جب میں نے دیوار برلن کو دیکھا


برلن کی سیر ہو اور دیوار برلن نہ دیکھی جائے یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ دو بار برلن کی یاترا ہوئی لیکن دیوار برلن دیکھنے سے محروم رہا تھا۔ تیسری بار کامیابی ہوئی اور دیوار برلن کے سائے کچھ وقت گزرا۔ پہلی بار برلن یاترا میں دیوار برلن کا میوزیم ضرور دیکھا تھا جس میں دیوار کی اشیاء اور تاریخ دیکھنے کو ملیں۔ ان تصاویر میں دیوار برلن کی تعمیر اور منہدم ہونے کے مناظر کو دکھایا گیا تھا۔ اسی طرح میوزیم میں اس میں وہ باڑ کے کچھ ٹکڑے بھی موجود تھے جو تعمیر دیوار سے پہلے تقسیم کا کام کرتی تھی۔

یہ حقیقت پر مبنی بات ہے کہ جرمنی کا دارالحکومت برلن محض ایک شہر ہی نہیں ہے بلکہ یہ اپنے اندر عروج و زوال کی ایک ایسی عبرتناک تاریخ اور یادگاریں سموئے ہوئے ہے جو یقیناً نہ صرف سیاحوں بلکہ سیاستدانوں، صحافیوں اور تاریخ کے طالب علموں کے کے لئے انتہائی دلچسپی کا باعث ہیں۔ جنگ عظیم 1945 میں ختم ہو گئی تھی لیکن اس دوران جرمنی اور برلن نہ صرف دو لخت ہوئے تھے بلکہ جنگ بندی کے بعد بھی مغربی اور مشرقی جرمن شہری دہائیوں تک جنگ کے بدترین منفی سیاسی، سماجی اور معاشی اثرات کی زد میں رہے۔

اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا کہ وقت کے حکمرانوں کی تعمیر کردہ ”دیوار برلن“ نے جرمن شہریوں کو مزید ذہنی و جسمانی اذیت سے دوچار کر دیا اور ان کے دکھ اور کرب میں بھی اضافہ کیا۔ سیاست دان کسی بھی ملک کا ہو وہ ”کھبی دکھا کر سجی مارتا ہے“ دیوار کی تعمیر سے پہلے سابقہ مشرقی جرمنی کی اسٹیٹ کونسل کے سربراہ والٹر البرشٹ نے جون 1961 میں کہا تھا کہ کوئی بھی برلن شہر میں دیوار کی تعمیر کا سوچ نہیں سکتا لیکن دنیا نے دیکھا کہ تیرہ اگست کو اس دیوار کی تعمیر شروع کردی گئی تھی۔

اگلے اٹھائیس برسوں تک ( 1961 سے لے کر 1989 تک) کے عرصہ میں اس دیوار نے ”دیوار نفرت“ کا کردار ادا کیا۔ اس وقت کے مغربی برلن کے میئر ( بعد میں مغربی جرمنی کے وفاقی چانسلر) نے دیوار برلن کو اذیتی اور مشقتی کیمپ کا بیریئر قرار دیا تھا۔ جرمنی میں ہر سال تعمیر دیوار کے حوالے سے 13 اگست کو خصوصی دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جبکہ ہر سال 3 اکتوبر کو یوم اتحاد  منایا جاتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں دونوں طرفین کے لوگوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تو رد عمل کے طور پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا اور مشرقی اور مغربی علاقوں کے لوگوں نے ایک مشترکہ نعرہ ”ہم عوام ہیں“ بلند کیا جو کہ جرمن زبان میں (Wir sind das Volk) کہلاتا ہے، اسی نعرہ کے ساتھ دیوار برلن جشن مناتے ہوئے منہدم ہوئی۔

