میرا قلم میرے رختِ سفرمیں رہتا ہے

میرا آسٹریلیا کا ایک سال کا وزٹ ویزا لگ چکا تھا۔ یکم ستمبر سے پہلے پہلے میں نے آسٹریلیا میں انٹری دینا تھی۔ ایک تو میں اپنے مزاج اور معمول کے مطابق اس مسئلے کو لٹکائے جا رہا تھا اور دوسرے میرے ذہن کے کسی گوشے میں یہ خدشات بھی موجود تھے۔ کہ کسی بھی دعوت کی فوری قبولیت سے انسان ہلکا پڑ جاتا ہے۔ اس کے رعب اور شان میں فرق آ جاتا ہے۔ اور تیسرے حکومت آسٹریلیا کو اپنے انتظار کی لذت آشنائی سے بہرہ ور ہونے کا موقع فراہم کرنا بھی مقصود تھا۔
بہر حال بچوں کے نزدیک یہ تمام ایسے نا معقول بہانے تھے جن کی آڑ لے کر میں روانگی کے معاملے کو مسلسل التوا میں ڈالے جا رہا تھا۔ اس لیے انہوں نے میرے ان تمام معقول دلائل کو بھی یکسر رد کرتے ہوئے میرے لیے رخت سفر باندھنا شروع کر دیا۔ 30 کلوگرام ساز و سامان ڈالنے کے لیے بڑا بیگ اور ہینڈ کیری کے طور پر استعمال میں آنے والا چھوٹا بیگ دونوں ہی گھر سے دستیاب ہو گئے۔ اب پہلے جوتوں کا انتخاب شروع ہوا آمنہ عزیٰ اور بدر اس کام میں برابر کے شریک تھے۔
یہ جوتا نیا ہے، یہ نرم ہے، یہ سرخ ہے، یہ وزن میں ہلکا ہے۔ ایک عدد سینڈل اور پشاوری چپل بھی ضروری ہے۔ جوگر تو وہاں جزو لازم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بہر حال تقریباً درجن بھر کے قریب جوتے اپنی اپنی انفرادی خاصیتوں کے ساتھ میرے ساتھ جانے کے لیے تیار تھے۔ اسی طرح تقریباً دس جوڑے کا ٹن کی شلوار قمیضوں والے جنہیں خوب کلف لگا کر دھویا گیا اور دھوبی سے استری کروا کر رخت سفر میں شامل کر لیا گیا۔ کیوں کہ گوروں کے ملک میں جا رہا تھا۔
اس لیے چار پانچ پینٹ شرٹس، تین عدد گرم کوٹ، کچھ جرسیاں اور سویٹر ایک عدد تاریخی اہمیت کا حامل سوٹ دو عدد گرم چادریں جرابیں، بنیانیں اور بہت سا الم غلم بھی ساتھ شامل ہو گیا۔ اب اس سارے ساز و سامان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے دونوں بیگوں میں ٹھونس ٹھانس دیا گیا۔ اس کے بعد وزن کیا گیا۔ تو دونوں کا وزن 55 کلوگرام تھا۔ جبکہ زیادہ سے زیادہ 38 کلوگرام لے جایا جا سکتا ہے۔ اب وزن پورا کرنے کا مرحلہ تھا۔ یہ بھی فالتو ہے اس کی ضرورت نہیں اسے بھی نکال دیں۔
اس رنگ کا ایک اور سوٹ موجود ہے۔ ایسی ہی مضبوط دلیلوں کے ساتھ کافی سارا سامان نکال کر دوبارہ وزن کیا گیا تو جواب تیس آیا۔ اب تو یہ سلسلہ لمبا ہی چل نکلا۔ کبھی سامان تین کلو کم ہو جاتا اور کبھی پانچ کلو بڑھ جاتا۔ اسی ہیرا پھیری میں سامان تو پورا ہو گیا۔ لیکن کچھ سوٹوں کی صرف شلواریں ہی میرے ساتھ آسٹریلیا پہنچ پائیں۔ اور ان کے ساتھ والی قمیضیں گھر میں ہی رہ گئیں۔ اور شاید اس کے الٹ بھی ایسا ہی ہوا۔ لیکن یہاں پر پہنچ کر معلوم ہوا کہ ان کی کوئی خاص ضرورت بھی نہیں تھی۔
