحت کرنے میں کامیاب رہے۔

1913 میں، ڈنمارک کے سائنسدان نیلز بوہر نے کوانٹم نظریات کی بنیاد پر ایک ماڈل پیش کیا جس کے مطابق الیکٹرون کے مدار نیوکلیئس سے مقررہ فاصلے پر واقع ہوتے ہیں۔ یہ ردر فورڈ کے ایٹمی ماڈل سے مختلف تھا جس میں الیکٹران نیوکلیئس سے کسی بھی فاصلے پر چکر لگا سکتے تھے۔ بوہر کے ماڈل کے مطابق، الیکٹران طے شدہ توانائی کی سطحوں میں موجود ہو سکتے ہیں۔ توانائی کی یہ سطحیں مخصوص مداروں سے وابستہ ہیں۔ الیکٹرون صرف ان مداروں میں گردش کر سکتے ہیں، کسی اور مدار میں نہیں۔ اور جب الیکٹرون اوپر کے مدار سے نچلے مدار میں جمپ کرتا ہے تو ایک فوٹون خارج ہوتا ہے۔

بوہر کے کام سے ابھرنے والی ایٹم کی تصویر کچھ اس طرح ہے۔ ایٹم ایک نیوکلیئس پر مشتمل ہوتا ہے جس میں دو قسم کے ذرات ہوتے ہیں : مثبت چارج شدہ پروٹون اور برقی طور پر غیر جانبدار نیوٹران۔ منفی چارج شدہ الیکٹرون نیوکلیئس کے گرد مخصوص مداروں میں گھومتے ہیں۔ الیکٹرانوں کی تعداد پروٹون کی تعداد کے برابر ہوتی ہے۔ اس طور ایٹم برقی طور پر نیوٹرل ہوتا ہے۔ پروٹون اور نیوٹران، الیکٹرون سے دو ہزار گنا زیادہ بھاری ہوتے ہیں۔ اس طرح، ایٹم کا زیادہ تر وزن نیوکلیئس میں مرتکز ہوتا ہے۔

نیوکلیئس میں پروٹون کی تعداد عنصر کا تعین کرتی ہے۔ ہائیڈروجن ایٹم میں ایک پروٹون ہوتا ہے، ہیلیم میں دو پروٹون ہوتے ہیں، لیتھیم میں تین ایٹم ہوتے ہیں۔ آکسیجن میں آٹھ پروٹون ہوتے ہیں، وغیرہ۔ نیوٹران کی تعداد ایٹم کی کیمیائی خصوصیات کو متاثر نہیں کرتی ہے۔ سادہ ہائیڈروجن ایٹم میں ایک ہی پروٹون ہوتا ہے اور کوئی نیوٹران نہیں ہوتا۔ لیکن ہائیڈروجن کی ایک اور قسم، جسے ڈیوٹیریم کہتے ہیں، نیوکلیئس میں ایک پروٹون اور ایک نیوٹران ہوتا ہے۔ ایک ہیلیم ایٹم کے نیوکلیئس میں دو پروٹون اور دو نیوٹران ہوتے ہیں۔ ایک بار پھر، ہیلیم کی ایک اور قسم میں دو پروٹون اور ایک نیوٹران ہوتا ہے۔ آکسیجن ایٹم کے نیوکلیئس میں آٹھ پروٹان اور آٹھ نیوٹران ہوتے ہیں، نائٹروجن میں سات پروٹون اور نیوکلیئس میں سات نیوٹران ہوتے ہیں۔

بوہر ماڈل کی سب سے بڑی کامیابی ہائیڈروجن ایٹم سے خارج ہونے والی تابکاری کی وضاحت تھی جو اس وقت کی کوئی تھیوری کرنے کے قابل نہیں تھی۔ تاہم، یہ ماڈل مخصوص مفروضوں پر بنایا گیا تھا جو کہ ایڈہاک تھے اور کسی باقاعدہ تھیوری میں جڑے نہیں تھے۔ بوہر ماڈل صرف ہائیڈروجن سے خارج ہونے والی روشنی کی وضاحت کر سکتا تھا۔ اسی طرح کا ماڈل اگلے سادہ ترین ایٹم، ہیلیم ایٹم، سے خارج ہونے والی تابکاری کی وضاحت کرنے میں ناکام تھا۔

ایٹم کی حقیقی تصویر اس وقت سامنے آئی جب 1925اور1926 میں ہائزنبرگ اور شروڈنگر نے کوانٹم مکینکس کی بنیاد رکھی۔

کوانٹم مکینکس کے قوانین کے مطابق بوہر کا یہ ماڈل درست نہیں جس کے تحت الیکٹرون نیوکلیس یعنی مرکزے کے گرد اس طرح چکر لگا رہے ہیں جس طرح نظام شمسی میں سیارے سورج کے گرد چکر لگا رہے ہوتے ہیں۔

کوانٹم مکینیکل تصویر ناقابل تصور ہے۔

الیکٹرون سیارے کی طرح نیوکلیئس کے گرد چکر نہیں لگا رہے ہیں۔ اس کی بجائے، وہ نیوکلیئس کے گرد ایک روئی کے گولے یا دھند کی مانند ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ، اس دھند کا الیکٹرون کی حقیقی پوزیشن سے تعلق نہیں ہے، یہ دھند صرف الیکٹران کے ملنے کے امکان کو ظاہر کرتی ہے۔ جہاں دھند گہری ہے وہاں الیکٹرون کے ملنے کے امکانات زیادہ ہیں۔