جونہی عوامی طاقت سے یہ دیوار منہدم ہوئی تو دونوں طرفین کے اتحاد کے لئے اگست میں ایک معاہدہ تشکیل پایا اور بالآخر ایک نئے جرمنی نے جنم لیا تھا جو آج دنیا کے سامنے موجود ہے۔ دیوار برلن کو جرمنی زبان میں Berliner Mauer کہتے ہیں۔ اس کی تعمیر 13 اگست 1961 کو شروع ہوئی تھی اور 9 نومبر 1989 کو اس تاریخی دیوار کے انہدام کا آغاز ہوا تھا اور 3 اکتوبر 1990 کو مکمل ہوئی تھی۔ یوں یہ تاریخی دیوار 28 برس، دو ماہ اور 27 دن تک مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان ”آہنی پردہ“ کا کام کرتی رہی۔

دیوار برلن کے انہدام کی تقریب جو نومبر 1989 میں منعقد ہوئی تھی میں سوویت یونین کے سابق راہنما میخائل گوربا چوف نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔ دیوار برلن 155 کلو میٹر طویل تھی۔ 1952 میں پہلی باڑ لگائی گئی تاکہ مشرقی جرمنی کے لوگوں کو مغربی جرمنی میں جانے سے روکا جا سکے لیکن ناکامی ہونے پر دیوار کی تعمیر شروع کرا دی گئی تھی لیکن اس کی تعمیر کے آغاز تک لاکھوں لوگ مغربی جرمنی جا چکے تھے، 11500 سپاہی اس دیوار کی نگرانی کیا کرتے تھے اور ان کو حکم تھا کہ دیوار پھلانگنے کی کوشش کرنے والوں کو بلا دریغ گولی ماری جائے دیوار کے انہدام سے پہلے 136 افراد کو غیر قانونی طور پر دیوار عبور کرنے کی کوشش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونے پڑے تھے۔

آج بھی 1361 میٹر دیوار یادگار کے طور پر موجود ہے۔ یہ دیوار برلن اسی پرتشدد دور کی ایک قابل نفرت یادگار ہے جس کو گرانے میں 28 سال لگے۔ ان اٹھائیس سالوں میں کوئی ایسا دن نہیں ہو گا جب انسانی المیہ رونما نہ ہوا ہو۔ اپنے پیاروں سے ملنے کے لئے دونوں اطراف کے لوگ صبح و شام دیوار پھلانگنے کا سوچتے اور ناکام کوششیں کرتے تھے۔ ناکام کوشش میں جان سے ہاتھ دھونا ان کا مقدر ٹھہرتی۔ ایسی نفرت کی دیوار جس نے ایک ہی قوم کے ہزاروں، لاکھوں خاندانوں کا بٹوارہ کر رکھا تھا۔

برلن ماضی و حال کا عجیب و غریب امتزاج کا شاہکار شہر ہے۔ برلن شہر آج اگر دنیا کے جدید ترین شہروں میں سرفہرست ہے تو کبھی یہ ویران کھنڈرات اور قبرستان کا منظر پیش کرتا تھا۔ تباہی و بربادی کی المناک کی ایسی تصویر تھی جس کی منظر کشی ممکن نہیں۔ ایک ایسا شہر ہے جس کے مختلف حصوں پر کبھی غیر ملکی اقوام کا قبضہ تھا، اور شہر کا مکمل بٹوارا ہو چکا تھا۔ برلن کا مشرقی حصہ سوویت اتحاد جبکہ برلن کا مغربی امریکہ، برطانوی اور فرانسیسی اتحاد کے کنٹرول میں تھا۔

یوں مشرقی اور مغربی برلن کے درمیان دیوار برلن تعمیر کردی گئی تھی اور لوگ تقسیم ہو گئے تھے۔ ایک ہی خاندان کے لوگ ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے ایک دوسرے سے ملنے سے قاصر تھے۔ آج بھی بچی کھچی دیوار برلن کے ساتھ ساتھ اور اس کے ملحقہ علاقہ کی سڑکوں فٹ پاتھوں پر گھومتے پھرتے کہیں نہ کہیں دیوار برلن کی یادگار آپ کو ملے گی، کہیں زمین پر کنندہ کی ہوئی کوئی تحریر، جملہ یا تاریخ لکھی ملے گی اور کہیں کچھ محفوظ کی ہوئی یا اس وقت کی کوئی یادگار۔