یہاں صرف گرم ٹراؤزر، ونڈ پروف جیکٹ اور جوگر ہی اس ساری قوم کا تقریباً متفقہ لباس ہے۔ سامان کا وزن پورا ہونے کے بعد ہمارے لیے ایک کراس باڈی بیگ خریدا گیا۔ جس کی ڈھیر ساری جیبوں میں شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ٹکٹ، ویزا بقیہ دونوں بیگز کو لگائے گئے تالوں کی چابیاں، ٹشو، وائپز، ٹوتھ برش بمعہ پیسٹ اور بھی کچھ چھوٹی موٹی چیزیں ڈال دی گئیں۔ اور ساتھ ہی مجھے ہر چیز کا مقام و مرتبہ بھی ازبر یاد کروانے کی کوششیں کی گئیں کہ کون سی چیز اس بیگ کی کس جیب میں موجود ہے۔
اور پھر باقاعدہ اس سلسلے میں میرا انٹرویو بھی لیا گیا۔ میں کراس باڈی بیگ پہن کر کھڑا تھا کہ بدر نے کہا ابو اس بڑے بیگ کی چابی نکالیں۔ میں نے ایک جیب میں ہاتھ ڈالا۔ وہاں کچھ کاغذات تھے۔ دوسری میں دیکھا تو ٹوتھ پیسٹ برش سمیت موجود تھا۔ بہر حال پانچویں چھٹی کوشش میں میں چابیاں ڈھونڈنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ اس ضمن میں کافی ساری کوششوں کے بعد بچے اس نتیجے پر پہنچے کہ انہوں نے سارا سامان دو جیبوں میں بھر دیا اور مجھے بتا دیا۔ کہ آپ کو کوئی چیز چاہیے تو ان دونوں جیبوں سے مل جائے گی۔ اب اس کے بعد یہ مسئلہ درپیش تھا کہ میں اپنے بیگز کو ائر پورٹ پر کیسے پہچان پاؤں گا۔ کیوں کہ ایک تو بیگز ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہوتے ہیں۔ اور دوسرے میری کمزور یاد داشت اور بھلکڑ پن کے بہت سارے قصے بھی خاندان بھر میں زبان زد عام تھے۔ جن میں سے صرف ایک آپ کو بھی سناتا چلوں میرے بچپن کے دوست اور میرے رفیق کار بشیر صاحب ایک بار دوستوں میں میری یاد داشت کی وضاحت کچھ اس طرح فرما رہے تھے۔
کہ تین خواتین اکٹھی بیٹھی اپنے اپنے خاوندوں کی کمزور یاد داشت کا گلہ کر رہی تھیں۔ ایک بولی کہ میرے خاوند کی یاد داشت بہت کمزور ہے۔ صبح ناشتے کے بعد ہی ان کو سبزی لانے کے لیے بھیجتی ہوں۔ بارہ ایک بجے کے قریب واپس گھر پہنچتے ہیں۔ کھانا ہر روز لیٹ ہو جاتا ہے۔ دوسری بولی یہ تو کچھ بھی نہیں۔ میرے خاوند سبزی لینے جاتے ہیں تو شامیں پڑ جاتی ہیں۔ اور کوئی نہ کوئی واقف کار انہیں ہاتھ پکڑ کر گھر چھوڑ جاتا ہے۔
