پاکستان پر امریکی دلچسپی کے موضوعات اور اثرات

تقسیم کے وقت برصغیر کی زیادہ تر صنعت، بھاری کارخانے، اور تعلیمی ادارے و مرکزی بیوروکریسی بھارت میں تھے، حتیٰ کہ تمام اسلحہ ساز کارخانے تک بھارت میں تھے۔ پاکستان کے حصے میں آنے والے علاقے اپنے نہری نظام کی وجہ سے صنعتی نہیں بلکہ زرعی پیداوار والے علاقوں کے طور پر جانے جاتے تھے۔ اب بھی پچھلے پندرہ بیس سال میں بھارت کے امریکہ کے ساتھ سٹریٹیجک پارٹنر کے طور پر کردار اور چین کے خلاف اس سے وابستہ امریکی امیدوں کی وجہ سے بھارت کو مزید تیزی سے ترقی، جدیدیت، بھاری بیرونی سرمایہ کاری اور جدید صنعت کاری سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملا ہے، جس سے اس نے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھایا ہے۔
وہی نریندر مودی جسے امریکہ اس کے متعصب اور متشدد نظریات و کردار کی وجہ سے امریکہ کا ویزا تک دینے سے انکاری تھا، اسی نریندر مودی کو اب امریکی مفاد کے پیش نظر سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ گو کہ بھارت اور امریکہ کا خفیہ تعاون انیس سو باسٹھ کی ہندچینی جنگ کے وقت، جان ایف کینیڈی کے دور سے جاری تھا، گو کہ ظاہری طور پر بھارت خود کو غیر وابستہ ملک قرار دیتا تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس تھی۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی کے درمیان بھارت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے ایک خفیہ دفاعی معاہدے کی خبریں کافی سال بعد سامنے آئیں، جس کے تحت ہی ہند چین جنگ کے دوران میں امریکہ نے امداد کے طور پر بھارت میں جدید ہتھیار بڑی تعداد میں مہیا کئیے۔
اب یہ تعاون اور اس کی بیشتر تفصیلات کھل کر سب کے سامنے ہیں۔ ادھر پاکستان نے بھی روس کے خلاف تشکیل دیے گئے امریکی فوجی اتحاد ”سیٹو“ میں شمولیت اختیار کر لی، اور امریکہ سے اپنی فوج کے لیے جدید ہتھیار حاصل کر لیے ، گو کہ پاکستان کے عوام کو ، امریکہ کے ساتھ اس فوجی اتحاد میں شمولیت کے فیصلے کی وجہ، پاکستان کو بھارت کی طرف سے لاحق خطرات اور عدم تحفظ کے احساس کو بتایا گیا، لیکن پاکستان کے اس امریکی فوجی اتحاد میں شمولیت کے فیصلے کو بہانہ بنا کر پنڈت نہرو اقوام متحدہ، پاکستان اور کشمیری عوام کے ساتھ کئیے گئے، کشمیر میں رائے شماری کروانے کے اپنے وعدے سے مکر گئے، جبکہ حقیقت یہ تھی کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان فوجی امداد کے معاہدے میں پاکستان کو پابند کیا گیا تھا کہ یہ فوجی امداد بھارت کے خلاف استعمال نہیں کی جا سکے گی۔
جب ایوب خان کو نصف شب کے وقت گہری نیند سے اٹھا کر ان کے سیکریٹری نے چینی پیغام پہنچایا، کہ ہند چین جنگ کی وجہ سے موقع ہے کہ ایوب خان کشمیر میں فوج داخل کر دیں، اس پر بقول الطاف گوہر اور قدرت اللہ شہاب ایوب خان نے ناگواری کا اظہار کیا، اور یہ کہتے ہوئے دوبارہ سونے کے لیے چلے گئے، کہ یہ فوج کی نقل و حرکت کو مذاق سمجھتے ہیں۔ اس کے پس پردہ یہ وجہ تھی کہ امریکہ نے پاکستان کو واضع الفاظ میں یہ دھمکی دی تھی کہ اس جنگ کے دوران کوئی مداخلت یا بھارتی کشمیر پر حملہ براہ راست امریکہ پر حملہ سمجھا جائے گا۔
