ٹیبل لیمپ


شہلا دبے قدموں سے بیڈ روم کی طرف بڑھی۔ اس کا حسین چہرہ انجانی مسرت کے احساس سے تمتما رہا تھا۔ اس نے اپنے دائیں ہاتھ سے دروازے پر ہلکا سا دباؤ ڈالا۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ اے سی آن تھا اور چھت کا پنکھا بھی چل رہا تھا۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل لیمپ روشن تھا اور اس کی مدھم روشنی کمرے کی تاریک فضا میں لرز رہی تھی۔ سب کچھ ویسا ہی لگ رہا تھا جیسا وہ سات دن پہلے چھوڑ کر گئی تھی۔ جاتے ہوئے اس نے ناصر سے کہا تھا کہ وہ صرف اسی صورت واپس آئے گی جب ناصر اسے لینے آئے گا مگر وہ صرف ایک ہفتہ ہی اپنے فیصلے پر قائم رہ سکی تھی۔ ناصر سے چھوٹی موٹی جھڑپیں تو کئی بار ہو چکی تھیں اور ہر بار جھڑپ کے بعد ناصر دوسرے بیڈ روم کو اپنا شبستان بنا لیتا تھا۔ ایسے میں ٹیبل لیمپ اس کے شکوے اور شکایات سنتا تھا۔

وہ تکیے پر سر رکھے گھنٹوں اس سے باتیں کرتی۔ اس کے آنسو گالوں سے لڑھک لڑھک کر تکیے میں جذب ہوتے رہتے اور وہ ٹیبل لیمپ کی سانسوں کی حدت محسوس کرنے لگتی۔ انہی نمناک لمحوں میں اس کی سسکیوں کے ساتھ ٹیبل لیمپ کی آہیں بھی شامل ہو جاتیں۔ وہ اس کا ایسا دوست تھا جس سے وہ دل کی سب باتیں کر سکتی تھی۔ وہ جب اپنی ماں کے گھر میں تھی تو اپنے اس دوست سے دوری اسے کچوکے لگاتی تھی۔ اس نے ناصر کی ساری تلخ باتوں کو فراموش کر دیا اور واپس آ گئی۔ ٹیبل لیمپ خاموشی سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے بیڈ پر بیٹھتے ہی ٹیبل لیمپ کو چھو کر دیکھا۔ اس نے جیسے منہ پھر لیا۔ وہ بہت ناراض دکھائی دیتا تھا۔ شہلا مسکرا اٹھی۔ اسے پتہ تھا کہ وہ جلد ہی اسے منا لے گی۔ واش روم سے پانی گرنے کی آواز آ رہی تھی۔

واش روم کا دروازہ کھلا۔ شہلا پر نظر پڑتے ہی ناصر کوایک جھٹکا لگا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔ وہ تولیے سے گیلے بال رگڑتے ہوئے بولا۔

”تم کب آئیں؟“
شہلا کی نگاہیں اس پر جمی تھیں۔ وہ دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھی۔
”آپ کو میری یاد نہیں آئی“
”ان بالوں کی مہک ہر پل ستاتی تھی“ ناصر کے ہونٹ اس کے بالوں کو چھو رہے تھے۔
”تو پھر مجھے لینے کیوں نہیں آئے؟“
”تمہیں روک نہیں سکا، اسی کی سزا دے رہا تھا خود کو“

شہلا کچھ پوچھنا چاہتی تھی مگر لفظ اس کے سینے میں گھٹ کر رہ گئے۔ صائمہ کا چہرہ اس کی نگاہوں کے سامنے آ رہا تھا۔

”آج جب سورج مغرب میں پہنچ کر لال ہوا تو میری آنکھیں بھی سرخ ہو گئیں۔ بس پھر میں رک نہ سکی اور اسی وقت اپنے گھر کے لیے نکل آئی“ شہلا نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا۔

”بہت اچھا کیا اگر تم نہ آتیں تو میں ابھی گھر سے نکلنے والا تھا، تمھیں لینے کے لیے“