اس طرح، ایٹم ’حقیقی‘ کچھ نہیں بلکہ امکانات کے بادل پر مشتمل ہے۔ کوانٹم میکانکس کے مطابق، الیکٹران اس وقت تک کوئی مقامی اصلی چیز نہیں ہے جب تک کہ ہم اسے دیکھنے کی کوشش نہ کریں اور جب اسے دیکھنے کی کوشش کریں تو اسے نیوکلیئس کے ارد گرد کسی بے ترتیب مقام پر موجود پائیں گے۔ تب تک ہم الیکٹران کو کسی بھی حقیقت سے نہیں جوڑ سکتے۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ صرف مختلف مقامات پر وجود کا امکان ہے اور کچھ نہیں۔ ذرا تصور کریں کہ ہمارے اردگرد کی تمام اشیاء، بشمول ہم خود، ایسے ایٹموں پر مشتمل ہیں جو ایک دوسرے پر ڈھیر ہیں! یہ طبعی قوانین کے مطابق واقعی عجیب مگر حقیقی تصویر ہے۔

ایٹم کی اس تصویر کے کئی ناقابل یقین پہلو ہیں۔

جیسا کہ ذکر کیا، امکانات کی تقسیم کچھ اس طرح ہوتی ہے کہ جہاں دھند گہری ہو وہاں الیکٹران کی موجودگی کے امکانات زیادہ ہوں گے، مرکزے سے دور الیکٹرون کی موجودگی کا امکان کم ہوتا جائے گا۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یہ امکان ایٹم سے دور، بہت دور، صفر نہیں ہوتا ہے۔ وہاں امکان بہت کم ہو جاتا ہے، لیکن غائب نہیں ہو تا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ الیکٹران کو مرکزے سے ایک ملی میٹر، ایک میٹر، یا یہاں تک کہ ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تلاش کرنے کا امکان موجود ہے۔

ایٹم کی ایک اور عجیب و غریب خصوصیت یہ ہے کہ یہ کتنا خالی ہے، یعنی اگر ہم اس کے بارے میں اپنے کلاسیکی وجدان کے ساتھ سوچیں۔

ایٹم عام طور پر کروی شکل میں ہوتا ہے لیکن ہمیشہ نہیں۔ ایٹم کا حجم ایک میٹر کے ایک اربویں حصے کے دسویں حصے کے برابر ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دس کروڑ ایٹم ایک قطار میں ایک دوسرے کے ساتھ رکھے جائیں تو ایک سینٹی میٹر تک پھیلیں گے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، ایٹم کا مرکزی حصہ پروٹون اور نیوٹرون پر مشتمل نیوکلیئس ہے۔ نیوٹرون اور پروٹون کا وزن تقریباً برابر ہوتا ہے لیکن یہ الیکٹرون سے تقریباً دو ہزار گنا زیادہ وزنی ہوتے ہیں۔ اس طور نیوکلیئس ایٹم کی کل کمیت کا 99، 9 فیصد سے زیادہ پر مشتمل ہوتا ہے جبکہ باقی کمیت الیکٹران کی ہوتی ہے تاہم، نیوکلیئس کا سائز ایٹم کے سائز کا لاکھواں حصہ ہوتا ہے۔

ایٹم کے ساخت کو سمجھنے کے لیے تصور کریں کہ اگر نیوکلیئس ٹینس بال کے سائز کا ہے، تو ایٹم تقریباً سات کلومیٹر قطر کے ایک چھوٹے سے قصبے کے سائز کا ہو گا اور الیکٹران ایک مٹر کے دانے کے برابر ہو گا۔ باقی جگہ خالی ہو گی۔ یہ واقعی حیرت انگیز ہے کہ ایٹم کے ٹھوس کرہ ہونے کے ہمارے تاثر کے برخلاف، یہ تقریباً مکمل طور پر خالی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے سات کلومیٹر قطر کے دائرے میں صرف ایک مٹر کا دانہ اور ایک ٹینس بال۔ یہاں میں نے جو نمبر دیے ہیں وہ ہائیڈروجن ایٹم سے مماثل ہیں، لیکن وہ بھاری ایٹموں کے لیے زیادہ مختلف نہیں ہیں۔

اس بات پر یقین کرنا مشکل ہے کہ ہمارے اردگرد موجود تمام اشیاء ایسے ایٹموں سے بنی ہیں جو اتنے کھوکھلے ہیں۔

تاہم، ہمیں اس تصویر کے ساتھ محتاط رہنا چاہیے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے، حقیقی کوانٹم مکینیکل تصویر دھند سے گھرے ہوئے نیوکلیئس کی ہے۔ لیکن یہ دھند الیکٹران کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اس کے بجائے، یہ دھند الیکٹرون کو تلاش کرنے کے امکانات کی نمائندگی کرتی ہے۔ ایٹم زیادہ تر خالی ہے لیکن امکانی تقسیم کی دھند سے بھرا ہوا ہے۔

ایٹم کا کوانٹم مکینیکل تصور واقعی دماغ چکرا دینے والا ہے!

لیکن پراسراریت یہاں ختم نہیں ہوتی۔ اگر تجربات کے نتیجے میں الیکٹرون امکانات کے بادل میں کسی مقام پر پایا جائے تو کوانٹم مکینکس کے مطابق یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ الیکٹرون تجربہ کرنے سے پہلے بھی وہیں موجود تھا۔ کوانٹم مکینکس کے مطابق الیکٹرون اس مقام پر تجربہ کے نتیجے میں وجود میں آیا۔ یہ حیران کن نتیجہ الیکٹرون اور ایٹم، اور شاید کائنات، کی حقیقت کے بارے میں سوالات کو جنم دیتا ہے۔ یہ میرے اگلے مضمون کا موضوع ہو گا۔

یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe Oxford University Press 2023 سے ماخوذ ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy