مہنگی بجلی بمقابلہ سستی بجلی


پاکستان کا گویا ہر ادارہ غریب پبلک کا خون چوسنے اور امیر کے تحفظ کے لئے ہر وقت کوشاں رہتا ہے۔ اس ملک کے نظام نے اپنی ایک فیصد اشرافیہ کے تحفظ کی قسم کھا رکھی ہے۔ ایک فیصد اشرافیہ شروع دن سے ہی اس ملک کے تمام تر وسائل پر قابض ہے۔ ہمارے ہاں صرف اس کام ترجیح دی جاتی ہے جس سے اس ایک فیصد اشرافیہ کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اب فیصلہ باقی کی 99 فیصد پبلک نے کرنا ہے کہ آیا ہم نے یوں ہی بھیڑ بکری بن کر رہنا ہے یا اپنا حق چھین کر لینا ہے کیونکہ ایک فیصد اشرافیہ جو تمام تر وسائل کو کنٹرول کیے ہوئے ہے نے خوشی خوشی تھوڑا ہی ہاتھ کھڑے کردینے ہیں کہ آؤ ہم 99 فیصد پبلک کے آرام کے لئے اپنے سکون کو تباہ کر دیتے ہیں۔

حالیہ مہنگائی کوئی اچانک سے بٹن دبانے سے نہیں ٹپک پڑی بلکہ اس کے پیچھے 1 فیصد اشرافیہ کی کوششیں ملک کے معرض وجود میں آنے سے ہی سے شروع ہوئیں جن کا نتیجہ آج نظر آ رہا ہے۔ اس سلسلے میں باقی 99 فیصد کا اپنے حق کو قربان کرنے کا تسلسل اتنا ہی شریک جرم ہے۔

بجلی کے بلوں میں ناقابل برداشت حد تک کے اضافے کی اصل ذمہ دار وہ 99 فیصد پبلک ہے جس نے اپنا پیٹ کاٹ کر اس 1 فیصد اشرافیہ کو فری اور سستی بجلی مہیا کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔

واپڈا کے ملازمین اور افسر ان کو فری بجلی مہیا کرنے کے لئے پبلک ہر سال اپنی جیب سے اربوں روپے گنوا کر بجلی کی پیداوار کے نظام کو فنکشنل رکھتی ہے۔ لیکن پبلک یہ سو ال کیوں نہیں پوچھتی کہ آئین پاکستان کی کون سی شق کے مطابق واپڈا کے ملازمین کو یہ فری یونٹس دیے جاتے ہیں؟ کیا وہ اپنی ڈیوٹی کی تنخواہ نہیں لیتے؟

اسی طرح بڑے سرکاری عہدوں پر بیٹھے مراعات یافتہ افسران، وزیر اور مشیر لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ لینے کے باوجود فری بجلی کے بھی مزے لیتے ہیں۔ یہاں گلہ کریں تو کس سے کریں۔ انصاف کے محافظ سپریم کوٹ کے ایک جج کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ماہانہ دو ہزار یونٹس فری دیے جاتے ہیں۔ دوسری طرف بے روزگاری کی بھٹی میں سلگتی 95 فیصد پبلک پر ترس کھانے کی بجائے ان کی جیبوں سے اس 1 فیصد اشرافیہ کے سکون کے لئے ان بلوں کا پیسہ بٹور لیا جاتا ہے۔

جب کوئی بجلی کا بل ادا کرنے کا پابند نہیں ہوتا تو وہ اتنا ہی اس کا بے دریغ استعمال کرتا ہے او ر نتیجتاً۔ غریب پبلک کے بجلی کے بلوں کو پر لگ جاتے ہیں۔

واپڈا میں بھی باقی اداروں کی طرح کوئی پروفیشنلزم موجود نہیں۔ 2016 ء سے 2022 ء تک لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین واپڈا کے چیئر مین رہے ہیں۔ سمجھ سے بالا تر ہے کہ کس ترقی یافتہ ملک میں ایسا ہوتا ہے کہ کسی سکیورٹی ادارے کے اہلکار کو بجلی پیدا کرنے والے ادارے کا انچارج بنا دیا جائے۔

اس لیفٹیننٹ جنرل کو ریٹائرمنٹ کے بعد نیب لاہور نے صرف تربیلا فورتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ میں 753 ملین ڈالر کی بے ضابطگیوں کا نوٹس بھیجا ہے۔ اس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ 1 فیصد اشرافیہ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اس چشم و چراغ نے واپڈا کو کتنا نقصان پہنچایا ہو گا جس کی ایک جھلک بجلی کے حالیہ بلوں میں دیکھنے کو نذر آئی ہے۔

اپنی غلطیوں سے نہ سیکھنے کی موذی مرض ہمیں بحرانوں کی دلدل میں دھکیلتی جا رہی ہے۔

ایسے حال میں بجلی کے لائن لاس، کمزور اور ناقص انفراسٹرکچر اور مہنگی پیداواری نظام کو بدلنے میں ایسے اداروں کی طرف سے صرف ناقص کارکردگی ہی کی توقع کی جا سکتی ہے۔ کیا بجلی پیدا کرنے والے اس ادارہ کو سمجھنے والا کوئی انجینئر اس وطن عزیز میں موجود نہیں ہے؟

ہمارے معاشرے کا علمیہ ہے کہ جو جتنا زیادہ قانون توڑتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ قانون سے بالا تر ہوتا جاتا ہے اور جو جتنا قانون کو فالو کرنے کی کوشش کرتا ہے قانون اسے اتنا ہی زیادہ دبوچنا شروع کر دیتا ہے۔ اسی لئے جو لائن سے بجلی چوری کرتا ہے اور بجلی کا بل نہیں دیتا اس کی اتنی ہی زیادہ سرکاری اداروں سے دوستی ہو جاتی ہے اور پھر اس کا بل ساتھی پبلک کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک اپنی پبلک کو سستی بجلی فراہم کرنے کے لئے سولر انرجی جیسے نظام پر شفٹ ہو نے کی جستجو میں لگے ہیں جبکہ ہم دنیا کے ساتھ چلنے کی کیا بات کریں، ہم تو مہنگی بجلی پیدا کر کے بھی لوڈ شیڈنگ کو کنٹرول کرنے سے قاصر ہیں۔

ایسے فرسودہ نظام میں بجلی کا مہنگا ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔ بجلی کا مہنگا ہونا 1 فیصد اشرافیہ کے لئے قطعاً۔ کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ ان کی بجلی کہیں مفت، کہیں سستی تو کہیں چوری کی شکل اختیار کر لیتی ہے جبکہ باقی 99 فیصد پبلک کے لئے یہی بجلی مہنگائی کے اولے بن کر ان کے سر پر آ گرتی ہے۔

اس بحران سے نکلنے کے لئے پورے پاکستان کو اپنا بل ادا کرنا ہو گا۔ چاہیے وہ پنجاب میں کسی فیکٹری کا مالک ہے، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور سرکاری عہدہ دار ہے، چاہے کسی کا گھر اندرون سندھ یا کسی دور دراز پہاڑی علاقے میں ہے اور چاہیے وہاں بل جمع کرنے والے اداروں کی پہنچ ہے یا نہیں اسے اپنا بل ساتھی پبلک کا حق سمجھ کر ادا کرنا چاہیے۔ اس سے وسائل کی مساوی تقسیم اور قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا اور غریب پبلک کا بھلا ہو گا۔

Facebook Comments HS