رات کا دوسرا پہر تھا۔ ناصر گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا مگر شہلا جاگ رہی تھی۔ ٹیبل لیمپ روشن تھا اور شہلا کی نگاہیں اس پر جمی تھیں۔

”تمھیں نیند کیوں نہیں آ رہی؟“ ٹیبل لیمپ نے سرگوشی کی۔
”تم جانتے ہو میں کیا سوچ رہی ہوں“ شہلا کھسک کر اس کے اور قریب ہو گئی۔
”شاید میں نہیں جانتا، تم مجھ سے کچھ باتیں چھپاتی ہو“
”میں نے تم سے کیا چھپایا ہے؟“
”تم اچانک گھر چھوڑ کر چلی گئیں، مجھے بتایا تھا؟“
”میں بہت غصے میں تھی، وہ صائمہ۔ میں نے اسے ناصر کے ساتھ شاپنگ مال میں دیکھا تھا“
”تم ضرورت سے زیادہ نہیں سوچنے لگی۔ وہ ناصر کی سیکرٹری ہی تو ہے“
”مجھے تو اس سے کچھ زیادہ ہی لگتی ہے۔ میں کل ناصر سے بات کروں گی۔ اچھا چھوڑو! کوئی اور بات کرو“

”کیا بات کروں؟“ شہلا کو یوں لگا جیسے ہوا کے ایک ٹھنڈے جھونکے نے اس کے چہرے کو چھوا ہو۔ ”تم اتنی سرد آہیں کیوں بھر رہے ہو؟“

وہ خاموش ہو گیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ بہت اداس ہے اور بات نہیں کرنا چاہتا۔ شہلا نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا اور سونے کی کوشش کرنے لگی۔

صبح ناشتے کے وقت شہلا کا موڈ خوشگوار تھا۔ ناصر بھی خوش دکھائی دے رہا تھا۔ کچن سے پراٹھوں کی اشتہا انگیز خوشبو آ رہی تھی۔

”صبا! لے آؤ ناشتا“ شہلا نے آواز لگائی۔
”آئی باجی“

ایک پندرہ سولہ برس کی سانولی سی دبلی پتلی لڑکی کچن سے برآمد ہوئی اور ناشتا میز پر لگانے لگی۔ صبا کو اس گھر میں آئے چند مہینے ہو چکے تھے۔ اس کا تعلق جنوبی پنجاب کے ایک غریب گھرانے سے تھا۔ وہ اس گھر کی ملازمہ تھی اور جب سے آئی تھی فقط ایک بار ہی اپنے گاؤں دو تین دن کے لیے گئی تھی۔ شہلا کو گھر کا کام کرنے کی عادت ہی نہیں تھی۔ ضرورت بھی نہیں تھی، ناصر ایک مل اونر تھا۔ اچھی خاصی کمائی تھی۔ گاڑی، بنگلہ نوکر چاکر، سب کچھ میسر تھا۔ ڈرائیور، مالی، اور دو چوکیدار موجود تھے۔

”آج شام کو جلدی آئیے گا۔ باہر گھومنے چلیں گے“ شہلا نے کہا۔

”آج تو دیر ہو سکتی ہے“ ناصر نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔ ”دراصل صائمہ کی شادی ہونے والی ہے اس نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ آج مجھے انٹرویوز کرنے ہیں“

”اوہ! تو اس کا مطلب ہے صائمہ سے جان چھوٹ رہی ہے“ شہلا دل ہی دل میں خوش ہو رہی تھی۔ ناصر چلا گیا تو وہ کچھ دیر کے لیے لان میں آ گئی۔ بہار رخصت ہو چکی تھی لیکن اس کے لان میں ابھی تک پھول کھلے تھے۔ وہ سوچنے لگی کہ میرے آنگن میں وہ پھول کب کھلے گا جس کا مجھے انتظار ہے۔ اس کی شادی کو چار برس بیت چکے تھے مگر ابھی تک وہ اولاد سے محروم تھی۔ گرمی لگی تو وہ اپنے بیڈ روم میں آ گئی۔ ایک رسالہ پکڑ کر یونہی ورق گردانی کرتے ہوئے اسے محسوس ہوا کہ ٹیبل لیمپ ابھی تک خاموش ہے۔ رات کے بعد سے اس نے کوئی بات نہیں کی تھی۔

”اب تمھیں کیا ہوا ہے، کچھ تو کہو“
ٹیبل لیمپ نے جیسے ایک آہ بھری مگر خاموشی نہ ٹوٹی۔
”ٹھیک ہے مت بولو“ شہلا نے منہ بنایا۔
”تم کچھ نہیں جانتی ہو اور جاننا بھی نہیں چاہتی ہو“ بالآخر ٹیبل لیمپ نے مہر سکوت کو توڑا۔
”تم کچھ بتاؤ تو میں جانوں“
اسے ایسا لگا جیسے ٹیبل لیمپ میں حرکت سی ہوئی ہو۔
”میں کیسے بتاؤں میں تو ایک بے جان ٹیبل لیمپ ہوں“
”تم اچھی طرح جانتے ہو کہ تم کیا ہو؟“
”جاننا، جاننے کا دکھ سہنا اور یہ کہنا کہ سب اچھا ہے، کتنا مشکل ہوتا ہے“
”اف ایک تو تمھاری فلسفیانہ باتیں، تمھیں تو شاعر ہونا چاہیے تھا“

”سنو! زندگی میں کس لمحے کیا ہو جائے یہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا“
”یہ بات تو سب کو معلوم ہے، کوئی نئی بات کرو“
”جب کوئی دغا دیتا ہے ناں تو بہت دکھ ہوتا ہے“
”میں نے کسی کو دغا نہیں دی“
”میں تمھارا دوست ہوں یہ تمھیں پتہ ہے، مجھے پتہ ہے، کسی اور کو تو اس کی خبر نہیں“
”میں یہ بات کسی سے کہوں گی تو لوگ مجھ پر ہنسیں گے“

”تم لوگوں سے ڈرتی ہو؟“
”نہیں مگر لوگوں کی پروا تو کرنی پڑتی ہے“
”کیوں؟ کیا لوگ کسی کی پروا کرتے ہیں؟“ ٹیبل لیمپ جیسے ناراض تھا۔
”اچھا بابا! صاف صاف کہو کیا معاملہ ہے“
”میں کیا کہوں، میں کچھ اور کہنا چاہتا ہوں، تم کچھ اور سننا چاہتی ہو“
”تو کہہ دو نا جو کہنا چاہتے ہو“
”اس کی ضرورت نہیں پڑے گی، تمھیں خود ہی سب کچھ پتہ چل جائے گا“
”دیکھو تم اب پھر مجھے ستا رہے ہو“

”تم ایسا سمجھتی ہو“ ٹیبل لیمپ ایک آہ بھر کر خاموش ہو گیا۔ شہلا کچھ کہنا چاہتی تھی مگر کہہ نہ سکی۔ قدموں کی آہٹ ہوئی تھی۔

”باجی! آپ کے لیے چائے بناؤں؟“ صبا پوچھنے آئی تھی۔
”ہاں بنا دو میرے سر میں درد ہو رہا ہے“ اس نے ایسے کہا جیسے کسی کو سنا رہی ہو۔