تیسری بولی یہ تو کچھ بھی نہیں میرے خاوند صبح کے گئے رات تک واپس نہیں لوٹتے۔ میں انہیں تلاش کرنے خود باہر نکل جاتی ہوں۔ اور انہیں ڈھونڈ ڈھانڈ کر ان کا ہاتھ پکڑ لیتی ہوں۔ تو وہ بغور میری طرف دیکھتے ہوئے فرماتے ہیں کہ بہن آپ کو کہیں دیکھا ہوا لگتا ہے۔ اور وہ تیسرا آدمی یہی ہے بہر حال یہ تو صریحاً مبالغہ آرائی ہے۔ یاد داشت تھوڑی بہت کمزور تو ہے۔ لیکن اتنی بھی نہیں۔ بہر حال بیگوں کی نشان دہی کے لیے تینوں بیگوں کے ساتھ سرخ رنگ کے کپڑے کی ٹاکیاں باندھ دی گئیں۔
اور اسی کپڑے کی ایک ٹاکی میری کلائی پر بھی باندھ دی گئی۔ میرے استفسار پر وضاحت کی گئی۔ کہ یہ ٹاکی آپ کی کلائی پر اس لیے باندھی ہے کہ ائر پورٹ پر آپ اس ٹاکی کی مدد سے اپنے بیگز کو پہچان سکیں۔ یہ نہ ہو کہ وہاں پر آپ کو اپنے بیگز کے ساتھ باندھے گئے کپڑے کی رنگت ہی بھول جائے۔ بس کلائی پر ایک نظر ڈالنے سے سب سمجھ آ جائے گی۔ 11 اگست کو شام آٹھ بجے بدر نے مجھے لاہور ائر پورٹ پر چھوڑ دیا۔ میں نے کہا کہ صبح چار بجے فلائٹ ہے میں چار گھنٹے یہاں کیا کروں گا۔
لیکن اس نے کہا کہ انٹر نیشنل فلائٹ میں چار گھنٹے پہلے پہنچنا ہوتا ہے۔ میں سیدھا تھائی ائروے کے کا ؤنٹر پر گیا۔ اس نے میرے سامان کا وزن کیا۔ اور مجھے بورڈنگ کارڈ تھما دیا۔ اس کے بعد سامان کی چیکنگ ہو رہی تھی۔ وہاں مشین پر جب میں نے دونوں بیگ رکھے تو ڈیوٹی پر مامور سیکورٹی اہل کار نے میرے گلے میں ڈالا ہوا کراس باڈی بیگ بھی ان کے ساتھ ہی رکھنے کو کہا۔ حالاں کہ بچوں نے سخت تاکید کر کے بھیجا تھا کہ اس بیگ کو آپ نے گلے سے ہرگز ہر گز نہیں اتارنا۔
لیکن میں نے وہ بھی ساتھ ہی شامل کر دیا۔ اور دوسرے ہی لمحے مشین سے گزر کر اس کے دوسرے سرے پر پڑے ہوئے تھے۔ میں نے دونوں بیگ اٹھا کر مشین پر رکھے۔ آگے ایک اہل کار لوگوں کے بیگ کھلوا کر ان کی چیکنگ کر رہا تھا۔ لیکن گیٹ پر کھڑے ہوئے ایک آدمی نے مجھے ایسے ہی بغیر کسی قسم کی تلاشی کے گیٹ سے گزر جانے کا اشارہ کیا۔ میں نے گیٹ کی طرف جانے سے پہلے سکینر مشین پر نظر دوڑائی تو وہاں پر مجھے سرخ ٹاکی کے ساتھ میرا کراس باڈی بیگ پڑا ہوا نظر آیا۔ جو غالباً بعد میں آیا تھا اور اسے میں بالکل بھول بھی چکا تھا۔ اسے اٹھا کر میں نے گلے میں ڈالا۔ پندرہ منٹ میں میں تمام مراحل میں سے گزر کر لاؤنج میں بیٹھا بارہ بجے کا انتظار کر رہا تھا۔
ہماری فلائٹ کو لاہور سے نکلے ہوئے تقریباً ساڑھے تین گھنٹے ہوچکے تھے۔ 12 بجے لاہور سے نکل کر صبح 6 بجے بنکاک پہنچنا تھا۔ اور اب ساڑھے 3 بج رہے تھے۔ میں نے تقریباً پانچ منٹ بعد ہی موبائل پر دوبارہ ٹائم دیکھا تو پانچ 5 بج کر 35 منٹ ہو رہے تھے۔ دو گھنٹوں کا وقت چند لمحوں میں گزر چکا تھا۔ دراصل یہ دو گھنٹے وقت کا وہ فرق تھا جو بنکاک اور پاکستان کے وقت میں تھا۔ اور موبائل اپنے وقت کو بنکاک کے وقت کے مطابق کر چکا تھا۔ بنکاک میں جہاز کے گیٹ کے ساتھ ہی میری وہیل چیر موجود تھی۔ جو بچوں نے اس قدر بڑے ائر پورٹ پر کسی بھی قسم کی بھول چوک سے بچنے کے لیے بک کروا دی تھی۔ وہیل چیر والے نے مجھے میلبورن جانے والے جہاز کے دروازے پر لاکر چھوڑ دیا۔ بنکاک سے صبح آٹھ بجے
