بجلی کے بلوں کی پیچیدہ ریاضیاتی منطق
عام طور پر یہ سوال ہر جگہ کیا جاتا ہے کہ ایک گھریلو صارف کے گھر کا بجلی کا بل کیسے بنتا ہے اور اس میں کون کون سے ٹیکسز شامل ہوتے ہیں؟ واضح رہے کہ بجلی کے بل کی فی یونٹ قیمت میں استعمال کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ یعنی استعمال شدہ یونٹس کی تعداد اور فی یونٹ قیمت میں تناسب راست پایا جاتا ہے۔ جوں جوں استعمال ہونے والے یونٹس بڑھتے جائیں گے، الیکٹرک کیلکولیٹر فی یونٹ ریٹ بڑھاتا جائے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ بجلی کے بل کے دو حصے ہیں، ایک بجلی کی قیمت اور دوسرا اس میں شامل ٹیکس جو بجلی کا صارف دیتا ہے۔
اس بات کو سمجھنے کے لیے ہم فرض کرتے ہیں کہ آپ نے ماہ اگست 2023 میں بجلی کے 300 یونٹس استعمال کیے ہیں۔ جبکہ ماہ جون 2023 میں بھی استعمال شدہ یونٹس 300 ہی تھے۔
(i) سب سے پہلے بجلی کی قیمت آئے گی جو کہ 27 روپے 14 پیسے فی یونٹ ہے۔ تو 300 یونٹس کی بجلی کی قیمت مبلغ 8142 روپے بنے گی۔
(ii) دوسرے نمبر پر فنانسنگ کاسٹ سرچارج (FC Surcharge) ہے جو گردشی قرضے کم کرنے کے لیے 43 پیسے فی یونٹ وصول کیا جاتا ہے۔ ایف سی سرچارج سال 2016 میں شروع کیا گیا تھا جب گردشی قرضوں کا مجموعی حجم 689 بلین روپے تھا جو اب بڑھ کر جولائی 2023 میں 2631 بلین روپے ہو چکا ہے۔ اب 43 پیسے کے حساب سے 300 یونٹس کا ایف سی سرچارج مبلغ 129 روپے بن جائے گا۔ کے الیکٹرک اس کو پاور ہولڈنگ لمیٹڈ سرچارج (PHL Surcharge) کا نام دیتی ہے جو کمرشل صارفین سے 3 روپے 43 پیسے فی یونٹ وصول کرتی ہے۔
(iii) تیسرے نمبر پر مبلغ 35 روپے پی ٹی وی ( پی ٹی وی ) فیس ہے۔
(iv) اب اوپر والے تینوں کے مجموعے (یعنی بجلی کی قیمت، ایف سی سرچارج اور پی ٹی وی فیس ) پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگے گا۔ یعنی مبلغ 8142 روپے، مبلغ 129 روپے اور مبلغ 35 روپے کا مجموعہ جو کہ مبلغ 8306 روپے ہے، کا جنرل سیلز ٹیکس مبلغ 1495 روپے بنے گا۔
(v) اس کے بعد بجلی کی قیمت پر 1.5 فیصد الیکٹریسٹی ڈیوٹی (ED) دینی ہوتی ہیں۔ جو کہ 122 روپے بنے گی۔
(vi) اب فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (FPA) کی باری آئے گی۔ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ دو ماہ پہلے والے استعمال شدہ یونٹس پر ایندھن مثلاً کوئلہ، فرنس آئل یا گیس کی قیمت کے فرق کی بنیاد پر کیلکولیٹ کیا جاتا ہے۔ یہ ہر ماہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ جون 2023 کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا ریٹ ایک روپیہ 81 پیسے فی یونٹ ہے جو اگست 2023 کے بل میں وصول کیا جا رہا ہے۔ یہ رقم 300 یونٹس پر مبلغ 543 روپے بنتی ہے۔
(vii) فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر بھی 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس دینا ہو گا۔ اس کا مطلب ہے کہ آپ کو مبلغ 543 روپے پر 18 فیصد یعنی مبلغ 98 روپے مزید ٹیکس بھی دینا ہے۔
(viii) فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر 1.5 فیصد الیکٹریسٹی ڈیوٹی بھی دینی ہوتی ہے۔ اس لیے 8 روپے مزید جمع ہو جائیں گئے۔
