تمباکو سے پاک پاکستان


عالمی ادارہ صحت نے اپنی حالیہ رپورٹ میں برازیل، ماریشئس، نیدرلینڈ اور ترکیہ کی جانب سے تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔ یہ تمام اقدامات عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان چاروں ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات صحیح سمت میں درست اقدام ہے مگر دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح یہ ممالک بھی فی الوقت تمباکو نوشی سے پاک مستقبل کے حصول سے کوسوں دور ہیں۔

اس صورت حال کو مدنظر رکھا جائے تو یہ ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے ایک جامع پالیسی بنائی جائے جس میں تمباکو کے نقصان میں کمی کے تصور کو بھی شامل کیا جائے۔ یہ تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے ایک موثر حکمت عملی ہوگی مگر افسوس کہ عالمی ادارہ صحت نے تمباکو کی متبادل کم نقصان دہ مصنوعات سے متعلق گریز کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے جو تمباکو نوشی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی رکاوٹ بن کر رہ گئی ہے۔

دنیا کے 180 ممالک کی جانب سے ٹوبیکو کنٹرول پر عالمی ادارہ صحت کے فریم ورک کنونشن کی توثیق کی جا چکی ہے مگر اس کے باوجود تمباکو نوشی، اموات کی ایک بڑی وجہ ہے حالانکہ ان اموات کی روک تھام ممکن ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق تمباکو نوشی کی وجہ سے ایک سال میں 87 لاکھ افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں جبکہ ان میں 13 لاکھ افراد وہ ہیں جو خود تمباکو نوش نہیں ہیں مگر دوسروں کی تمباکو نوشی کے مضر اثرات (سیکنڈ ہینڈ سموک) کے نتیجے میں ہلاک ہو جاتے ہیں۔

گو کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے مختلف نوعیت کے اقدامات اٹھائے گئے ہیں مگر ان کے کوئی زیادہ مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ آپ پاکستان کی مثال لے لیجیے، تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے اقدامات اٹھائے جانے کے باوجود اس کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ دس لاکھ تمباکو نوش ہیں۔

پاکستان میں تمباکو نوشی کی روک تھام تمباکو کنٹرول کی کوششوں کی ایک کمزور کڑی ہے۔ سن 2017 میں پہلی بار نکوٹین ریپلیسمنٹ تھراپی کو لازمی ادویات کی فہرست میں شامل کیا گیا مگر یہ بہت مہنگی اور آسانی سے دستیاب نہیں ہیں ہے۔ یہاں ای سگریٹ سمیت دیگر کم نقصان دہ تمباکو کی متبادل مصنوعات کے لئے کوئی قانون سازی موجود نہیں ہے۔ یہ مصنوعات بھی کافی مہنگی ہیں اور ملک کے صرف بڑے اور مہنگے شہروں میں دستیاب ہیں۔

اسلام آباد کے ایک تھنک ٹینک، آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو (اے آر آئی) کی ایک تحقیق کے مطابق، ملک میں 70 فیصد سے زیادہ ڈاکٹر غلط طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ نکوٹین سے پھیپھڑوں کا کینسر لاحق ہوتا ہے۔ تمباکو نوش، تمباکو کنٹرول کی کوششوں کے اہم کردار ہیں مگر ان کی آواز کو کبھی نہیں سنا گیا کہ انہیں تمباکو نوشی ترک کرنے کے لئے کس قسم کی مدد در کار ہے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ملک میں تمباکو نوشی کی بڑھتی شرح کے باوجود پورے ملک میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے صرف ایک کلینک ہے جو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ہے۔ یہی وہ کمزوریاں ہیں جن کی وجہ سے سال میں تین فیصد سے بھی کم افراد تمباکو نوشی ترک کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

دوسری طرف ہمارے پاس سویڈن کی مثال ہے جس نے کم نقصان دہ متبادل مصنوعات کی مدد سے تمباکو نوشی کی شرح میں کامیابی کے ساتھ کمی لانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ سویڈن میں اس وقت تمباکو نوشی کی شرح 5.6 فیصد ہے اور کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ یہ شرح 5 فیصد سے بھی کم کر دی جائے۔ جس ملک میں تمباکو نوشی کی شرح 5 فیصد سے کم ہو جائے تو وہ تمباکو سے پاک ملک بن جاتا ہے اور سویڈن تمباکو سے پاک ملک بننے کے قریب ہے۔

یہ بات تو سائنسی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ یہ متبادل مصنوعات کم نقصان دہ ہیں اور انہیں تمباکو نوشی کی روک تھام کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ان مصنوعات پر پابندی کے مطالبات کی بجائے نقصان میں کمی کے تصور کو سمجھا جائے اور تمباکو سے پاک مستقبل کے حصول کے لئے ان مصنوعات سے استفادہ کیا جائے۔

ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تمباکو سے پاک پاکستان کا حصول ممکن ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ حکومت نقصان میں کمی کے تصور کو ٹوبیکو کنٹرول کی قومی پالیسی کا حصہ بنائے، انسداد تمباکو نوشی کی موثر سہولیات کی

سستے داموں آسانی کے ساتھ فراہمی یقینی بنائے اور متبادل مصنوعات کے استعمال کے لئے قانون سازی کرے۔

Facebook Comments HS