اس شام ناصر بہت دیر سے گھر آیا۔ باہر جانے کا وقت نہیں تھا۔ اس نے کہا تھا کہ وہ بہت تھک گیا ہے۔ شہلا کو بوریت محسوس ہونے لگی تھی۔ دن تو گزرتے چلے جاتے ہیں۔ رات کو نہ جانے کب اس کی آنکھ لگی۔ آنکھ کھلی تو اس کی گود میں ایک بچہ تھا۔ گول مٹول اور گورا گورا سا بچہ۔ بالکل ناصر کی طرح، وہی آنکھیں، وہی ناک نقشہ۔ وہ بچے کو چومنا چاہتی تھی، بے تحاشا پیار کرنا چاہتی تھی مگر سائیڈ سے کوئی اسے گھور رہا تھا۔ اس نے دیکھا تو ٹیبل لیمپ پر دو آنکھیں ابھر آئیں تھیں۔ وہ آنکھیں خون کی طرح سرخ تھیں۔ اسے ان آنکھوں سے ڈر لگنے لگا۔

”مجھے اس طرح سے مت گھورو“ اس نے چیخ کر کہا۔ مگر ٹیبل لیمپ اسے اور شدت سے گھورنے لگا۔

”میں کہتی ہوں ہٹاؤ یہ نظریں، مت گھورو مجھے“ وہ پوری شدت سے چیخی۔ اچانک ٹیبل لیمپ نے آگے بڑھ کر اسے بازوؤں میں لے لیا۔

”چھوڑو مجھے، چھوڑ دو، میرا دم گھٹ رہا ہے“ وہ ایک بار پھر چیخی۔
”شہلا۔ شہلا کیا ہوا ہے تمھیں“

آواز تو بالکل ناصر جیسی تھی۔ تب اسے احساس ہوا کہ وہ ناصر کے بازوؤں کے حلقے میں تھی۔ کمرے میں ٹیبل لیمپ کی مدھم روشنی تھی۔ ناصر پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

”میں خواب دیکھ رہی تھی“
”ہوں، کوئی بات نہیں، تم نیند میں بڑا بڑا رہی تھیں پھر چیخ اٹھیں“
”اچھا“ وہ بس اتنا کہہ سکی۔
”اور تم شاید لیمپ آف کرنا بھی بھول گئی تھی، ویسے کیا خواب دیکھا“
”مم۔ مجھے یاد نہیں آ رہا“
”اچھا چھوڑو، سو جاؤ، رات کا آخری پہر ہے“

وہ سونے کی کوشش کرنے لگی مگر نیند اڑ چکی تھی۔ اب تو اکثر ایسا ہونے لگا تھا۔ سوچ سوچ کر تھک جاتی تو ٹیبل لیمپ کی روشنی میں کوئی کتاب پڑھنے لگتی۔ کئی کئی صفحات پڑھ جاتی مگر کیا پڑھا ہے اسے کچھ پتہ نہ ہوتا۔ وہ رات بھی جاگتے ہوئے گزر گئی۔ اور صبح اس کی زندگی میں تاریکی لے کر آ گئی۔ ناصر کو گھر سے نکلے ہوئی ابھی تیس چالیس منٹ ہی گزرے تھے کی ڈرائیور کی کال آ گئی۔

اس کی بات سن کر وہ بے ہوش ہوتے ہوتے بچی۔ سگنل پر حادثہ ہوا تھا۔ ایک فارچونر گاڑی نے ناصر کی گاڑی کو ٹکر ماری تھی۔ وہ گرتے پڑتے ہسپتال پہنچی تو بہت دیر ہو چکی تھی۔ ناصر اپنی آخری سانسیں لے چکا تھا۔

”جیسے ہی میں نے سگنل پر گاڑی روکی پیچھے سے ایک فارچونر نے زور دار ٹکر ماری۔ صاحب پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے۔ گاڑی کا پچھلا حصہ پچک گیا تھا۔ صاحب کو بڑی مشکل سے گاڑی سے نکالا۔ ہسپتال پہنچنے تک وہ زندہ تھے۔ کاش آپ کی ان سے بات ہو جاتی“ ڈرائیور نے روتے ہوئے بتایا۔

شہلا سکتے کی کیفیت میں گم سم کھڑی تھی۔ وہ کیا بولتی، اس کے پاس بولنے کے لیے کچھ نہ تھا۔ اگر بات ہو بھی جاتی تو اس سے کیا ملتا۔ ناصر اسے چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے جا چکا تھا۔