(ix) اب ہم کوارٹرلی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ( (QTA پرپہنچتے ہیں، یہ وہ رقم ہے جو انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز یعنی آئی پی پیز (APPs) کی جیب میں جاتی ہے۔ یہ اس بجلی کی قیمت ہے جو پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز (ڈسکوز) کے صارفین بجلی کے تعطل یا بجلی کی کم طلب کی وجہ سے استعمال ہی نہیں کر پائے تھے۔ سادہ الفاظ میں آئی پی پیز کو پوری ادائیگی کرنی ہوتی ہے بیشک کم طلب کی وجہ سے ہم بجلی استعمال کریں یا نہ کریں۔ اس لیے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (NEPRA) نے واپڈا ڈسکوز کو مالی سال 2023 کی تیسری سہ ماہی کے لیے کیو ٹی اے کی مد میں بجلی کے صارفین سے اضافی 1.25 روپے فی یونٹ چارج کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس لیے مبلغ 375 روپے اس مد میں بھی صارف کو ادا کرنے ہوں گے۔
(x) کچھ واجبات بل میں وہ بھی لگ کے آ رہے ہوتے ہیں جو پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیز DISCOs) ) اس وقت عوامی احتجاج کی صورت میں موخر کر دیتی ہیں لیکن بعد میں صارفین سے وصول کرتی ہیں۔ جیسے ماہ جون اور جولائی 2022 کے 300 سے کم یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی وصولی جو اس وقت موخر کر دی گئی تھی، وہ مارچ 2023 سے موجودہ ماہ تک (یا شاید آنے والے ماہ میں بھی) اقساط کی شکل میں وصول کی جا رہی ہے۔ اس لیے تقریباً 500 روپے بقایا جات کی مد میں یہ بھی لگ کے آ رہے ہوں گے۔
(xi) اب بلوں میں انکم ٹیکس بھی شامل ہو چکا ہے۔ فرض کریں آپ نان فائلر ہیں اور آپ کا بل 25 ہزار سے زیادہ ہے تو مجموعی بل کے 7 فیصد پر انکم ٹیکس بھی دینا ہو گا۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ فائلر تو ہوں لیکن جس کرائے کے مکان میں رہتے ہیں، اس مکان کا مالک فائلر نہ ہو تب بھی آپ ہی کو انکم ٹیکس دینا پڑے گا۔
(xii) اگر آپ بھول کر مقررہ تاریخ سے ایک دن بعد بھی بل جمع کرواتے ہیں تو آپ کو مجموعی بل کا 8 فیصد لیٹ پیمنٹ سرچارج کی مد میں ادا کرنا ہوتا ہے۔
اس طرح 300 یونٹس استعمال کرنے والے صارف کا بل مبلغ 11447 روپے تک جا پہنچے گا۔ اور اگر صارف صرف ایک دن بھی لیٹ ہو جاتا ہے تو اس سے 916 روپے لیٹ پیمنٹ سرچارج کے ساتھ مبلغ 12363 روپے وصول کیے جائیں گے۔
واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ بجلی کی قیمت تو 8142 روپے تھی وہ تقریباً 40.5 فیصد اضافے سے 11447 روپے تک جا پہنچی اور بجلی کی فی یونٹ قیمت 27 روپے 14 پیسے سے بڑھ کر 38 روپے اور 16 پیسے متعین ہوئی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ قدرتی ذرائع جیسے سولر پاور، ہائیڈل پاور اور ونڈ پاور سے زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کی جائے اور آئی پی پیز کے ساتھ نئے سرے سے معروضی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے معاہدے کیے جائیں تا کہ بجلی کے بلوں کا بوجھ عوام کے ناتواں کندھوں پر کم ہو سکے۔


