تمباکو نوشی سے متعلق آگہی کو سکول، کالج کے نصاب کا حصہ بنایا جائے

نوجوانوں میں تمباکو نوشی کی بڑھتی ہوئی شرح اور اس سے ہونے والی بیماریوں کے مسلسل خطرے کی وجہ سے تمباکو کا استعمال پاکستان میں صحت عامہ کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ نوجوانوں کو سگریٹ پرُکشش لگتا ہے جس کی وجہ سے وہ اس کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں 13 سے 15 برس کے 10.7 فیصد نوجوان تمباکو کی مصنوعات استعمال کرتے ہیں جن میں 7.2 فیصد سگریٹ پیتے ہیں اور باقی بغیر دھوئیں والی

Read more

پاکستان میں تمباکو نوشی کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟

مئی کا مہینہ شروع ہو چکا ہے جو انسداد تمباکو نوشی کے لئے کی جانے والی کوششوں کی وجہ سے اہمیت کا حامل ہے۔ ”ورلڈ نو ٹوبیکو ڈے“ ہر سال 31 مئی کو منایا جاتا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ اس موقع پر پاکستان میں تمباکو نوشی کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا جائے۔ بدقسمتی سے ملک میں تمباکو نوشی کا پھیلاؤ صحت کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں بالغ افراد

Read more

بچوں کو سگریٹ نوشی سے بچانے میں والدین کا کردار

پاکستان سمیت دنیا بھر میں تمباکو نوشی صحت کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے کیوں کہ معاشرے میں اس کی جڑیں گہری ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں میں تمباکو کے استعمال کے نقصانات کے بارے میں آگہی بڑھی ہے مگر اس کے باوجود یہ ایک چیلنج بنا ہوا ہے۔ خاص طور پر ان نوجوانوں کے لئے جو اکثر دوستوں کے دباؤ اور میڈیا کے اثر کا شکار ہوتے ہیں۔ والدین بنیادی طور پر بچوں کے نگہبان اور رول

Read more

پاکستان میں تمباکو نوشی کا خاتمہ

تمباکو کا استعمال پاکستان میں صحت کے سب سے اہم چیلنجز میں سے ایک ہے۔ ایک اندازے مطابق ملک میں دو کروڑ چالیس لاکھ ( 24 ملین) سے زیادہ بالغ افراد مختلف شکلوں میں تمباکو کا استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے ملک کو تمباکو سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کا سامنا ہے۔ ان بیماریوں میں پھیپھڑوں کا کینسر، دل کی بیماری اور پھیپھڑوں کے افعال میں دائمی رکاوٹ (سی او پی ڈی) شامل ہیں۔

Read more

تمباکو سے پاک پاکستان

عالمی ادارہ صحت نے اپنی حالیہ رپورٹ میں برازیل، ماریشئس، نیدرلینڈ اور ترکیہ کی جانب سے تمباکو نوشی کے خاتمے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔ یہ تمام اقدامات عالمی ادارہ صحت کے تجویز کردہ ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان چاروں ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات صحیح سمت میں درست اقدام ہے مگر دنیا کے بیشتر ممالک کی طرح یہ ممالک بھی فی الوقت تمباکو نوشی سے پاک مستقبل کے حصول سے

Read more

ای سگریٹ: ہم آدھی سائنس مانتے ہیں

المیہ یہ ہے کہ ہم آدھی سائنس مانتے ہیں اور آدھی نہیں مانتے، ہم وہ سائنس مانتے ہیں جو ہماری سوچ سے متصادم نہ ہو۔ جب بھی سائنس ہمارے تصور کی نفی کرتی ہے تو ہم اس (سائنس) کا انکار کر دیتے ہیں۔ چاہے رویت ہلال کا مسئلہ ہو یا پھر کورونا وائرس کا ، ہم مسلمہ سائنسی حقائق کو بالائے طاق رکھ کر مفروضوں کی بنیاد پر فیصلے کرنے لگتے ہیں۔ اب سائنسی شواہد کی بنیاد پر ہی مغربی ممالک،

Read more

سویڈن کا تمباکو سے چھٹکارا

سویڈن تمباکو نوشی سے پاک ملک بننے کے قریب پہنچ گیا ہے کیوں کہ وہاں تمباکو نوشی کی شرح 5.6 فیصد تک گر گئی ہے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کیوں کہ یورپی یونین کے ممالک نے تمباکو نوشی سے پاک ہونے کا ہدف سن 2040 مقرر کر رکھا تھا مگر سویڈن یہ ہدف تمباکو کی متبادل کم نقصان دہ مصنوعات کے استعمال کی مدد سے رواں برس یعنی مقررہ ہدف سے 17 سال قبل ہی حاصل کرنے میں کامیاب

Read more

گند پہ گند

وطن عزیز میں جینا محال ہو گیا ہے مگر آپ ہماری بے حسی اور نکمے پن کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ آج تک ہم یہ فیصلہ نہ کرسکے کہ ملک کی موجودہ زبوں حالی کے ذمہ دار کون ہیں؟ ایک طبقہ سیاست دانوں اور دوسرا اسٹیبلشمنٹ کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے۔ یہ آراء قابل قدر ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم جمہوریت کے نام پر مٹھی بھر سیاسی خاندانوں اور اسٹیبلشمنٹ کو بھگت چکے ہیں۔ سیاسی جماعتیں

Read more

ویپنگ (Vaping): موثر یا غیر موثر

یہ بات تو سب جانتے اور مانتے ہیں کہ تندرستی ہزار نعمت ہے۔ یہ ایسی نعمت ہے جس سے محروم ہونے پر کسی انسان کو اگر سکندر اعظم یا مغل بادشاہ کا رتبہ دیا جائے تب بھی اسے سکون نہ آئے۔ پشتو کی ایک کہاوت ہے ’روغ صورت اختر دی‘ یعنی اصل عید تندرستی ہے۔ تندرستی کا سب سے بڑی نعمت ہونے کی اس مسلمہ حقیقت کے باوجود انسان دانستہ یا غیر دانستہ طور پر ایسی چیزیں استعمال کرتا ہے

Read more

تبدیلی یا کھلواڑ؟

وزیراعظم عمران خان صاحب اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی چھتری تلے ملک میں ترقی کا جو انقلاب لانا چاہتے تھے یقین جانیئے وہ صرف خیالی پلاؤ کے سوا کچھ نہیں تھا۔ خیبر پختون خوا میں ان کی ساڑھے چھ جبکہ وفاق اور پنجاب میں ڈیڑھ سالہ کارکردگی سے اتنا تو ثابت ہو گیا کہ عمران خان صاحب گفتار کے غازی بن کرایک مجمع تو لوٹ سکتے ہیں لیکن حقیقی اور مثبت تبدیلی کبھی نہیں لا سکتے اور اس کی

Read more