شہلا کے لیے یہ صدمہ بہت بڑا تھا۔ اسے سنبھلنے میں کئی دن لگے مگر اس نے خود کو سنبھال لیا تھا۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں آتی تھی لیکن اب وہ دفتر جانے لگی تھی۔ اس نے کاروبار سنبھال لیا تھا۔ وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت دفتر میں ہی گزارتی تھی۔ اسے گھر جانے سے ڈر لگتا تھا۔ جب وہ بے حد تھک جاتی اور اس کی آنکھیں نیند سے جڑنے لگتیں تب وہ دفتر سے نکلتی اور بمشکل اپنے بیڈ تک جاتی۔ پھر اپنے بیڈ پر یوں گرتی جیسے ایک لاش کو قبر میں اتارا گیا ہو۔

ٹیبل لیمپ سے بھی بات نہ کرتی تھی۔ شاید وہ اس سے ناراض تھی۔ وہ اس کی باتوں کو یاد کرتی تو اسے ایسا لگتا جیسے اسے سب کچھ پتہ تھا اور اس نے بتایا نہیں تھا۔ پھر وہ سوچتی کہ اگر وہ بتا بھی دیتا تو اس سے کیا فرق پڑتا۔ موت کو کون ٹال سکتا ہے۔ اسے پتہ چل بھی جاتا تو وہ کچھ نہ کر پاتی۔

صبح وہ بوجھل دل سے ناشتا کر رہی تھی۔ صبا چائے کے برتن لے کر آئی تو شہلا نے کئی دنوں بعد اسے غور سے دیکھا۔ صبا جو بالکل دبلی پتلی سی ہوا کرتی تھی اب اس کا جسم بھرا بھرا سا لگنے لگا تھا۔

”باجی! آپ سے ایک بات کرنی تھی“
”ہاں بولو“
”باجی! مجھے اپنے گاؤں جانا ہے“
”اچھا چھٹی چاہیے، کتنے دن بعد آؤ گی؟“
صبا کی آنکھیں جھکی ہوئی تھیں۔ ”باجی! مجھے پکی چھٹی دے دیں، میں اب نہیں آؤں گی“

صبا نے پہلے یہ بات کہی ہوتی تو وہ انکار کر دیتی، پریشان ہو جاتی مگر وہ یہ بات سن کر ہنسنے لگی اور ہنستی ہی چلی گئی۔ صبا پریشانی سے اسے دیکھنے لگی۔

”فکر نہ کرو صبا! میں پاگل نہیں ہوئی۔ سب نے مجھے چھوڑ دیا ہے، تم بھی چھوڑ دو، جاؤ چلی جاؤ اور آئندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا“ شہلا نے زور سے کہا۔ صبا سہم گئی اور جلدی جلدی اپنا بیگ تیار کرنے لگی۔ چند منٹ بعد ہی وہ کوٹھی سے نکل چکی تھی۔

شہلا نے تنہا رہنا سیکھ لیا تھا۔ اس کی زندگی کے پانچ برس ایسے گزر گئے جیسے کوئی کوٹ کے کالر سے گرد جھاڑتا ہے۔ ایک شام وہ اپنے بیڈ روم میں نیم دراز ٹی وی دیکھ رہی تھی جب اس کی ادھیڑ عمر ملازمہ صغراں نے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔

”آ جاؤ“ اس نے کہا۔ صغراں اندر آ گئی۔
”بیگم صاحبہ! آپ سے ملنے ایک عورت آئی ہے“
”کون ہے اور کیا چاہتی ہے؟“
”جی میں نے اس سے بہت پوچھا مگر وہ کہتی ہے کہ صرف آپ سے ہی بات کرے گی“
”کوئی ڈونیشن وغیرہ لینی ہو گی، تم نے اس کا نام پوچھا ہے؟“
” جی پوچھا تھا، وہ کہتی ہے کہ آپ اسے اچھی طرح جانتی ہیں، اس کا نام صبا ہے“
شہلا یک دم چونک اٹھی۔ برسوں بعد اس نے صبا کا نام سنا تھا۔ شاید اسے نوکری کی ضرورت ہو گی۔
”ہاں میں اسے جانتی ہوں، اسے یہیں لے آؤ“