اسی وجہ سے ایوب خان نے یہ قدم اٹھانے کی جرات نہیں کی۔ لیکن اس دھمکی کے ساتھ ہی امریکہ نے پاکستان کو بھی ہاتھ میں رکھنے کے لیے یہ وعدہ بھی کیا کہ اس جنگ کے بعد امریکہ مسئلہ کشمیر حل کروانے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے گا۔ لیکن بھارت چین جنگ ختم ہونے کے بعد امریکہ نے اپنے وعدے کی طرف کوئی پیش رفت نہیں کی۔ تب ہی ایوب خان نے امریکی وعدہ خلافی سے مایوس ہو کر انیس سو پینسٹھ کی جنگ چھیڑ دی اس پر امریکہ نے پاکستان کے پاس موجود امریکی ہتھیاروں اور پاکستان ایئرفورس کے امریکی جہازوں کے لیے سپیئر پارٹس اور ایمونیشن کی سپلائی روک دی تھی، کیونکہ امریکہ کے موقف کے مطابق، یہ ہتھیار صرف سوشلسٹ روس کے خلاف استعمال کے لیے دیے گئے تھے۔
بھارت سے پاکستان کی جو فضائی جھڑپ چند برس قبل ہوئی تھی، جس میں بھارتی جہاز گرا کر پائلٹ ابھے نندن کو گرفتار کیا گیا تھا، اس پر بھارت نے بھی پاکستان کی طرف سے ایف سولہ جہازوں سے حملہ کرنے اور ایک پاکستانی جہاز گرا دینے کا دعوی کیا، جس پر ایک امریکی خاتون نمائندہ نے پاکستان آ کر عملی طور پر ، امریکہ کی طرف سے پاکستان کو دیے گئے ایف سولہ جہاز گنے، کہ کہیں کوئی ایف سولہ جہاز بھارت کے خلاف تو استعمال نہیں کیا گیا، جب یہ ایف سولہ جہاز دی گئی تعداد کے مطابق پورے پائے گئے تو ہماری طرف سے بھی ”فخریہ“ طور پر یہ بیان دیا گیا کہ یہ ثابت ہو چکا ہے، کہ بھارت اس معاملے میں جھوٹ بول رہا ہے، کہ ہم نے ان جھڑپوں میں ایف سولہ جہاز استعمال کئیے ہیں، اب امریکی گواہی جو جہازوں کی گنتی کے بعد جاری کی گئی ہمارے موقف کی سچائی کا ثبوت ہے، یہ حالات تھے۔
پھر بھی ان سب معاملات کے باوجود شروع کے برسوں میں پاکستان نے بہت تیزی سے ترقی کی، لیکن پھر امریکہ نے یہاں غیر نمائندہ آمروں کی حوصلہ افزائی کر کے اور مصنوعی سیاسی قیادت اور بالواسطہ طور پر سیاسی بحران پیدا کر کے اس ترقی کا راستہ روک دیا، اور پاکستان میں جمہوری نظام کی پیش رفت کو تباہ و برباد کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا۔ جب بھی پاکستان میں جمہوری نظام لانے اور اس کو تسلسل دینے کی کوئی کوشش کی گئی، امریکہ نے کسی نہ کسی بہانے پاکستان پر پابندیاں لگا دیں، اور اس کی ہر قسم کی امداد روک دی گئی، امریکہ پاکستان تعلقات کی پوری تاریخ میں جب بھی امریکہ پاکستان کے قریب آیا، اور اس سے اپنے قومی مفادات پورے کروائے ایسا ہمیشہ پاکستان میں آمرانہ ادوار میں ہی ہوا وہ ایوب خان کا بتیس خاندانوں والی ”ترقی“ کا دور ہو یا جنرل ضیاء الحق کا ”اسلامی جہادی دور“ یا پرویزمشرف کا دس سال پر محیط نام نہاد ”روشن خیالی“ کا دور ہو، امریکہ ہمیشہ ان ادوار میں ہی پاکستان پر مہربان رہا، لیکن ان ادوار میں بھی امریکہ نے کبھی پاکستان کو ایسی امداد نہیں دی نہ کوئی صنعت یا کارخانے لگانے کے لیے امداد دی کہ پاکستان اس امداد سے کہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کی طرف نہ چل نکلے۔
دوسری طرف قیام پاکستان کے چند ہی سال بعد پاکستان کے امریکی کیمپ کا حصہ بننے کے فیصلے کے بعد سے، پاکستان نے روس کے خلاف امریکی فوجی و سیاسی اتحاد کا حصہ بننے کا انتخاب کیا، اور روس کے خلاف جاسوسی کے ”یو ٹو“ والے واقعے سے لے کر جنگ افغانستان تک روس کے خلاف ہر امریکی کارروائی میں سرگرم حصہ لیا، اس کے باوجود روس نے ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان کو ترقی کے لیے بیش قیمت اور ضروری اثاثے کے طور پر جدید ترین کراچی سٹیل مل لگا کر دی، بلوچستان میں روس معدنیات کی تلاش کے لیے جدید آلات کے ذریعے سروے بھی شروع کرنے کو تھا، لیکن اسی اثناء میں ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹا کر پاکستان کی ترقی کی طرف پیش رفت کی ان کوششوں کو سبوتاژ کر دیا گیا۔
ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار سے اتارنے کی تحریک کے دوران یہاں امریکی نمائندوں کی پراسرار نقل و حرکت نوٹ کی گئی، حتیٰ کہ امریکی سفیر ”بریف کیس“ اٹھائے جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ تک میں آتے جاتے دکھائی دینے لگے، اس کے بعد جنرل ضیاء الحق کے دور حکومت میں پاکستان کے ملک کو ایک جنگی اور انتہا پسندانہ معاشرے میں تبدیل کر دیا گیا اور ایک طرح سے افغانستان میں جنگ کا انتظام و انصرام ہماری معیشت قرار پائی، امریکی سرپرستی میں افغان جنگ میں افرادی قوت مہیا کرنے کے مقصد سے ہزاروں کی تعداد میں مدارس قائم کئیے گئے جن کا کام، مفت دینی تعلیم کے نام پر افغانستان کی جنگ کی آگ میں جھونکنے کے لیے پاکستان کے غریب ترین طبقات کے بچوں کو ، اس جنگ کا ایندھن بنانا اور اس افغان جنگ کے لیے افرادی قوت مہیا کرنا تھا، اس جنگ میں پاکستان کے غریب ترین طبقے کے ہزاروں بچوں اور نوجوانوں کو اس جنگ میں شہید کروایا گیا اور ان کے خون پر مفادات کچھ اور لوگوں نے حاصل کئیے۔
امریکی تجویز، امداد اور سرپرستی سے قائم کردہ اس نیٹ ورک کے تباہ کن اثرات، ہمارا معاشرہ اور ملک آج تک کسی نہ کسی شکل میں بھگت رہا ہے۔ امریکہ کی امداد کا ارتکاز پاکستان پر قابض کسی بھی عوامی جوابدہی سے آزاد و ماوراء آمروں تک کی امداد تک محدود رہا، جنہوں نے پاکستان کی ریاست کے مفادات کی قیمت پر امریکی مفادات کی تکمیل کے لیے ذاتی مفادات اور سرپرستی کے عوض آلہ کار کے طور پر کام کیا، اور اس کے عوض بھاری ذاتی مفادات اور اپنی ناجائز حکومتوں کے جواز کے ضمن میں امریکی سرپرستی اور سیاسی مدد حاصل کی۔
اب بھی افغانستان کو محفوظ پناہ گاہ بنائے اور پاکستان میں دہشتگردانہ سرگرمیوں میں ملوث دہشت گرد پاکستان میں اپنی دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے جدید ترین امریکی اسلحہ اور آلات ہی استعمال کر رہے ہیں، جو امریکہ افغانستان سے جاتے ہوئے بھاری مقدار میں ان کے لیے چھوڑ گیا، گو کہ کل ہی امریکہ نمائندے نے اس سے انکار کیا ہے، لیکن زمینی شواہد اور حقائق امریکی نمائندے کے اس تردیدی بیان کی تصدیق نہیں کرتے، جس کی طرف ہماری وزارت خارجہ کی ترجمان نے ایک بیان میں اشارہ کیا ہے۔
حالات کو مجموعی طور پر تاریخ اور حقائق کے تناظر میں دیکھنا اور سمجھنا چاہیے، تاکہ ہم میں اپنے مسائل کو سمجھنے اور ان کی درستگی و سدباب کی موثر حکمت عملی اختیار کرنے کا شعور پیدا ہو، اور ہم اپنی ماضی کی غلطیوں کے سدھار کی طرف قدم بڑھا سکیں۔ اقوام اور ممالک اپنی زندگی میں بہت سے مراحل سے گزرتے ہیں اور اپنے وجود کے منطقی جواز تک پہنچنے کے سفر کے دوران ایسے مراحل اور مشکلات کا سامنا کرنا ہی پڑتا ہے، جن سے پاکستانی قوم گزر رہی ہے۔
ان مشکلات اور ایسی صورتحال کا ایک فائدہ بھی ہوتا ہے کہ عوام کی توجہ اپنے اصل مسائل کی طرف مبذول اور مرتکز ہوجاتی ہے، وہ ان کو پہچان کر ان پر غور کرنا شروع کر دیتے ہیں، اور پھر اس کے نتیجے میں وہ وقت بھی آتا ہے جب وہ شعوری طور پر ان مسائل کو حل کرنے کے طریقے اور راستے اختیار کر لیتے ہیں، اور اس طرح اپنے نقصان اور مفاد کا درست شعور حاصل کرلیتے ہیں۔ دنیا کا ہر ترقی یافتہ ملک اپنے نظام کے ارتقائی سفر کے دوران ان ہی یا ایسے ہی مراحل اور مشکلات سے گزرتا ہے، گو کہ ہم اپنی روایت اور عقیدت پسندانہ طبیعت کی وجہ سے علم و شعور میں دنیا سے پیچھے رہ چکے ہیں، لیکن کبھی نہ کبھی ہم بھی، علم و عرفان، شرف انسانیت اور ترقی و خوشحالی کی اس منزل تک پہنچ ہی جائیں گے جو احترام انسانیت اور ہمارے وطن کے قیام کا اصل مقصد رہا ہے۔