اگر آپ کے ساتھ مکمل معلومات رکھنے والا مقامی بندہ ساتھ ہے تو پھر آپ کا گھومنا پھرنا یقیناً گراں قدر معلومات میں اضافے کا باعث بنے گا۔ برلن کے تیسرے وزٹ کے موقع پر مرزا بشارت حسین میرے ساتھ تھے جو کئی دہائیوں سے برلن میں مقیم ہیں اور معروف سیاسی کارکن ہیں لیکن انسان دوست شخصیت ہیں۔ انہوں نے میرے ساتھ گھومتے پھرتے دیوار برلن بارے خوب آگاہی دی۔ آج سے چونتیس سال پہلے جب مشرقی، مغربی جرمنی دونوں کا نیا اتحاد ہوا اور دنیا کے نقشہ پر نیا جرمنی ابھرا تو یہ ایک بہت بڑی خبر تھی اور دنیا بھر میں اس کا خوب چرچا ہوا تھا اور ہر خاص و عام کی زبان پر دیوار برلن کا نام تھا۔

آج کی بڑی معاشی، اقتصادی طاقت جرمنی حقیقت میں دیوار برلن کے خاتمہ کا مرہون منت ہے، دیوار کے انہدام ہی سے جرمن اتحاد کی راہ ہموار ممکن ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ 9 نومبر 1989 کو جب یہ اعلان ہوا کہ مشرقی جرمنی کے لوگ مغربی برلن اور مغربی جرمنی جا سکتے ہیں تو وہ لمحات اور مناظر انتہائی جذباتی قسم کے تھے جن کو جرمن تاریخ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کر چکی ہے اور کبھی بھی بھلا نہ پائے گی، گھنٹوں میں سینکڑوں لوگوں نے دیوار کو پھلانگنا شروع کر دیا تھا اور مغربی برلن جا پہنچے تھے اور اگلے چند ہفتوں میں عوام نے دھاوا بول دیا اور نفرت کی دیوار کے مختلف حصوں کو توڑ دیا، اس کے لئے صنعتی آلات بھی استعمال کیے گئے تھے اور بالآخر مکمل طور پر توڑ دی گئی تھی، کچھ حصہ تاریخ کے طور پر محفوظ کر لیا گیا۔

اس کے علاوہ بھی زمین، سڑک کے کناروں اور ارد گرد بھی سینکڑوں کی تعداد میں اس دور کی یادگاریں موجود ہیں۔ اگر آپ اس علاقہ میں جائیں اور گھومیں پھریں تو درجنوں جدید ترین بسیں نظر آئیں گی جو سیاحوں سے بھری ہوتی ہیں اور سینکڑوں کی تعداد میں سیاح نظر آئیں گے، جو دیوار برلن اور اس کی یادگاروں کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ 1990 میں دنیا کے مختلف پینٹرز نے اس دیوار پر تاریخی پینٹ بھی کیا تھا جو آج تک محفوظ ہے۔

2014 میں دیوار برلن کے انہدام کے پچیس سال ہونے پر تاریخی جشن منایا گیا تھا اس جشن کے مناظر برلن شہریوں کو آج بھی یاد ہیں، اس وقت جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے تاریخی جملے کہے تھے، انہوں نے کہا تھا کہ ”دیوار برلن کے انہدام سے ثابت ہوا ہے کہ خواب بھی حقیقت بن سکتے ہیں“ ، انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ”واقعات کو بھول جانا آسان ہے لیکن ان واقعات کو یاد رکھنا اہم ہے“ ۔

Facebook Comments HS