صغراں کمرے سے باہر نکل گئی۔ چند لمحوں بعد دروازہ کھلا اور صبا اندر داخل ہوئی۔ اب وہ پندرہ سولہ برس کی لڑکی نہیں اکیس بائیس برس کی بھرپور عورت تھی۔ سانولی رنگت کے باوجود تیکھے نقوش میں بڑی کشش تھی۔ جسم بھی کچھ فربہ ہو چکا تھا۔ اس کے پیچھے قریباً پانچ برس کا ایک بچہ بھی تھا۔

”کیسی ہو صبا؟“
”باجی میں بالکل ٹھیک ہوں“ صبا کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔

” نوکری چاہیے؟ بو لو میں تمھارے لیے کیا کر سکتی ہوں؟ کیا شادی کر لی تھی؟ یہ تمھارا بچہ ہے؟ شہلا کے پاس بہت سے سوال تھے اور فوراً سب کچھ جان لینا چاہتی تھی۔

”میرا کہاں باجی! یہ آپ ہی کا بچہ ہے“
”تم کہنا کیا چاہتی ہو؟“ شہلا الجھ رہی تھی۔

”اسے غور سے دیکھیے باجی! میری شادی ہونے والی ہے۔ میں نے آپ کی امانت کو بہت سنبھال کر رکھا ہے مگر اب اور نہیں رکھ سکتی۔ میں اپنے ہونے والے خاوند کو کیا جواب دوں گی۔ آپ اسے رکھ لیجیے، آپ کی بڑی مہربانی ہو گی“

شہلا نے پہلی بار بچے کو آنکھیں کھول کر دیکھا تو لگا کہ ناصر اس کے سامنے آ کھڑا ہوا ہے۔ وہی گوری رنگت، وہی آنکھیں، قدرت نے چہرے کے نقوش بھی وہی عطا کیے تھے۔ شہلا کے دل و دماغ میں زلزلہ سا آ گیا۔

”صبا میں نے تم سے کہا تھا کہ آئندہ مجھے اپنی شکل مت دکھانا مگر تم پھر آ گئی۔ اب ایک بار پھر کہتی ہوں کہ چلی جاؤ اور اس گھر میں دوبارہ مت آنا“

صبا نے بچے کو گلے لگا کر چوما اور پھر کمرے سے نکل گئی۔ بچے کی آنکھیں بھیگ رہی تھیں مگر وہ چپ چاپ وہیں کھڑا تھا۔ شاید صبا اسے اچھی طرح سمجھا کر یہاں لائی تھی۔ شہلا کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے آگے بڑھ کر بچے کو اپنے بازوؤں میں لے لیا۔

”بیٹے تمھارا نام کیا ہے؟“
”شایان ناصر“ بچے نے کہا۔
”مجھے جانتے ہو؟“
”ہاں! ماما نے بتا یا تھا، آپ میری ماں ہو“

شہلا کو اچانک ٹیبل لیمپ کا خیال آیا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ ٹیبل لیمپ میں زندگی کی کوئی رمق دکھائی نہ دیتی تھی۔ اس نے آگے بڑھ کر کہا۔

”بولو کچھ تو بولو۔“ وہ چیخ رہی تھی۔ اس پر ہاتھ پھیر رہی تھی مگر وہ خاموش تھا۔ اس کی دھات کسی مردے کے جسم کی طرح سرد تھی۔ تب اچانک اسے احساس ہوا کہ اس کی حرکت پاگل پن کے سوا کچھ نہیں۔ ایک ٹیبل لیمپ بول نہیں سکتا۔

Facebook Comments HS