خراب معاشی حالات اور مغل بادشاہ
پچھلے ایک عرصے سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں ناقابل برداشت اضافہ ہوا ہے۔ جس کی ایک وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام، عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مہنگائی، اور بہت سے دیگر عوامل شامل ہیں۔ اس مہنگائی نے سب سے زیادہ نقصان جس طبقے کا کیا ہے وہ مڈل کلاس سفید پوش طبقہ ہے۔ گزشتہ دو تین دنوں سے میری کافی ہائی پروفائل لوگوں سے ملاقاتیں رہی جن کے پاس وسائل دنیا بھی ہیں، بزنس بھی ہے اور پیسہ بھی ان لوگوں کی باتوں سے میں نے محسوس کیا کہ یہ مہنگائی تو کوئی چیز ہی نہیں ہے اور ملک میں مہنگائی نام کی کوئی چیز ہی نہیں یہ تو عوام کا اداروں کے خلاف پروپیگنڈا ہے حالانکہ جب میں مڈل کلاس لوگوں سے ملا تو وہ حال چال پوچھنے کے بعد سیدھا مہنگائی کا رونا شروع کر دیتے ہیں۔
یقینی طور پر یہ دو مختلف صورتحال ہیں جو کہ دونوں ایک دوسرے کا متضاد ہیں۔ اس پورے منظر نامے کو جب میں نے بغور دیکھا تو مجھے جلال الدین اکبر سے منسوب ایک واقعہ یاد آیا جسے شاید بچپن سے ہم سنتے آ رہے تھے لیکن اب آ کے اس کا ایک عملی مظاہرہ بھی حالات نے ہمیں دیکھنے کا موقع دیا۔ اس کو میں یہاں کوٹ کرنا لازمی سمجھوں گا۔
ایک رات بادشاہ جلال الدین اکبر اور بیربل بھیس بدل کر شہر کا گشت کر رہے تھے۔ دونوں کا گزر ایک حجام کی جھونپڑی کے پاس سے ہوا۔ حجام جھونپڑی کے باہر چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا تھا۔ اکبر نے اس سے پوچھا: بھائی یہ بتاوٴ کہ آج کل اکبر بادشاہ کے راج میں لوگوں کا کیا حال ہے۔
حجام نے فوراً جواب دیا: ہمارے اکبر بادشاہ کے راج میں ہر طرف امن، چین اور خوش حالی ہے، لوگ عیش سے زندگی گزار رہے ہیں، ہر دن عید ہے، ہر رات دیوالی۔
اکبر اور بیربل حجام کی باتیں سن کر آگے بڑھ گئے۔ تھوڑا آگے جاکر اکبر نے بیربل سے فخریہ لہجے میں کہا: دیکھا تم نے، ہماری سلطنت میں رعایا کتنی خوش ہے؟ بیربل نے عرض کیا بے شک جہاں پناہ، آپ کا اقبال بلند ہے۔ چند روز بعد پھر ایک رات دونوں کا گزر اسی مقام سے ہوا۔ اکبر نے حجام سے پوچھ لیا۔ کیسے ہو بھائی؟ حجام نے چھوٹتے ہی کہا:
حال کیا پوچھتے ہو بھائی، ہر طرف تباہی بربادی ہے، اکبر کی حکومت میں ہر آدمی دکھی ہے، ستیاناس ہو، اس منحوس بادشاہ کا۔ یہ سن کر اکبر حیران رہ گیا۔ یہی آدمی کچھ دن پہلے بادشاہ کی اتنی تعریف کر رہا تھا اور اب ایسا کیا ہو گیا؟
اکبر نے حجام سے پوچھنا چاہا کہ لوگوں کی تباہی اور بربادی کی وجہ کیا ہے، لیکن وہ بادشاہ اور اس کے وزرا کو برا بھلا کہتا رہا اور اکبر کا سوال سنتا ہی نہ تھا۔
اب بادشاہ نے پریشانی کے عالم میں بیربل سے پوچھا: آخر ایسا کیا ہوا کہ یہ شخص چند ہی روز میں ہمارے خلاف ہو گیا؟
بیربل نے جیب سے ایک تھیلی نکالی اور بادشاہ سے کہا۔ اس میں 10 اشرفیاں ہیں، میں نے دو روز پہلے اس کی جھونپڑی سے اسے چوری کروا لیا تھا۔ جب تک اس کی جھونپڑی میں مال تھا، اسے بادشاہ اور حکومت سب اچھا لگتا تھا اور اپنی طرح وہ سب کو خوش اور سکھی سمجھ رہا تھا۔ جب اس کی دولت لٹ گئی تو اسے شدید رنج ہوا اور اس غم میں اسے سارے لوگ تباہ حال اور برباد نظر آتے ہیں۔
اکبر اس کی بات سن کر چونکا۔ بیربل نے مزید کہا: جہاں پناہ، اس سے آپ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ ایک فرد اپنی خوش حالی کو دوسروں کی خوش حالی سمجھ لیتا ہے، جب کہ ایسا ہوتا نہیں ہے۔ سب کے اپنے مسائل اور دکھ سکھ ہیں جنھیں وہی بہتر سمجھتے ہیں۔ درد جسے ہوتا ہے، وہی اس کی شدت کا حقیقی احساس کر سکتا ہے۔ بادشاہوں اور حکم رانوں کو رعایا کا دکھ درد سمجھنا ہو تو اپنی ذات سے باہر نکلنا اور دور تک دیکھنا چاہیے۔


