بے کس خواتین کو مارنا مردانگی نہیں بزدلی ہے
پیارے بھائی عزیزم نعیم اللہ نے بتایا کہ پیاری گڑیا سپوگمئی (چاند) اور خوبصورت پھول وصال خان کی تعلیم، تربیت اور علاج معالجے کی پوری ذمہ داری انھوں نے یعنی پرورش آرگنائزیشن سوات نے اپنے ذمہ لے لی ہے۔
ایک ہی دل ہے کتنی بار جیتو گے!
دو دن پہلے مینگورہ سوات میں ایک شقی القلب درندے نے اپنی روٹھی ہوئی بیوی جو کئی سالوں سے والدین کے گھر بیٹھی تھی اور اپنے بچوں کو پالنے کے لئے گھروں میں کام کاج کیا کرتی تھی، دن دیہاڑے چھوٹے بچے کی عین آنکھوں کے سامنے گولی مار کر قتل کیا۔
زرا تصور کرے کہ ایک ماں غریب والدین کے گھر پانچ، چھ سالوں سے دو بچوں سمیت بے بسی اور لاچارگی کی زندگی گزارتی ہے اور جینے اور دو بچوں کے پیٹ پالنے کے لیے در در خاک چھاننے پہ مجبور ہیں اور ایک نہیں بیک وقت کئی گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہیں لیکن دو بچوں کا باپ جو غیرت کی پگڑی سر پہ سجا کر بے شرمی کے ساتھ گھوما پھیرتا ہے لیکن بیوی بچوں کو گھر بسانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کرتا۔ اپنی جھوٹی انا، ضد اور نام نہاد غیرت کی آڑ لے کر ایک کمزور خاتون کو تڑپا رہا ہے۔
آخر یہ مردانگی اور غیرت کی کون سی قسم ہے جو اس طرح کے جاہل لوگ اپناتے ہیں۔
میاں بیوی کے درمیان ناچاقی پیدا ہونا عام سی بات ہے لیکن بہت ساری چیزوں کو محبت، چاہت، ہمدردی اور بچوں کی مستقبل کے خاطر نظر انداز کیا جاتا ہے۔ بات آگے بڑھے تو سنجیدگی کے ساتھ صلح صفائی کی کاوشیں کی جاتی ہیں لیکن جب تمام تدابیر ناکام ہو جاتے ہیں اور ساتھ رہنے کی کوئی سبیل نہیں نکل آتی تو مردانگی یہ ہے کہ ہمت اور جرات سے کام لے کر باعزت اور بھلے طریقے کے ساتھ علیحدگی اختیار کی جائے اور بچے ہونے کی صورت باہمی اعتماد اور مشورے کے ساتھ بچوں کی تعلیم، تربیت اور بہتر مستقبل کے لیے کوئی اچھی صورت نکالی جائے۔ یہی اسلام کا حکم ہے اور اسلامی معاشرے میں لاتعداد نظائر ہمیں ملتے ہیں۔
ماں کی لاش پر بے بسی کی تصویر بنے روتے بچے کے منظر نے دنیا کو ہلا کے رکھ دیا اور زندہ دلوں کو مضطرب، بے چین اور زخمی کر کے رکھ دیا۔ ایسے دلخراش واقعات معاشرے کی سنگ دلی، بے حسی، درندگی، جہالت، عدم برداشت اور مارنے، مرنے کے جاہلانہ تصورات کی عکاسی کرتی چلی آرہے ہیں۔ تعلیم و ترتیب کی کمی، قانون کی کمزوری، عدالتی نظام کی عدم انصافی اور جاہلانہ رسم و رواج کی وجہ سے آئے روز اس طرح کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
والدین کے آسرا اٹھنے کی وجہ جو بھی ہو لیکن جو بچے یتیم رہ جائیں وہ بہت متاثر ہوتے ہیں اور اکثر اوقات نفسیاتی عوارض میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور خاندان اور معاشرے کے لیے ایک بوجھ اور مسئلہ بھی بن جاتے ہیں۔
قابل داد ہیں وہ لوگ جو ان بے آسرا بچوں کو سینے سے لگا کر ان کا آسرا بن جاتے ہیں اور ان کے سروں پر شفقت اور محبت کا ہاتھ رکھ کر جینے کے لیے اعتماد دیا کرتے ہیں۔
ہمارا بھائی عزیزم نعیم اللہ جو اپنی ذات میں انجمن ہے اور اپنی پی پناہ خداداد صلاحیتوں کو یتیم بچوں کی کفالت اور انھیں زندگی گزارنے کی گر سے آشنا کرانے کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ پرورش کے نام سے ایک خوبصورت اور ماڈل ادارے کا قیام پورے سوات ہی کیا مالاکنڈ ڈویژن کے لیے ایک اعزاز اور امید ہے جہاں سینکڑوں یتیم بچوں کی ہمہ وقت تعلیم، تربیت، تفریح، کھیل کود، علاج معالجے، کھانے پینے اور رہائش کا ایک معیاری، مربوط اور منظم انتظام کر رکھا گیا ہے۔ بیسیوں بچے یعنی طلبہ اور طالبات یہاں سے فارغ ہو کر پورے اعتماد اور خود داری کے ساتھ پروفیشنل تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل معاشرے میں بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔
محمد نعیم اللہ جیسے حساس، ہمدرد، مفید اور درد دل رکھنے والے باصلاحیت اور باکردار لوگ معاشرے کا حسن اور زمین کا نمک ہیں۔
یہ جو ہم لوگ ہیں احساس میں جلتے ہوئے لوگ
ہم زمیں زاد نہ ہوتے تو ستارے ہوتے۔
نعیم اللہ اور سب پرورشئین کے لیے نیک تمنائیں اور محبتیں


