جذبات


کائنات میں موجود ہر مخلوق جذبات و احساسات رکھتی ہے۔ کچھ مخلوقات میں محبت، الفت، مروت، شفقت، چاہت اور دوستی کے جذبات زیادہ ہوتے ہیں اور کچھ میں نفرت، منافقت، حسد، خون ریزی، کینہ پروری اور دشمن داری کے جذبات زیادہ ہوتے ہیں۔ جنگلی جانوروں کو ہی دیکھ لیجیے۔ ان میں بھی اپنے بچوں اور اپنی نسل کے دوسرے جانوروں کے لیے محبت اور چاہت کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ جنگلی جانور بھی اپنے ہمزاد کے دکھ سکھ کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ حالانکہ انہیں اس چیز کی کوئی باقاعدہ تربیت نہیں دی جاتی۔ یہ جذبات قدرت کی طرف سے ان کی جبلت میں ودیعت کر دیے جاتے ہیں۔ جیسے کہ بلی اور جنگلی کتیا جیسے جانداروں میں بھی اپنے بچوں کے لیے محبت پائی جاتی ہے اور جیسے ہی یہ جذبہ ان کے اندر سے ختم ہوتا ہے، وہ انہیں بے آسرا چھوڑ کر بھاگ نکلتی ہیں۔

اسی طرح بنی نوعِ انسان میں بھی ہر طرح کے جذبات پائے جاتے ہیں۔ بلکہ انسان کو ان سب جذبات و احساسات کا منبع کہنا غلط نہیں ہو گا۔ انسان میں یہ جذبات اس کی فطرت، خاندان، ماحول، عمر اور ترجیحات کے ساتھ ساتھ پرورش پاتے اور تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ والدین میں جو جذبات اپنے بچوں کے لیے ہوتے ہیں وہ دوسروں کے بچوں کے لیے نہیں ہوتے۔ حالانکہ بچے تو سب کے ایک جیسے ہی گوشت پوست کے بنے ہوتے ہیں۔ لیکن اپنے بچے کی چیخ دوسروں کے بچوں کی چیخ سے مختلف اثر رکھتی ہے۔ ہم اپنے کی شرارتوں سے محظوظ ہوتے ہیں اور اگر وہ ہی شرارتیں کسی اور کا بچہ کرے تو بہت جلد تنگ ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کچھ لوگ دوسروں کے بزرگوں سے اپنے بزرگوں کی نسبت الگ طریقے سے پیش آتے ہیں۔

یہ سب جذبات کی بدولت ہے۔ قیامت کے دن جب یہ جذبات انسانوں میں سے نکال لیے جائیں گے تو اولاد اپنے ماں باپ کو اور ماں باپ اپنی اولاد کو نہیں پہچان پائیں گے۔

اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ جذبات تمام مخلوقات کو ان کا تحفظ کرنے کے لیے عطا کیے ہیں۔ اگر والدین اور بہن بھائیوں میں سے پیار اور محبت جیسا جذبہ ختم ہو جائے تو خاندان کا ادارہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔ خاندان ٹوٹنے شروع ہوں تو معاشرہ تباہی و بربادی کی علامت بنتا چلا جاتا ہے۔

لہذا مثبت جذبات خاندان اور معاشرے کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لیے بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف نفرت، منافقت، حسد، خود غرضی جیسے جذبات خاندان سمیت پورے معاشرے کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں۔ ہاتھوں کو ہاتھ کھانا شروع ہو جاتے ہیں۔ ہر سو نفسا نفسی اور ہو کا عالم برپا ہو جاتا ہے۔ دلوں کا سکون ختم ہو جاتا ہے۔ شوگر، بلڈ پریشر اور ڈپریشن جیسی بیماریاں عام ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ کیونکہ صرف ایک منفی سوچ انسان کے جسم کے ہر خلیے کو ڈسٹرب کر دیتی ہے۔ اندازہ کیجیے منفی سوچوں کا پلندا ہمارے جسم اور اعضاء کے ساتھ کیا کھلواڑ کرتا ہو گا۔ یہی وجہ ہے کہ میڈیکل سائنس کی اتنی ترقی کے باوجود اب جوانی میں اموات کی شرح بڑھتی چلی جا رہی ہے۔

مختصر یہ کہ ہمیں ہر سطح پر مثبت سوچ کو پروان چڑھانا چاہیے۔ دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کسی کے بنیادی حقوق کو ہڑپ کرنے کی سعی نہیں کرنی چاہیے۔ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے سب کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ میری نظر میں ہر شخص ہمیشہ اپنے آپ کے ساتھ اور اپنے اردگرد کے ماحول کے ساتھ ایک ان کہی حالت جنگ میں ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں ہر کسی کے ساتھ محبت، شفقت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو مدنظر رکھتے ہوئے پیش آنا چاہیے۔ دوسروں کو عزت سے نوازنا چاہیے۔ میرا ایمان ہے اس طرح آپ کے راستے کی رکاوٹیں خودبخود ہی ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور معاشرے میں اتفاق و یگانگت کی فضا قائم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ انسان کو صرف اور صرف اپنی منفی سوچوں کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے جو کہ بلاشبہ ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ انشاء اللہ میں اگلے کالم میں انہیں قابو میں رکھنے کے لیے کچھ اہم تجاویز پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

Facebook Comments HS