تھائی ائر لائن کے جہاز نے اڑان بھری۔ رات آٹھ بجے میلبورن پہنچنا تھا۔ تقریباً ڈیڑھ دو گھنٹوں کے بعد ائر ہوسٹس سیٹ بیلٹ باندھنے کا کہہ رہی تھی۔ ابھی بیلٹ باندھ کر سیدھے ہی ہوئے تھے کہ اچانک جہاز سے گڑ گڑ کی آواز آنا شروع ہو گئی۔ جہاز ایسے ہچکولے کھا رہا تھا جیسے کہ گاڑی پٹڑی سے اتر گئی ہو۔ اتنے میں ایک بچے نے بڑی درد ناک آواز میں رونا شروع کر دیا۔ باہر جہاز کے چاروں اطراف بجلی کوند رہی تھی۔ میرے ذہن میں کسی جگہ پڑھا ہوا ایک فقرہ گونج رہا تھا۔ کہ چھوٹے بچوں اور پرندوں کو آنے ولائے طوفانوں کی پہلے ہی خبر ہو جاتی ہے۔ ان سب عوامل نے مل جل کر ماحول کی خوفناکی میں میرے لیے تو کافی اضافہ کر دیا تھا۔ تقریباً آدھ پون گھنٹہ اسی حالت میں گزارنے کے بعد حالات اعتدال پر آچکے تھے۔ سیٹ بیلٹ کھول دی گئیں میں نے تھوڑی دیر کے لیے آنکھ بند کرلی۔ کافی دیر کے بعد آنکھ کھولی۔ ادھر ادھر کا جائز لیا وقت دیکھا تو تقریباً چار بج رہے تھے۔ میرے سامنے ٹی وی کی سکرین تو موجود تھی لیکن ٹی وی کیسے چلے گا ہمیں قطعاً علم نہیں تھا۔
میں نے اس سے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی تو سکرین پر مجھے اڑتا ہوا ایک جہاز دکھائی دیا میں نے اس کو کلک کیا تو سامنے 45 منٹ لکھا ہوا تھا۔ اب سابقہ تجربے کی بناء پر میں سمجھ گیا۔ کہ 45 منٹس کے بعد جہاز لینڈ کر جائے گا۔ میرے ساتھ بیٹھا ہوا مسافر بڑی اکتا ہٹ سے بولا کہ ابھی چار گھنٹے باقی ہیں۔ میں نے کہا کہ فکر نہ کرو میں وقت کو چار گھنٹوں سے کم کر کے ایک گھنٹے تک محدود کر دیتا ہوں۔ بلکہ اس سے بھی کم پینتیس چالیس منٹ کر دیتا ہوں۔
اس نے میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا جیسے اسے میری دماغی صحت پر شک ہو لیکن جب پندرہ بیس منٹ بعد لینڈنگ کا اعلان ہو رہا تھا۔ تو وہ ایک بار پھر عجیب نظروں سے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ لیکن اس بار انداز پہلے سے قطعی مختلف تھا۔ جہاز سے باہر نکلے دس ایک منٹ کی رسمی کا روائی کے بعد لاؤنج سے باہر آئے تو سامنے اصفیٰ تیمور ولی اور زہرا کو اپنا منتظر پایا اور اس طرح ہم بقلم خود بوریوالہ سے بحفاظت و بخیریت میلبورن پہنچ جانے میں کامیاب و کامران ٹھہرے۔

